منگل، 20 اکتوبر، 2009
بلاگرز پی کے
بلاگرز پی کے پچھلے کئی دنوں سے اپڈیٹ کیوں نہیں ہورہا؟
جمعہ، 9 اکتوبر، 2009
دل بولے ہڑپہ
لو جی آج ہمارے پاس کچھ وقت تھا تو ہم نے انڈین مووی دل بولے ہڑپہ دیکھی۔ لگان، چک دے انڈیا وغیرہ کی طرح ایک اور کھیل کے گرد گھومتی کہانی اور اس بار پھر سے کرکٹ۔ اور کرکٹ بھی انڈیا پاکستان کی۔ اچھی کہانی ہے لیکن جگہ جگہ یہ لگتا ہے کہ فلمی کہانی ہے۔ اتفاقات اتنے ڈھیر سارے ہیں جن میں رانی مکھر جی کے مردانہ کیرکٹر سے لے کر اس کے شاہد کپور سے ملنے تک کئی واقعات شامل ہیں۔ مووی کا اختتام خاصا جذباتی ہے۔ جیسا کہ بالی وڈ کی فلموں کا خاصا ہے۔ جذبات میں لتھڑا ہوا یہ دی اینڈ بہت سے ننھے ننھے جھول بھی لیے ہوئے ہے۔ جیسے میچ میں شاہد کپور کے ہاتھ ہیروئن کے مرادانہ گیٹ اپ کا حصہ اس کا لینز آجاتا ہے جبکہ مونچھ داڑھی نہیں آتی حیرت کی بات ہے۔ یعنی ہیرو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھس کر لینز نکال لاتا ہے گویا۔
20 20 میچ میں پاکستان کے دو سو سے زیادہ رن کا پہاڑ کھڑا کروایا گیا اور پھر اسے بڑے سٹائل سے آخری تین چار اورز میں پورا کروایا گیا۔ لمبی چھوڑی ہے فلم لکھنے والے نے بھی۔ بہرحال جی اچھی فارمولا فلم تھی دو گھنٹے اچھے گزر گئے۔
آپ کے سر سے اگر یہ پوسٹ گزر گئی ہو تو معذرت کے ساتھ۔ آپ پہلے اوپر دئیے گئے ربط سے فلم اتاریں، دیکھیں اور پھر اس پوسٹ کو پڑھیں۔ چونکہ ہم نے پہلے کسی فلم پہ تبصرہ نہیں کیا اس لیے آپ کو عجیب سا لگ رہا ہوگا۔ ;)
سمجھ لیں دل کا ساڑ نکالا ہے۔ کمبختوں نے ملوانا ہیرو ہیروئن کو تھا پاکستان کو ایویں گھسیڑ دیا بیچ میں اور اسے بھی آخر میں ہروا دیا۔ لے دس جاتے جاتے ایک اور بات ہیروئن کھڑی لاہور میں ہے اور مثالیں دئیے جاتی ہے اندراگاندھی اور رانی جھانسی کی۔ لے دس تماشائی تو پاکستانی ہیں تم ان سے مخاطب ہو یا فلم دیکھنے والوں سے۔ غالبًا فلم دیکھنے والوں سے ہی مخاطب ہوگی۔ خیر تسیں فلم دیکھو۔ :)
20 20 میچ میں پاکستان کے دو سو سے زیادہ رن کا پہاڑ کھڑا کروایا گیا اور پھر اسے بڑے سٹائل سے آخری تین چار اورز میں پورا کروایا گیا۔ لمبی چھوڑی ہے فلم لکھنے والے نے بھی۔ بہرحال جی اچھی فارمولا فلم تھی دو گھنٹے اچھے گزر گئے۔
آپ کے سر سے اگر یہ پوسٹ گزر گئی ہو تو معذرت کے ساتھ۔ آپ پہلے اوپر دئیے گئے ربط سے فلم اتاریں، دیکھیں اور پھر اس پوسٹ کو پڑھیں۔ چونکہ ہم نے پہلے کسی فلم پہ تبصرہ نہیں کیا اس لیے آپ کو عجیب سا لگ رہا ہوگا۔ ;)
سمجھ لیں دل کا ساڑ نکالا ہے۔ کمبختوں نے ملوانا ہیرو ہیروئن کو تھا پاکستان کو ایویں گھسیڑ دیا بیچ میں اور اسے بھی آخر میں ہروا دیا۔ لے دس جاتے جاتے ایک اور بات ہیروئن کھڑی لاہور میں ہے اور مثالیں دئیے جاتی ہے اندراگاندھی اور رانی جھانسی کی۔ لے دس تماشائی تو پاکستانی ہیں تم ان سے مخاطب ہو یا فلم دیکھنے والوں سے۔ غالبًا فلم دیکھنے والوں سے ہی مخاطب ہوگی۔ خیر تسیں فلم دیکھو۔ :)
