بدھ، 29 جولائی، 2015

ہنرمند

2 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 9:02 PM ,
ابو جی کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا۔ مڈل بھی مکمل نہیں کیا تھا۔ سب سے چھوٹے تھے۔ والدین ضلع ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آئے تھے، انہوں نے بھی تعلیم پر توجہ نہ دی۔ ساری عمر مختلف کام کیے۔ کبھی ٹیکسٹائل مل میں کام کیا، کبھی رکشہ چلایا، کبھی پولٹری فارم ، کبھی کپڑے کی دوکان، کبھی کریانے کی دوکان، کبھی گول گپے، پلاسٹک کے برتن ریڑھی پر اور جمعہ/اتوار بازاروں میں، ناشتے کی ریڑھی، لوڈر رکشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھے دنوں میں جب رکشے کا کام ابھی مندا نہیں پڑا تھا، اور پھر بعد میں جب ناشتے سے اچھے پیسے بن جاتے تھے تو ابوجی نے دو مرتبہ مکان کی توسیع کروائی۔ غریب کے مکان کی توسیع یہی ہوتی ہے کہ پہلے ایک منزل ڈلوا لی، پھر پلستر کروا لیا، پھر دوسری منزل ڈلوا لی اور پھر ہمت ہوئی تو تیسری منزل۔ ابو جی نے اس طرح کر کے تین چار بار مکان میں ترمیم و اضافہ کیا تاکہ بڑھتے ہوئے خاندان کے رہن سہن میں آسانی پیدا ہوتی۔

ہر بار ابو جی کو مستری ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ پہلے پہلے جب میں چھوٹا تھا تو یہ مسئلہ بہت زیادہ علم میں نہیں تھا۔ ماموں کے گاؤں سے مستری اور مزدور آ گئے اور اوپر والی منزل تعمیر ہو گئی، سارے مکان کو پلستر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد دو تین بار جب بھی ضرورت پڑی تو ہر مرتبہ مستری کی تلاش ایک الگ جدوجہد رہی۔ خواہش ہوتی تھی کہ فلک شیر یعنی پرانا مستری ہی کام کر جائے، لیکن وہ لاہور شفٹ کر گیا، پھر واپس آیا تو اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے وقت ملتا، جلدی جلدی کام کر کے چلا جاتا۔ 

آخر ہر مرتبہ فلک شیر ہی کیوں؟ مسئلہ اس کا یا ہمارا نہیں، اس کے ہنر کا تھا۔ وہ بندہ سمجھدار تھا، ہاتھ میں صفائی تھی اور لوگ اس کے آگے پیچھے قطار میں کھڑے نہ بھی رہتے ہوں کم از کم آئندہ کئی مہینوں کے لیے وہ بُک ہوا کرتا تھا۔ ہم ہر بار فلک شیر کے ہنر سے مجبور ہو کر اس کے پاس جاتے تھے۔ ورنہ مستری تو میرے محلے میں کئی تھے، میرے محلے کے باہر اڈے پر ہر روز سو ڈیڑھ سو مستری مزدور کھڑا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سے کام کروانے کو دل نہیں مانتا تھا۔

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں سیکھا کہ پیشہ ورانہ اعتماد قائم کرنا ایک بہت ہی اہم خصوصیت ہے۔ ایک آپ کا کلائنٹ/کسٹمر/گاہک آپ پر کام چھوڑ کر مطمئن ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔ اس کے لیے میں نے مستری فلک شیر سے یہ سیکھا کہ اتنے ہنرمند ہو جاؤ کہ دوسروں کی ضرورت بن جاؤ۔ لوگ دروازے پر آ کر کام کی درخواست کریں۔ 

