شاکر میاںالسلام علیکممضمون ارسال کرنے کا بے حد شکریہ؛ حمزہ کا مسئلہ بھی حل ہوگیا! آپ کا بہت شکریہ۔آپ کی ارسال کردہ تحریر ڈی او سی ایکس فارمیٹ میں ہے؛ اور میرے پاس صرف پرانا ایم ایس ورڈ۲۰۰۰ اور اوپن آفس ہی موجود ہے۔ دونوں سافٹ ویئر ہی ڈی او سی ایکس فارمیٹ کو سپورٹ نہیں کرتے۔ اگر ممکن ہو تو یہ مضمون مجھے اوپن آفس میں ارسال کردیجئے۔آپ کی کتابوں کی تلاش جاری ہے۔ فی الحال تمام جگہوں سے معذرت ہی سننے کو مل رہی ہے؛ لیکن اُمید ہے کہ ان شاء اللہ کامیابی مل ہی جائے گی۔ کیا آپ کے پاس مولوی عبدالحق کی اُردو املا والی کتاب ہے؟آپ کے فورم سے کچھ احباب نے رابطہ کیا تھا؛ لیکن بعد میں کوئی ای میل نہیں آئی۔ اگر ممکن ہو تو گلوبل سائنس کی طرف سے معاضوں کا اعلان اپنی ویب سائٹ پر رکھ دیجئے؛ تاکہ وہاں آنے والے احباب کے ذہنوں میں تازہ ہوتا رہے۔سردست میری نظر چند ایسے موضوعات پر ہے جو شاید آپ جیسے ماہر لوگوں کے لیے معمولی ہوں؛ مگر مجھ جیسے پینڈووں کے لیے بہت اہم ہیں۔ مثلاًکانٹینٹ مینجمنٹ سسٹم (کیا ہوتے ہیں؛ کیسے کام کرتے ہیں؛ اور ویب سائٹ کی تیاری میں ان سے کیونکر استفادہ کیا جاسکتا ہے)۔بلاگنگ (یعنی بلاگنگ کی ابتداء سے لے کر آج تک کی تاریخ؛ فوائد و نقصانات؛ دنیا کے مقبول بلاگز اور ان کے موضوعات؛ اردو بلاگنگ کے مقدار و معیار پر ایک طائرانہ نظر؛ بلاگنگ میں معاون مختلف سافٹ ویئر؛ اچھے یا معیاری بلاگ کی اہم ترین خصوصیات؛ انگریزی میں بلاگ کیسے بنایا جاسکتا ہے؛ اُردو میں بلاگ بنانے کے لیے اس کے علاوہ مزید کیا کرنا ہوگا وغیرہ)۔اُردو زبان میں انٹرنیٹ سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے دستیاب آن لائن ’’اوزار‘‘ (یعنی ٹولز)؛ ان کی خوبیاں اور خامیاں؛ استعمال کے طریقے اور ان کے مختلف ورژنز وغیرہ۔کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو کا ماضی حال اور مستقبل؛ چبھتے ہوئے سوالات: کیا اب بھی رومن اُردو کی ضرورت باقی رہ گئی ہے؟ کیا اب بھی یہ اصرار کیا جانا چاہیے کہ محض انگریزی ہی کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی زبان ہے؟ کیا اس جدید دور میں ادیبوں اور شعراء میں اتنی اہلیت ہے کہ وہ اردو زبان کو ترقی دینے کے تقاضے پورے کرسکیں؟ کیا صرف اردو ویب سائٹس؛ بلاگز اور اردو ٹولز ہی اردو کو ترقی دینے کے لیے کافی ہیں یا ہمیں کچھ اور بھی کرنا ہوگا؟ وغیرہ۔اُمید ہے کہ اس حوالے سے بھی بہت جلد آپ کی طرف سے کچھ نہ کچھ سننے کو ضرور ملے گا۔ ویسے اگر آپ چاہیں تو پہلے کی طرح اس بار بھی میرے اس خط کو اپنے بلاگ پر شامل کرسکتے ہیں۔ گر قبول افتد؛ زہے عز و شرف۔آخر میں ایک بات اور: میں اپنی فطرت میں رجائیت پسند (آپٹمسٹ) ہوں؛ اور مایوسی کو کفر کے مترادف خیال کرتا ہوں۔ لیکن میری ناقص رائے میں؛ اس جذبے کی ترویج کے لیے آپ اور آپ جیسے احباب سے رابطہ رہنا اور گفت و شنید کا سلسلہ جاری رہنا بھی اشد ضروری ہے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لائی جاسکے۔اُمید ہے کہ اس بار بھی تعاون ملے گا۔جواب کا منتظرعلیم احمدفون: 02132625545
