منگل، 18 اگست، 2015

پہلی نظر

پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔ پہلی نظر کے بعد باقی رہ جانے والی تشنگی، پہلی ملاقات کے بعد بھی رہ جانے والے ان دیکھے فاصلے اور پہلے لمس میں چھپی اجنبیت صرف ایک مرتبہ کا احساس ہوتے ہیں۔ لیکن یہ احساس کبھی نہیں جاتا۔ پھر چاہے تشنگی مٹانے کو جام بھر بھر کر ملیں، فاصلے ایسے مٹیں کہ قربتوں کو رشک آنے لگے، اجنبیت ایسے دور ہو کہ جنم جنم کا ساتھ لگنے لگے، لیکن وہ پہلی نظر، پہلی ملاقات اور پہلا لمس کبھی نہیں بھولتے۔
میں جب کسی شہر سے، کسی شخص سے، یا کسی راستے سے پہلی بار ملتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ بس کترا کر گُزر جاؤں۔ میرا انداز ایسا ہوتا ہے بس یہ وقت گزر جائے اور اللہ کرے دوبارہ ان سے آمنا سامنا نہ ہو۔ اگر قسمت میں لکھا ہو اور ساتھ طویل ہو جائے تو پھر دھیرے دھیرے میں ان پر اور یہ مجھ پر کھُلتے ہیں۔

کسی شہر میں پہلی بار داخل ہوں تو میرا انداز بتیاں دیکھنے شہر آنے والے پینڈو جیسا ہوتا ہے۔ ہر اجنبی چیز، عمارت، نشانِ راہ کو ایسے دیکھتا ہوں جیسے ایسی کوئی چیز پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔ ہر چیز کوری کنواری لگتی ہے۔ جیسے میرے ہی انتظار میں پڑی ہو کہ میں آؤں، دیکھوں اور اس دیکھنے سے اُسے بھی اُس کے ہونے کا احساس دلاؤں۔ کسی شہر سے پہلی ملاقات میں موجود اجنبیت، سرد مہری، ہلکا سا کٹھور پن اور پردیسی ہونے کا احساس حواسوں پر بہت مختصر عرصے کے لیے وارد ہوتا ہے، لیکن یادداشت میں برسوں تروتازہ رہتا ہے جیسے کل ہی کی بات ہو۔ بڑی طویل پیاس کے بعد ملنے والے ٹھنڈے پانی کا احساس بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پہلے گھونٹ کی اجنبیت اور ذائقہ بس ایک مِلی سیکنڈ کی گیم ہوتی ہے، لیکن وہ احساس یاد کی صورت میں ہمیشہ کے لیے دماغ میں کہیں محفوظ ہو جاتا ہے۔

گجرات شہر میں میرا پہلا دن جب شروع ہوا تو دن ڈھل چکا تھا۔ اس لیے پہلا احساس اجنبی اور ملگجا سا ہے۔ اس کے بعد مسلسل بارش، نمی اور ہوا کی ٹھنڈک میرے اندر آج بھی کہیں بسی ہوئی ہے، اور آج اتنی بارشوں کے بعد بھی وہ پہلی بارش ان سب سے جدا ہے۔ ملازمت کے انٹرویو سے پہلے کا ایک انجانا سا خوف بھی اس پہلی ملاقات کا ایک اٹل حصہ ہے۔ پھر یونیورسٹی کو جانے والا راستہ اور اس پر سفر کرتے ہوئے مسلسل لگنے والے جھٹکے، ہر جھٹکے میں موجود ایک تیکھا کٹھور پن آج بھی یادداشت کا حصہ ہے۔ آج لگ بھگ ایک برس بعد ان گڑھوں سے اتنی مانوسیت ہو چکی ہے کہ چلتے چلتے کترا کر گزر جاتا ہوں۔ ان کا شکار بھی بن جاؤں تو روٹین کی بات ہے۔ لیکن وہ پہلا سفر جو میں نے اس راستے پر کیا، یونیورسٹی اور اس کے اندر اور پھر انٹرویو کے بعد گیٹ تک پیدل مارچ، ستمبر کی بے موسمی لگاتار برستی بارش میں چلتے چلتے  اردگرد کے منظر کو جب میں نے پہلی بار اپنی یادداشت میں قید کیا، بارش کا پانی کس طرف جا رہا ہے، گرین بیلٹ کہاں ختم ہو رہی ہے، کہیں ایک برگد کا درخت ہے اور اس کے نیچے مزار ہے، کہیں ایک کھیل کا میدان نظر آ رہا ہے اور وہ سامنے ہاں وہی سامنے والا گیٹ ہے جہاں سے میں اندر داخل ہوا تھا۔ اور اس گیٹ پر تعینات سیکیورٹی گارڈ، ان کی نیلی وردیاں اور ان سے دس فٹ کی دوری سے ہی آتا ہوا سگنل کہ "پرے ہٹ کے"۔ اس پہلے دن کی ہر بات، ہر منظر جو بہت مختصر مدت کے لیے میرے اندر جی کر اب کسی حنوط شدہ ممی کی طرح ذہن کے کسی تہہ خانے میں محفوظ ہے، آج اتنی مانوسیت ہونے کے باوجود میں اس اجنبیت بھرے احساس کو بہت مِس کرتا ہوں۔

گجرات بہت چھوٹا سا شہر ہے۔ ان گزرے مہینوں میں بہت حد تک اس شہر کا مزاج آشنا ہو چکا ہوں۔ راستوں کی اونچ نیچ میرے دماغی سکیما (schema) میں فِٹ ہو چکی ہے۔ اندرونِ شہر کی چھوٹی گلیاں، کھانا کھانے کے چند ایک مخصوص سپاٹ، چند بڑی سڑکیں، ایک لاری اڈا جہاں سے ہر ہفتے دو بار آنا جانا ہوتا ہے، کچہری چوک، جیل چوک، لاہور اور اسلام آباد جانے والی جی ٹی روڈ سب کچھ ایک روٹین بن چکا ہے۔ اور آج پہلی بار لگ رہا ہے کہ اس روٹین کے دن گِنے جا چکے ہیں۔ بہت جلد یہ روٹین بھی استعمال شدہ کپڑوں کی طرح کسی نچلے خانے میں رکھ دی جائے گی۔

