مورخہ سات مارچ سے میرے سمسٹر فائنل ٹیسٹ ہورہے ہیں جو چودہ مارچ کو ختم ہوجائیں گے۔ اس کے بعد میں ایک بار پھر ویلا مصروف ہوجاؤں گا۔ بی کام کرنے کے بعد پتا ہی نہیں لگا ڈیڑھ سال گزر گیا۔ میرے ہم جماعت اس وقت اپنا ایم بی اے اور ایم کام مکمل کرنے کے قریب ہیں۔ جبکہ میں ابھی تک لنڈورا ہی پھر رہا ہوں۔
اب پھر سے چھ ماہ کا ایک فل سٹاپ لگ گیا ہے میرے تعلیمی کیریئر میں۔ میرا حال بھی اس پینڈو جیسا ہے جو بتیاں دیکھ کر اس طرف چل پڑتا ہے۔ اچھا بھلا کامرس کا سٹوڈنٹ تھا کہ لسانیات میں ٹانگ اڑا لی۔ چلو یہ تو ٹھیک تھا لیکن جو کورس شروع کیا وہ صرف ایک سال کا تھا۔ اور جہاں یہ کروایا جارہا تھا وہ یونیورسٹی بھی زندہ باد ہے۔
اب وہ سال کا کورس ختم ہوجائے گا اور میں پھر ایم اے کے لیے چھ ماہ تک منہ اٹھا کر دیکھتا رہوں گا۔ ستمبر اکتوبر سے شروع ہونے والے سمسٹر سے میں مارننگ میں موجود اسی کورس کے جونیر بیچ میں بیٹھ سکوں گا جو ایم ایس سی کے ٹائٹل سے شروع کیا گیا ہے۔ ان چھ ماہ کو کیا کیا جائے؟
ڈھیر سارا سوچنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان چھ ماہ میں مجھے سی شارپ سیکھنا ہوگی۔ اپنی انگریزی بولنی بہتر کرنا ہوگی اور ساتھ جاب کرنا ہوگی۔
بس یہ چھ ماہ اور مزید نہیں۔ میں ویلا رہ رہ کر اک گیا ہوں۔ اب دل کرتا ہے کہ کام کیا جائے اور دبا کر کیا جائے۔ والدین کو بھی سکون دیا جائے 23 سال سے میرے جیسا ڈشکرا پال رہے ہیں وہ جو صرف موج کرتا ہے۔
میں نے سوچا ہے کہ نبیل نقوی کے لکھے گئے اردو ایڈیٹر کو لینکس پر پورٹ کروں۔
اردو لغت اطلاقیے کو لینکس پر چلانے کا بندوبست بھی کروں۔
اور کارپس لنگوئسٹکس کے لیے پروگرامنگ کرنے کی کوشش کروں۔
اب اس میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہوں یہ تو اگلے چھ ماہ ہی بتائیں گے۔ مجھے امید ہے یہ چھ ماہ مجھے بہت کچھ دے کر جائیں گے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے پلان کیا ہے کچھ کرنے کے لیے۔۔دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔
جمعہ، 29 فروری، 2008
جمعرات، 28 فروری، 2008
اوبنٹو کی دو خبریں
اوبنٹو نے برین سٹارم کے نام سے اپنی ایک سائٹ لانچ کی ہے۔ یہاں اوبنٹو کے صارفین اپنے محبوب آپریٹنگ سسٹم کے لیے نئی تجاویز دے سکیں گے۔ یہ تجاویز کسی عمومی بگ رپورٹ سے لے کر نیا فیچر متعارف کروانے تک ہوسکتی ہیں۔ پہلے سے موجود تجاویز پر آپ اثبات یا نفی میں ووٹ دے سکتے ہیں اور اس پر تبصرہ بھی کرسکتے ہیں۔ میں نے اپنا کھاتہ درج کروا کے ہائبر نیٹ والے آپشن کی خرابی والی تجویز میں اثبات کا ووٹ ڈال دیا ہے۔ آپ کے پاس بھی اگراوبنٹو کے بارے میں کوئی ایسا آئیڈیا ہے جسے سن کر دنیا پھڑک اٹھے تو اسے اوبنٹو برین سٹارم پر دوسروں ساتھ شئیر کیجیے۔
فُل سرکل اوبنٹو لینکس کا ترجمان ایک ای میگزین ہے۔ اس میں اوبنٹو لینکس کے مختلف ذائقوں، اس کے بارے میں ٹیوٹوریل اور خبریں وغیرہ شئیر کی جاتی ہیں۔فل سرکل کا شمارہ نمبر 10 منظر عام پر آچکا ہے اپنی کاپی اتاریں اور پڑھیں۔
فُل سرکل اوبنٹو لینکس کا ترجمان ایک ای میگزین ہے۔ اس میں اوبنٹو لینکس کے مختلف ذائقوں، اس کے بارے میں ٹیوٹوریل اور خبریں وغیرہ شئیر کی جاتی ہیں۔فل سرکل کا شمارہ نمبر 10 منظر عام پر آچکا ہے اپنی کاپی اتاریں اور پڑھیں۔