ای میل: globalscience@yahoo.com
منگل، 5 جولائی، 2011
مدیر اعلی کی طرف سے ایک اور خط
لو جی میرا بلاگ ڈاکیے کا کام کررہا ہے گلوبل سائنس اور اردو بلاگرز میں۔ کل ایک مضمون لکھا تھا، امید ہے اس کے بدلے ایک اچھا ڈنر کرسکوں گا اگلے ماہ۔ اس کے جواب میں مدیر اعلی کا خط آیا ملاحظہ کریں۔ اور اردو بلاگرز سے درخواست ہے کہ گلوبل سائنس کو لائٹ نہ لیں، آپ کے بلاگ کی تحاریر ہی اس میں شائع ہوتی رہیں تو آم کے آم گٹھلیوں کے دام ہوجائیں گے۔
بدھ، 29 جون، 2011
انا للہ و انا الیہ راجعون
برادرم منیر عباسی کے بلاگ پر کیا گیا ایک تبصرہ۔
وڈے پاء جی میری آخری تحریر پر آپ کا میرے بارے میں تبصرہ بھی شکوہ بھرا تھا کہ میں نے مکی کے خلاف کوئی بات نہیںکی جبکہ سارے بلاگرز سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ تو بھیا اب بات چل نکلی ہے تو وضاحت دیتا چلوں۔
مکی سے میری تین چار سال پرانی دوستی ہے، لینکس کی وجہ سے تعلق پروان چڑھا۔ اس کے ترجمہ کرنے اور اوپن سورس کے لیے جنون نے بہت متاثر کیا۔ اس کے بعد جب امانت علی گوہر نے کمپیوٹنگ شروع کیا تو ہم نے اکٹھے اس میں لینکس اور اوپن سورس پر مضامین لکھے۔ پھر مکی ملائیشیا چلا گیا، جہاں اسے خاصے برے معاشی حالات سے گزرنا پڑا۔ اور اب جب کہ دو چار ماہ یا زیادہ سے پاکستان آگیا ہے تو موصوف نے عربی ادب اور قرآن کو ایک ثابت کرنے کی کوشش شروع کی ہوئی ہے، اور متنازعہ قسم کے مضامین لکھ رہا ہے۔
شروع میں، جیسا کہ میری کچھ تحاریر ان تحاریر کے جواب میںلکھی بھی گئیں، میں نے کوشش کی کہ ساتھ ساتھ جواب کا سلسلہ جاری رہے تاکہ منفی مثبت کا توازن برقرار رہے۔ اس کے بعد مصروفیت آڑے آنے لگی، رد لکھنے کے لیے درکار وقت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے میں نے دلچسپی لینا چھوڑ دی۔ تاہم امید یہ تھی کہ مکی یا تو باز آجائے گا یا دوسرے لوگ ہیںجو دامے درمے سخنے رد جاری رکھے ہوئے ہیں، کچھ تحاریر میںتبصرے کرکے بھی مسلمانوںکا موقف وہاںرجسٹر کرایا تاکہ مسقتبل کا قاری یہ نہ سمجھے کہ ان اعتراضات کا جواب نہیںدیا گیا تھا۔ آخری چند تحاریر 3 یا 4 کہہ لیں، میں نے بالکل بھی نہیں پڑھیں۔ لیکن کل رات قرآن کو عرب شعراء سے متاثرہ اور محمد ﷺ کا ذاتی کلام بتانے کی جو تحریر اس نے لکھی ہے وہ پڑھی تو یقین کریں انا للہ و انا الیہ راجعون ہی منہ سے نکلا۔ اتفاق سے کل ہی ایک کام کے سلسلے میں رابطہ بھی کرنا پڑا تھا مکی سے لیکن حسن اتفاق کہ خود ہی کر لیا اور اسے زحمت نہ دینی پڑی۔