اتوار، 28 جولائی، 2013

اجتہاد

14 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 8:00 AM ,
دین کی سپیشلائزیشن دین پر ہزار سالہ پرانی فقہی سوچ کی اجارہ داری قائم کرتی ہے۔ اگر کوئی عام مسلمان، مناسب حد تک عقائد سے واقفیت رکھنے کے باوجود کسی چیز پر اعتراض کرے تو اسے چپ کروا دیا جاتا ہے کہ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے۔ حق حاصل کب ہو گا؟ اگر تم پچھلوں کی تھیوری گھول کر پی لو، انہیں روایات پر چلو جن پر وہ چلے تھے اور اس کی سیدھ میں رہ کر بات کرو جو پچھلوں نے متعین کر دیا تھا تو تمہاری بات قابلِ قبول ہو گی ورنہ جہنم میں جاؤ، تم فتنہ پرور ہو۔ جب یہ فکر و سوچ موجود ہو تو اجتہاد پر جتنا مرضی زور لگا لیا جائے کھوتی وہیں آ کر کھلوتی ہے جہاں سے وہ چلی تھی۔ پچھلوں کے متعین کردہ راستے پر چلنے سے بار  بار  بار  بار  وہی نتیجہ نکلتا ہے جب متغیر کی قیمتیں وہی رکھنی ہے تو جواب بھی وہی آئے گا۔ مثلاً احادیث میں ہی تدوینِ جدید کی بات کر لیں جو ترکی میں جاری ہے۔ جس میں احادیث کو زمانی نکتہ نظر سے الگ کیا جا رہا ہے، ایسی احادیث جو ہزار سال پہلے کے لیے موزوں تھیں اور ایسی احادیث جو آفاقی پیغام رکھتی ہیں، زمانے سے ماوراء ہیں۔ اب اس پر اختلاف کا طوفان کھڑا ہو سکتا ہے کہ حدیث اس میراث کا حصہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے چھوڑی، چنانچہ حدیث قیامت تک کے لیے ہے۔ جیسے قرآن قیامت تک کے لیے ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اونٹ کا پیشاب پلانے والی حدیث، اور اس جیسے کئی اقوالِ رسول ﷺ جو ایک خاص سیاق و سباق و موقع محل کے مطابق دئیے گئے ہر زمانے کے لیے کار آمد نہیں ہو سکتے، اور نہ ہی اغلباً رسول اللہ ﷺ نے ایسا ارادہ فرمایا تھا۔ تو جب طرزِ فکر کو محدود کیا جاتا ہے، جب ہر غیر روایتی چیز کو رد کیا جاتا ہے، جب "اجماعِ امت" کے نام پر (جو پچھلوں کی پیروی کا ہی دوسرا نام ہے) ڈراوے دئیے جاتے ہیں۔ جب پچھلوں کی پیروی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ "ہم سے زیادہ متقی تھے"(حالانکہ ان کے متقی پن کا  آج کے مسائل سے قطعاً کوئی تعلق نہیں بنتا)  تو پھر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ کھوتی وہیں آ  کھلوتی ہے  چاہے جتنا مرضی زور لگا لے۔
 ایک اور مسئلہ دین کے ماخذات کا ہے۔ دین کا ماخذ قرآن ہے، حدیثِ رسول ہے لیکن قرآن سے کم اہمیت والی اور اختلافات کا خدشہ نسبتاً زیادہ چونکہ اس کو محفوظ رکھنے کا کوئی   آسمانی وعدہ نہیں تھا، لوگوں نے خود سے احادیث بھی گھڑیں، سینکڑوں برس کی تدوین و تالیف کے باوجود آج بھی ضعیف احادیث انہیں کتب میں موجود ہیں اور عوام الناس میں گردش بھی کرتی ہیں (ظاہر ہے عوام ضعیف احادیث سے آگاہ نہیں ہوتے)۔ تیسرا ماخذ جو بنا لیا گیا ہے وہ پچھلوں کے اقوال ہیں۔ صحابہ رضوان اللہ علیم اجمعین چونکہ انہیں زمانہ رسول ﷺ ملا، تابعین، تبع تابعین اور ہر دور کے فقہا۔ یعنی جو کوئی زمانہ رسول ﷺ سے جتنا قریب ہے جنرل رول آف تھمب کے تحت اس کی رائے اتنی ہی زیادہ اہمیت والی ہو گی، آج کی رائے پر فوقیت دی جائے گی اور وہ اتنی ہی زیادہ روایت کی وہ چار دیواری قائم کرنے میں معاون ہو گی جو دین کے معاملے میں سوچتے ہوئے عائد کرنا، طاری کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔  یہ منظر نامہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب ان سارے ماخذات کو ایک  دوسرے کے ساتھ مکس کر دیا جاتا ہے۔ قرآنی احکام ، احادیثِ رسول اور احادیثِ اصحابِ رسول و بزرگان کو ایسے مکس کر  دیا جاتا ہے کہ  اللہ نے کیا فرمایا، رسول اللہ ﷺ  کا کیا حکم تھا اور دیگر بزرگان کی رائے، قول یا عمل کونسا تھا۔ سب کچھ یکساں اہمیت کے تحت نافذ کر دیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی دو تین برس پہلے اردو محفل پر موسیقی کے  حلال حرام کے ہونے کے حوالے سے ایک قرآنی آیت پیش کی گئی (سورہ لقمان آیت 6) جس میں "لغو باتوں" (لہو الحدیث)  کا ذکر تھا۔ اس سلسلے میں "لغو باتوں" کا مطلب موسیقی نکالا گیا، جو دراصل ایک صحابیِ رسول ﷺ کی بیان کردہ اس آیت کی تفسیر سے آیا۔ اوپر بیان کردہ قانون کے مطابق صحابیِ رسول کا قول آج کسی شخص کے قول سے زیادہ اہمیت  کا  حامل ہے۔ کیوں؟ چونکہ وہ زمانہ رسول ﷺ کے قریب ترین ہیں، دوم وہ رسو ل اللہ کے تربیت  یافتہ ہیں۔ اس پر وہی سوال اٹھتا ہے کہ دین اللہ اور اس کے رسول  ﷺ (جن کی رہنمائی اللہ بذریعہ وحی کرتا ہے) سے آتا ہے یا اصحابِ رسول اور بزرگانِ دین سے۔ اور  جیسا کہ بتایا گیا دین کے حوالے سے  زمانی فاصلے کی اہمیت کے قانون کے تحت اصحابِ رسول  ﷺ کا کہنا بھی  کچھ کم اہمیت کے ساتھ  دین میں وہی درجہ رکھتا ہے، کہہ لیں کہ اللہ، رسول کے بعد تیسرے نمبر پر۔  موسیقی کو قرآن میں کہیں واضح الفاظ میں حرام نہیں کہا گیا، احادیث پر بحث کی جا سکتی ہے کچھ لوگ حرام کہتے ہیں ایک اقلیت نے حلال بھی کہا۔ لیکن موسیقی کو قرآن سے بھی حرام  ثابت کرنے کے لیے  تفسیر پیش کر دی گئی (جو تیسرے ذریعے سے آتی ہے یعنی صحابیِ رسول)۔ اب اسے ایسے پیش کیا جاتا ہے جیسے یہ قرآنی حکم ہی ہے۔ یعنی  دین کے ماخذات کو  مکس کر کے پیچیدگی پیدا کرنے کا کام، جیسا کہ اوپر  ذکر کیا گیا۔ ایسی صورت میں جاوید احمد غامدی اگر موسیقی کو حلال کہے، شاہ محمد جعفر پھلواری اسے مستحب کہے تو وہ غلط قرار پاتے ہیں ۔
چنانچہ وہی بات جو پیچھے عرض کی، اجتہاد روایت کے اندر رہ کر کیا جائے تو قابلِ قبول ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اجتہاد وہی جواب نکالتا ہے جو پانچ سو برس پہلے نکلتا تھا۔ "اجماعِ امت" اور روایات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ  کوئی ان حدود سے باہر جا کر نہ سوچ سکے جو پچھلوں نے متعین کر دیں۔ چنانچہ  دین بے زار طبقہ آخر کار یہ کہہ دیتا ہے کہ مذہب تو ایک ثقافتی عنصر ہے، گٹے ننگے کرو یا نہ کرو کیا فرق پڑتا ہے، پینٹ کے ساتھ  جرابیں پہن کر گٹے ننگے  کیا کریں برے لگتے ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ
نتیجہ یہ کہ ایسے ماحول میں اجتہاد پانی میں مدھانی کا کام کرتا ہے جتنی مرضی چلا لو مکھن نہیں آتا، یا جو مکھن آنا تھا وہ لوگ پہلے ہی نکال چکے۔