جمعرات، 8 اکتوبر، 2009
بدھ، 7 اکتوبر، 2009
جونئیررز
ہماری یونیورسٹی کے نئے سمسٹر کی کلاسز شروع ہوگئی ہیں۔ اس بار نئے داخلے بھی ہوئے ہیں تو ہم سینئیر ہوگئے ہیں اور ایک عدد کلاس ہمارے نیچے بھی آگئی ہے بنام جونئیرز۔ بات کرنے سے پہلے میں تھوڑا سا تعارف کرواتا چلوں۔ ہمارے ہاں دو قسم کی کلاسز ہوتی ہیں۔ ایک بی ایس آنرزلنگوئسٹکس کی چار سالہ کلاس۔ اور ایک عدد ایم ایس سی اپلائیڈ لنگوئسٹکس کی دو سالہ کلاس۔ اول الذکر میں طلبا بارہ پڑھ کر آتے ہیں اور موخر الذکر میں بی اے کرکے یعنی چودہ پڑھ کے۔ اب ان دو کورسز کے لوگوں کے مابین فرق بھی قدرتی ہے۔ بی ایس والے زیادہ فعال ہوتے ہیں، زیادہ بے تکلف اور بے فکرے۔ چونکہ انھوں نے چار سال رہنا ہوتا ہے تو اساتذہ کے ساتھ بھی ان کی اچھی سلام دعا ہوتی ہے۔ یہ لوگ یونیورسٹی لائف سے زیادہ مانوس ہوتے ہیں۔ جی سی یو ایف میں مخلوط طرز تعلیم ہے چناچہ یہ لوگ اس ماحول سے بھی اچھی طرح مانوس ہوتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ایم ایس سی کے طلباء ہیں جو چودہ سال کسی بوائز یا گرلز کالج میں پڑھ کر آتے ہیں۔ ان میں پرائیویٹ بی اے کرنے والے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ چناچہ ان کا یہ سماجی و تعلیمی پس منظر ان میں تھوڑی سی جھجک پیدا کردیتا ہے۔ انھوں نے صرف دو سال رہنا ہوتا ہے چناچہ یہ آنرز کے طلبا کے زیر سایہ رہ کر گزار دیتے ہیں۔ یہ لوگ مخلوط طرز تعلیم سے آشنا نہیں ہوتے چناچہ شروع میں لڑکیوں اور لڑکوں میں جھجک پائی جاتی ہے اور بطور کلاس یہ آپس میں کبھی بھی ویسے نہیں ہوسکتے جیسے آنرز کے طلباء چار سال کے عرصے میں ہوجاتے ہیں۔
یہ تو دو انتہائیں تھیں جن کا ذکر اس پوسٹ کے لیے ضروری تھا۔ (چلتے چلتے یہ بات بھی ہوجائے کہ چار سالہ آنرز اور دو سالہ ایم ایس سی کی اسناد برابر تصور کی جاتی ہیں اور انھیں کسی بھی ادارے میں مساوی درجہ دیا جاتا ہے۔ اگرچہ بہت سے احباب کے علم میں یہ بات ہوگی پہلے سے۔ چلیں اب موضوع کی طرف آتے ہیں۔)
موضوع ہے جونئیرز کو خوش آمدید کہنا اور ان کی فُولنگ کرنا۔ ہماری کلاسیں اسی ہفتے شروع ہوئی ہیں اگرچہ ابھی تک یہ بہت زیادہ باقاعدہ نہیں لیکن شروع ہوگئی ہیں۔ میں اپنی کلاس کا سی آر بھی ہوں تو ہم یہ پلان کررہے تھے کہ اپنے جونئیرز کو ویلکم کریں۔ لیکن ہمارے یہ سارے پلانز دھواں بن کر اس وقت اڑ گئے جب آج ہم وہاں پہنچے۔ قصہ سادہ سا ہے کہ ہمارے آنرز کے دوستوں نے ہمارے سوچتے سوچتے اس پر عمل کرڈالا۔ آنرز کی کلاسز صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے بارہ ہوتی ہیں۔ انھوں نے پہلے آنرز فرسٹ سمسٹر کے طلباء کو ویلکم کہا اور پھر ان سے ان کا تعارف لیا۔ اب یہ تعارف کیسا تھا بس سمجھ لیں خاصا ان کمفرٹ ایبل قسم کا تعارف تھا۔ ایک ایک طالب علم کو سامنے بلایا جاتا، اس کا تعارف پوچھا جاتا اور پھر اس سے کچھ الٹے سیدھے سوالات کیے جاتے اس دوران ضمنی طور پر جگتیں اور فقرے بازی بھی چلتی رہتی۔ سنا ہے کہ کچھ طلباء واک آؤٹ بھی کرگئے۔ بے چارے :) ان کے ساتھ بہت اچھی نہیں ہوئی۔