لیکن اس دوران چیٹ میں میں نے اپنے ناپسندیدگی کا اظہار کردیا تھا۔ اور یہاں بھی یہی کہتا ہوں کہ انا للہ و انا الیہ راجعون میں نے ایک دوست کے وفات پاجانے، اور اسلام سے دور ہوجانے پر پڑھا ہے۔ دعا ہے مکی جلد ہم میں آملے، اس کے اندر جو جستجو کی آگ جل رہی ہے اسے ہدایت کی طرف لے آئے پھ سےر۔ تاہم تب تک میں اس کی طرف سے براءت کا اظہار کرتا ہوں۔ مکی اچھا انسان ہوگا، لیکن اچھا مسلمان نہیں رہا، شاید سرے سے مسلمان ہی نہیں رہا۔ مجھے صرف اس بات کا قلق ہے کہ میرے وسائل میں یہ نہیں کہ اس کے اعتراضات کا شافی جواب لکھ سکوں، میرا علم، وسائل اور وقت اس بات کی اجازت نہیں دیتے۔ برائی روکنے کے تین درجے ہیں، ہاتھ سے، زبان سے روکنا اور پھر دل میں برا کہنا۔ میں نہ تو ہاتھ سے روک سکتا ہوں، نہ زبان سے اس کے خلاف دلائل دے سکتا، اسے برا کہہ سکتا ہوں چناچہ صرف برا کہہ رہا ہوں۔ کاش مجھے یہ توفیق ہوتی کہ قرآنی عربی جانتا، اور مکی کے ان بے بنیاد اعتراضات جن میں وہ قرآن کو عربی ادب جیسی کوئی ذاتی تخلیق قرار دینے کی کوشش کرتا ہے کو رد کرسکتا۔ یہ ایمان کے آخری درجے پر کھڑے ایک مسلمان کی خواہش ہے۔
وسلام
پیر، 27 جون، 2011
ٰاردو سیارہ والے اسے بھی دیکھیں
یہ کونسا جہاد ہے جی
ان کے گھر پر خودکش حملہ ہو، ان کی ماں بہن کو سربازار گولیاں مار کر قتل کردیا جائے۔ ان کے بچے یتیم ہوجائیں تو پھر کیسا ہو؟ یہ جو 10 ہزار مہینہ کی ملازمت کرنے والے معمولی سپاہیوں کو مارنے کو جہاد کہتے ہیں؟ خدا غارت کرے انھیں۔ اور ان کے ہمدردوں کو۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ زمین کا یہ بوجھ اردو سیارہ پر کیا کررہا ہے؟
اسلام کا نام بدنام کرنے والے، محمد الرسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں کا قتل عام کرنے والے، اسلام کے نام پر دیوبندیت اور وہابیت کا نفاذ چاہنے والے، بندوق کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے والے یہ لوگ سیارہ پر کیا کررہے ہیں اور ان کو اجازت کس نے دی ہے؟
خودکش حملے پر جشن مناتے ہیںِ خدا کرے ان کو مرکر بھی چین نہ آئے، جہنم کا بدترین گوشہ ان کے نصیب میں ہو۔ یہ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟ جو آج مغرب میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے ان عقل کے اندھوں، جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہوا ہے کی سمجھ میں کیا آئے کہ اسلام کیا ہے۔ اور جب ان کے دلیل کی بات کی جاتی ہے تو یہ جواب بندوق کی گولی سے دیتے ہیں۔ ان کے سرغنے علمی میدان میں ناکام ہوئے، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دے سکے تو عالموں اور مفتیوں کو بندوق اور خودکش حملوں سے اُرانا شروع کردیا۔ کونسا جہاد کرتے ہو تم؟ جس میں صرف دیوبندی اور وہابی ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ میں دیوبندی ہوں اور ایسے جہاد پر لعنت بھیجتا ہوں۔ خدا غارت کرے تمہیں اور تمہارے ہمدردوں کو۔ تم جو تخم ناتحقیق امیر المنافقین و مجاہدین (سپانسر شدہ امریکہ) ضیاء ناحق کی پیداوار ہو، تم جس نے پچھلے تیس سالوں میں اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا، تم جنہوں نے نہتے عوام کو اس وقت مارا جب وہ رزق حلال کی تلاش میں سرگرداں تھے، خدا تمہیں ایسا عذاب نصیب کرے کہ تمہاری روحیں اس دنیا میں بھی بلبلا اُٹھیں۔ تم اسلام کی بات کرتے ہو اور جہاد کی بات کرتے ہو، اور محمد ﷺ کے اُمتی ہونے کی بات کرتے ہو، خدا کرے محمدﷺ تمہاری طرف قیامت کے دن نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں، ان کے اُمتیوں کو بے گناہ شہید کرنے والو۔ خدا تمہاری روحوں کو جہنم کے پیپ سے بھرے گڑھوں میں عذاب النار کا مزہ چکھائے پھر تمہیں احساس ہو کہ بے گناہ مسلمانوں کو مارنا، بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کرنا کیسا ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
ان کے گھر پر خودکش حملہ ہو، ان کی ماں بہن کو سربازار گولیاں مار کر قتل کردیا جائے۔ ان کے بچے یتیم ہوجائیں تو پھر کیسا ہو؟ یہ جو 10 ہزار مہینہ کی ملازمت کرنے والے معمولی سپاہیوں کو مارنے کو جہاد کہتے ہیں؟ خدا غارت کرے انھیں۔ اور ان کے ہمدردوں کو۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ زمین کا یہ بوجھ اردو سیارہ پر کیا کررہا ہے؟
اسلام کا نام بدنام کرنے والے، محمد الرسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں کا قتل عام کرنے والے، اسلام کے نام پر دیوبندیت اور وہابیت کا نفاذ چاہنے والے، بندوق کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے والے یہ لوگ سیارہ پر کیا کررہے ہیں اور ان کو اجازت کس نے دی ہے؟
خودکش حملے پر جشن مناتے ہیںِ خدا کرے ان کو مرکر بھی چین نہ آئے، جہنم کا بدترین گوشہ ان کے نصیب میں ہو۔ یہ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟ جو آج مغرب میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے ان عقل کے اندھوں، جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہوا ہے کی سمجھ میں کیا آئے کہ اسلام کیا ہے۔ اور جب ان کے دلیل کی بات کی جاتی ہے تو یہ جواب بندوق کی گولی سے دیتے ہیں۔ ان کے سرغنے علمی میدان میں ناکام ہوئے، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دے سکے تو عالموں اور مفتیوں کو بندوق اور خودکش حملوں سے اُرانا شروع کردیا۔ کونسا جہاد کرتے ہو تم؟ جس میں صرف دیوبندی اور وہابی ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ میں دیوبندی ہوں اور ایسے جہاد پر لعنت بھیجتا ہوں۔ خدا غارت کرے تمہیں اور تمہارے ہمدردوں کو۔ تم جو تخم ناتحقیق امیر المنافقین و مجاہدین (سپانسر شدہ امریکہ) ضیاء ناحق کی پیداوار ہو، تم جس نے پچھلے تیس سالوں میں اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا، تم جنہوں نے نہتے عوام کو اس وقت مارا جب وہ رزق حلال کی تلاش میں سرگرداں تھے، خدا تمہیں ایسا عذاب نصیب کرے کہ تمہاری روحیں اس دنیا میں بھی بلبلا اُٹھیں۔ تم اسلام کی بات کرتے ہو اور جہاد کی بات کرتے ہو، اور محمد ﷺ کے اُمتی ہونے کی بات کرتے ہو، خدا کرے محمدﷺ تمہاری طرف قیامت کے دن نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں، ان کے اُمتیوں کو بے گناہ شہید کرنے والو۔ خدا تمہاری روحوں کو جہنم کے پیپ سے بھرے گڑھوں میں عذاب النار کا مزہ چکھائے پھر تمہیں احساس ہو کہ بے گناہ مسلمانوں کو مارنا، بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کرنا کیسا ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
بدھ، 22 جون، 2011
مدیر گلوبل سائنس کی طرف سے ایک اور مراسلہ
یہ جان کر انتہائی مسرت ہوئی کہ اردو بلاگر احباب نے میری صدا کو صدا بہ صحرا نہیں ہونے دیا، اور میرا مان رکھا۔ آپ کی نوازش۔ اور اب جناب علیم احمد کی ای میل جو آج ہی موصول ہوئی ہے۔ (یہاں آپ کو ء کے مسائل نہیں ملیں گے چونکہ میں نے ء کو ئ سے بدل دیا تھا)
برادرم شاکر عزیز
السلام علیکم
سب سے پہلے تو حمزہ (ئ) کے دوسرے حروف کے ساتھ درست طور پر منسلک نہ ہونے پر معذرت کروں گا۔
آپ نے دیگر احباب کو گلوبل سائنس کے لیے لکھنے پر آمادہ کرنے کی جو سعی فرمائی ہے؛ اس پر میں تہ دل سے آپ کا مشکور ہوں۔ برائے مہربانی میرے اس اظہار خیال کو رسم دنیا کی پاسداری نہ سمجھیے گا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ آواز دوست میں میرے خط کی شمولیت پر کچھ احباب نے رابطہ بھی فرمایا ہے۔ بلال میاں نے اپنے بلاگ کے روابط بھی ساتھ ارسال کیے تھے؛ جنہیں میں نے کل شام ہی دیکھ لیا تھا۔ ایسے تمام احباب جو گلوبل سائنس کے لیے قلمکاری کرنا چاہتے ہیں (خواہ وہ کمپیوٹر کے میدان کے لیے ہو یا ساینس کے کسی اور شعبے کے حوالے سے) ان سے گزارش ہے کہ وہ اس احقر کی ایک رہنما تحریر ضرور پڑھ لیں جو گلوبل سائنس کی ویب سائٹ پر شایع ہوئی تھی۔
آپ تمام احباب اس لحاظ سے میرے اور دوسرے محبان اُردو کے شکریے کے حقدار ہیں کہ آپ لوگ اُردو زبان کا دامن صحیح؛ تصدیق شدہ اور مستند علم سے لبریز کرنے کی اپنی سی کوشش کررہے ہیں۔ البتہ؛ کسی بھی زبان میں قلمکاری کے حوالے سے دو نکات بظاہر الگ الگ ہیں لیکن ایک دوسرے سے مربوط بھی ہیں: اوّل وہ زبان لکھنے کا طریقہ؛ اور دوم اس زبان میں لکھنے کا سلیقہ۔ ماشائ اللہ؛ طریقہ آپ تمام احباب کو بخوبی آتا ہے۔ البتہ؛ مذکورہ بالا تحریر کے ذریعے آپ سلیقے کے بارے میں بھی تھوڑا بہت جان سکیں گے۔
