پیر, جون 27, 2011

ٰاردو سیارہ والے اسے بھی دیکھیں

یہ کونسا جہاد ہے جی
ان کے گھر پر خودکش حملہ ہو، ان کی ماں بہن کو سربازار گولیاں مار کر قتل کردیا جائے۔ ان کے بچے یتیم ہوجائیں تو پھر کیسا ہو؟ یہ جو 10 ہزار مہینہ کی ملازمت کرنے والے معمولی سپاہیوں کو مارنے کو جہاد کہتے ہیں؟ خدا غارت کرے انھیں۔ اور ان کے ہمدردوں کو۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ زمین کا یہ بوجھ اردو سیارہ پر کیا کررہا ہے؟
اسلام کا نام بدنام کرنے والے، محمد الرسول اللہ ﷺ کے ماننے والوں کا قتل عام کرنے والے، اسلام کے نام پر دیوبندیت اور وہابیت کا نفاذ چاہنے والے، بندوق کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے والے یہ لوگ سیارہ پر کیا کررہے ہیں اور ان کو اجازت کس نے دی ہے؟
خودکش حملے پر جشن مناتے ہیںِ خدا کرے ان کو مرکر بھی چین نہ آئے، جہنم کا بدترین گوشہ ان کے نصیب میں ہو۔ یہ کس اسلام کی بات کرتے ہیں؟ جو آج مغرب میں سب سے زیادہ پھیلنے والا مذہب ہے ان عقل کے اندھوں، جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہوا ہے کی سمجھ میں کیا آئے کہ اسلام کیا ہے۔ اور جب ان کے دلیل کی بات کی جاتی ہے تو یہ جواب بندوق کی گولی سے دیتے ہیں۔ ان کے سرغنے علمی میدان میں ناکام ہوئے، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دے سکے تو عالموں اور مفتیوں کو بندوق اور خودکش حملوں سے اُرانا شروع کردیا۔ کونسا جہاد کرتے ہو تم؟ جس میں صرف دیوبندی اور وہابی ہی حصہ لے سکتے ہیں۔ میں دیوبندی ہوں اور ایسے جہاد پر لعنت بھیجتا ہوں۔ خدا غارت کرے تمہیں اور تمہارے ہمدردوں کو۔ تم جو تخم ناتحقیق امیر المنافقین و مجاہدین (سپانسر شدہ امریکہ) ضیاء ناحق کی پیداوار ہو، تم جس نے پچھلے تیس سالوں میں اس ملک کا بیڑہ غرق کردیا، تم جنہوں نے نہتے عوام کو اس وقت مارا جب وہ رزق حلال کی تلاش میں سرگرداں تھے، خدا تمہیں ایسا عذاب نصیب کرے کہ تمہاری روحیں اس دنیا میں بھی بلبلا اُٹھیں۔ تم اسلام کی بات کرتے ہو اور جہاد کی بات کرتے ہو، اور محمد ﷺ کے اُمتی ہونے کی بات کرتے ہو، خدا کرے محمدﷺ تمہاری طرف قیامت کے دن نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھیں، ان کے اُمتیوں کو بے گناہ شہید کرنے والو۔ خدا تمہاری روحوں کو جہنم کے پیپ سے بھرے گڑھوں میں عذاب النار کا مزہ چکھائے پھر تمہیں احساس ہو کہ بے گناہ مسلمانوں کو مارنا، بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کرنا کیسا ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

24 تبصرے:

  1. میں آپ کے ساتھ ہوں مجھے خود سمجھ نہین آتی کہ اردو سیارہ کیوں کر اس پروپیگنڈہ بلاگ کو اپنے گمراہی و نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنا ہوا ہے!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. نام نہاد جہادیوں کو اچھی موت نصیب نہیں ـ ہر جگہ منہ کی کھاتے ہیں ـ اور چیتھڑے پھاڑے خون و پیپ میں لت پت ان کی لاشیں بکھری ملتی ہیں ـ اور اِن کلمہ پڑھنے والے نام نہاد جہادیوں کو مرتے وقت کلمہ بھی نصیب نہیں ـ بہت بُری موت مرتے ہیں ـ

