بدھ، 2 اگست، 2006

جشن آزادی کیسے منائی جائے گی

اگست کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ محفل پر ایک دوست نے پوچھا کہ جشن آزادی کس طرح منائیں تو یہ فی البدیہہ "نظم نما" جواب میں وارد ہوئی۔ جو بلاگ پر بھی پیشِ خدمت ہے۔
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں‌ سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں‌ گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں‌ گے یا بارشوں‌ میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں‌ پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں‌ گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔

جشن آزادی کیسے منائی جائے گی

اگست کا مہینہ شروع ہوگیا ہے۔ محفل پر ایک دوست نے پوچھا کہ جشن آزادی کس طرح منائیں تو یہ فی البدیہہ "نظم نما" جواب میں وارد ہوئی۔ جو بلاگ پر بھی پیشِ خدمت ہے۔
جشن آزادی کیسے منائیں۔
سوال تو اچھا ہے۔
ادھر تو یہ ہوگا۔
جھنڈیاں لگیں گی۔
جھنڈے لگیں گے۔ (ساتھ والوں‌ سے غیر اعلانیہ شرط لگا کر کہ بانس اور جھنڈا دونوں کس کے بڑے ہیں)
بچے سٹکر خریدیں گے۔ بڑے بیج لگائیں گے۔
ٹی وی والے ترانے گائیں گے۔
14 اگست والے دن وطن کی محبت میں سرشار نواجوان۔۔۔۔
موٹر سائیکلوں پر جھنڈے لگائے۔
ٹنڈوں پر جھنڈے بنوائے
سائنلنسر کی بانسریاں نکلوائے۔۔
پورے شہر میں گشت فرمائیں‌ گے۔۔
اس کے بعد جھنڈے یا تو اتر جائیں‌ گے یا بارشوں‌ میں گل جائیں گے۔
جھنڈیاں کئی دنوں تک کوڑے کے ڈھیروں‌ پر یا پیروں تلے رلتی پھریں گی۔
جذبے ٹھنڈے ہوجائیں‌ گے۔
اور مادر وطن بھی ہمیشہ کی طرح ایک ٹھنڈا سانس لے کر پھر کسی مسیحا کے انتظار میں لگ جائے گی کہ شاید۔۔۔۔
شاید ۔۔۔ کوئی اٹھے اور اس قوم کی تقدیر بدل دے ۔ اس ملک کی تقدیر بدل دے جس کی نگاہیں 60 سالوں سے اس انتظار میں پتھرا گئی ہیں۔

جمعہ، 21 جولائی، 2006

اردو نستعلیق فانٹ ایک خواب جس کی تعبیر دور نہیں

دنیا دیوانوں سے خالی نہیں۔ اب دیکھیے نا اردو میں ہر کوئی ڈھول پیٹتا ہے کہ نستعلیق نہیں ہے مارے گئے لٹے گئے اردو کا حسن ماند پڑ گیا نسخ استعمال کرکرکے۔
مگر ہے کوئی مائی کا لعل جس نے نستعلیق خط بنانے کا سوچا ہو کبھی۔ وہی بات صاحب کہ باتیں اور ‫واویلہ تو سب ہی کرلیتے ہیں۔ مگر عمل کم کم ہی ہے ہم میں۔ کچھ دوست مجھ سے متفق نہ ہوں شاید۔ یقینًا نہیں ہونگے یہ قوم ابھی سوئی نہیں ابھی اس میں بڑے بڑے گوہر نایاب موجود ہیں۔ اس کا درد رکھنے والے موجود ہیں۔ تو صاحبو جو درد رکھتے ہیں۔ جو انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج چاہتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کہ اردو کی مانگ جو نستعلیق بنا ادھوری ہے بھر دی جائے۔ وہ ذرا قدم بڑھائیں۔ آئیں آگے بڑھیں ان غلطیوں کی تلافی کا ایک موقع ہے۔ ایک منصوبہ جس کا مقصد اردو کے لیے ایک آزاد مصدر نستعلیق فونٹ اردو نستعلیق بنانا ہے شروع ہوا ہی چاہتا ہے۔ وہ صاحب بھی دیوانے ہیں جو آواز دے کر اس طرف بلا رہے ہیں اور وہ بھی دیوانے جو لبیک کہہ رہے ہیں۔ آئیے آپ بھی ان دیوانوں میں شامل ہوجائیے کہ یہ دیوانگی فرزانگی سے بدرجہا بہتر ہوگی۔ اردو
نستعلیق فانٹ پراجیکٹ
آپ کی توجہ اور مدد کا منتظر ہے۔ اٹھئیے کہیں دیر نہ ہوجائے کہیں کل کو ہمیں شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اتوار، 9 جولائی، 2006