رہا سوال گلوبل سائنس میں کوئی بھی تحریر تیار کرنے کا؛ تو پہلے ہی دن سے ہمارا ایک اصول ہے: پینڈووں کے لیے لکھیے۔ یہاں لفظ ’’پینڈو‘‘ سے میرا مقصد ہر گز ایسے کسی دوست کی تضحیک نہیں جو گاوں دیہات میں رہتا ہو؛ بلکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریر اتنی سادہ؛ سلیس اور رواں ہونی چاہیے کہ پڑھنے والا اسے متعلقہ شعبے کا کم سے کم علم رکھنے کے باوجود بھی سہولت سے سمجھ سکے؛ اس کی غرض و غایت سے آگاہ ہوسکے؛ اور جب وہ اس تحریر کا مطالعہ مکمل کرے تو اپنے علم میں بجا طور پر اضافہ محسوس بھی کرسکے۔ دھیان رہے کہ یہ ’’علم‘‘ صرف کمپیوٹر سائنس یا انفارمیشن ٹیکنالوجی تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ دنیا کا کوئی سا بھی علم ہوسکتا ہے۔
باقی کے نکات؛ ان شائ اللہ؛ آپ کو متذکرہ بالا تحریر میں مل جائیں گے۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی وضاحت طلب بات رہ گئی ہو تو آپ اسی برقی ڈاک کے پتے پر مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ تمام احباب سے وعدہ ہے کہ میں نے اب تک قلمکاری اور ابلاغ کے بارے میں جو کچھ بھی سیکھا ہے؛ وہ آپ تک پہنچانے میں کنجوسی یا بے ایمانی ہر گز نہ برتوں گا۔
درج ذیل اعلان ماہنامہ گلوبل سائنس کے شمارہ جون ۲۰۱۱ء میں شایع ہوا ہے؛ جسے احباب کی سہولت کے لیے یونی کوڈ میں تبدیل کرکے نقل کیا جارہا ہے۔
اعلانِ معاوضہ برائے آزاد قلمی معاونین
الحمدللہ! گزشتہ دو ماہ سے ”گلوبل سائنس“ میں شائع ہونے والی تحریروں پر قلمکاروں کو معاوضے دینے کا آغاز ہوچکا ہے۔ اِن شائاللہ، اب آپ کو عوامی سائنسی ابلاغ کے اس کارِ خیر میں بلا معاوضہ شرکت کرکے، کچھ حاصل نہ ہونے کا طعنہ نہیں سہنا پڑے گا۔ اس پیمانہء ادائیگی (پے اسکیل) کا مختصر احوال یہ ہے
معاوضہ برائے مختصر تحریر (100 تا 200 الفاظ، شائع شدہ): 50 روپے فی تحریر۔ مثلاً سائنسی خبریں بشمول دنیائے سائنس، صحت عامہ و طبّی ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر/ ہارڈویئر، ڈیفنس کارنر؛ کمپیوٹر ٹپس؛ سائنس دوست وغیرہ۔
معاوضہ برائے اوسط تحریر (200 تا 500 الفاظ، شائع شدہ): 100 روپے فی تحریر۔ مثلاً طویل خبر؛ خبری مضمون (نیوز فیچر)؛ کمپیوٹر ٹیوٹوریل؛ سائنسی تجربہ وغیرہ۔
معاوضہ برائے طویل تحریر (1,000 تا 2,000 الفاظ، شائع شدہ): 500 روپے فی تحریر۔ مثلاً 2 سے 3 صفحات پر مشتمل تحریر/ مضمون/ کمپیوٹر ٹیوٹوریل۔
معاوضہ خصوصی تحریر (3,000 یا زیادہ الفاظ، شائع شدہ): 1,000 روپے فی تحریر۔ یعنی تین سے زائد صفحات پر مشتمل تحریر یا خصوصی رپورٹ جو ایک سے زائد متعلقہ مضامین/ اضافی باکس آئٹمز وغیرہ پر مشتمل ہو۔
نوٹ