    جواب دیںحذف کریں
  3. خوش کردیا شہزادے، منہ کے الفاظ چھین لئے۔
    جزاک اللہ

    جواب دیںحذف کریں
  4. صاحبان بلاگ مذکور نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان کا بلاگ شدت پسندی کی ترویج کے نام پر گوگل کو رپورٹ کیا گیا ہے جس کے باعث اس کے حذف کیئے جانے کے امکانات موجود ہیں۔ بہر کیف چونکہ اس قسم کی تحریکیں اور ایسے مواد بعض حکومتوں کی نظروں میں پائریسی اور فحاشی کی طرح قابل گرفت ہیں۔ لہٰذا مذکورہ بلاگ کو سیارہ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایسی سائٹوں کے باعث اردو ویب کی ساکھ اور سرچ انجن ریپیوٹیشن کے بگڑنے کا خطرہ بھی ہے۔

    جہاں تک اس تحریر کا سوال ہے، اس میں انتہائی جذباتی اور تحمل سے عاری لہجہ اپنایا گیا ہے۔ بعض جگہوں پر جوش جذبات میں آ کر سنہری ترکیبوں کے ساتھ کچھ نازیبا الفاظ بھی شامل تحریر ہیں۔ تمام بلاگران سے امید کی جاتی ہے کہ صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے تحمل اور خوش اصلوبی کا مظاہرہ کریں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. صدقے جاؤں۔


    سلام ہے آپ سب کی قوت فیصلہ کو۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. ابن سعید فوری ایکشن کا شکریہ۔
    جہاں تک بات جذباتی لہجے کی ہے تو یہ حقیقت ہے کہ یہ تحریر جذباتی ہوکر ہی لکھی گئی تھی۔ اور صاحب بلاگ کی رائے میں یہ لوگ عین وہی ہیں جو انھیں پکارا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. کچھ ایسی ہی سوچ کے حامل لوگوںنے ھمارے ملک کاحال بگاڑ دیا ہے۔ جہادکرناہے تو فلسطین یا کشمیر میں کیں نہیں کیا جاتا؟ وہاں جہاد اس سے زیادہ جائز ہے۔ اللہ ان لوگوں کو راہ راست پر لاءے۔ آپ کی تحریر سے میں سو فیصد متفق ہوں

    جواب دیںحذف کریں
  8. شاکر بھائی اگر بُرا نہ منائیں تو ایک بات پوچھوں؟

    جب اللہ، رسول اور قرآن کی توہین کی جارہی تھی، آپ کا یہ جذباتی پن دیکھنے میں نہیں ایا تھا، کیا وجہ تھی سرکار؟


    کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ سکول میں آپ کی مصروفیت زیادہ ہو گئی تھی اور آپ غور سے اس توہین انبیا، توہین قرآن اور انکار خدا کو نہ پڑھ سکے ہوں۔