گدھے۔۔۔۔

بہت دنوں بعد آج کچھ لکھنے کو دل کیا توپچھلے دنوں کی ایک خبر یاد آگئی۔ کچھ یوں تھی کہ "پاکستان میں گدھوں کی آبادی میں اضافہ ہوگیا ہے"۔
ہم نے اپنے دوست حاسد سے اس بارے میں استفسار کیا تو منہ بنا کر بولے " پھر کیا ہوا۔اگر غربت بڑھی سکتی ہے، بے روزگاری بڑھ سکتی ہے، مہنگائی بڑھ سکتی ہے تو گدھوں کی آبادی کیوں نہیں بڑھ سکتی۔کونسا قیامت آجائے گی اس سے"
اور ہم سر ہلا کر رہ گئے بات ان کی بھی غلط نہیں تھی۔ بھلا گدھوں کی آبادی بڑھنے سے کیا ہوجائے گا۔ صاحبو گدھا بڑا ہی شریف جانور ہے۔ اتنا شریف کہ نہ جانے کتنے عرصے سے اس کو زندگی کے ہر شعبے میں بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے مگر مجال ہے اس نے کبھی چوں چاں کی ہو۔
گدھا ایک کثیر المقاصد قسم کی چیز ہے۔ اس کے نام سے لے کر اس کی ذات تک ہر چیز قابل استعمال ہے۔
مثلًا "گدھا" ایک عمومی لقب ہے جو اکثر پاکستانی عوام و خواص کے منہ سے پھولوں کی طرح جھڑتا ہے اور مخالف کے کپڑوں پر کیچڑ کی طرح داغ لگا جاتا ہے۔گدھا آپ کسی کو غصے سے بھی کہہ سکتے ہیں اور پیار سے بھی۔
غصے میں کہیں گے تو اگلا بندہ یہ سوچ کر چپ رہے گا چلو گدھا ہی کہا ہے کچھ اور نہیں کہہ دیا۔
اگر پیار سے کہیں گے تو پھر تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ کون مائی کا لال ہے جو آپ کو کچھ کہہ سکے۔
گدھے سے ہمیں اپنے استاد محترم یاد آگئے۔ میٹرک میں ہمارے فزکس کے استاد تھے۔ بڑے باشرع اور عملی انسان تھے۔بات منہ میں ہوتی تھی اور ہاتھ مصروف عمل ہو بھی چکتے تھے۔ہمیں گدھا اور ایک مزید نحس جانور کے القابات سے بڑی بے تکلفی سے نوازا کرتے ساتھ میں ان کا ہاتھ چلتا تو یقین آجاتا کہ ہم گدھے ہی ہیں۔بس فرق اتنا ہوتا کہ بوجھ کی بجائے وہ ہم پر فزکس کے عجیب و غریب کے قسم کے فارمولے لادنے کی کوشش کرتے۔خیر اللہ ان پر اپنی رحمت نازل کرے انھی کے ڈنڈے اور گالیوں کی برکت ہے کہ ہم ابھی تک یہ نہیں بھولے کہ فزکس میں حرکت کی تین مساواتیں ہوا کرتی تھیں۔(کرتی تھیں اس لیے کہا ہوسکتا ہے جب لوگوں نے دیکھا کہ نیوٹن خود بھی مرمرا گیا ہے اور اس کا کوئی عزیز رشتہ دار بھی نہیں تو انھوں نے سوچا ان مساواتوں کو تو بنّے لگاؤ۔ خیر ہمارے ہاں تو یہ کام پٹواری جائیداد کے کاغذوں کے ساتھ اس احسن اور فنکارانہ طریقے سے کرتے ہیں کہ اصل وارث بیچارہ ساری عمر مقدمہ لڑتے لڑتے مر جاتا ہے مگر کاغذات کی تبدیلی غلط ثابت نہیں کرپاتا۔لیجیے بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔۔)