الف۔ مذکورہ بالا کے علاوہ، ایسی تحریریں یا رپورٹیں جو ادارہ گلوبل سائنس کسی قلمکار سے فرمائشی طور پر (یا بطورِ خاص) لکھوائے گا، اُن کا معاوضہ علیحدہ سے طے کیا جائے گا۔
ب۔ معاوضہ کسی بھی تحریر کی اشاعت کے بعد واجب الادا ہوگا، اور اشاعت کے 30 یوم کے اندر اندر ادا کردیا جائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کےلئے
globalscience@yahoo.com
پر مدیر گلوبل سائنس (علیم احمد) سے رابطہ کیجئے۔
بدھ، 15 جون، 2011
ایک اور داستان ختم ہوئی
ہر کہانی کے اختتام پر میرے اندر ایک خالی پن ہوتا ہے، کچھ کھو جانے کا احساس، کسی چیز کی کمی، لیکن میں پھر بھی کہانیوں میں کھونے سے باز نہیں آتا۔ پرانی عادت ہے، اور شاید مرتے دم تک نہ جاسکے۔ پہلی کہانی شاید دیوتا تھی، یا اِنکا، یا خبیث، یا کمانڈو، یاد نہیں پہلی کہانی کونسی تھی جس کو ختم کرنے کے بعد مجھے سینے میں ایک مہیب خلاء کا احساس ہوا تھا، کہ جیسے دنیا ختم ہوگئی ہے۔ کہانی ایک دنیا ہی تو ہوتی ہے۔ جیتے جاگتے کردار، سانس لیتی زندگی ، قہقہے، خوشیاں اور غم۔ کہانی پڑھتے پڑھتے میں کہانی کا حصہ بن جاتا ہوں۔ اور اس کے اختتام پر لگتا ہے جیسے گہرے دوستوں سے ہمیشہ کے لیے جدا ہورہا ہوں۔ ایک زندگی کا اختتام ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
فینٹیسی، ایڈونچر اور مرچ مصالحے دار کہانیاں پڑھنا میرا شوق ہے۔ اردو میں ایم اے راحت کے سلسلے، محی الدین نواب کی طویل ترین داستان دیوتا اور ستر اسی کی دہائیوں میں پاکستان کے ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے سلسلے عرصہ ہوا پڑھ کر بھُلا بھی چُکا۔ اب تو ان کے نام بھی ٹھیک طرح سے یاد نہیں۔ حالیہ سالوں میں یہی کام انگریزی میں شروع کرڈالا ہے۔ پہلی بار جس کہانی نے متوجہ کیا وہ ہیری پوٹر تھی۔ 2007 میں آدھی سے زائد کمپیوٹر پر بیٹھ کر پڑھی تھی۔ اس کے اختتام پر بھی ایک خالی پن کا احساس ہوا تھا۔ پھر چل سو چل۔ وہیل آف ٹائم میں ابھی ہیرو کے مرنے کا مزہ چکھنا ہے، دیکھیں کب آتا ہے آخری حصہ۔ کوڈیکس الیرا میں ایک جہان کی تباہی بڑی مشکل سے سہی تھی، جب دنیا بچاتے بچاتے آدھی سے زیادہ دنیا تباہ ہوئی تھی۔ اور اب سٹار ٹریک دی نیکسٹ جنریشن، انگریزی ٹی وی سیریز میں سے مقبول ترین جس کو کئی ایوارڈ بھی ملے۔ سات سال تک دلوں پر راج کرنے والی یہ سیریز میں نے عرصہ دو ماہ سے بھی کم میں دیکھ ڈالی۔ روزانہ دو سے تین اقساط، سات سیزن اور ہر سیزن میں چھپیس اقساط۔ واہ کیا دُنیا تھی۔ زبان کو فِکشن اور فینٹیسی کا چسکا تو لگا ہوا تھا، لیکن سائنس فکشن۔ آہاہاہاہاہا یوں جیسے نشہ دوآتشہ ہوگیا ہو۔ سواد آگیا بادشاہو سٹار ٹریک دیکھ کر۔ لیکن بھوک پھر بھی نہیں مٹی۔ کہانی کا اختتام بڑا خوشگوار ہوا، ہیپی ہیپی دی اینڈ۔ لیکن کیپٹن پیکارڈ، وِل رائیکر، کاؤنسلر ٹرائے، ڈاکٹر بیورلی کرشر، لفٹیننٹ کمانڈر ڈیٹا، لیفٹیننٹ جارڈی لفورج، لفٹیننٹ وہارف۔۔۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور ہنسنے کی عادت ہوگئی تھی پچھلے دو ماہ میں۔ اب جبکہ سب کچھ ختم ہوگیا، پھر سے اپنی دنیا میں واپس آنا پڑے گا۔ ہر کہانی کے بعد میرے ساتھ یہی ہوتا ہے، کئی دن تک یہ خالی پن رہے گا، پھر آہستہ آہستہ خلاء پر ہوجائے گا۔ اور اتنی دیر میں مَیں کوئی اور کہانی ڈھونڈ لوں گا۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی ویسے میں کہانیوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کہانی باز۔۔۔۔۔۔۔۔:-|
فینٹیسی، ایڈونچر اور مرچ مصالحے دار کہانیاں پڑھنا میرا شوق ہے۔ اردو میں ایم اے راحت کے سلسلے، محی الدین نواب کی طویل ترین داستان دیوتا اور ستر اسی کی دہائیوں میں پاکستان کے ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے سلسلے عرصہ ہوا پڑھ کر بھُلا بھی چُکا۔ اب تو ان کے نام بھی ٹھیک طرح سے یاد نہیں۔ حالیہ سالوں میں یہی کام انگریزی میں شروع کرڈالا ہے۔ پہلی بار جس کہانی نے متوجہ کیا وہ ہیری پوٹر تھی۔ 2007 میں آدھی سے زائد کمپیوٹر پر بیٹھ کر پڑھی تھی۔ اس کے اختتام پر بھی ایک خالی پن کا احساس ہوا تھا۔ پھر چل سو چل۔ وہیل آف ٹائم میں ابھی ہیرو کے مرنے کا مزہ چکھنا ہے، دیکھیں کب آتا ہے آخری حصہ۔ کوڈیکس الیرا میں ایک جہان کی تباہی بڑی مشکل سے سہی تھی، جب دنیا بچاتے بچاتے آدھی سے زیادہ دنیا تباہ ہوئی تھی۔ اور اب سٹار ٹریک دی نیکسٹ جنریشن، انگریزی ٹی وی سیریز میں سے مقبول ترین جس کو کئی ایوارڈ بھی ملے۔ سات سال تک دلوں پر راج کرنے والی یہ سیریز میں نے عرصہ دو ماہ سے بھی کم میں دیکھ ڈالی۔ روزانہ دو سے تین اقساط، سات سیزن اور ہر سیزن میں چھپیس اقساط۔ واہ کیا دُنیا تھی۔ زبان کو فِکشن اور فینٹیسی کا چسکا تو لگا ہوا تھا، لیکن سائنس فکشن۔ آہاہاہاہاہا یوں جیسے نشہ دوآتشہ ہوگیا ہو۔ سواد آگیا بادشاہو سٹار ٹریک دیکھ کر۔ لیکن بھوک پھر بھی نہیں مٹی۔ کہانی کا اختتام بڑا خوشگوار ہوا، ہیپی ہیپی دی اینڈ۔ لیکن کیپٹن پیکارڈ، وِل رائیکر، کاؤنسلر ٹرائے، ڈاکٹر بیورلی کرشر، لفٹیننٹ کمانڈر ڈیٹا، لیفٹیننٹ جارڈی لفورج، لفٹیننٹ وہارف۔۔۔ ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے، کھانے پینے اور ہنسنے کی عادت ہوگئی تھی پچھلے دو ماہ میں۔ اب جبکہ سب کچھ ختم ہوگیا، پھر سے اپنی دنیا میں واپس آنا پڑے گا۔ ہر کہانی کے بعد میرے ساتھ یہی ہوتا ہے، کئی دن تک یہ خالی پن رہے گا، پھر آہستہ آہستہ خلاء پر ہوجائے گا۔ اور اتنی دیر میں مَیں کوئی اور کہانی ڈھونڈ لوں گا۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی ویسے میں کہانیوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔
کہانی باز۔۔۔۔۔۔۔۔:-|
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)