صاحب اب ہماری انٹری ہوتی ہے تو آنرز والوں سے نمٹا جاچکا ہے اور ہمارے جاتے ہیں آنرز کے سینئیرز ہمیں لے کر ایم ایس سی کی کلاس میں جاگھسے۔ اس کے بعد آنرز کے جونئیرز والا سین یہاں بھی دوہرایا گیا۔ ہماری قریبًا آدھی کلاس مع مابدولت وہاں موجود تھی۔ اس سارے میں ہم نے بھی حصہ لیا لیکن سو میں سے بیس یا تیس فیصد کہہ لیں۔ چونکہ ہمیں رحم آجاتا تھا لیکن آنرز والے احباب نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ماسٹرز کے جونئیرز آخرمیں اچھے خاصے غصے ہوچکے تھے۔ چونکہ لسانیات کو آرٹس کے تحت سمجھا جاتا ہے اس لیے یہاں لڑکیاں عمومًا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کلاس میں بھی لڑکیاں زیادہ تھیں چناچہ انھوں نے اس بات کا خاصا برا منایا کہ ان پر فقرے بازی ہورہی ہے یا انھیں زبردستی شعر سنانے وغیرہ وغیرہ پر مجبور کیا جارہا ہے۔
اب بات کرتے ہیں میرے نکتہ نظر کی۔ اوپر جو سماجی پس منظر بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ سے (میری نظر) میں ہمارے آنرز کے احباب کو یہ بات بالکل بھی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ بعض جگہ زیادتی کررہے ہیں۔ جبکہ یہ بات میں نے بہت زیادہ محسوس کی۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ وہی سماجی پس منظر تھا چونکہ یہ احباب پچھلے تین یا دو سال سے ہیں اس لیے وہ اس بے تکلفی کو روٹین کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ایک بی اے کرکے آنے والا لڑکا یا لڑکی جس نے اپنی ساری عمر مخلوط طرز تعلیم میں تعلیم حاصل نہیں کی اس بات کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بے عزتی کی جارہی ہے اور صنف مخالف کے سامنے بے عزتی کی جارہی ہے۔ چناچہ ان میں عزت نفس مجروح ہونے کا احساس بہت شدید ہوتا ہے جسے ہمارے آنرز کے احباب محسوس نہیں کرسکے۔ ہم ایم ایس سی سینئیر نے یہ بات محسوس بھی کی تو ہم ان کو روک نہیں سکے۔ وجہ وہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو ذرا دبا دبا سا محسوس کرتے ہیں یا ہمارے آنرز والے دوست مسلط ہونے کی زیادہ خوبیاں رکھتے ہیں۔ بہرحال صاحب بات یہاں پہنچی کہ اس سارے ڈرامے کے بعد جب ہم نے بعد میں اپنی کلاس میں یہ بیٹھ کر ڈسکس کیا تو میرا پہلا تبصرہ یہ تھا کہ یہ بہت زیادہ ہوگیا۔ بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ واقعی آنرز والے احباب زیادہ ہی کرگئے۔ لیکن کچھ کے خیال میں ایسا ہونا چاہیے تھا یہ یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے۔