گدھا باربرداری کے کام آتا ہے۔ اس پر جتنا مرضی وزن لاد لو اس کا کام ہے بس چلتے جانا۔ بس اس کی ذرا سی تفریح یہ ہے کہ کسی دوسرے گدھے یا گدھی کو دیکھ کر اسے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے کی اجازت دے دی جائے۔ گدھا ون مین شو کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور مالک کے ساتھ گدھا گاڑی بھی چلاتا ہے۔ گدھا گاڑی کو کچھ ستم ظریف چاند گاڑی بھی کہتے ہیں مگر آفرین ہے جو کبھی گدھے نے برا منایا ہو ہمیشہ ڈھینچوں کرکے اپنی رضامندی کا اعلان ہی کیا ہے۔
گدھا گاڑی سے یاد آیا یہ گاڑیوں کی اس قسم سے تعلق رکھتی ہے جس کا سٹیرنگ اور بریک ایک ہی جگہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے دوست حاسد سے پوچھا گدھا گاڑی میں ایکسلریٹر کیوں نہیں ہوتا تو انھوں نے رازدارانہ انداز میں بتایا " ہوتا ہے" ہم حیران رہ گئے یہ کیسے ہوسکتا ہے گدھا گاڑی کا ایکسلریٹر ہو اور نظر نہ آئے۔ ہم نے پھر عرض کیا اگر نشاندہی فرما دیں تو نوازش ہوگی۔ بڑے نخروں کے بعد حاسد نے بتایا گدھے کی "دم" اس کا ایکسلریٹر ہوتی ہے۔ ہم ان کی وسیع العلمی کے قائل ہوگئے۔ اسی بحر حیرت و احترام میں ہم نے جب پوچھا کہ کبھی گدھے کا یہ پرزہ استعمال کرنے کا اتفاق بھی ہوا تو حاسد ناراض ہوگئے کہ اب تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو۔ ہم نے بڑی مشکل سے یقین دلایا اس میں بھلا مذاق کی کیا بات ہے۔ تو انھوں نے جوابًا جو واقعہ سنایا اس کا لب لباب یہ تھا کہ ایک بار انھوں نے یہ کوشش کی تھی تاکہ اپنے نظریے کو عوام کے سامنے ہمراہ ثبوت پیش کرسکیں جواب میں انھیں دولتی کھانا پڑی تھی۔
خیر حاسد کے ارشادات تو چلتے رہیں گے کہتے ہیں ہاتھی زندہ لاکھ کا مرے تو سوا لاکھ کا۔ گدھے کے لیے بھی یہی ضرب المثل مشہور ہونی چاہیے تھی ۔ زندہ تو گدھا گاڑی میں مرگیا تو قصاب کی دوکان پر بکرے کے بھاؤ۔
پس ثابت ہوا کہ گدھا واقعی ایک شریف اور کثیر المقاصد جانور ہے جب تک زندہ رہتا ہے خدمت کرتا ہے جب مرجاتا ہے تب بھی کچھ نہ کچھ دے کر ہی جاتا ہے۔
صاحبو چلتے چلتے ایک لطیفہ سناتے چلیں۔