بدھ، 27 فروری، 2008
KubuntuKDE4 Alpha
کے اوبنٹو ہارڈی ہیرون 8.04 اپریل میں منظر عام پر آرہا ہے۔ اس کے دور ورژن ہونگے اس بار۔ ایک کیڈی 3 کے ساتھ اور ایک کیڈی چار کے ساتھ۔ موخر الذکر تجارتی بنیادوں پر سپورٹ شدہ نہیں ہوگا۔ اسے صرف کمیونٹی کی سپورٹ حاصل ہوگی۔ لیکن کے ڈی ای کے چاہنے والے کہاں یہ دیکھتے ہیں۔ یہ دیکھیے کے ڈی ای چار کے ساتھ کیا سکرین شاٹ ہے اس کے الفا ورژن کی۔ اگرچہ ابھی تک کے ڈی ای 4 سٹیبل نہیں اس میں بہت سی چیزیں درست ہونے والی ہیں لیکن امید کرتے ہیں کہ اگلے چھ ماہ میں کے ڈی ای چار پوری آب و تاب کے ساتھ 3 کی جگہ لے لے گا۔
اتوار، 24 فروری، 2008
دعا
گزشتہ کچھ دنوں سے میں اکثر بیٹھے بیٹھے جذباتی ہوجاتا ہوں۔ بے اختیار پاکستان کی سلامتی کے لیے ہاتھ اٹھ جاتے ہیں۔ آج دل کیا اپنے الفاظ آپ سے ساتھ بھی شئیر کروں کہ شاید آپ میں سے کسی کی دعا پاکستان کے حق میں قبول ہوجائے۔
اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک
اے اللہ ہم گنہگار ہیں، سیاہ کار ہیں، ہمارے دلوں پر سیاہی نے پہرے بٹھائے ہوئے ہیں، ہم سنتے دیکھتے ہیں لیکن بہرے اور اندھے بن کر رہتے ہیں۔۔۔۔اے پروردگار ہم تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا ہے۔۔تجھے تیرے نبی کا واسطہ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ،، ان کی آل کا واسطہ ان کے اصحاب کا واسطہ ہم پر کرم فرما، ہم پر اپنی رحمت فرما
مالک ہم کمزور ہیں، بے بس ہیں ناتواں ہیں۔ دشمن ہمیں اندر اور باہر سے گھیرے ہوئے ہے۔۔۔اگر تیرا سہارا نہ ہوا تو ہم کسی قابل نہ رہیں گے بے شک تیرا سہارا ہی تمام سہاروں سے بہتر ہے
اے اللہ تو ہماری مدد فرما، ہم دھتکارے ہوؤں کو اپنے نبی کے صدقے، اپنے سوہنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے اپنی رحمت میں چھپا لے۔
اے اللہ ہمارے ملک پر اپنی رحمت رکھ۔ مالک ہم نے اسے تیرے اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر حاصل کیا تھا ہمیں توفیق دے کہ ہم یہاں تیرا نام اونچا کرسکیں۔
اے اللہ ہمیں ظلم، ناانصافی اور برائی کے خلاف سینہ سپر ہونے کی توفیق دے۔
اے پروردگار ہمارے رہنماؤں کو توفیق دے کہ وہ ان وعدوں کو پورا کریں جن کا انھوں نے قوم سے وعدہ کیا ہے۔
رب کریم ہمیں اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی توفیق دے۔ ان کے خلاف ہر محاذ پر لڑنے کی توفیق دے۔
اے پروردگار اس ملک کو ہم نے خون کی ندیاں بہا کر حاصل کیا ہمیں توفیق دے ہم اسے بچانے کے لیے بھی خون کی ندیاں تک بہا سکیں۔
ہمارے بھائی جو ہم سے ناراض ہیں ہمیں انھیں منانے کی توفیق دے۔
یا اللہ ہمارے سندھ میں، ہمارے پنجاب میں، ہمارے سرحد میں، ہمارے بلوچستان میں برکت عطاء فرما۔
یااللہ ہمیں ایک ہوجانے کی توفیق دے۔
یاللہ ہمیں نفرتوں سے نکل کر محبتوں کو عام کرنے کی توفیق دے۔
اے مالک اس ملک کی نوجوان نسل کو پیارے پاکستان کی سربلندی کے لیے محنت کوشش کرنے کی توفیق دے۔