اس سارے واقعے کی وجہ سے آج میں اچھا خاصا ٹینشن میں رہا اور مجھے اپنے ان مذاق اڑاتے فقروں پر بھی شرم آئی۔ اگرچہ وہ کچھ اس قسم کے تھے کہ دونی کا پہاڑہ سناؤ، نصیبو لعل کے کسی گانے کو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرو ( یہ لڑکے کو کہا گیا تھا) وغیرہم۔ تو جناب ہم نے جذباتی ہوکر یہ سوچا کہ کل جاکر اپنے ایم ایس سی فرسٹ سمسٹرز کے دوستوں سے معذرت بھی کریں اور انھیں اپنی کلاس کا تعارف بھی کروائیں اور ساتھ ویلکم بھی کردیں۔ اس سارے میں سے معذرت والی بات میرے ہم جماعتوں کو پسند نہیں آئی جبکہ باقی سب وہ کرنے کو تیار تھے۔ چناچہ ہم نے بھی اس کو فہرست سے نکال دیا۔ اب ہم کل جاکر انھیں اپنی طرف سے ویلکم کہیں گے اور اپنا تعارف دیں گے چونکہ ان کا تو آج لے ہی چکے :D
اس ساری رام کہانی کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ سے رائے لی جائے۔ اوپر بیان کردہ واقعات آپ کے خیال میں ٹھیک تھے؟ اور کیا ہمیں یعنی ایم ایس سی تھرڈ سمسٹر کو معذرت کرنی چاہیے؟ یا یہ انٹروڈکشن لینا اور فُولنگ کرنا یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے اور یہ ہر سینئیر کا پیدائشی حق ہوتا ہے؟ یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ ہم نے فولنگ کے اس سے بھی بدترین واقعات سن رکھے ہیں۔ اگرچہ ہمارے والے قصے میں فولنگ کی شدت بہت کم تھی لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہمارے ایم ایس سی فرسٹ کے محترم دوست اس بات کو اپنی عزت نفس مجروح کرنا نہ سمجھ لیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسا ہونا چاہیے؟ یہ غلط ہے یا ٹھیک ہے؟ ہمارے واقعے میں یہ ٹھیک ہوا؟ یا غلط ہوا؟ یا اس پر معذرت کی جائے؟ یا ایسے ہی رہنے دیا جائے چونکہ ایسی چیزیں سینئیرز اور جونئیرز میں بے تکلفی بڑھاتی ہیں؟ اور ان میں اعتماد پیدا کرتی ہیں؟
آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔
وسلام
یہ تو دو انتہائیں تھیں جن کا ذکر اس پوسٹ کے لیے ضروری تھا۔ (چلتے چلتے یہ بات بھی ہوجائے کہ چار سالہ آنرز اور دو سالہ ایم ایس سی کی اسناد برابر تصور کی جاتی ہیں اور انھیں کسی بھی ادارے میں مساوی درجہ دیا جاتا ہے۔ اگرچہ بہت سے احباب کے علم میں یہ بات ہوگی پہلے سے۔ چلیں اب موضوع کی طرف آتے ہیں۔)
موضوع ہے جونئیرز کو خوش آمدید کہنا اور ان کی فُولنگ کرنا۔ ہماری کلاسیں اسی ہفتے شروع ہوئی ہیں اگرچہ ابھی تک یہ بہت زیادہ باقاعدہ نہیں لیکن شروع ہوگئی ہیں۔ میں اپنی کلاس کا سی آر بھی ہوں تو ہم یہ پلان کررہے تھے کہ اپنے جونئیرز کو ویلکم کریں۔ لیکن ہمارے یہ سارے پلانز دھواں بن کر اس وقت اڑ گئے جب آج ہم وہاں پہنچے۔ قصہ سادہ سا ہے کہ ہمارے آنرز کے دوستوں نے ہمارے سوچتے سوچتے اس پر عمل کرڈالا۔ آنرز کی کلاسز صبح ساڑھے آٹھ سے ساڑھے بارہ ہوتی ہیں۔ انھوں نے پہلے آنرز فرسٹ سمسٹر کے طلباء کو ویلکم کہا اور پھر ان سے ان کا تعارف لیا۔ اب یہ تعارف کیسا تھا بس سمجھ لیں خاصا ان کمفرٹ ایبل قسم کا تعارف تھا۔ ایک ایک طالب علم کو سامنے بلایا جاتا، اس کا تعارف پوچھا جاتا اور پھر اس سے کچھ الٹے سیدھے سوالات کیے جاتے اس دوران ضمنی طور پر جگتیں اور فقرے بازی بھی چلتی رہتی۔ سنا ہے کہ کچھ طلباء واک آؤٹ بھی کرگئے۔ بے چارے :) ان کے ساتھ بہت اچھی نہیں ہوئی۔