میں لوگوں سے، شہروں سے اور راستوں سے اتنی جلدی بے تکلف نہیں ہوتا۔ کوشش ہوتی ہے کہ ان سے بس کترا کر، دور دور رہ کر، بس کام کی بات کر کے چلا جاؤں، دور ہو جاؤں۔ اجنبیت برقرار رہے، دوری قائم رہے، وہ جو عدم مانوسیت کی وجہ سے ایک سرد مہری ہوتی ہے وہ ختم نہ ہونے پائے۔ اس سے مجھے تحفظ کا احساس ہوتا ہے، جیسے کسی جنگجو کو آہنی لباس کے پیچھے ایک تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ میں کتراتا ہوں، بچتا ہوں، اس سب سے چونکہ مجھے پتا ہے کہ اگر قربت بڑھی، اجنبیت کی خندق کو مانوسیت کی مٹی نے پاٹ دیا تو احساسات پیدا ہوں گے، سوچنے کے مواقع ملیں گے، اجنبی خوامخواہ اندر آن گھُسے گا۔ اور جب کوئی اندر فروکش ہو جائے تو اسے دیس نکالا دینا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ وہ نکلنے پر آمادہ ہو بھی تو اس عمل میں ہونے والی تکلیف بہت شدید ہوتی ہے جسے برداشت کرنا بڑے حوصلے کا کام ہے۔

اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا، چاہے ہو لوگ ہوں،  شہر ہوں یا راستے۔ مجھے پتا ہوتا ہے کہ ایک نہ ایک دن میرے مقدر کا چکر مجھے کہیں اور لے جائے گا۔ یہ سب وہیں رہ جائیں گے، اپنی اپنی جگہ پر اور میں کہیں اور دربدر ہو جاؤں گا، لیکن میرے سامان میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایک خلاء جو کبھی پورا نہیں ہو گا۔ ایک سلو پوائزن جیسا میٹھا احساس، ایک کسک، ایک پھانس جو ہمیشہ کے لیے میرے دل میں چبھ جائے گی۔ میرے سامان میں ایک گٹھڑی ان یادوں کی شامل ہو جائے گی جو میں نے اس شخص، اس شہر اور اس راستے کی معیت میں گزارے۔ اور میرے وجود کا ایک ٹکڑا وہیں کہیں رہ جائے گا۔ میری روح کا ایک حصہ قیامت تک اس کے طواف کے لیے وقف ہو جائے گا۔ میں کچھ اور کم ہو جاؤں گا، اور میری یادیں کچھ اور وزنی ہو جائیں گی۔ اسی لیے میں اجنبیوں سے بے تکلف نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 29 جولائی، 2015

ہنرمند

ابو جی کے پاس کوئی ہنر نہیں تھا۔ مڈل بھی مکمل نہیں کیا تھا۔ سب سے چھوٹے تھے۔ والدین ضلع ہوشیار پور سے ہجرت کر کے آئے تھے، انہوں نے بھی تعلیم پر توجہ نہ دی۔ ساری عمر مختلف کام کیے۔ کبھی ٹیکسٹائل مل میں کام کیا، کبھی رکشہ چلایا، کبھی پولٹری فارم ، کبھی کپڑے کی دوکان، کبھی کریانے کی دوکان، کبھی گول گپے، پلاسٹک کے برتن ریڑھی پر اور جمعہ/اتوار بازاروں میں، ناشتے کی ریڑھی، لوڈر رکشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچھے دنوں میں جب رکشے کا کام ابھی مندا نہیں پڑا تھا، اور پھر بعد میں جب ناشتے سے اچھے پیسے بن جاتے تھے تو ابوجی نے دو مرتبہ مکان کی توسیع کروائی۔ غریب کے مکان کی توسیع یہی ہوتی ہے کہ پہلے ایک منزل ڈلوا لی، پھر پلستر کروا لیا، پھر دوسری منزل ڈلوا لی اور پھر ہمت ہوئی تو تیسری منزل۔ ابو جی نے اس طرح کر کے تین چار بار مکان میں ترمیم و اضافہ کیا تاکہ بڑھتے ہوئے خاندان کے رہن سہن میں آسانی پیدا ہوتی۔

ہر بار ابو جی کو مستری ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ پہلے پہلے جب میں چھوٹا تھا تو یہ مسئلہ بہت زیادہ علم میں نہیں تھا۔ ماموں کے گاؤں سے مستری اور مزدور آ گئے اور اوپر والی منزل تعمیر ہو گئی، سارے مکان کو پلستر بھی ہو گیا۔ اس کے بعد دو تین بار جب بھی ضرورت پڑی تو ہر مرتبہ مستری کی تلاش ایک الگ جدوجہد رہی۔ خواہش ہوتی تھی کہ فلک شیر یعنی پرانا مستری ہی کام کر جائے، لیکن وہ لاہور شفٹ کر گیا، پھر واپس آیا تو اس کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا۔ بڑی مشکل سے وقت ملتا، جلدی جلدی کام کر کے چلا جاتا۔ 

آخر ہر مرتبہ فلک شیر ہی کیوں؟ مسئلہ اس کا یا ہمارا نہیں، اس کے ہنر کا تھا۔ وہ بندہ سمجھدار تھا، ہاتھ میں صفائی تھی اور لوگ اس کے آگے پیچھے قطار میں کھڑے نہ بھی رہتے ہوں کم از کم آئندہ کئی مہینوں کے لیے وہ بُک ہوا کرتا تھا۔ ہم ہر بار فلک شیر کے ہنر سے مجبور ہو کر اس کے پاس جاتے تھے۔ ورنہ مستری تو میرے محلے میں کئی تھے، میرے محلے کے باہر اڈے پر ہر روز سو ڈیڑھ سو مستری مزدور کھڑا ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے۔ لیکن ان سے کام کروانے کو دل نہیں مانتا تھا۔

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں سیکھا کہ پیشہ ورانہ اعتماد قائم کرنا ایک بہت ہی اہم خصوصیت ہے۔ ایک آپ کا کلائنٹ/کسٹمر/گاہک آپ پر کام چھوڑ کر مطمئن ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کبھی بھوکے نہیں مریں گے۔ اس کے لیے میں نے مستری فلک شیر سے یہ سیکھا کہ اتنے ہنرمند ہو جاؤ کہ دوسروں کی ضرورت بن جاؤ۔ لوگ دروازے پر آ کر کام کی درخواست کریں۔ 

مجھے نہیں پتا اس کو اور پُراثر انداز میں کیسے لکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں  کہ ہنرمند بن جائیں۔ چاہے موٹرمکینک ہوں، انجینئر ہوں، پی ایچ ڈی ہوں، اگر آپ ہنرمند نہیں ہیں تو آپ میں اور آپ کے گلی محلے کے باہر راج مستریوں کے اڈے پر بیٹھنے والے ان مستریوں اور مزدوروں میں کوئی فرق نہیں۔ وہ روز سامان اٹھا کر اڈے پر آتے ہیں۔ کبھی کام ملتا ہے اور کبھی نہیں۔ مل جائے تو ایک دو دیہاڑیوں کا ہوتا ہے۔ نہ ملے تو سارا دن وہیں بیٹھے بیٹھے بارہ ٹہنی کھیل کر گھر کو لوٹ جاتے ہیں۔ 

میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں یہ سیکھا کہ میں اپنے کلائنٹ کو جو کچھ کر کے دوں اس پر اُسے اعتماد ہو۔ جیسے مستری فلک شیر عین نوے کے زاویے پر دیوار اٹھاتا ہے، پلستر میں کہیں اونچ نیچ نہیں آنے دیتا اور آج بھی اس کا لگایا ہوا فرش کہیں سے اکھڑا نہیں۔ ویسے ہی میں ترجمہ کروں تو میرے کلائنٹ کو بہت کم ضرورت پڑتی ہے کہ اُس پر نظر ثانی یا تصحیح کروائے۔ گزرے برسوں میں مَیں نے بہت کم معاوضے پر بھی کام کیا۔ رات کو اُٹھ اُٹھ کر بھی کام کیا۔ لیکن اب میں تھوڑا کام کرتا ہوں، تھوڑا لیکن سُتھرا۔ میں ترجمہ کرتے وقت پاکستان کے اندر کا کام نہیں پکڑتا، مجھے پتا ہے یہاں لوگ اچھی ادائیگی نہیں کرتے۔ غیر ملکی جب کام کرواتے ہیں تو پیسے اچھے دیتے ہیں۔ وہاں اور یہاں کے کام میں ایک بمقابلہ چار کا فرق سمجھ لیں۔ اگر یہاں روپیہ ملے تو وہ چار روپیہ بھی دے دیتے ہیں۔ تو مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اب  معاوضے میں بہت کم رعایت دیتا ہوں، لیکن اس کے بدلے میرا کام معیاری ہوتا ہے۔ لیکن یہ معیار اور ساکھ بنانے، اپنے آپ کو زیادہ معاوضے کے قابل بنانے میں مجھے ایک دو سال نہیں آٹھ نو سال لگ گئے ۔

دوسری جانب میں تدریس کے حوالے سے بھی اسی بات پر عمل پیرا ہوں کہ اپنے آپ کو اس مقام پر لے جاؤں جہاں میرے جیسے کم ہی متبادل دستیاب ہوں ۔ اگر ایسا ہو سکا تو ہی میں ایک اچھی ملازمت یا کام کی امید کر سکتا ہوں۔ اس کے لیے آج سے دس برس پہلے پی ایچ ڈی کرنے کا عزم کیا تھا۔ اور وہ عزم آج بھی تازہ ہے۔ انشاءاللہ اس عزم کو مکمل بھی کرنا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی منزل نہیں، صرف نشانِ منزل ہو گی۔ مختصر یہ کہ میری ذات پر سے "زیرِتعمیر" کا بورڈ کبھی نہیں اترے گا۔ میری دعاؤں میں مستقلاً شامل دعا رَبِّ زِدْنِي عِلْما بھی ہے۔ اور جیسے جیسے میری عمرِ عزیز کا اختتام قریب آتا جاتا ہے، مجھے یہ احساس زیادہ شدت سے ہوتا جاتا ہے کہ مجھے کچھ نہیں معلوم۔ علم دراصل اپنی جہالت کا ادراک کرنے کا نام ہے، اور وہ ادراک دھیرے دھیرے ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ احساس بھی کہ یہ جو کچھ دیا ہے، یہ سب اُس کی کرم نوازی ہے۔ کہ میرے بس میں تو کبھی  کچھ بھی نہیں تھا، آج میں جس جگہ بھی کھڑا ہوں، یہ سب اُس کی رحمت ہے۔

تو آپ بھی اگر ابھی یونیورسٹی سے چوندے چوندے ماسٹرز کی ڈگری لے کر نکلے ہیں، یاکسی شعبے میں داخل ہو رہے ہیں، دنیا کو فتح کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ یکدم چھلانگ نہ لگائیں۔ اللہ کی رحمت پر نگاہ رکھیں اور یادر کھیں کہ کامیابی ایک دو دن یا مہینے نہیں برسوں کا کھیل ہے۔ دس برس کا ہدف رکھیں اور محنت کریں۔ اپنے آپ کو اس قابل کر لیں کہ دوسرے آپ کے دروازے  پر آپ سے کام کروانے کی درخواست لے کر آئیں۔ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ یاد رکھیں کامیابی کا اگر کوئی شارٹ کٹ ہوتا بھی ہے تو وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ سب پیدائشی جینئس نہیں ہوتے۔ ہاں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر محنت کرتے چلے جانا سب کے اختیار میں ہوتا ہے۔ چنانچہ محنت کریں، کچھوا چال ہی سے کریں لیکن محنت کرتے چلے جائیں، اور ایک ہی سمت میں آگے بڑھتے چلے جائیں۔ ہنرمند  ہو جائیں تو آپ کے دلدر دور ہو جائیں گے۔ Jack of all trades, master of none کے مقولے کو ذہن میں رکھیں۔ ایک شعبہ ایسا ضرور ہونا چاہیئے جس کے ماسٹر آپ ہوں۔ باقی شوق تو کئی پالے جا سکتے ہیں، لیکن روزی روٹی کے لیے ایک یا دو شعبے ایسے ہونے لازمی ہیں جن میں آپ کی مہارت پر آنکھ بند کر کے اعتبار کیا جا سکے۔ اللہ سائیں آپ پر اپنی رحمت رکھے۔

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

میں اور ترجمہ

آج سے کوئی آٹھ  برس قبل میرے گھر میں ایک بابا جی تشریف لائے۔ ان سے پہلے زندگی میں کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اردو محفل کے توسط سے دعا سلام تھی اور بس۔ اتنی واجبی سی دعا سلام کے باوجود وہ کمال شفقت سے نہ صرف میرے غریب خانے پر تشریف لائے بلکہ انہوں نے کچھ ایسے گراں قدر مشوروں سے بھی نوازا جنہوں نے آج کے شاکر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطاء فرمائے۔ محمد اصغر صاحب جو اردو محفل پر تلمیذ  کی عرفیت سے جانے جاتے تھے، مورخہ 18 جولائی 2015 بروز عید الفطر  اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔ جس نے بھی سُنا سناٹے میں رہ گیا۔ اللہ مغفرت فرمائے۔ وہ چلے گئے ، لیکن انہوں نے مجھ جیسے کئی نوجوانوں  کو گائیڈ کیا۔ انشاءاللہ اس صدقہ جاریہ کا اجر انہیں ملتا رہے گا۔