ایک ملک کے سربراہ کو ایک بار ان کے مشیروں نے باتوں ہی باتوں میں کہہ دیا کہ یہ قوم تو ہے ہی گدھی اور بے عقل۔ سربراہ مصر ہوگئے ثبوت پیش کرو۔ مشیران بولے حضور ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ابھی ثبوت مل جاتا ہے آپ بس جیسے ہم کہیں ویسے کرتے جائیں۔ سربراہ نے مشیروں کے کہنے کے مطابق کسی چیز کی قیمت بڑھا دی۔ چند دن گزرے کچھ احتجاج ہوا پھر خاموشی چھا گئی۔ مشیران بولے حضور دیکھا یہ قوم گدھی ہے۔ جتنا وزن ڈال لو کوئی مسئلہ نہیں۔ سربراہ اب بھی ماننے کو تیار نہ تھے۔ انھوں نے نرخ دوگنے کردیے۔ پھر کچھ چوں چاں ہوئی اور بات دب گئی۔
یہ بڑے لوگ بھی عجیب ہوا کرتے ہیں جس چیز کی ضد چڑھ جائے انھیں بس پھر نہ پوچھیں۔ انھوں نے نرخ چار گنا کرنے کا حکم دے دیا۔ بات پھر وہیں کسی کو کوئی فرق نہ پڑا معمولی احتجاج بھی نہ ہوا۔ سربراہ حیران رہ گئے۔ مشیران بولے حضور یہ قوم اس سے بھی زیادہ گدھی ہے۔ سربراہ بولے وہ کیسے۔ مشیروں نے عرض کی حضور ذرا ہمارے مشورے کے مطابق کیجیے ثبوت مل جائے گا۔
چناچہ اگلے دن سے متعلقہ چیز کی منڈیوں میں سرکاری اہلکار بیٹھ گئے۔ جو بھی چیز لینے آتا پہلے اسے دس چھتر کھانا پڑتے پھر چار گنا نرخوں پر چیز لے کر گھر جاتا۔لوگ کچھ پریشان ہوئے پھر عادی ہوگئے۔سربراہ پھر غصے میں آگئے۔ انھوں نے چھتروں کی تعداد دس سے بیس کردی۔بات پھر وہیں۔ چیز استعمال ہورہی تھی چھتر لگ رہے تھے اور یہ سب یونہی تھا جیسے عام سی بات ہو۔ آخر تنگ آکر انھوں نے چھتروں کی تعداد پچاس کردی۔ ایک کلو چیز ساتھ پچاس چھتر۔
اب تو ہر طرف رش۔ جہاں دیکھو لوگ لائن میں لگے چھتر کھارہے ہیں۔ چند دن لوگوں نے برداشت کیا پھر انھوں نے سوچا یہ تو بہت ہوگیا ایسے تو نہیں چلے گا۔ سب ایک وفد کی صورت میں سربراہ مملکت کی خدمت میں پیش ہوئے۔ سربراہ خوش ہوئے چلو میری قوم میں ابھی عقل والے موجود ہیں مگر انھوں نے جو درخواست کی ملاحظہ ہو۔
“عالی جناب کے حکم کے مطابق ہم چھتر تو کھا لیتے ہیں مگر اس سے ہمارا بہت سارا وقت ضائع ہوجاتا ہے اس لیے درخواست ہے کہ چھتر مارنے والے سرکاری اہلکاروں کی تعداد معقول حد تک بڑھائی جائے تاکہ عوام کو چھتر کھانے میں تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔"
وفد کے جانے کے بعد سربراہ مملکت محو حیرت تھے کہ مشیران بولے حضور ہم نہ کہتے تھے یہ قوم ہی گدھی اور بے عقل ہے۔
خیر یہ تو لطیفہ تھا ہم اس کا ذکر حاسد سے کر بیٹھے تو بڑے تلخ ہوکر بولے" وہ قوم کوئی اور نہیں پاکستانی قوم تھی۔" ہم حیران و پریشان وہ کیسے۔ تو جواب ملا " خود دیکھ لو کیا حالات ہیں اور ان کے لچھن کیا ہیں۔"
تو صاحبو ہم نے تو جائزہ لے لیا اب آپ بھی جائزہ لیں اور سوچیں کہیں حاسد نے ٹھیک ہی تو نہیں کہا۔