    پتہ نہیں مجھے یہ ساری جذباتیت مصنوعی سی لگ رہی ہے۔
    مگر دلوں کے حال اللہ خوب جانتا ہے۔ گمان غالب ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہو گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. پاء جی دلوں کے حال اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ چناچہ جہاں تک آپ اللہ رسول ﷺ کی توہین کی بات کررہے ہیں وہ بھی جہاں مجھے لگا کہ بات حد سے بڑھ گئی ہے میں نے اس پر آواز اُٹھائی۔ صرف اپنے بلاگ پر ہی نہیں،ذاتی گفتگو میں بھی (متعلقہ بلاگر سے)۔ اُس میں اور اِس میں فرق یہ تھا کہ وہ صاحب دوسرے فلاسفروں (جن میں اکثر مسلمان ہی ہوتے تھے) کی آڑ میں تحاریر لکھتے تھے۔ چناچہ وہاں بندہ دُبدھا میں پڑ جاتا تھا کہ موصوف چاہتے کیا ہیں، انھیں صرف شک کا فائدہ مل جاتا تھا۔ یہاں شک کا فائدہ بھی نہیں تھا۔
    اور آخر میں مجھے آپ کی سوچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ یہ آپ کا حق ہے کہ دستیاب معلومات کا تجزیہ کرکے رائے قائم کریں
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  10. سیارہ کی انتظامیہ پر حیرت ہے۔کہ کیا بغیر تحقیق کئے اس بلاگ کو سیارہ میں شامل کر دیا تھا؟
    یا اس وقت کچھ کچھ دہشت گردی کے جراثیم کے شکار تھے؟
    جب پانی سر سے گذر جاتا ہے تو جذباتیت سے منع کرنا۔اگر شاکر صاحب کی تحریر میں اتنی جذباتیت ہے تو مکی صاحب کی تحریر تو نہایت تحمل سے دل آزاری کر رہی تھی۔اس میں کسی کو قابل اعتراض بات نظر نہ آئی!!!۔
    مکی صاحب نے جو کچھ لکھا وہ غیر ممالک میں رہنے والے ہم مسلمانوں کو عموماً سننے کو ملتا ہے۔مجھے مکی صاحب کے لکھنے کا طریقہ برا لگا کہ وہ جان بوجھ کر سب کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور اپنے آپ کو مسلماں بھی کہہ رہے ہیں۔
    ویسے اتنا عرض کر دوں کہ میں پکا بنیاد پرست ہوں جسے عموماً وہابی کہا جاتا ہے۔یہ نظریاتی اختلاف ہے اور مجھے شاکر صاحب سے کوئی شکوہ نہیں کہ انہوں نے کچھ ایسا لکھا۔
    فلسطین و کشمیر میں جہاد جائز ہے تو افغانستان میں کیوں نہیں؟
    پاکستان میں دہشت گردی ہو رہی ہے اور اپنے پیارے بھی اس دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔
    جب آپ امریکی جنگ کو اپنی جنگ کہیں۔۔۔۔روزانہ کمسن بچوں اور عورتوں کو بھی ڈرون حملوں میں مروائیں۔
    فوج کے ہاتھوں بوڑھے بچے عورتیں بے عزت ہوں۔ تو کیا متاثرین آپ کی جنگ کیلئے پھول لیکر آئیں گے؟
    یہاں پر واہ واہ کرنے والے کتنوں نے قبائیلی علاقوں میں مارے جانے والےبچوں کی تصاویر اپنے بلاگ پر لگائیں اور کتنوں نے مذمتی تحاریر لکھیں؟
    کتنوں نے امریکی مظالم کے خلاف لکھا؟
    دوستی نبانے میں اگر سب ایک طرف ہو سکتے ہیں تو ہماری جنگ کی گردان کرنے والوں کے متاثرین بدلہ لینے کو بھی توآسکتے ہیں نا

    جواب دیںحذف کریں
  11. خالد حمیدجون 28, 2011 10:10 AM

    یاسر صاحب سے ہزار فیصدی متفق۔
    جیسی کرنی ویسی بھرنی
    نہ مانے تو کرکے دیکھ
    جنت بھی ہے دوزخ بھی ہے
    نہ مانے تو مر کے دیکھ

    جواب دیںحذف کریں
  12. یاسر بھائی اختلاف وہابی یا دیوبندی سے نہیں ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ میرا مسلک بھی دیوبندی ہی ہے لیکن مجھے ان لوگوں سے اختلاف ہے۔ ان کے اسلام میں کسی اور کی گنجائش ہی نہیں۔ آدم خیل کے طالبان شیعوں کے ساتھ جو کچھ کرتے رہے ہیں وہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ لعنت ایسے فلسفے پر ہے، باقی کوئی وہابی ہو، بریلوی ہو، شیعہ ہو یا دیوبندی، جب تک جیو اور جینے دو پر عمل پیرا ہے ست بسم اللہ۔
    قبائلی علاقوں میں ہونے والی جنگ کس کی ہے، یہ سوال بڑی ڈیبیٹ ایبل ہے جی اور اس کا جواب دس سال بعد بھی ہم تلاش نہیں کرسکے۔آیا یہ جنگ کبھی ہماری تھی،رب جانے بویا تو خیر ہم نے ہی تھا اللہ کروٹ کروٹ جہنم نصیب کرے بھٹو کی 74 والی افغان پالیسی اور اس کے بعد مردناحق کے اقدامات پر ان کو۔ انھی کا خمیازہ آج بھگت رہے ہیں ہم۔ معصوم بچوں کے مرنے پر کسے دکھ نہیں اور کون کافر اس پر امریکیوں کے لتے نہیں لیتا۔ لیکن ایک غلط طرز عمل کا جواز دوسرا غلط طرز عمل نہیں ہے۔ بندوق کے زور پر اگر یہ پاکستان فتح کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ میدان کھُلا ہے، دیکھ لیتے ہیں کتنے لوگوں کو مار لیتے ہیں یہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  13. ہم بھی یسار بھائی کے ساتھ ہیں۔