تو جناب  اصغر صاحب نے پہلی مرتبہ مجھے آگاہ کیا کہ آنلائن ترجمہ کر کے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، اور اچھے خاصے پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ 2007 میں ابھی میں ایک گواچی گاں جیسی چیز تھا۔ بی کام کے بعد ایم بی اے کا داخلہ بھیج کر واپس منگوا چکا تھا، اور ایک عدد پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اِن انگلش لنگوئسٹکس فرما رہا تھا۔  مالی حالت پتلی تو ہمیشہ سے تھی، ٹیوشن  اور چھوٹے موٹے کاموں پر گزارا تھا۔ اصغر صاحب نے کھُل کر کہا کہ آپ اپنے والدین کے ساتھ مل کر بوجھ اٹھائیں اور اس کے لیے فری لانس ترجمہ ایک اچھا پیشہ ہے۔ آپ فلاں فلاں ویب سائٹ پر تشریف لے جائیں، اپنی پروفائل اور سی وی تیار کر کے ٹرانسلیشن ایجنسیوں کو تعارفی ای میل کے ساتھ بھیجا کریں۔ تو یہ وہ برس تھا جب میں نے یہ کام شروع کیا۔ اور آج آٹھ برس بعد جب میں اپنے آپ کو مترجم بتاتا ہوں تو اس وقت سے شروع کرتا ہوں جب میں نے اپنے آپ کو مترجم کہنا شروع کیا تھا۔  پہلی پیمنٹ دو یا ایک برس بعد ملی تھی اٹھانوے ڈالر جس سے ایک  پی فور کمپیوٹر لیا۔

فاسٹ فاورڈ ٹو 2015، آج فری لانس ترجمے میں آٹھ برس ہو گئے۔  سافٹویئر، آئی ٹی اور خبروں کا ترجمہ میرے بائیں ہاتھ  کا کھیل ہے۔ ترجمے کی رفتار ایک زمانے میں ایک عام مترجم سے  کوئی دوگنی تو ہو گی۔ اب بھی اچھے دنوں  کے کچھ اثرات باقی ہوں شاید۔ لیکن اب کام کبھی کبھی ملتا ہے، وہ روزانہ ہزار پندرہ سو الفاظ ترجمہ کرنے والا زمانہ گزر گیا۔ لیکن آج بھی میں اگر اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہوں تو لسانیات +ترجمہ جیسی کسی چیز کا طالبعلم سمجھتا ہوں۔ لسانیات میرا شوق ہے اور ترجمہ میر اپیشہ۔ لسانیات اور ترجمہ کا گہرا تعلق ہے۔ نقصِ امن کے خطرے سے میں علومِ ترجمہ کو لسانیات کی ذیلی شاخ قرار نہیں دے رہا چونکہ اب پاکستان میں بھی علومِ ترجمہ کے الگ سے شعبے قائم ہو رہے ہیں۔ 

تو جناب میں مترجم ہوں، ترجمہ میرا پیشہ ہے، میری روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ میں پچھلے آٹھ برس میں خدا جھوٹ نہ بلوائے تو کوئی دس لاکھ الفاظ ترجمہ کر چکا ہوں جن میں سافٹویئر لوکلائزیشن، ویب سائٹ ترجمہ، خبریں اور مضامین، قوانین اور ایکٹ وغیرہ، خطوط، سرٹیفکیٹس اور جرنل آرٹیکلز وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے والے اور انٹرنیٹ پر مجھ سے شناسائی رکھنے والے احباب "جوانی" سے "بڑھاپے" کے اس سفر کو جانتے ہیں۔ آج سے چھ برس پہلے جو بندہ اردو وکی پیڈیا کی  جناتی اصطلاحات کے بارے میں لکھتا رہا، آج وہ کچھ اسی طرح کا کام کر کے اپنی روزی روٹی چلاتا ہے۔

فرانس کا ایک سماجی مفکر مِشل فُوکُو (یا شاید کوئی اور سڑیل بابا)کہتا ہے کہ میں کُتا نہیں جو ہر مرتبہ ایک ہی انداز میں بھونکے۔ بابے کے کہنے کا مطلب ہے  کہ انسان ارتقاء پذیر چیز ہے۔ چنانچہ پچھلے آٹھ برس میں آنے والی بہت سی تبدیلیوں میں سے ایک تبدیلی بطور مترجم میری سوچ میں بھی آئی۔ مَیں نے ترجمہ کر کے ترجمہ کرنا سیکھا ہے۔ اس کے لیے خاور کی ویب سائٹ پر میں نے جو ترجمہ کر کے سیکھا، وہ ہمیشہ بطور مترجم میری بنیاد رہے گا۔ میں نے اپنے کلائنٹس سے ، مارکیٹ سے، اور ٹھوکریں کھا کر سیکھا کہ ترجمہ میں کیا کرنا چاہیئے۔ اور پاکستان میں ترجمہ کا کیا مستقبل ہے۔ اتنی لمبی تمہید کے بعد بھی اگر آپ میرے ساتھ ہیں تو آپ کی مہربانی ہے چونکہ یہ  نشاندہی کرتا ہے کہ آپ کے پاس آج ضائع کرنے کے لیے کافی وقت ہے۔ چنانچہ اب ہم کام کی بات شروع کرتے ہیں۔

پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل کیا ہے؟ سچی بات بتاؤں تو پاکستان میں ترجمہ کا مستقبل آج سے چند برس پہلے(اور آج بھی)  ایک ٹکے کا بھی نہیں تھا۔ سارا کام بھارت کی ایجنسیاں لے جاتیں (آج بھی ایسا ہی ہے)۔ یہاں میری اکثر مثالیں سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے ہوں گی ، چونکہ میرا بنیادی فیلڈ یہی  ہے۔ 2003  کے اطراف میں ایکس پی کا ترجمہ کرلپ لاہور نے کیاا ور اس کے بعد سارا کام غیر ملکی ایجنسیوں کے پاس چلا گیا۔ مائیکروسافٹ اپنے ہر سافٹویئر (آفس2007 سے اب تک ہر ورژن، ونڈوز وسٹا سے آج تک ہر ونڈوز) کا ترجمہ اردو میں کرواتا رہا ہے۔ اور یہ کام پاکستان کے فری لانسرز نے تو شاید کیا ہو، کوئی ادارہ اس میں کم ہی ملوث رہا ہے۔ (اب مائیکروسافٹ پاکستانی پنجابی میں بھی سافٹویئر کا ترجمہ کرواتا ہے۔) انفرادی سطح پر تو لوگ کچھ کما سکتے تھے، لیکن ادارہ جاتی پشت پناہی نہ ہونے، سرکاری سطح پر ترجمہ کی پالیسی نہ ہونے کے باعث پاکستان میں ترجمے کی صنعت پنپ ہی نہیں سکی۔ آج  تک اس ملک میں شاید دو ہندسوں میں بھی ایسے ادارے نہ ہوں جو پیشہ ورانہ سطح پر ترجمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ میں کورٹ کچہری کے احاطے میں بیٹھے مترجمین کی بات نہیں کر رہا ، ایسا مترجم تومیں بھی ہوں۔ لیکن آج 2015 میں، مجھے کچھ امید ہے کہ شاید اگلے چند برسوں میں پاکستان میں ادارہ جاتی سطح پر ترجمہ کی سپورٹ شروع ہو جائے، چونکہ پاکستان کی کم از کم تین جامعات میرے علم کے مطابق علومِ ترجمہ کے چار سالہ بیچلرز پروگرام شروع کر چکی /کرنے جا رہی ہیں۔ اور یہ سب لوگ مترجم ہوں گے، سند یافتہ مترجم۔ اب سادہ  ایم اے اردو یا ایم اے انگریزی کی دال نہیں گلے گی۔ علومِ ترجمہ کے فارغ التحصیل یا کم از کم قانون، طب، مالیات وغیرہ وغیرہ کے مخصوص شعبوں میں ترجمہ کی معتبر اسناد/ڈپلومہ رکھنے والے امیدوار آئندہ ایک دو برس میں سامنے آنے لگیں گے۔ جس سے ترجمہ کا معیار بھی بہتر ہو گا اور ادارے یعنی ٹرانسلیشن ایجنسیاں بھی وجود میں آئیں گی۔ سرکاری سطح پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کے موجب بہت سی بہتریوں کی توقع ہے۔ کم از کم ، کچھ نہ کچھ دستاویزات ترجمہ ہونے لگیں گی۔ اور امید ہے کہ اردو کو سرکاری سطح پر انگریزی کے ہم پلہ کچھ نہ کچھ رتبہ ملے گا۔

یہ تو بطور ترجمہ صورتحال پر کچھ رائے، امیدیں اور تجزیہ تھا۔ اب ذرا صارفین یعنی جن کے لیے ترجمہ پیدا کیا جاتا ہے، ان کے حوالے سے کچھ حالات پر نظر ڈالی جائے۔ سرکاری سطح پر اردو کو اس کا جائز مقام دینے سے ترجمہ کی روایت کی داغ بیل پڑے گی اور اس سے عام عوام کو بھی فائدہ ہو گا کہ انہیں قومی زبان میں دستاویزات کا مطالعہ نصیب ہو گا۔ نجی شعبے کو بھی ترجمے کی کچھ نہ کچھ تحریک ملے گی۔ اگر سافٹویئر لوکلائزیشن کے حوالے سے بات کی جائے تو بہت سے ادارے پہلے ہی اپنے سافٹویئر اردو، سندھی، پشتو وغیرہ میں پیش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ سے اینڈرائیڈ کا کوئی موبائل خرید لیں اس میں کم از کم گرافیکل یوزر انٹرفیس (جی یو آئی یا صارف مواجہ) اردو میں کرنے کا آپشن ضرور ملے گا۔ سام سنگ، لینووو، اوپو، ہاوے/ہواوے وغیرہ وغیرہ اور مائیکروسافٹ سب اردو زبان میں سافٹویئر دکھانے کی سہولت دیتے ہیں۔ اور تو اور ٹوئٹر، فیس بُک اور گوگل کی آنلائن ویب سائٹس/ایپس بھی اردو میں دستیاب ہیں۔ لیکن کیا صارفین اس کے لیے تیار ہیں؟

ایک لفظی جواب دوں تو "نہیں"۔ پاکستانی صارفین ایک ترجمہ شدہ صارف مواجہ استعمال کرنے کے لیے سو میں  سے زیادہ سے زیادہ دس فیصد تیار ہیں۔ اس کی وجہ/وجوہات کیا ہیں؟

اول تو یہ کہ ترجمہ غیر معیاری ہے۔ مختلف اوقات میں مختلف اداروں، ٹرانسلیشن ایجنسیوں اور فری لانسر مترجمین نے ترجمہ اور اصطلاح سازی کے ساتھ کھلواڑ کی جس سے غیر معیاری، کھچڑی ترجمہ وجود میں آیا۔ بطورِ خاص اصطلاحات سازی کا کوئی معیار مقرر نہیں، اور نجی سطح پر اردو وکی پیڈیا جیسے اداروں کو ایسی کسی بھی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی پیش کردہ اصطلاحات بری طرح مسترد ہوئیں۔ میرے دو تین مضامین اس سلسلے میں یہاں موجود ہیں۔ غیر معیاری ترجمے کی ایک اور وجہ اللہ واسطے کے تراجم ہیں۔ گوگل جی میل اب آپ کو اردو میں ملے گی۔ لیکن اس کا موازنہ آپ فیس بُک کے اردو مواجہ سے کریں۔ آپ کو فرق معلوم ہو جائے گا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر اللہ واسطے ترجمہ کرواتے ہیں۔ جہاں مترجم کو بیج وغیرہ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔ گوگل سخت معیارات کے تحت پیشہ ور ایجنسیوں اور مترجمین سے ترجمہ کرواتا ہے ا س لیے کچھ نہ کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔

ترجمہ کے لیے تیار نہ ہونے کی دوسری وجہ صارفین میں پائی جانے والی نامانوسیت ہے۔ جو چیز مانوس نہیں، وہ مضحکہ خیز ہوتی ہے۔ ہم اس کی بھد اڑاتے ہیں، ہنسی ٹھٹھول کرتے ہیں۔ ترجمہ کو جب کوئی پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور لنک=ربط،  فارمیٹنگ = وضع کاری، کنفگریشن = تشکیل جیسے تراجم پڑھتا ہے تو پہلے حیران ہوتا  ہے پھر ہنستا ہے اور آخر میں دوسروں کو دکھانے کے لیے ایک طنزیہ پوسٹ کے ساتھ شیئر کر دیتا ہے۔ صارف کے ورلڈ ویو (world view)  یعنی دنیا کو سمجھنے کی طرزِ فکر میں یہ بات ہی فٹ نہیں بیٹھتی کہ سافٹویئر کا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے، اور انگریزی کے علاوہ بھی ونڈوز کو کسی اور زبان میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر شاید کبھی ہمارے بابوں کو بھی دیکھنا نصیب نہیں ہوئی، ہم تو آج قیامِ پاکستان کی ستر سال بعد والی نسل ہیں جس کے سر پر انگریزی ہی انگریزی سوار ہے (کمپیوٹر کے علاوہ بھی ہر جگہ)۔ ایک اور وجہ یہ کہ صارفین کو علم ہی نہیں کہ سافٹویئر جیسی کسی چیز کے تراجم بھی دستیاب ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے وہ اس کے استعمال سے محروم رہ جاتے ہیں۔