صاحب اب ہماری انٹری ہوتی ہے تو آنرز والوں سے نمٹا جاچکا ہے اور ہمارے جاتے ہیں آنرز کے سینئیرز ہمیں لے کر ایم ایس سی کی کلاس میں جاگھسے۔ اس کے بعد آنرز کے جونئیرز والا سین یہاں بھی دوہرایا گیا۔ ہماری قریبًا آدھی کلاس مع مابدولت وہاں موجود تھی۔ اس سارے میں ہم نے بھی حصہ لیا لیکن سو میں سے بیس یا تیس فیصد کہہ لیں۔ چونکہ ہمیں رحم آجاتا تھا لیکن آنرز والے احباب نے کسی کو بھی نہیں بخشا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ماسٹرز کے جونئیرز آخرمیں اچھے خاصے غصے ہوچکے تھے۔ چونکہ لسانیات کو آرٹس کے تحت سمجھا جاتا ہے اس لیے یہاں لڑکیاں عمومًا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس کلاس میں بھی لڑکیاں زیادہ تھیں چناچہ انھوں نے اس بات کا خاصا برا منایا کہ ان پر فقرے بازی ہورہی ہے یا انھیں زبردستی شعر سنانے وغیرہ وغیرہ پر مجبور کیا جارہا ہے۔
اب بات کرتے ہیں میرے نکتہ نظر کی۔ اوپر جو سماجی پس منظر بیان کیا گیا ہے اس کی وجہ سے (میری نظر) میں ہمارے آنرز کے احباب کو یہ بات بالکل بھی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ بعض جگہ زیادتی کررہے ہیں۔ جبکہ یہ بات میں نے بہت زیادہ محسوس کی۔ اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ وہی سماجی پس منظر تھا چونکہ یہ احباب پچھلے تین یا دو سال سے ہیں اس لیے وہ اس بے تکلفی کو روٹین کا حصہ سمجھ رہے ہیں۔ جبکہ ایک بی اے کرکے آنے والا لڑکا یا لڑکی جس نے اپنی ساری عمر مخلوط طرز تعلیم میں تعلیم حاصل نہیں کی اس بات کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بے عزتی کی جارہی ہے اور صنف مخالف کے سامنے بے عزتی کی جارہی ہے۔ چناچہ ان میں عزت نفس مجروح ہونے کا احساس بہت شدید ہوتا ہے جسے ہمارے آنرز کے احباب محسوس نہیں کرسکے۔ ہم ایم ایس سی سینئیر نے یہ بات محسوس بھی کی تو ہم ان کو روک نہیں سکے۔ وجہ وہی ہے کہ ہم اپنے آپ کو ذرا دبا دبا سا محسوس کرتے ہیں یا ہمارے آنرز والے دوست مسلط ہونے کی زیادہ خوبیاں رکھتے ہیں۔ بہرحال صاحب بات یہاں پہنچی کہ اس سارے ڈرامے کے بعد جب ہم نے بعد میں اپنی کلاس میں یہ بیٹھ کر ڈسکس کیا تو میرا پہلا تبصرہ یہ تھا کہ یہ بہت زیادہ ہوگیا۔ بہت سارے لوگوں کا خیال تھا کہ واقعی آنرز والے احباب زیادہ ہی کرگئے۔ لیکن کچھ کے خیال میں ایسا ہونا چاہیے تھا یہ یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے۔