مجھے نہیں پتا اس کو اور پُراثر انداز میں کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں  کہ ہنرمند بن جائیں۔ چاہے موٹرمکینک ہوں، انجینئر ہوں، پی ایچ ڈی ہوں، اگر آپ ہنرمند نہیں ہیں تو آپ میں اور آپ کے گلی محلے کے باہر راج مستریوں کے اڈے پر بیٹھنے والے ان مستریوں اور مزدوروں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ روز سامان اٹھا کر اڈے پر آتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ مل جائے تو ایک دو دیہاڑیوں کا ہوتا ہے۔ نہ ملے تو سارا دن وہیں بیٹھے بیٹھے بارہ ٹہنی کھیل کر گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ 

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں یہ سیکھا کہ میں اپنے کلائنٹ کو جو کچھ کر کے دوں اس پر اُسے اعتماد ہو۔ جیسے مستری فلک شیر عین نوے کے زاویے پر دیوار اٹھاتا ہے، پلستر میں کہیں اونچ نیچ نہیں آنے دیتا اور آج بھی اس کا لگایا ہوا فرش کہیں سے اکھڑا نہیں۔ ویسے ہی میں ترجمہ کروں تو میرے کلائنٹ کو بہت کم ضرورت پڑتی ہے کہ اُس پر نظر ثانی یا تصحیح کروائے۔ گزرے برسوں میں مَیں نے بہت کم معاوضے پر بھی کام کیا۔ رات کو اُٹھ اُٹھ کر بھی کام کیا۔ لیکن اب میں تھوڑا کام کرتا ہوں، تھوڑا لیکن سُتھرا۔ میں ترجمہ کرتے وقت پاکستان کے اندر کا کام نہیں پکڑتا، مجھے پتا ہے یہاں لوگ اچھی ادائیگی نہیں کرتے۔ غیر ملکی جب کام کرواتے ہیں تو پیسے اچھے دیتے ہیں۔ وہاں اور یہاں کے کام میں ایک بمقابلہ چار کا فرق سمجھ لیں۔ اگر یہاں روپیہ ملے تو وہ چار روپیہ بھی دے دیتے ہیں۔ تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اب  معاوضے میں بہت کم رعایت دیتا ہوں، لیکن اس کے بدلے میرا کام معیاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ معیار اور ساکھ بنانے، اپنے آپ کو زیادہ معاوضے کے قابل بنانے میں مجھے ایک دو سال نہیں آٹھ نو سال لگ گئے ۔

دوسری جانب میں تدریس کے حوالے سے بھی اسی بات پر عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپ کو اس مقام پر لے جاؤں جہاں میرے جیسے کم ہی متبادل دستیاب ہوں ۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہی میں ایک اچھی ملازمت یا کام کی امید کر سکتا ہوں۔ اس کے لیے آج سے دس برس پہلے پی ایچ ڈی کرنے کا عزم کیا تھا۔ اور وہ عزم آج بھی تازہ ہے۔ انشاءاللہ اس عزم کو مکمل بھی کرنا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی منزل نہیں، صرف نشانِ منزل ہو گی۔ مختصر یہ کہ میری ذات پر سے "زیرِتعمیر" کا بورڈ کبھی نہیں اترے گا۔ میری دعاؤں میں مستقلاً شامل دعا رَبِّ زِدْنِي عِلْما بھی ہے۔ اور جیسے جیسے میری عمرِ عزیز کا اختتام قریب آتا جاتا ہے، مجھے یہ احساس زیادہ شدت سے ہوتا جاتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔ علم دراصل اپنی جہالت کا ادراک کرنے کا نام ہے، اور وہ ادراک دھیرے دھیرے ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ احساس بھی کہ یہ جو کچھ دیا ہے، یہ سب اُس کی کرم نوازی ہے۔ کہ میرے بس میں تو کبھی  کچھ بھی نہیں تھا، آج میں جس جگہ بھی کھڑا ہوں، یہ سب اُس کی رحمت ہے۔