    صرف اس بات پر بریگڈیر غائب کیا جائے کہ اس نے امریکی مفاد کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح کی بات کی ، تو جناب اس برگیڈئر کا بیٹا کس کے پاس انصاف کیلئے جائے۔یہ جی ایچ کیو پر خود کش نہ کرئے تو اور کیا کرئے ۔کہتے ہیں کہ جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والا ایک ملزم عثمان ائی ایس ائی کا بند ہ تھا اور اس نے مشرف یو ٹرن سے پہلے باقاعدہ ایک سیٹ اپ بنایا تھا جو کہ پاکستان کے مفاد کیلئے کام کر رہا تھا لیکن اس یو ٹرن کے بعد اسکے کام کا تو بیرا غرق ہوا اور ساری محنت پانی میں بہہ گئی ،الٹا امریکی ایما پر اسکو تنگ کیا جانے لگا،جسکا نتیجہ جی ایچ کیو پر حملے کی صورت نکلا۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. ابن سعید صاحب آپ نے خود کہا ہے کہ اردو سیارہ فقط اردو کی ترویج کرتا ہے ،کسی مذہب کے ساتھ اسکا تعلق نہیں ہے تو جناب پھر جس بلاگ کو آپ نے بلاک کیا ہے کیا وہ انگریزی یا ہندی میں تھا؟

    کیا اسکا بلاگ اردو میں نہیں تھا اور کیا اسکے بلاگ سے اردو کی ترویج نہیں ہوتی تھی، آپ نے خود کہا ہے کہ اردو سیارہ مذہب اور دل نہیں رکھتا تو اسکو صحیح اور درست بلاگ کا ادراک کیسا ہوا۔؟؟؟؟

    جواب دیںحذف کریں
  15. حضور میں بھی اس بلاگ کا مخالف ہوں اور اسکے ہٹائے جانے کی حمایت کرتا ہوں لیکن۔۔۔
    دیوبندی اور وہابی؟ کبھی فلسطین، کشمیر، عراق و افغانستان کے بارے میں تو ایسی کوئی تحریر نہیں پڑھی یہان۔ ماشاءاللہ کا کیا استدلال ہے؟ پچھلے 30 سالوں میں اس ملک کا انہوں نے بیٹرا غرق کیا ہے۔۔۔۔
    اچھا جی حضور جس قبیلے سے آپکا تعلق ہے وہ تو پچھلے 60 سالوں سے اس ملک کو برباد کررہا ہے۔۔۔
    یہ دو ٹھکے کے نہام نہاد لبرل فاشسٹ جو پہلے اپنے آپ کو ترقی پسند کہتے تھے اور روبل کے بل پر انہی کے خلاف اپنے آقا کی حامیت کرتے تھے اور اب امریکی ڈالرز کے عوض انہی کے خلاف۔۔۔۔
    کمال کی بات ہے یعنی آپ حضرات کو بھی روز قیامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قربت اور جنت و جہنم کا غم کھائے جارہا ہے؟ ارے صاحب کیا منہ دیکھائیں گے رسول خدا کو اگر پوچھ بیٹھے کہ جب انکی امت پر پوری دنیا میں عرصہ حیات تنگ کیا جارہا تھا تو اپنے گھر میں آرام کمروں میں بیٹھے جہاد اور جہادیوں کو اور دوسرے مسالک کو گالیاں دے رہے تھے۔۔۔۔
    عراق باڈی کائونٹ کے مطابق اب تک 110811 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ افغانستان میں سولین ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ لیکن حضور والا بولے تو جہاد کی مخالفت میں۔ بھیا جہاد تو قیامت تک جاری رہیگا لبرل فاشسٹوں کے رونے گانے، کوسنوں کے باوجود۔۔۔
    باقی یاسر جاپانی صاحب نے میرا مدعا بہت بہتر انداز میں پیش کردیا ہے۔۔۔