منگل، 2 جولائی، 2013

سوالات

1 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:22 PM ,
مسلمانوں میں رفتہ رفتہ یہ سوچ شدت سے پروان چڑھ رہی ہے کہ وہ اللہ کی چنیدہ امت ہیں، چنیدہ وہ خیر الامت نہیں یہودیوں والی چنیدہ۔ جو جنت کے اکلوتے حقدار ہیں، اس دنیا پر حکمرانی کا حق بھی رکھتے ہیں اور باقی ساری قومیں ان سے کم تر درجے کی ہیں۔ اس سوچ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مسواک نہ کرنے کے عمل کو دین سے دوری اور دنیاوی ذلالت کی وجہ قرار دے دیا جاتا ہے چاہے یہ سارے بد نصیب برش بھی کرتے رہے ہوں۔ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ "خلافت" کا قیام ہر مسئلے کا حل سمجھا جاتا ہے۔ خلاف علی منہاج النبوۃ اور اس قسم کی دلکش عربی اصطلاحات استعمال کر کے ایک نظامِ حکومت کو اسلام کا سیاسی ونگ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ نہ قرآن میں خلافت کے احکامات موجود ہیں، نا احادیث رسول ﷺ میں صراحت بیان کی گئی ہے۔ درحقیقت خلافتِ راشدہ (اسلام کا اکلوتا قریباً تیس سالہ دور جب اسلام عہدِ نبوی کے علاوہ اپنی حقیقت سے قریب ترین حالت میں نافذ رہا) کا دور پہلے دو خلفاء کے بعد موج در موج خلفشار کا دور تھا۔ پہلے خلیفہ کے علاوہ سب خلفاء فتنے کی وجہ سے شہید کیے گئے، ہر خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ مختلف رہا۔ زیادہ تر واصل بحق ہونے والا خلیفہ اصحابِ رسول ﷺ کی ایک جماعت مقرر کر گیا کہ اپنے میں سے ایک خلیفہ چن لو۔ ان ہستیوں کے بعد کیا ہوا؟ یہاں تاریخ دوہرانے کی ضرورت ہی نہیں کہ اس کے بعد کیا بنا۔ آج اگر یہ خلافت قائم ہو گئی اور مسائل کا حل پھر بھی نہ نکلا تو پھر ذمہ دار کون ہو گا؟ مصر میں اقتدار ملا تو اسلام  پسندوں نے کیا کر لیا؟ ترکی میں دس برس کے بعد عوام میں بے چینی کیوں ہے؟ ملائیشیا میں پچاس سال سے برسرِ اقتدار نجیب رزاق کا حکمران اتحاد باریسان ناسینال اپوزیشن کی ہڑتالوں اور دھاندلی کے الزامات کا سامنا کیوں کر رہا ہے؟ (یاد رہے یہ اتحاد انتخابی حلقوں میں رد و بدل کر کے بمشکل کامیاب ہو پایا، اور اس پر ان مٹ سیاہی کے جعلی ہونے کا الزام لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے مبینہ طور پر ایک سے زیادہ بار ووٹ پڑے)۔ ایران میں احمدی نژاد (سلفیوں اور طالبانی اسلام کے داعیوں کے لیے تو شیعہ نام ہی کفر کا ہے، یہ بقیہ ماندہ اسلام کی بات ہو رہی ہے) نے آٹھ دس برس حکومت کی، اس کی سادگی کے قصے مشہور تھے اور آج ایران اس کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے کوڑیوں کا محتاج ہو رہا ہے، وہاں یہی سخت گیری ہمیشہ چلتی رہے گی؟ کیا وہاں اسلامی (جیسا بھی اسلام ہے) انقلاب سو کیا پچاس برس کا سورج بھی دیکھ سکے گا؟ کیا وہاں (ان کے عقیدے کے مطابق) اللہ کا نظام نافذ کر دینے سے سب کچھ ٹھیک ہو گیا؟ اتنے سوالات ہیں کہ جگہ ختم ہو جائے گی۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ اسلام کو سیاسی طور پر نافذ کر دینا، ایک "اسلامی" سیاسی نظام لے آنا کیا یہی مسئلے کا حل ہے؟ اور کیا چودہ سو سالہ تاریخ میں اسلام کو اس بات سے فرق پڑا کہ وہ اقتدار میں ہے یا نہیں؟ کیا اسلام کی دعوت کے لیے نبی اللہ کو مکے کا اقتدار عطاء ہوا تھا؟ بدقسمتی صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو من و سلوی کے حق دار بنی اسرائیل جیسا سمجھنے لگے ہیں، جیسے رب صرف ان کا ہے اور نبی ﷺ بھی صرف ان کا ہے، جنت بھی صرف ان کی ہے۔ جس دن مسلمان اس سوچ سے باہر نکل آئے کہ رب تو سب کا سانجھا ہے، اور نبی ﷺ کی رحمت بھی سب کے لیے تھی اور ہے، اور اس نے کوڑا پھینکنے والی کی تیمار داری کی، پتھر مارنے والوں کے لیے دعا کی اس دن ان کی نظریں اسلام کے سیاسی نفاذ کی جانب نہیں اسلام کی دعوت و تبلیغ کی جانب مرکوز ہو جائیں، شاید۔۔۔۔شاید تب دین صرف اللہ ہی کا ہو جائے۔۔۔ یا شاید القاعدہ کے بارود بردار "کافروں" کا خاتمہ کر کے دین صرف اللہ ہی کا کر دیں۔ انتظار ہے اس وقت کا جب سچ اورجھوٹ الگ الگ ہو جائیں اور انصاف کی ترازو کھڑی کر دی جائے۔ یہ اس دن ہی پتا چلے گا، ورنہ اس دنیا میں تو ہر کسی کا اپنا سچ، ہر کسی کا اپنا مذہب، ہر کسی کا اپنا "اسلام"۔۔۔۔۔