تو آپ بھی اگر ابھی یونیورسٹی سے چوندے چوندے ماسٹرز کی ڈگری لے کر نکلے ہیں، یاکسی شعبے میں داخل ہو رہے ہیں، دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ یکدم چھلانگ نہ لگائیں۔ اللہ کی رحمت پر نگاہ رکھیں اور یادر کھیں کہ کامیابی ایک دو دن یا مہینے نہیں برسوں کا کھیل ہے۔ دس برس کا ہدف رکھیں اور محنت کریں۔ اپنے آپ کو اس قابل کر لیں کہ دوسرے آپ کے دروازے  پر آپ سے کام کروانے کی درخواست لے کر آئیں۔ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ یاد رکھیں کامیابی کا اگر کوئی شارٹ کٹ ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سب پیدائشی جینئس نہیں ہوتے۔ ہاں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر محنت کرتے چلے جانا سب کے اختیار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ محنت کریں، کچھوا چال ہی سے کریں لیکن محنت کرتے چلے جائیں، اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ ہنرمند  ہو جائیں تو آپ کے دلدر دور ہو جائیں گے۔ Jack of all trades, master of none کے مقولے کو ذہن میں رکھیں۔ ایک شعبہ ایسا ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماسٹر آپ ہوں۔ باقی شوق تو کئی پالے جا سکتے ہیں، لیکن روزی روٹی کے لیے ایک یا دو شعبے ایسے ہونے لازمی ہیں جن میں آپ کی مہارت پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا جا سکے۔ اللہ سائیں آپ پر اپنی رحمت رکھے۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

میں اور ترجمہ

3 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 10:53 AM ,
آج سے کوئی آٹھ  برس قبل میرے گھر میں ایک بابا جی تشریف لائے۔ ان سے پہلے زندگی میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اردو محفل کے توسط سے دعا سلام تھی اور بس۔ اتنی واجبی سی دعا سلام کے باوجود وہ کمال شفقت سے نہ صرف میرے غریب خانے پر تشریف لائے بلکہ انہوں نے کچھ ایسے گراں قدر مشوروں سے بھی نوازا جنہوں نے آج کے شاکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔ محمد اصغر صاحب جو اردو محفل پر تلمیذ  کی عرفیت سے جانے جاتے تھے، مورخہ 18 جولائی 2015 بروز عید الفطر  اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ جس نے بھی سُنا سناٹے میں رہ گیا۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ وہ چلے گئے ، لیکن انہوں نے مجھ جیسے کئی نوجوانوں  کو گائیڈ کیا۔ انشاءاللہ اس صدقہ جاریہ کا اجر انہیں ملتا رہے گا۔

تو جناب  اصغر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھے آگاہ کیا کہ آنلائن ترجمہ کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، اور اچھے خاصے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ 2007 میں ابھی میں ایک گواچی گاں جیسی چیز تھا۔ بی کام کے بعد ایم بی اے کا داخلہ بھیج کر واپس منگوا چکا تھا، اور ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن انگلش لنگوئسٹکس فرما رہا تھا۔  مالی حالت پتلی تو ہمیشہ سے تھی، ٹیوشن  اور چھوٹے موٹے کاموں پر گزارا تھا۔ اصغر صاحب نے کھُل کر کہا کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ مل کر بوجھ اٹھائیں اور اس کے لیے فری لانس ترجمہ ایک اچھا پیشہ ہے۔ آپ فلاں فلاں ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں، اپنی پروفائل اور سی وی تیار کر کے ٹرانسلیشن ایجنسیوں کو تعارفی ای میل کے ساتھ بھیجا کریں۔ تو یہ وہ برس تھا جب میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور آج آٹھ برس بعد جب میں اپنے آپ کو مترجم بتاتا ہوں تو اس وقت سے شروع کرتا ہوں جب میں نے اپنے آپ کو مترجم کہنا شروع کیا تھا۔  پہلی پیمنٹ دو یا ایک برس بعد ملی تھی اٹھانوے ڈالر جس سے ایک  پی فور کمپیوٹر لیا۔