    اگر سیارے والے دوسروں کے خلاف نفرت انگیز مواد پر کاروائی کرتے ہیں تو اس بلاگ پر مخالف فرقوں کے خلاف قابل گرفت مواد موجود ہے۔ میں اس بلاگ کو بھی بین کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  16. درویش جی برگیڈئیر پر کالعدم تنظیم سے رابطے کا الزام ہے۔ میں نے اس ساری پوسٹ میں برگیڈیئیر کو کہیں ڈسکس نہیں کیا اس لیے موضوع سے نہ ہٹنے کو ترجیح دوں گا، جواب نہ دے کر۔ اور جس عثمان کی آپ بات کررہے ہیں، اور اس کے سیٹ اپ کی، اسی سیٹ اپ سے اختلاف ہے بھائی ہمیں۔ جو مرضی بندوق اُٹھا کر نعرہ تکیبر لگا کر کُشتوں کے پُشتے لگانے شروع کردے؟ جہاد حکومتی سرپرستی میں ہوتا ہے بھائی باقی سب دہشت گردی ہے۔ حکومت بھی اسلامی ہونی چاہیے۔ پاکستان کی دونمبر حکومتیں نہیں۔
    آپ کے دوسرے تبصرے کا جواب ابن سعید کے تبصرے میں موجود ہے
    محترمی وقار میں الحمداللہ مسلمان ہوں، اور خاصا بنیاد پرست قسم کا دیوبندی ہوں۔ میرے محلے میں ایک امام بارگاہ ہے اور جب شیعے ساری ساری رات لاؤڈسپیکر پر محفلیں کرتے ہیں تو بڑے سکون سے برداشت کرتا ہوں کہ انھیں بھی حق ہے اپنے مذہب کے مطابق جینے کا، میں خودکش حملہ نہیں کرتا ان پر۔ بس یہی فرق ہے مجھ میں اور "جہادیوں" میں۔ لبرل فاشست سمجھنا آپ کی اپنی رائے ہے اور رائے قائم کرنا آپ کا حق ہے۔
    جہاں تک بات گھر میں بیٹھ رہنے کی ہے تو جہاد کے پیچھے اسلام حکومت ہونے کے بارے میں عرض کرچکا ہوں۔ اور آپ سے یقینًا نہیں پوچھوں گا کہ آپ نے گھر سے نکل کر کتنے کافر قتل کردئیے ہیں اب تک، چونکہ میں تو لبرل فاشسٹ ٹھہرا۔
    نفرت انگیز مواد کے ذیل میں اوپر ایک تبصرے میں اپنا موقف واضح کرچکا ہوں، تاہم تحریر کو جیسے آپ سمجھ رہے ہیں، میں آپ کو ویسا نا سوچنے پر مجبور تو نہیں کرسکتا۔
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  17. میں تو صرف اس نقطے کی طرف غور کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ دیوبندیوں کو شیعہ کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے ؟؟؟

    آپ نے ایک مخصوص علاقے کے شیعہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذکر کیا ہے آپ نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وہ رد عمل تھا ، شیعہ کی طرف سے ہونے والے سلوک کی تصاویر لگاوں میں اپنے بلاگ پر ؟؟؟؟