ارحم الرٰحمین ہم کچھ نہیں، ہم کچھی بھی تو نہیں، سب کچھی تیری رحمت کے سبب ممکن ہے، کالی کملی والے کا صدقہ، پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہم پر اپنی رحمت فرما۔ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ اے مالک ہم ناتواں ہیں، کمزور ہیں ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ فرما۔
اے اللہ ہمیں اپنی محبت اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطاء فرما اور اس محبت کو عام کرنے کی توفیق عطاء فرما۔
اے اللہ ہمیں آستین کے سانپوں سے ہوشیار رہنے کی توفیق عطاء فرما اور ان کا سر کچلنے کا حوصلہ عطاء فرما۔
مالک سب کچھ تیرے بس میں، ہم تیرے بےبس بندے ہمارے ساتھ نرمی کا معاملہ رکھ۔
آمین
اللھم صل علٰی سیدنا و مولانا محمد و علٰی اٰل سیدنا و مولانا محمد و اصحاب سیدنا و مولانا محمد و بارک وسلم وصل علیک
پیر، 18 فروری، 2008
نئی حکومت خدشات توقعات
انتخابات ہوگئے ہیں۔ حسب توقع سرکاری لیگ کا جنازہ اٹھ گیا ہے۔ اس کا وہی حال ہوا ہے جو 2002 میں نواز لیگ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ پچاس سیٹیں بھی لے سکیں قومی اسمبلی میں۔ اب آگے دیکھنا ہے۔ نئی حکومت بنے گی۔ لیکن یہ نئی حکومت کیسے بنے گی؟؟؟؟؟؟؟
اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان ہیں۔ جو ٹرینڈ اب تک نظر آرہا ہے اس کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں پی پی پی کو۔ غالب امکان ہے کہ بلوچستان سے بھی پی پی پی کو اچھا حصہ مل جائے گا اور سرحد سے بھی حسب توفیق اچھی نشستیں کھینچ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی پی پی اکثریت میں تو ہوگی لیکن جماعت سازی اس کے بس کا کام نہیں ہوگا۔ اس کو کم از کم نواز لیگ یا پھر ایم کیو ایم سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ یا پھر ق لیگ سے اتحاد۔۔۔
مرحومہ نے بھی اپنی زندگی میں آئیں بائیں شائیں کی اور کسی منڈیر پر ٹک کر نہیں بیٹھی۔ یہی حال اب لیڈروں کا ہے۔ زرداری نے کسی بھی جماعت کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ تک نہیں دیا۔ اگرچہ نوازلیگ کے ساتھ ان کی گاڑھی چھن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پندرہ سال تک ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین رہنے والے اتنی جلدی حکومت میں بیٹھ جائیں گے۔
نئی حکومت جو بھی بنی نواز لیگ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بہت کم ہوگی۔ جس کے نتیجیے میں ججوں کی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہورہا ہے اگر تحریک انصاف وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجاتیں تو آج ججوں کی بحالی کے لیے زیادہ امکانات ہوتے۔ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی فیصلے کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ زرداری صاحب مفاہمتی آرڈیننس کے صدقے ہی جیل سے باہر ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا؟ پچھلے کئی ادوار سے تو ہم پچھلی حکومت کی ہر نشانی پر سرخ لکیر پھرتا دیکھتے آرہے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوائی۔ مشرف کتنا ہی برا ہو لیکن اس نے اعلٰی تعلیم کو جتنا فنڈ فراہم کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔ بے تحاشا سکالرشپس دی گئیں جس کے بل پر ہزاروں طلبا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ڈھیر لگ گئے اور نئے نئے کورسز پڑھائے جانے لگے۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں جیسے تعلیم کا معیار وغیرہ۔ لیکن اس پالیسی میں پہلی بار ایک سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو اعلٰی تعلیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا۔ اعلٰی تعلیم کا بجٹ ایک بار کٹ بھی چکا ہے لیکن ایوان صدر نے اس کی کمی پوری کردی تھی۔ چونکہ اس وقت فوجی وردی موجود تھی۔ لیکن اب کیا ہوگا؟
ہمارے ہاں جو شعبہ سب سے متاثر ہوتا ہے وہ تعلیم ہے۔ نئی حکومت میں یہ لگ رہا ہے کہ اعلٰی تعلیم کا بجٹ بہت سکیڑ دیا جائے گا۔ شاید پچھلے آٹھ سالوں کی "کارکردگی" کی بنیاد پر ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کو بھی احتساب عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی ایک جمہوری حکومت میں اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ آمر کے پاس جو وژن ہوتا ہے وہ اسے لاگو کردیتا ہے اور ہر حال میں لاگو کرتا ہے۔ جمہوریت ایسا ہجوم بن جاتا ہے جس میں جتنے منہ اتنی آوازیں۔ لیکن یہ آوازیں اپنے کھابوں کے لیے ہمیشہ یک آواز ہوتی ہیں۔ مجھے اعلٰی تعلیم کے لیے وقف شدہ فنڈز غرب مکاؤ یا ایسے ہی کسی دوسرے زمرے میں منتقل ہوتے نظر آرہے ہین۔
چلتے چلتے ایک اور بات ق لیگ والوں نے اپنے پیشرؤوں کے لیے بڑے مناسب قمسم کے ایشوز چھوڑے ہیں۔ جیسے کہ تیل کی قیمتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک دو روپے لیٹر نہیں کم از کم دس روپے لیٹر بڑھ جائیں گی۔ عالمی مارکیٹ میں تو آپ کو ریٹس کا اندازہ ہی ہے۔ بھارت میں بھی کچھ دن پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پٹرول کم از کم 80 روہے لیٹر اور ڈیزل 50 روپے لیٹر ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی ایک اور شدید لہر اٹھے گی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوجائے گی۔ بشمول بجلی جس کے فی یونٹ اضافے کی درخواست فورًا کردی جائے گی۔ ایک پرآزمائش گرما ہمارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان ہیں۔ جو ٹرینڈ اب تک نظر آرہا ہے اس کے مطابق پنجاب میں ن لیگ کو اکثریت حاصل ہے۔ سندھ میں پی پی پی کو۔ غالب امکان ہے کہ بلوچستان سے بھی پی پی پی کو اچھا حصہ مل جائے گا اور سرحد سے بھی حسب توفیق اچھی نشستیں کھینچ لینے میں کامیاب ہوجائے گی۔ پی پی پی اکثریت میں تو ہوگی لیکن جماعت سازی اس کے بس کا کام نہیں ہوگا۔ اس کو کم از کم نواز لیگ یا پھر ایم کیو ایم سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ یا پھر ق لیگ سے اتحاد۔۔۔
مرحومہ نے بھی اپنی زندگی میں آئیں بائیں شائیں کی اور کسی منڈیر پر ٹک کر نہیں بیٹھی۔ یہی حال اب لیڈروں کا ہے۔ زرداری نے کسی بھی جماعت کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ تک نہیں دیا۔ اگرچہ نوازلیگ کے ساتھ ان کی گاڑھی چھن رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پندرہ سال تک ایک دوسرے کے بدترین سیاسی مخالفین رہنے والے اتنی جلدی حکومت میں بیٹھ جائیں گے۔
