سوموار، 22 دسمبر، 2014

کاش ایک بار۔۔۔

ممتاز مفتی کہتا ہے کہ مجھ پر غم فوراً اثر نہیں کرتا۔ دھیرے دھیرے، جیسے قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہے غم اندر ہی کہیں ٹپکتا رہتا ہے اور جب وہ اکٹھا ہو جائے تو پھر احساس میں شدت آتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں بھی ایک بے حس شخص ہوں، جس کی حس بہت دیر کے بعد جا کر جاگتی ہے۔ جیسے ایپلی کیشن بیک گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہے ویسے میرے اندر کا میکانزم بھی دھیرے دھیرے غم جمع کرتا رہتا ہے اور پھر جب معاملہ برداشت سے باہر ہو جائے تو میرے اندر آتش فشاں پھوٹ پڑتا ہے۔

پشاور میں ڈیڑھ سو نونہال جان ہار گئے۔ میں نے اس دن ٹی وی نہیں دیکھا۔ یونیورسٹی میں تھا جب یہ خبر بی بی سی اردو پر دیکھی۔ مجھے افسوس ہوا ایک اور دہشت گردی کا واقعہ ہو گیا ہے۔ لیکن شام ہوتے ہوتے جب یہ خبر کھلی تو میرے اندر کھد بد مچنے لگی۔ اگلے دن اخبار پڑھتے ہوئے دو آنسو ٹپکے تھے۔ "مولا میرے بچے"۔ "یہ درندے انہیں چیر پھاڑ گئے"۔ اور اس کے بعد پھر میں نے اس غم کو اپنے اندر زبردستی بند کر لیا۔

آج فیس بک پر اسلامی تاریخ کے صفحے پر روزانہ اسلامی تاریخ کے سلسلے کے تحت ولادتِ رسول ﷺ کا واقعہ درج تھا۔ نبی ﷺ کا نام ایسا ہے کہ مجھ جیسے ادنی ترین ایمان والے سے بھی رہا نہیں جاتا۔ دل موم ہو جاتا ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔ دل کیا میں دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ کاش سائیں ﷺ سامنے مل جائیں۔ ایک بار اذنِ باریابی مل جائے۔ ایک بار مدینے میں حاضری کی اجازت مل جائے۔ میں چوکھٹ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر روؤں۔

"یا رسول اللہ ﷺ میرے بچے!!"۔

"سائیں ﷺ میری قوم والے سارے سانپ کی نسل سے ہو گئے ہیں۔ اپنے ہی بچوں کو کھانے لگے ہیں"۔

"سائیں ﷺ آپ تو رحمت والے تھے۔ رحمت اللعالمین تھے۔ میری قوم پر نظرِ کرم ہو جائے۔ سائیں ایک نظر ہو جائے۔ سائیں ان بچوں کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔ خدارا ایک نظر کرم ہو جائے۔ حسنؓ اور حسینؓ کا صدقہ ایک بار نظرِ کرم ہو جائے۔ یہ جو ہر روز ایک کربلا اس قوم کا مقدر ہو گیا ہے، ایک نظرِ کرم ہو جائے"۔

کاش مجھے اذنِ باریابی مل جائے تو میں چوکھٹ پر سر رکھ کر فریاد کروں۔ کاش ایک بار۔۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