اور آخر میں تھوڑی سی بات اصطلاح سازی کے حوالے سے کرنا چاہوں گا۔ دو انتہائیں ہیں۔ یا تو آپ جناتی اصطلاحات تخلیق کریں جیسے اردو وکی پیڈیا نے کیا، یا پھر آپ دسویں تک کے اردو سائنسی نصاب کے ساتھ سرکار نے کچھ برس پہلے کیا وہ کریں یعنی جو کچھ بھی "سائنسی" یا "اصطلاح" سا لگے اسے نقلی حرفی کر کے لکھ دیں۔ حروف اور گرامر اردو کی ہو لیکن لکھی انگریزی ہو۔ سادہ لفظوں میں حروفِ جار کے علاوہ ساری انگریزی۔ "ای میل سینڈ کریں"، "ای میل بھیجیں"، "برقی چٹھی ارسال کریں" جیسے تراجم سے میری مختصر سی پیشہ ورانہ زندگی میں کئی مرتبہ واسطہ پڑا ہے۔ پہلا ترجمہ کسی اردو سے نابلد، غیر پیشہ ور اور بدنیت مترجم کا ہے جس کا مطلب صرف پیسے کمانا ہے۔ دوسرا ترجمہ کسی میرے جیسے آدھے تیتر آدھے بٹیر کا ہے جو انگریزی بھی رکھنا چاہتا ہے اور اردو بھی چھوڑنا نہیں چاہتا۔ اور تیسرا ترجمہ اردو میں  گردن گردن دھنسے کسی اردو دان کو زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ میں ہمیشہ دو انتہاؤں کے درمیان چلنے کو ترجیح دیتا ہوں۔ اصطلاح سازی میں ہم بہت سے تراجم پر تقریباً متفق ہو چکے ہیں۔ مثلاً سنکرونائزیشن کا ترجمہ مائیکروسافٹ کے ہائر کردہ مترجمین نے آج سے چند برس قبل "ہم وقت ساز کریں" کیا۔ اب میری کوشش ہوتی ہے کہ یہی ترجمہ استعمال کروں چونکہ سام سنگ، لینووو کے پچھلے تراجم میں ان گناہگار آنکھوں نے اسی ترجمہ کو استعمال ہوتے دیکھا ہے۔ تو ترجمے کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے میں یہی ترجمہ استعمال کرتا ہوں چونکہ تسلسل ہو گا تو معیار بندی اور مانوسیت ہوتی جائے گی۔ اس کا ترجمہ "ہم آہنگ" اور "مطابقت پذیر" بھی ہو سکتا تھا لیکن یہ ترجمہ "کمپیٹبلٹی" کے لیے پہلے ہی مختص ہو چکا تھاچنانچہ ایک امتیاز روا رکھنے کے لیے نئی اصطلاح تشکیل دی گئی۔ یہ سارا عمل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اوپر بیان کردہ سارے مسائل کے باوجود، ایک مترجم جب ترجمہ کرنے بیٹھتا ہے تو اس کے سامنے ایک زبان کے مافی الضمیر کو دوسری  زبان میں بیان کرنا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے کچھ اصول، کچھ پیشہ ورانہ پریکٹسز، کلائنٹ کے تقاضے، اپنی زبان کووسیع  (اِنرچ) کرنے کی خواہش، ترجمے میں معیاری بندی اور تسلسل کا قیام جیسی کئی اور چیزیں ہوتی ہیں۔ مترجم ہمیشہ یلل بللڑ نہیں ہوتا کہ آنکھیں بند  کر کے ترجمہ کر دیا۔ فیس بُک اور ٹوئٹر جیسے اللہ واسطے کے تراجم میں بھی آپ لاکھ کیڑے نکال لیں لیکن اس پر انسانی گھنٹے صرف ہوئے ہیں۔ آپ کا دل اگر اپنی قومی زبان میں سافٹویئر استعمال کرنے کو نہیں کرتا تو اس میں جتنا ترجمے کا مسئلہ ہے اتنا ہی آپ کی سوچ کا مسئلہ بھی ہے۔ آپ ترجمہ استعمال کریں، اس پر فیڈ بیک دیں تو یقیناً یہ ترجمہ بہتر ہو سکتا ہے۔ (رضاکارانہ تراجم میں کام ایسے ہی چلتا ہے۔ کمپنیوں کے کروائے گئے تراجم میں ان کا کوالٹی کنٹرول کا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے اور میرے تجربے کے مطابق یہ طریقہ کار خاصا سخت اور مؤثر ثابت ہوتا ہے۔)

پچھلے دنوں ہمارے ایک محترم و مربی اور استاد جناب ڈاکٹر تفسیر احمد صاحب نے ایک فیس بُک پوسٹ شیئر کی جس پر دو تین تبصروں کے بعد زیرِ نظر بلاگ پوسٹ کا خیال آیا۔ جس میں ادھر اُدھر کی کئی باتوں کے علاوہ مذکورہ فیس بُک پوسٹ کے حوالے سے بھی کچھ باتیں بھی زیرِ بحث آ گئیں۔ امید کرتا ہوں کہ آج سے چند برس بعد ترجمہ کی صورتحال بہت بہتر ہو گی، مشینی ترجمہ کی ترقی، اصطلاحات کی معیار بندی اور تسلسل ،مانوسیت بڑھنے سے ترجمہ کردہ اورمقامیائے گئے سافٹویئر کا استعمال بڑھے گا۔ اور صارفین کی شکایات کم ہوں گی۔