اس سارے واقعے کی وجہ سے آج میں اچھا خاصا ٹینشن میں رہا اور مجھے اپنے ان مذاق اڑاتے فقروں پر بھی شرم آئی۔ اگرچہ وہ کچھ اس قسم کے تھے کہ دونی کا پہاڑہ سناؤ، نصیبو لعل کے کسی گانے کو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کرو ( یہ لڑکے کو کہا گیا تھا) وغیرہم۔ تو جناب ہم نے جذباتی ہوکر یہ سوچا کہ کل جاکر اپنے ایم ایس سی فرسٹ سمسٹرز کے دوستوں سے معذرت بھی کریں اور انھیں اپنی کلاس کا تعارف بھی کروائیں اور ساتھ ویلکم بھی کردیں۔ اس سارے میں سے معذرت والی بات میرے ہم جماعتوں کو پسند نہیں آئی جبکہ باقی سب وہ کرنے کو تیار تھے۔ چناچہ ہم نے بھی اس کو فہرست سے نکال دیا۔ اب ہم کل جاکر انھیں اپنی طرف سے ویلکم کہیں گے اور اپنا تعارف دیں گے چونکہ ان کا تو آج لے ہی چکے :D
اس ساری رام کہانی کے بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ سے رائے لی جائے۔ اوپر بیان کردہ واقعات آپ کے خیال میں ٹھیک تھے؟ اور کیا ہمیں یعنی ایم ایس سی تھرڈ سمسٹر کو معذرت کرنی چاہیے؟ یا یہ انٹروڈکشن لینا اور فُولنگ کرنا یونیورسٹی لائف کا حصہ ہے اور یہ ہر سینئیر کا پیدائشی حق ہوتا ہے؟ یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ ہم نے فولنگ کے اس سے بھی بدترین واقعات سن رکھے ہیں۔ اگرچہ ہمارے والے قصے میں فولنگ کی شدت بہت کم تھی لیکن ہمیں یہ ڈر ہے کہ ہمارے ایم ایس سی فرسٹ کے محترم دوست اس بات کو اپنی عزت نفس مجروح کرنا نہ سمجھ لیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ ایسا ہونا چاہیے؟ یہ غلط ہے یا ٹھیک ہے؟ ہمارے واقعے میں یہ ٹھیک ہوا؟ یا غلط ہوا؟ یا اس پر معذرت کی جائے؟ یا ایسے ہی رہنے دیا جائے چونکہ ایسی چیزیں سینئیرز اور جونئیرز میں بے تکلفی بڑھاتی ہیں؟ اور ان میں اعتماد پیدا کرتی ہیں؟
آپ کی آراء کا انتظار رہے گا۔
وسلام
اتوار، 4 اکتوبر، 2009
چینی کا بحران اور عدلیہ
میرے کچھ احباب کو یہ بات بڑی چبھ رہی تھی کہ عدلیہ بحال ہوگئی اور کام اس نے ٹکے کا بھی نہیں کیا۔ پچھلے ایک ماہ سے جاری کشمکش، اپیلوں، رِٹس اور تاریخوں کے بعد آخر کار سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دے ہی دیا کہ وہ چینی 40 روپے فی کلوگرام کا نوٹس جاری کرے۔ ملاحظہ ہو خبر
آخر کار سپریم کورٹ نے حکومت اور سرمایہ داروں کے حلقوم پر ہاتھ رکھ ہی دیا۔ لیکن اس سب کا فائدہ کیا ہوگا؟
اس کا فائدہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک سسٹم ٹھیک نہ ہو۔ لوگ عدالتوں میں بیٹھنے والوں کو فرعون کہنے لگے ہیں، اسے طرح طرح سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میں پچھلے کئی دنوں سے یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جو عدلیہ آزاد ہوئی ہے تو یہ کتنی آزاد ہوئی ہے۔ صاحبو کئی دن تک اپنے پی ون پروسیسر جیسے دماغ کو زحمت دینے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ گن کے پانچ عدالتوں کے جج اگر ٹھیک کام کر بھی رہے ہیں تو ان سینکڑوں ماتحت عدالتوں کا کیا جو اب بھی ویسے ہی کام کررہی ہیں؟ جناب مسئلہ سسٹم میں ہے مسئلہ عدلیہ کی آزادی میں نہیں۔ وہ تو جو ہونا تھا ہوگیا اور بہترین ہوگیا۔ اب آگے کام ہے سسٹم کو ٹھیک کرنا۔