فاسٹ فاورڈ ٹو 2015، آج فری لانس ترجمے میں آٹھ برس ہو گئے۔  سافٹویئر، آئی ٹی اور خبروں کا ترجمہ میرے بائیں ہاتھ  کا کھیل ہے۔ ترجمے کی رفتار ایک زمانے میں ایک عام مترجم سے  کوئی دوگنی تو ہو گی۔ اب بھی اچھے دنوں  کے کچھ اثرات باقی ہوں شاید۔ لیکن اب کام کبھی کبھی ملتا ہے، وہ روزانہ ہزار پندرہ سو الفاظ ترجمہ کرنے والا زمانہ گزر گیا۔ لیکن آج بھی میں اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہوں تو لسانیات +ترجمہ جیسی کسی چیز کا طالبعلم سمجھتا ہوں۔ لسانیات میرا شوق ہے اور ترجمہ میر اپیشہ۔ لسانیات اور ترجمہ کا گہرا تعلق ہے۔ نقصِ امن کے خطرے سے میں علومِ ترجمہ کو لسانیات کی ذیلی شاخ قرار نہیں دے رہا چونکہ اب پاکستان میں بھی علومِ ترجمہ کے الگ سے شعبے قائم ہو رہے ہیں۔ 

تو جناب میں مترجم ہوں، ترجمہ میرا پیشہ ہے، میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ میں پچھلے آٹھ برس میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دس لاکھ الفاظ ترجمہ کر چکا ہوں جن میں سافٹویئر لوکلائزیشن، ویب سائٹ ترجمہ، خبریں اور مضامین، قوانین اور ایکٹ وغیرہ، خطوط، سرٹیفکیٹس اور جرنل آرٹیکلز وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے والے اور انٹرنیٹ پر مجھ سے شناسائی رکھنے والے احباب "جوانی" سے "بڑھاپے" کے اس سفر کو جانتے ہیں۔ آج سے چھ برس پہلے جو بندہ اردو وکی پیڈیا کی  جناتی اصطلاحات کے بارے میں لکھتا رہا، آج وہ کچھ اسی طرح کا کام کر کے اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔

فرانس کا ایک سماجی مفکر مِشل فُوکُو (یا شاید کوئی اور سڑیل بابا)کہتا ہے کہ میں کُتا نہیں جو ہر مرتبہ ایک ہی انداز میں بھونکے۔ بابے کے کہنے کا مطلب ہے  کہ انسان ارتقاء پذیر چیز ہے۔ چنانچہ پچھلے آٹھ برس میں آنے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی بطور مترجم میری سوچ میں بھی آئی۔ مَیں نے ترجمہ کر کے ترجمہ کرنا سیکھا ہے۔ اس کے لیے خاور کی ویب سائٹ پر میں نے جو ترجمہ کر کے سیکھا، وہ ہمیشہ بطور مترجم میری بنیاد رہے گا۔ میں نے اپنے کلائنٹس سے ، مارکیٹ سے، اور ٹھوکریں کھا کر سیکھا کہ ترجمہ میں کیا کرنا چاہیئے۔ اور پاکستان میں ترجمہ کا کیا مستقبل ہے۔ اتنی لمبی تمہید کے بعد بھی اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو آپ کی مہربانی ہے چونکہ یہ  نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے پاس آج ضائع کرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ چنانچہ اب ہم کام کی بات شروع کرتے ہیں۔

پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل کیا ہے؟ سچی بات بتاؤں تو پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل آج سے چند برس پہلے(اور آج بھی)  ایک ٹکے کا بھی نہیں تھا۔ سارا کام بھارت کی ایجنسیاں لے جاتیں (آج بھی ایسا ہی ہے)۔ یہاں میری اکثر مثالیں سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے ہوں گی ، چونکہ میرا بنیادی فیلڈ یہی  ہے۔ 2003  کے اطراف میں ایکس پی کا ترجمہ کرلپ لاہور نے کیاا ور اس کے بعد سارا کام غیر ملکی ایجنسیوں کے پاس چلا گیا۔ مائیکروسافٹ اپنے ہر سافٹویئر (آفس2007 سے اب تک ہر ورژن، ونڈوز وسٹا سے آج تک ہر ونڈوز) کا ترجمہ اردو میں کرواتا رہا ہے۔ اور یہ کام پاکستان کے فری لانسرز نے تو شاید کیا ہو، کوئی ادارہ اس میں کم ہی ملوث رہا ہے۔ (اب مائیکروسافٹ پاکستانی پنجابی میں بھی سافٹویئر کا ترجمہ کرواتا ہے۔) انفرادی سطح پر تو لوگ کچھ کما سکتے تھے، لیکن ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہونے، سرکاری سطح پر ترجمہ کی پالیسی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ترجمے کی صنعت پنپ ہی نہیں سکی۔ آج  تک اس ملک میں شاید دو ہندسوں میں بھی ایسے ادارے نہ ہوں جو پیشہ ورانہ سطح پر ترجمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ میں کورٹ کچہری کے احاطے میں بیٹھے مترجمین کی بات نہیں کر رہا ، ایسا مترجم تومیں بھی ہوں۔ لیکن آج 2015 میں، مجھے کچھ امید ہے کہ شاید اگلے چند برسوں میں پاکستان میں ادارہ جاتی سطح پر ترجمہ کی سپورٹ شروع ہو جائے، چونکہ پاکستان کی کم از کم تین جامعات میرے علم کے مطابق علومِ ترجمہ کے چار سالہ بیچلرز پروگرام شروع کر چکی /کرنے جا رہی ہیں۔ اور یہ سب لوگ مترجم ہوں گے، سند یافتہ مترجم۔ اب سادہ  ایم اے اردو یا ایم اے انگریزی کی دال نہیں گلے گی۔ علومِ ترجمہ کے فارغ التحصیل یا کم از کم قانون، طب، مالیات وغیرہ وغیرہ کے مخصوص شعبوں میں ترجمہ کی معتبر اسناد/ڈپلومہ رکھنے والے امیدوار آئندہ ایک دو برس میں سامنے آنے لگیں گے۔ جس سے ترجمہ کا معیار بھی بہتر ہو گا اور ادارے یعنی ٹرانسلیشن ایجنسیاں بھی وجود میں آئیں گی۔ سرکاری سطح پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے موجب بہت سی بہتریوں کی توقع ہے۔ کم از کم ، کچھ نہ کچھ دستاویزات ترجمہ ہونے لگیں گی۔ اور امید ہے کہ اردو کو سرکاری سطح پر انگریزی کے ہم پلہ کچھ نہ کچھ رتبہ ملے گا۔

یہ تو بطور ترجمہ صورتحال پر کچھ رائے، امیدیں اور تجزیہ تھا۔ اب ذرا صارفین یعنی جن کے لیے ترجمہ پیدا کیا جاتا ہے، ان کے حوالے سے کچھ حالات پر نظر ڈالی جائے۔ سرکاری سطح پر اردو کو اس کا جائز مقام دینے سے ترجمہ کی روایت کی داغ بیل پڑے گی اور اس سے عام عوام کو بھی فائدہ ہو گا کہ انہیں قومی زبان میں دستاویزات کا مطالعہ نصیب ہو گا۔ نجی شعبے کو بھی ترجمے کی کچھ نہ کچھ تحریک ملے گی۔ اگر سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو بہت سے ادارے پہلے ہی اپنے سافٹویئر اردو، سندھی، پشتو وغیرہ میں پیش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ سے اینڈرائیڈ کا کوئی موبائل خرید لیں اس میں کم از کم گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی یا صارف مواجہ) اردو میں کرنے کا آپشن ضرور ملے گا۔ سام سنگ، لینووو، اوپو، ہاوے/ہواوے وغیرہ وغیرہ اور مائیکروسافٹ سب اردو زبان میں سافٹویئر دکھانے کی سہولت دیتے ہیں۔ اور تو اور ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کی آنلائن ویب سائٹس/ایپس بھی اردو میں دستیاب ہیں۔ لیکن کیا صارفین اس کے لیے تیار ہیں؟