جمعرات، 2 اپریل، 2015

دل نگر

یوں توں دل نگر میں داخل ہونے پر روشنیاں، خوشیاں، قلقاریاں، مُسکراہٹیں اور مسرتیں ہی نظر آتی ہیں۔ عمارتوں کا ایک وسیع جہان آباد ہے۔ ہر طرف روشنی پھیلی ہے۔ چراغاں  ہی چراغاں، ہر سُو میلے کا سا سماں۔ دن رات میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ ہر وقت انجوائے منٹ کا وقت لگتا ہے۔ پہلی مرتبہ آنے والوں کو جنت کا شبہ بھی ہو جاتا ہے۔ بار بار آنے والے البتہ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ جگہ تو اسی دنیا میں کہیں ہے، بس ذرا ماحول پکنک سپاٹ والا بنا رہتا ہے۔ ہر وقت ہلا گُلا جاری رہتا ہے۔ ابھی یہاں کیک کٹا تھا، اس کی مٹھاس اور تالیاں ہوا میں سے تحلیل بھی نہیں ہوئیں تو ایک اور ایونٹ چلا آتا ہے۔ ادھر دیکھیں تو اس دفتر نما عمارت میں کوئی نہ کوئی پارٹی چلتی ہی رہتی ہے۔ ذرا پرے اُدھر دیکھیں ۔۔ارے یہ تو کوئی گھر ہے اور یہاں بھی خوشیوں کے ڈیرے دور سے نظر آ رہے ہیں ۔ فضا میں کچھ دعائیں موجود ہیں۔ نیک روحوں کو ادھر اُدھر رحمتوں کی موجودگی بھی محسوس ہو جاتی ہے۔ 
ان عمارتوں، خوشیوں، مسرتوں اور قلقاریوں سے پرے ذرا مزید بائیں کو مڑیں تو روشنیاں دھیرے دھیرے دھیمی پڑنے لگتی ہیں۔ دیکھنے والا سجاوٹیں دیکھتا دیکھتا اتنی دور چلا آتا ہے کہ اسے دھیرے دھیرے دھیمی پڑتی روشنی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ جب احساس ہوتا ہے تو واپس مڑنے میں دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بستی کے بائیں طرف موجود بڑے احاطے کا پھاٹک یکدم ہی سامنے آ جاتا ہے۔ جیسے ابھی ابھی عدم سے وجود میں آیا ہو۔ بڑا سا سیاہ پھاٹک، جس پر ایک بار نظر ڈالنے والا دوسری نظر تو ضرور ڈالتا ہے۔ اور اکثر یہ دوسری نظر اچنبھے کی ہوتی ہے۔ حیرت بھری نظر۔۔۔۔ قریباً ہر کوئی خوشیوں بھری بستی کی طرف نگاہ ڈالتا ہے اور پھر بڑے پھاٹک کی طرف نگاہ دوڑاتا ہے۔ پھر کوئی بڑبڑاتا ہے، کوئی  بدبداتا ہے اور کوئی صرف سوچ کر ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن  آواز ہو یا نہ ہو، تاثرات سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے کیا کہا ہو گا' ارے ایسی جنت نظیر بستی میں اس بھوت محل کا کیا کام؟'۔ اور پھر یہ سوچ کر ہی وہ واپس نہیں مڑ جاتا۔ اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ آنے والے کے قدم سیاہ پھاٹک کی سمت اٹھنے لگتے ہیں۔ جیسے لوہا مقناطیس کی طرف کھنچتا ہے، ایسے ہی آنے والا حیرت، تجسس اور جستجو کے کچے دھاگے سے بندھا کھنچا چلا آتا ہے۔ ہولے ہولے سے پھاٹک تک پہنچتا ہے۔ اپنی آنکھیں نیم ملگجے اندھیرے سے مانوس کرتا ہے۔ پہلے اُچک کر اندر جھانکنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اندر کا دھندلا اندھیرا اس کی جستجو کو مہمیز دیتا ہے۔ اور پھاٹک تک آنے والا بالآخر اندر قدم دھر ہی دیتا ہے۔
نیم ملگجے سے اندھیرے میں تھوڑی سی اور سیاہی ڈال دیں تو ایسی روشنی بڑے پھاٹک کے احاطے میں پھیلی ہوتی ہے۔ آنکھیں اس سے مانوس ہونے میں چند لمحے لے لیتی ہیں۔ اور جب آنے والے کی نگاہیں کچھ دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں تو اکثر کو چھوٹا موٹا جھٹکا ضرور لگتا ہے۔ جھٹکا کیوں نہ لگے سامنے ہی تو تین چار ڈھیریاں ہیں۔ ایک آدھ گڑھا بھی موجود ہے جیسے ابھی ابھی گورکن نے زمین کا سینہ چاق کیا ہو۔ آنے والے کو یو ں لگتا ہے جیسے وہ قبرستان میں گھُس آیا ہے۔ کئی ایک تو ڈر کے مارے یہیں سے بھاگ جاتے ہیں۔ کچھ بہادر مقدس آیات کا ورد کر کے نادیدہ بلاؤں سے تحفظ کا حصار باندھتے ہیں۔ کچھ ڈھیٹ روحیں اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور قدم آگے بڑھا لیتی ہیں کہ چلو یہاں تک آ گئے تو بقیہ کام بھی نپٹاتے ہی چلیں۔ کچھ تو دور سے ہی ڈھیریوں کو سلام کر کے دیگر معائنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ کچھ قریب جا کر بغور جائزہ لیتے ہیں۔ ذرا قریب سے دیکھنے پر احساس ہوتا ہے کہ یہ ڈھیریاں واقعی قبریں ہی ہیں۔ کوئی پرانی اور پکی ہے، کوئی ذرا نئی اور کچی ہے، کوئی چند برس پرانی ہے اور کوئی چند ماہ پرانی ہے۔ اکثر کا تبصرہ یہی ہوتا ہے کہ ارمانوں کا قبرستان لگتا ہے۔ کبھی کوئی زیادہ غور کے موڈ میں ہو تو تازہ کھدی قبر  پر بھی نگاہ ڈال  کر اندازہ لگانے کی کوشش  کر ڈالتا ہے کہ یہاں بھلا کون سا ارمان دفن ہو گا۔۔۔ کچھ تو یہیں سے واپس مُڑ جاتے ہیں۔ اور کچھ بڑے احاطے کو میوزیم سمجھ کر باقاعدہ سیر پر اُتر آتے ہیں۔
قبروں سے پرے دائیں جانب ایک ادھوری سی عمارت ہے۔ دیواریں کھڑی ہیں، ایک طرف ریت کی ڈھیری بھی لگی ہے۔ چھت موجود نہیں۔ 'شاید کوئی ادھورا منصوبہ ہو گا'، اکثر کا یہی تبصرہ ہوتا ہے۔ قبروں کے بائیں جانب زمین پر کھدائی کے نشان نظر آتے ہیں۔ جیسے کوئی عمارت تعمیر کرنے کا ارادہ بنا تھا لیکن ٹھیکیدار بھاگ گیا، یا مالک کا خیال بدل گیا۔ بڑے احاطے کی زمین تو آدھے ادھورے ارمانوں کا قبرستان ہے، اس کی فضا میں بھی سوگ جیسے ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ دور، کافی دور بستی کے روشنیوں بھرے محلے میں، جہاں ہوا بھی چلتی ہے تو  ناچ کر، اِٹھلا کر چلتی  محسوس ہوتی ہے۔ یہاں  ہوا چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ جیسے سرما میں دھند چلتی نہیں، بس ٹھہری رہتی ہے۔ لیکن دھند میں اور اس سوگ بھری فضا میں فرق درجہ حرارت کا ہے۔ دھند سردی کا تاثر دیتی ہے، یہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ بس فضا میں کچھ ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ سردی کی بجائے ہلکی سی گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ جیسے کچھ فاصلے پر بھٹی جلنے سے حدت اردگرد کو نیم گرم سا کر دیتی ہے۔ ایسے ہی بڑے احاطے کی فضا نیم حزن و ملال، پشیمانی اور اداسی کے ملے جلے سے احساسات پیدا کرتے ہوئے نیم گرم سی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ آنے والوں کو تو ماں کی گود جیسا احساس ہونے لگتا ہے۔ کئی ایک تو ایک جانب ہو کر ادھوری عمارت کے ڈھانچے میں کوئی جگہ تلاش کر کے بیٹھ بھی جاتے ہیں اور کئی گھنٹے بیٹھے ہی رہتے ہیں۔ جانے کس سوگ میں بیٹھے رہتے ہیں۔ شاید بڑے احاطے کے ادھورے ارمانوں کا سوگ مناتے ہیں۔ کون جانے۔۔۔۔
دل نگر میں بڑے احاطے کی حیثیت وہی ہے جیسے پوش علاقے کے پچھواڑے میں ایک کچی بستی کی ہوتی ہے۔ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل لیکن بستی کا ایک لازمی جزو۔ یہ کچی بستی نہ ہو تو سامنے والا حصہ زیادہ خوبصورت کیسے معلوم ہو۔ امتیاز ختم  ہو جائے تو شناخت ختم ہو جائے۔ بڑا احاطہ دل نگر کا ایک  ناگزیر حصہ ہے۔  سُنا ہے کہ ہر دل نگر میں ایک بڑا احاطہ موجود ہوتا ہے۔ ساری روشنیوں، خوشیوں، قلقاریوں، مُسکراہٹوں اور مسرتوں سے کچھ ہی دور، ذرا ایک طرف کر کے ایک بڑا احاطہ ہوتا ہے۔ جس میں کچھ ادھورے ارمان دفن ہوتے ہیں، کچھ ادھوری خواہشیں فضا میں ٹھہری ہوتی ہیں، کچھ ادھورے منصوبے ادھر اُدھر بکھرے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے کہ دل نگر کے مکین اکثر بڑے احاطے کا پھاٹک تالا لگا کر بند ہی رکھتے ہیں تاکہ باہر سے آنے والوں کی نظر نہ پڑے اور انہیں کوئی ایسا ویسا تاثر نہ ملے۔ لیکن کبھی کبھی  بڑے احاطے کے کواڑ کھُلے بھی رہ جاتے ہیں۔ اور تب  کوئی ڈھیٹ قسم کا نڈر مہمان بلا دھڑک بڑے احاطے میں جا گھُستا ہے۔ اور اسے چار لفظ لکھنے بھی آتے ہوں تو وہ اس تحریر کی طرح مشاہدہ قلم بند بھی کر ڈالتا ہے۔ لیکن اکثر دل نگر کے مکین باہر سے آنے والوں کو اپنی خوشیاں ہی دکھاتے ہیں۔ ہنسی ہنسوڑ پن میں ہی اتنی مہمان نوازی کر دیتے ہیں کہ آنے والے کو اور کوئی تمنا ہی نہیں رہتی۔ لیکن کبھی کبھی شاید یہ خوشیاں دکھاوا لگتی ہیں۔۔۔کوئی زیادہ ہی چالاک قسم کا مہمان اپنی مدد آپ کے تحت سیر کرنے نکل پڑتا ہے۔۔۔۔اور پھر ایسی کوئی تحریر وجود میں آ جاتی ہے۔۔۔سنا ہے کبھی کبھی دل نگر میں داخل ہونے پر ایک ہی عمارت سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔بڑے احاطے سے۔۔۔اور باقی سب کچھ اس کے اندر ہوتا ہے۔۔۔۔لیکن آدھا ادھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہفتہ، 28 مارچ، 2015