اتوار، 4 جون، 2006

آزاد مصدر کیا کیوں؟

اوپن سررس یعنی آزاد مصدر کا ذکر کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کے لیے نیا نہیں۔ لینکس کا نام بھی سب جانتے ہیں۔ آزاد مصدر ہے کیا؟
آزاد مصدر کا مطلب ہے سافٹ ویر کو اس طرح فراہم کرنا کہ صارف کو اسے استعمال کرنے اور تقسیم کرنے کی آزادی ہو معاوضہ ادا کرکے یا اس کے بغیر۔ ہر دو صورتوں میں ناشر کو صرف اپنے معاوضے سے غرض ہوگی نہ کہ اس بات سے کہ پروگرام کو کون آگے مزید تقسیم کررہا ہے یا اس میں مزید تبدیلیاں کرکے اسے اپنے نام سے شائع کررہا ہے۔
آزاد مصدر کے پیچھے ایک فلسفہ کار فرما ہے۔حقوق دانش کے غیز منصفانہ استعمال کو روکنا۔یہ کہاں کاانصاف ہے کہ چند لوگ ایک چیز بنا لیں پر اس پر اجاردہ دار بن بیٹھیں۔ آزاد مصدر کے تحت ہر سافٹ ویر اور اس کا رمزی ذریعہ یعنی سورس کوڈ انسانیت کی میراث ہے نہ کہ کسی مخصوص کمپنی، یا شخص یا اشخاص کی۔
اس نعرے کو لے کر کچھ دیوانے آگے بڑھے اور یونکس سے لے کر لینکس اور عبارتی مواجے سے لے کر تصویری صارف مواجے تک ایک لمبی داستان ہے جو آزاد مصدر کے تحت لکھی گئی۔ انٹرنیٹ پر اس وقت ہزاروں سافٹ ویر دستیاب ہیں جو آزاد مصدر اجازت ناموں کے تحت جاری کیے گئے ہیں۔
چلیں یہ سب تو ہے مگر ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟
ہمارا یہ حال ہے کہ جب کمپیوٹر کی بات کی جاتی ہے تو جو چیز پہلے ہمارے ذہن میں آتی ہے وہ ہے مائیکرو سافٹ اور اس کا خدمتگار نظام یعنی ونڈوز۔ہماری سوچ صرف مائیکرو سافٹ تک ہی کیوں محدود ہوگئی ہے۔ چلیں تھوڑا آگے چلتے ہیں ونڈوز سے ہٹ کر کچھ مزید پروگرام بھی ہیں جن تک ہماری رسائی ہوجاتی ہے وہ ہیں مقبول عام ایڈوب بی فوٹو شاپ،کورل ڈرا اور اسی طرح کے دوسرے تیسرے پروگرام جو چوری شدہ ہیں اور تیس روپے کی سی ڈی پر با آسانی دستیاب ہیں۔
ہم چوری شدہ سافٹ ویر کو ہی کیوں ترجیح دیتے ہیں۔ آزاد مصدر کی صورت میں ہمارے پاس اس کا ایک حل موجود ہے تو اسے استعمال کیوں نہیں کیا جاتا۔ میں نے اکثر یہ سوال اپنے دوستوں حتٰی کہ اپنے بھائی سے بھی پوچھا پتا کیا جواب ملا؟
‫” یہ لوگ ہمیں لوٹ کر کھارہے ہیں تو ان کو اتنا نقصان پہنچانا تو ہر مسلمان کا فرض ہے۔”
یہ ہے ہمارا نظریہ اس بارے میں۔ ذرا اس تحریر کو پڑحنا بند کیجیے اور ایک بار آنکھیں بند کرکے تسلی سے سوچیے کہ کیا یہ صحیح ہے۔ کیا یہ چوری ،چوری نہیں؟؟ ہاں یا نہیں میں جواب سوچیں گے تو یقینًا آپ کا جواب ہاں ہوگا۔ اگر ہاں تو پھر آپ میں ایسا کیوں کرتے ہیں۔ اور اگر جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں تو کیا یہ سینہ زوری نہیں؟؟؟ اس کا جواب بھی سوچیے کیا آپ اس پر شرمندہ ہیں؟؟
اگر ہاں تو مبارکباد آپ ایک باضمیر جرات مند انسان ہیں اور اگر آپ آج غلطی تسلیم کر رہے ہیں تو کل اسے دہرانے سے پرہیز بھی کریں گے اور میرا خیال ہے یہی ایک اچھے مسلمان کی نشانی بھی ہے۔اور اگر آپ اس سینہ زوری پر شرمندہ نہیں یا اس چوری کو سرے سے چوری ہی نہیں سمجھتے تو پھر آپ کا اللہ ہی حافظ ہے مجھے بے اختیار قرآن کریم کی آیت یاد آرہی ہے جس میں اندھے گونگے اور بہرے لوگوں کا ذکر موجود ہے۔
سوال یہ ہے کہ ہم ایس کیوں کرتے ہیں؟ صرف اپنی دنیاوی آسانی کے لیے مگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آخرت میں آپ سے اس کا سوال ہوگا۔ چلیں اس کو چھوڑیں دنیاوی بات ہی کرلیتے ہیں۔ آپ ایسا کرکے بالواسطہ سافٹ ویر کی دنیا پر اجارہ دار چند کمپنیوں کw فائدہ اور ایک اچھی اور بامقصد تحریک کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ مگر کیسے؟؟
ایسے کہ پاکستان میں کمپیوٹر پر کیا چلتا ہے سب سے پہلے م س ونڈوز خدمتگار نظام۔ ٹھیک ہے آپ کی بات مان لیتے ہیں تیس روپے میں مل جاتا ہے اور ہم اس سے انگریزوں کو چونا لگا دیتے ہیں۔ مگر ذرا سوچیے ہمارے پروگرامر جو آج نکل رہے ہیں وہ کس چیز کے ماہر بن رہے ہیں۔ کبھی اخبار پڑھیے گا مائیکرو سافٹ کا فلاں پروفیشنل ماشاءاللہ بچے نے بہت کم عمر میں یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔ قسم کی خبریں ملیں گی۔ اب ذرا یہ بتائیے کیا یہ سب مفت میں ہوجاتا ہے؟؟؟؟
ظاہر سی بات ہے پیسے لگتے ہیں۔ م س کی مفت میں مشتہری اور مزید گاہک بننے کا رجحان اسے اس بات کی فکر ہی نہیں ہونے دیتا کہ پاکستان میں حقوق دانش کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔آپ اپنی دانست میں انھیں چونا لگاتے ہیں اور وہ بڑے پیار سے آپ کو چونا لگا رہے ہیں بڑے غیر محسوس طریقے سے آپ کے ملک سے زرمبادلہ اور ذہانت کو کھینچ رہے ہیں۔
ہمارا یہی رویہ ہارڈویر ساز کمپینیوں کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ صرف چند بڑی کمپنیوں کے لیے ہارڈویر بنائیں اور پھر آزاد مصدر خدمتگار نظاموں کی بات ہوتی ہے تو کمپیوٹر صارفین مطابقت نہیں رکھتا اور مشکل ہے جیسے الزامات لگا کر بری ہوجاتے ہیں۔
کیا پروگرامنگ صرف م س اور اس جیسی چند بڑی کمپنیوں کی میراث ہے؟؟؟ نہیں۔ یہ ہمارا آپ کا وہم ہے۔کبھی اس کنویں سے نکل کر دیکھیے پروگرامنگ کی دنیا بہت وسیع ہے۔
آزاد مصدر کا فلسفہ ہے کہ آپ کو خود بھی کچھ نہ کچھ پروگرامنگ آنی چاہیے۔ یہ کسی پروگرامر اور کسی م س جیسی کمپنی کا ہی کام ہے کہ آپ کو گھر بیٹھے سی ڈی پر ونڈوز مل جائے اور آپ اسے نصب کرکے استعمال کرنا شروع کردیں۔ کمپیوٹر صارفین کو اس “پیشہ ورانہ پن” نے انتا تن آسان کردیا ہے کہ چند کلک کرنا انھیں عذاب محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں کمپیوٹر صارفین ہیں ہی کہاں ہمارے ہاں تو فلموں کے شوقین،گیموں کے شوقین کمپیوٹر صارف بنے بیٹھے ہیں۔ ایک تعمیری چیز کو انتہائی غلط انداز میں استعمال کیا جارہا ہے۔
جبکہ آزاد مصدر ہر اس رجحان کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ پہلی چیز تو یہ قانونی طور پر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جو آپ استعمال کررہے ہیں اس پر آپ کا حق ہے بغیر کسی معاوضے کے اور آپ اسے بغیر کسی ڈر کے آگے تقسیم کرسکتے ہیں اور ہاں اگر کہیں معاوضہ وصول کیا بھی جاتا ہے تو انتہائی کم ۔
دوسرے آزاد مصدر کے تحت جاری ہونے والے پروگرام کسی بھی طرح خریدے جانے والے پروگراموں سے کم نہیں۔ مزید آزاد مصدر خدمتگار نظاموں اور ان کی آبادیوں میں شمولیت سے صارفین کو پروگرامنگ کی شدھ بدھ کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر کا استعمال تعمیری انداز میں کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
تو پھر کیوں نہ ایک اچھی چیز کی طرف قدم بڑھائیں۔ اگرچہ پہلے چند قدم ضرور لڑکھڑاہٹ ہوگی مگر اس کے بعد آپ سنبھل جائیں گے۔ آپ سے یہ مطالبہ نہیں کہ ابھی سے ونڈوز کو گھر سے باہر پھینکیں اور لینکس کی کوئی تقسیم نصب کرکے بیٹھ جائیں۔ مگر بسم اللہ تو کریں ونڈوز کے لیے ہی بے شمار آزاد مصدر سافٹ ویر موجود ہیں آپ موجودہ پراگراموں کے ساتھ انھیں بھی استعمال کریں اور آہستہ آہستہ چوری شدہ سافٹ ویر کے استعمال کو ختم کردیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین کریں۔
یہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے اور اخلاقی و قانونی لحاظ سے ذمہ داری بھی۔