ایک لفظی جواب دوں تو "نہیں"۔ پاکستانی صارفین ایک ترجمہ شدہ صارف مواجہ استعمال کرنے کے لیے سو میں  سے زیادہ سے زیادہ دس فیصد تیار ہیں۔ اس کی وجہ/وجوہات کیا ہیں؟

اول تو یہ کہ ترجمہ غیر معیاری ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف اداروں، ٹرانسلیشن ایجنسیوں اور فری لانسر مترجمین نے ترجمہ اور اصطلاح سازی کے ساتھ کھلواڑ کی جس سے غیر معیاری، کھچڑی ترجمہ وجود میں آیا۔ بطورِ خاص اصطلاحات سازی کا کوئی معیار مقرر نہیں، اور نجی سطح پر اردو وکی پیڈیا جیسے اداروں کو ایسی کسی بھی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی پیش کردہ اصطلاحات بری طرح مسترد ہوئیں۔ میرے دو تین مضامین اس سلسلے میں یہاں موجود ہیں۔ غیر معیاری ترجمے کی ایک اور وجہ اللہ واسطے کے تراجم ہیں۔ گوگل جی میل اب آپ کو اردو میں ملے گی۔ لیکن اس کا موازنہ آپ فیس بُک کے اردو مواجہ سے کریں۔ آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر اللہ واسطے ترجمہ کرواتے ہیں۔ جہاں مترجم کو بیج وغیرہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ گوگل سخت معیارات کے تحت پیشہ ور ایجنسیوں اور مترجمین سے ترجمہ کرواتا ہے ا س لیے کچھ نہ کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔

ترجمہ کے لیے تیار نہ ہونے کی دوسری وجہ صارفین میں پائی جانے والی نامانوسیت ہے۔ جو چیز مانوس نہیں، وہ مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ ہم اس کی بھد اڑاتے ہیں، ہنسی ٹھٹھول کرتے ہیں۔ ترجمہ کو جب کوئی پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور لنک=ربط،  فارمیٹنگ = وضع کاری، کنفگریشن = تشکیل جیسے تراجم پڑھتا ہے تو پہلے حیران ہوتا  ہے پھر ہنستا ہے اور آخر میں دوسروں کو دکھانے کے لیے ایک طنزیہ پوسٹ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہے۔ صارف کے ورلڈ ویو (world view)  یعنی دنیا کو سمجھنے کی طرزِ فکر میں یہ بات ہی فٹ نہیں بیٹھتی کہ سافٹویئر کا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے، اور انگریزی کے علاوہ بھی ونڈوز کو کسی اور زبان میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر شاید کبھی ہمارے بابوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوئی، ہم تو آج قیامِ پاکستان کی ستر سال بعد والی نسل ہیں جس کے سر پر انگریزی ہی انگریزی سوار ہے (کمپیوٹر کے علاوہ بھی ہر جگہ)۔ ایک اور وجہ یہ کہ صارفین کو علم ہی نہیں کہ سافٹویئر جیسی کسی چیز کے تراجم بھی دستیاب ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے وہ اس کے استعمال سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اور آخر میں تھوڑی سی بات اصطلاح سازی کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ دو انتہائیں ہیں۔ یا تو آپ جناتی اصطلاحات تخلیق کریں جیسے اردو وکی پیڈیا نے کیا، یا پھر آپ دسویں تک کے اردو سائنسی نصاب کے ساتھ سرکار نے کچھ برس پہلے کیا وہ کریں یعنی جو کچھ بھی "سائنسی" یا "اصطلاح" سا لگے اسے نقلی حرفی کر کے لکھ دیں۔ حروف اور گرامر اردو کی ہو لیکن لکھی انگریزی ہو۔ سادہ لفظوں میں حروفِ جار کے علاوہ ساری انگریزی۔ "ای میل سینڈ کریں"، "ای میل بھیجیں"، "برقی چٹھی ارسال کریں" جیسے تراجم سے میری مختصر سی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی مرتبہ واسطہ پڑا ہے۔ پہلا ترجمہ کسی اردو سے نابلد، غیر پیشہ ور اور بدنیت مترجم کا ہے جس کا مطلب صرف پیسے کمانا ہے۔ دوسرا ترجمہ کسی میرے جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیر کا ہے جو انگریزی بھی رکھنا چاہتا ہے اور اردو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور تیسرا ترجمہ اردو میں  گردن گردن دھنسے کسی اردو دان کو زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ میں ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان چلنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اصطلاح سازی میں ہم بہت سے تراجم پر تقریباً متفق ہو چکے ہیں۔ مثلاً سنکرونائزیشن کا ترجمہ مائیکروسافٹ کے ہائر کردہ مترجمین نے آج سے چند برس قبل "ہم وقت ساز کریں" کیا۔ اب میری کوشش ہوتی ہے کہ یہی ترجمہ استعمال کروں چونکہ سام سنگ، لینووو کے پچھلے تراجم میں ان گناہگار آنکھوں نے اسی ترجمہ کو استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ تو ترجمے کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے میں یہی ترجمہ استعمال کرتا ہوں چونکہ تسلسل ہو گا تو معیار بندی اور مانوسیت ہوتی جائے گی۔ اس کا ترجمہ "ہم آہنگ" اور "مطابقت پذیر" بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ ترجمہ "کمپیٹبلٹی" کے لیے پہلے ہی مختص ہو چکا تھاچنانچہ ایک امتیاز روا رکھنے کے لیے نئی اصطلاح تشکیل دی گئی۔ یہ سارا عمل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اوپر بیان کردہ سارے مسائل کے باوجود، ایک مترجم جب ترجمہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے سامنے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری  زبان میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کچھ اصول، کچھ پیشہ ورانہ پریکٹسز، کلائنٹ کے تقاضے، اپنی زبان کووسیع  (اِنرچ) کرنے کی خواہش، ترجمے میں معیاری بندی اور تسلسل کا قیام جیسی کئی اور چیزیں ہوتی ہیں۔ مترجم ہمیشہ یلل بللڑ نہیں ہوتا کہ آنکھیں بند  کر کے ترجمہ کر دیا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر جیسے اللہ واسطے کے تراجم میں بھی آپ لاکھ کیڑے نکال لیں لیکن اس پر انسانی گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔ آپ کا دل اگر اپنی قومی زبان میں سافٹویئر استعمال کرنے کو نہیں کرتا تو اس میں جتنا ترجمے کا مسئلہ ہے اتنا ہی آپ کی سوچ کا مسئلہ بھی ہے۔ آپ ترجمہ استعمال کریں، اس پر فیڈ بیک دیں تو یقیناً یہ ترجمہ بہتر ہو سکتا ہے۔ (رضاکارانہ تراجم میں کام ایسے ہی چلتا ہے۔ کمپنیوں کے کروائے گئے تراجم میں ان کا کوالٹی کنٹرول کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اور میرے تجربے کے مطابق یہ طریقہ کار خاصا سخت اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔)

پچھلے دنوں ہمارے ایک محترم و مربی اور استاد جناب ڈاکٹر تفسیر احمد صاحب نے ایک فیس بُک پوسٹ شیئر کی جس پر دو تین تبصروں کے بعد زیرِ نظر بلاگ پوسٹ کا خیال آیا۔ جس میں ادھر اُدھر کی کئی باتوں کے علاوہ مذکورہ فیس بُک پوسٹ کے حوالے سے بھی کچھ باتیں بھی زیرِ بحث آ گئیں۔ امید کرتا ہوں کہ آج سے چند برس بعد ترجمہ کی صورتحال بہت بہتر ہو گی، مشینی ترجمہ کی ترقی، اصطلاحات کی معیار بندی اور تسلسل ،مانوسیت بڑھنے سے ترجمہ کردہ اورمقامیائے گئے سافٹویئر کا استعمال بڑھے گا۔ اور صارفین کی شکایات کم ہوں گی۔