عدلیہ آزاد ہوگئی۔ عدلیہ ازخود نوٹس بھی لے رہی ہے۔ عدلیہ سماعتیں بھی رکرہی ہے۔ لیکن بات پھر یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کس نے کرانا ہے؟ ٹھیک سمجھے! انتظامیہ نے۔ اور انتظامیہ اگر نہ عمل کرنا چاہے تو کون مائی کا لال اسے روک سکتا ہے؟ پاکستان کی نوکر شاہی کے تاخیری حربے تو ویسے بھی کلاسکس کی حیثیت رکھتے ہیں۔
بات اتنی سی ہے کہ گنتی کے چند لوگ جو عدالتوں میں بیٹھے ہوئے ہیں جادو کی چھڑی سے سب کچھ ٹھیک نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ بھی عمل ہونا چاہیے۔ ہم نے سمجھا کہ عدلیہ ٹھیک ہوگئی تو سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ پھول نگر کے واقعے پر کسی بلاگر نے عدلیہ کو کوسنے دیے، اہم مقدمات کی لمبی لمبی تاریخیں دینے پر گل افشانیاں کی گئیں۔ لیکن بات پھر وہی ہے کہ عدلیہ کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں۔ ان ججوں کی بھی حدود ہیں۔ انتظامی بھی اور انسانی بھی۔ کتنے مقدمات کی سماعت کرلیں؟ آخر کتنے؟ آخر انھوں نے اپنے خاندان کو بھی وقت دینا ہے اور خود آرام بھی کرنا ہے۔ یہاں تو ہر دوسرا واقعہ ازخود نوٹس کا متقاضی ہے کیا کیا کر لیں عدالتیں۔ یہ تو ان کی مہربانی ہے کہ چینی بحران جیسے ایشو پر ہی ایکشن لے رہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ چینی مافیا کے پاس ابھی کارڈز کا یہ بڑاسارا ڈھیر ہے جسے کھیل کر وہ بڑے آرام سے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان میں سرفہرست ملوں کی بندشن اور مل مزدوروں کی "سپانسرڈ" ہڑتالیں ہیں۔ یہی ہڑتالیں کسانوں سے بھی کروائی جاسکتی ہیں جن کی فصل کھیتوں میں تیار کھڑی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کے گوڈوں میں پانی ہے یا نہیں۔ کیا وفاقی حکومت یا کم از کم حکومت پنجاب جس نے ملوں پر پولیس تعینات کردی ہے ملوں کو اپنی تحویل میں لے کر چلوا سکے گی؟ کیا یہ لوگ اتنے قابل ہیں؟
اب یہ نہ کہہ دیجئے گا کہ افتخار چوہدری خود آکر ملیں بھی چلوانا شروع کردے۔ مودبانہ گزارش ہے کہ عدالتوں کو کوسنے کے بعد معاشرےکو بھی دیکھیں وہاں کیا کیا ہے جو عدالتیں نہیں کرسکتیں۔ کسی بھی صورت نہیں۔ چونکہ عدالتی کاروائی ریکارڈ اور گواہوں کی محتاج ہے۔ اس کا ایک طریقہ کار ہے جو کم از ہمارے موجودہ حالات میں بہت وقت طلب کام ہے۔ جب کہ ہمیں انتظامی سطح پر ایسی ہی بحالی درکار ہے جیسی عدالتوں میں ہوئی۔
باقی ساڈا کی جاندا اے۔ جتھے چار گالاں کڈدے او اوتھے اٹھ کڈو۔ نہ عدالتاں دا کچھ جانا اے تے نا حکومت دا۔ سب نے چلدیا رہنا۔ اساں تُساں کڑھدیاں رہنا تے زندگی ٹردی جانی اے۔
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)