    میں ایک شیعہ ہوں ، اور بڑا کٹر اور بنیاد پرست قسم کا لیکن دوغلہ نہیں ہوں !!!!۔

    جواب دیںحذف کریں
  18. جناب من میں ایسے کسی بھی فعل کے خلاف ہوں جو کسی بھی فرقے کی طرف سے دوسرے کے لیے ہو۔
    یہ بات روز اول سے اظہر من الشمس ہے کہ طالبان دیوبندیوں اور سلفیوں سے متاثر رہے ہیں۔ ان کی بنیادیں انھیں کے مدرسوں میں پڑیں، پھر یہ اسلام سے اپنے مسلک کے نفاذ کی طرف مُڑ گئے۔
    معافی چاہوں گا مجھے شیعوں کی طرف سے کیے گئے ایسے کسی ظلم کا نہیں پتا جس کے جواب میں طالبان ان کے مخالف ہوئے۔ آپ واضح کرسکیں تو علم میں اضافہ سمجھوں گا۔
    اور آخر میں میں دنیا پرست مسلمان ہوں جی، تو دوغلہ ہونا پڑتا ہے۔ ان میں سے ہوں جو اسلام میں پورے داخل نہیں ہوتے، ادھے باہر رہ جاتے ہیں۔ لیکن دل کی بات صاف کرتا ہوں۔ اس معاملے میں دوغلا نہیں ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  19. مجھے زیر عتاب بلاگ پر بہت اعتراض تھا لیکن جس وجہ پر اسے بین کیا گیا ہے وہ وجہ تو مکی کے بلاگ پر بھی پورا اترتی ہے کیونکہ یہ بھی دہشت پر اکساتی ہے۔
    بہرحال جو دل میں آئے کیجئے۔

    جواب دیںحذف کریں
  20. شیعوں کی طرف سے کیے گئے کسی ایسے ظلم کا نہی پتا جسکے بعد طالبان انکے خلاف ہو گئے یعنی جو شیعہ کے خلاف ہو وہ طالبان ہے ۔ یہیں سے آپکی سوچ کا پتا چلتا ہے ۔ اس سے زیادہ وضاحت کیا کی جائے بہرحال میرے فرقے کی تعریف کا بہت شکریہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  21. سائیں آپ نتائج پر بڑی جلدی چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ ایک سوال کیا تھا آپ نے جواب دینا پسند نہیں کیا اور نتیجہ پیش کردیا۔ چلیں جی مرضی ہے۔
    آپ کے فرقے کی تعریف مقصد نہیں تھا، مقصد جنام نہاد "جہادیوں فسادیوں" کی تذلیل تھا۔ اگر آپ کو شیعوں کی طرفداری سے خوشی ہورہی ہے تو یہ اضافی فائدہ ہوگیا اس تحریر کا۔

    جواب دیںحذف کریں
  22. شاکر بھائی نے جذبات میں آکر جو جو دماغ میں آتا گیا لکھتے گیے ۔ آپ کو کم سے کم اس سب کو دیوبند اور وہابیت سے منسوب نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ اگر آپ کو دوسرے فرقے اچھے نہیں لگتے تو اس کو یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ وہ برے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  23. سرکار اس میں کچھ غلط ہو تو فرمائیں میں حذف کردیتا ہوں؟ سعودی عرب سے فنڈ نہیں آتے رہے؟ یا طالبان کی ٹاپ کمانڈ کراچی کے دیوبند مدرسوں سے تعلیم یافتہ نہیں ہے؟ یا سوات میں انھوں نے بریلویوں کے ایک پیر صاحب کی لاش تک کی بے حرمتی بھی نہیں کی تھی؟ یا لاہور میں ایک بریلوی عالم کو اس لیے شہید نہیں کیا تھا کہ وہ خودکش حملوں کے خلاف فتوی دیتے تھے؟
    ریت میں سر دینے کے کچھ نہیں ہونا سائیں، حقیقت تسلیم کریں۔ میں نے کونسا کسی کو ماں بہن کی گالیاں دی ہیں، ایک حقیقت بیان کی ہے، میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہر وہابی اور دیوبندی اس کام میں مشغول ہے؟ طالبان کے رجحان کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ "اسلام" کسے سمجھتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