نئی حکومت جو بھی بنی نواز لیگ اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں بہت کم ہوگی۔ جس کے نتیجیے میں ججوں کی بحالی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ اس وقت مجھے بہت افسوس ہورہا ہے اگر تحریک انصاف وغیرہ بھی اس میں شامل ہوجاتیں تو آج ججوں کی بحالی کے لیے زیادہ امکانات ہوتے۔ پیپلز پارٹی ایسے کسی بھی فیصلے کی سختی سے مخالفت کرے گی۔ زرداری صاحب مفاہمتی آرڈیننس کے صدقے ہی جیل سے باہر ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا؟ پچھلے کئی ادوار سے تو ہم پچھلی حکومت کی ہر نشانی پر سرخ لکیر پھرتا دیکھتے آرہے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھا جس نے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے اپنی بات منوائی۔ مشرف کتنا ہی برا ہو لیکن اس نے اعلٰی تعلیم کو جتنا فنڈ فراہم کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ممکن ہی نہ تھا۔ بے تحاشا سکالرشپس دی گئیں جس کے بل پر ہزاروں طلبا ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یونیورسٹیوں کے ڈھیر لگ گئے اور نئے نئے کورسز پڑھائے جانے لگے۔ اگرچہ اس میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں جیسے تعلیم کا معیار وغیرہ۔ لیکن اس پالیسی میں پہلی بار ایک سائنسدان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کو اعلٰی تعلیم کے سیاہ و سفید کا مالک بنایا گیا۔ اعلٰی تعلیم کا بجٹ ایک بار کٹ بھی چکا ہے لیکن ایوان صدر نے اس کی کمی پوری کردی تھی۔ چونکہ اس وقت فوجی وردی موجود تھی۔ لیکن اب کیا ہوگا؟
ہمارے ہاں جو شعبہ سب سے متاثر ہوتا ہے وہ تعلیم ہے۔ نئی حکومت میں یہ لگ رہا ہے کہ اعلٰی تعلیم کا بجٹ بہت سکیڑ دیا جائے گا۔ شاید پچھلے آٹھ سالوں کی "کارکردگی" کی بنیاد پر ڈاکٹر عطاءالرحمٰن کو بھی احتساب عدالتوں کے چکر لگانے پڑیں۔ یہی ایک جمہوری حکومت میں اور آمریت میں فرق ہوتا ہے۔ آمر کے پاس جو وژن ہوتا ہے وہ اسے لاگو کردیتا ہے اور ہر حال میں لاگو کرتا ہے۔ جمہوریت ایسا ہجوم بن جاتا ہے جس میں جتنے منہ اتنی آوازیں۔ لیکن یہ آوازیں اپنے کھابوں کے لیے ہمیشہ یک آواز ہوتی ہیں۔ مجھے اعلٰی تعلیم کے لیے وقف شدہ فنڈز غرب مکاؤ یا ایسے ہی کسی دوسرے زمرے میں منتقل ہوتے نظر آرہے ہین۔
چلتے چلتے ایک اور بات ق لیگ والوں نے اپنے پیشرؤوں کے لیے بڑے مناسب قمسم کے ایشوز چھوڑے ہیں۔ جیسے کہ تیل کی قیمتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔تیل کی قیمتیں ایک دو روپے لیٹر نہیں کم از کم دس روپے لیٹر بڑھ جائیں گی۔ عالمی مارکیٹ میں تو آپ کو ریٹس کا اندازہ ہی ہے۔ بھارت میں بھی کچھ دن پہلے تیل کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں۔ اب لگتا ہے کہ پٹرول کم از کم 80 روہے لیٹر اور ڈیزل 50 روپے لیٹر ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ہی مہنگائی کی ایک اور شدید لہر اٹھے گی۔ ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہوجائے گی۔ بشمول بجلی جس کے فی یونٹ اضافے کی درخواست فورًا کردی جائے گی۔ ایک پرآزمائش گرما ہمارا منتظر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)