گولڈن ڈکشنری بمع دو انگریزی اردو لغات

اردو کے حوالے سے پچھلے کچھ برسوں میں کافی ساری لغات آنلائن دستیاب ہو گئی ہیں۔ بعض اوقات آفلائن استعمال کے لیے اچھی لغت دستیاب نہیں ہوتی۔ اسی مشکل کے پیشِ نظر میں نے اپنے اور اپنے ادارے (دار السنہ و علوم ترجمہ، جامعہ گجرات) کے لیے دو آنلائن لغات کو آفلائن میں منتقل کیا تھا۔ اس سلسلے میں اردو محفل کے احباب ابن سعید، محمد سعد وغیرہم کا تعاون شاملِ حال رہا۔ مندرجہ ذیل ربط سے آپ کو پورٹیبل گولڈن ڈکشنری ایپلی کیشن بمع لغات مل جائے گی۔ اس کے content نامی فولڈر میں دو مشہور انگریزی اردو لغات کی ڈیٹابیسز موجود ہیں۔ ساتھ انگریزی ورڈ نیٹ بھی شامل ہے۔ امید ہے اس سے انگریزی کو بلائے جان سمجھنے والوں کے کچھ مسائل کا حل نکلے گا۔


اپڈیٹ: 

دو عدد اردو انگریزی لغات تیار کی ہیں۔
یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر کے content نامی فولڈر میں ان زپ کر دیں۔ اب آپ اردو الفاظ کی انگریزی تلاش کرنے کے قابل بھی ہوں گے۔
لیکن یاد رہے کہ یہ انگریزی اردو لغات کے ڈیٹا کو تبدیل کر کے بنائی گئی ہیں۔ اس لیے اسے جگاڑ ہی سمجھا جائے۔ اردو سے انگریزی لغت (جیسے آکسفورڈ کی لغت یا دیگر لغات جو بطور خاص اردو سے انگریزی کے لیے تیار کی گئی ہیں) کا مقابلہ شاید ممکن نہ ہو۔

اپڈیٹ 2:

اردو سے اردو لغات کے لیے ایک دوست نے ڈیٹا فراہم کیا ہے۔ امید ہے یہ بھی گزارے لائق کام کریں گی۔
ڈاؤنلوڈ کریں
لغت کبیر

اپڈیٹ 3: