جمعہ، 18 نومبر، 2011

راوی بقلم خود

9 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 4:32 PM ,
آ ج کل راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ اگرچہ راوی کو خواہش تھی کہ لکھنے کے ساتھ ساتھ پڑھے بھی چاہے اس میں چین نہ ہو۔ لیکن یہ بات ابھی قسمت میں نہ تھی، چناچہ راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ پچھلے ہفتے  راوی کو کچھ امید ہو چلی تھی کہ پڑھنے کی امید بندھ رہی ہے۔  بلکہ پچھلے جمعے کی ہی بات ہے، صرف آٹھ روز پہلے راوی نے بڑی مشکل سے  صاحب کو منایا تھا کہ جناب ایک چانس دے کر دیکھیں، مایوس نہیں کروں گا۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ راوی  ذرا یار باش واقع ہو گیا۔ اس نے اپنے ایک دوست کو اس کے بارے میں بتا دیا۔ اور صاحب کو پتا لگ گیا کہ یہ سب کو بتاتا پھر رہا ہے۔ صاحب نے بین لگوا دیا کہ راوی الو کا پٹھا ہے، اس کے ساتھ فیور کی جار ہی تھی لیکن یہ ڈھنڈورا پیٹتا ہے، چناچہ اس پیر کو یہ ہوا کہ راوی کی رج کے  ہوئی۔ ایک عرصے بعد راوی کو اتنی ذلت سہنی پڑی۔ صبح وہ  ساری دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے یونیورسٹی پہنچا۔ دوپہر چار بجے جب وہاں سے نکلا تو اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا۔ خالی ہاتھ  راوی کی منت سماجت بھی قبول نہ کی گئی۔ چناچہ راوی کو کئی دن گزرنے کے بعد بھی وہ ذلت یاد آنے پر جھرجھریاں  آنے لگتی ہیں۔ لیکن جیسا کہ پہلے کہا گیا، راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔ راوی ترجمہ کرتا ہے، راوی ایک کالج میں پڑھاتا ہے، راوی ڈپریشن کا شکار ہوتا ہے(اگرچہ اب ذرا کم کم ہوتا ہے)،  راوی فلمیں دیکھتا ہے، راوی دوسرے ہم جماعتوں کو کلاس میں تصور کر کے خود پر ترس کھاتا اور ان پر کچھ کچھ حسد اور رشک وغیرہ کرتا ہے اور راوی  آگے کی سوچتا ہے۔ راوی کا خیال ہے کہ آگے اسے  بیرون ملک داخلے کا سوچنا چاہیے۔ اس سلسلے میں راوی کچھ ابتدائی کام کرنے کی تیاریاں کرتا ہے جیسے انگریزی بولنے کا امتحان آئیلٹس پاس کرنے کی تیاری۔

 راوی کا خیال ہے کہ اس سال اس کے ساتھ بڑی مناسب قسم کی ہوئی ہے، "ہوئی ہے" تو سمجھ رہے ہوں گے آپ۔ راوی نے  سارا سال آگے داخلہ لینے کا ارادہ کیا ، سارا سال تیاری کی اور آخر میں اسے کہہ دیا گیا کہ تمہاری انگریزی دانی اچھی نہیں ہے۔ راوی کے ساتھ دو چار اور لوگ بھی تھے، اس کے ہم جماعت۔ ان میں سے اکثر کا داخلہ ہو گیا اور راوی اپنے بلاگ پر ڈگڈگی بجاتا پھرتا ہے۔ اور سوچتا ہے کہ آگے کیا کرے۔ راوی اگرچہ عدالت جانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ لیکن کلاسیں شروع ہو چکی ہیں، راوی اس بارے میں بہت زیادہ پرامید نہیں ہے۔ راوی  کے ساتھ یہ ہاتھ ہونے کی بڑی وجوہات میں اس کی اپنی سستی بھی کارفرما ہے۔ راوی نے کوئی ریسرچ پیپر نہیں لکھا۔ راوی نے اپنی انگریزی  بہتر نہیں کی۔ راوی نے کسی اور جگہ فارم نہیں جمع کروائے۔ یہ آخری والا گدھا پن راوی کی حد سے بڑھی خوداعتمادی کا شاخسانہ ہے جس کے نتائج اسے ہمیشہ بھگتنے پڑے۔

لیکن اس سب کے باوجود، راوی زندہ ہے،  مثبت سوچنے کی کوشش کرتا ہے، چئیر اپ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن راوی بھی آخر انسان ہے اور سچ تو  یہ ہے کہ راوی اب سب باتوں کے باوجود اپنے اندر گواچی گاں جیسی طبیعت  پاتا ہے، جس کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ اس نے کہاں جانا ہے۔

جمعرات، 3 نومبر، 2011

خالی ہاتھ

10 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 2:30 PM ,
مولا علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ میں نے اپنے ارادے کے ٹوٹنے سے اللہ کو پہچانا۔ میرا ارادہ جب بھی ٹوٹتا ہے تو میں اپنے آپ کو یہ یاد دلاتا ہوں کہ یہ اس کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔ لیکن سائیں بندہ تو بندہ ہے نا جی، اوپر سے میرے جیسا منافق اور ناشکرا بندہ ہو تو زیادہ کام خراب ہوتا ہے۔ بار بار ارادہ ٹوٹے، بار بار ٹھوکر لگے تو شکوہ زبان پر آ جاتا ہے۔ آج کل میری کچھ یہی کیفیت ہے، شکوہ ہے، بے بسی ہے، بے حسی ہے مجھے سمجھ نہیں آتی یہ کیا ہے۔ لیکن خالی ہاتھ ضرور ہیں، میری نظروں میں میرے خالی ہاتھ ہیں اور میں بےبس کھڑا ہوں۔

میرا ارادہ اس سال ایم فِل میں داخلہ لینے کا تھا۔ میں نے اگست کی سترہ اٹھارہ تاریخ کو ہی فارم جمع کروا دئیے تھے۔ اور ساری تیاریاں کیے بیٹھا تھا۔ لیکن جب 31 اکتوبر کو میرٹ لسٹ لگی تو اس پر میرا نام نہیں تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ میں انٹرویو میں فیل ہو گیا ہوں۔ اور تب سے میں خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، پھر اوپر دیکھتا ہوں، اور پھر بے بسی سے ایک بار خالی ہاتھوں کو دیکھ کر یہ دوہراتا ہوں کہ "اللہ خیر کرے گا"۔

میں نے 2010 میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد سے 3.72 سی جی پی اے کے ساتھ ماسٹرز کیا ہے۔ اور اپنی کلاس میں میری پہلی پوزیشن تھی۔ ایم فِل کے لیے گیٹ (GAT) ٹیسٹ ضروری ہوتا ہے میرے اس میں 74 نمبر ہیں جو سوشل سائنسز میں لوگ کم ہی اسکور کر پاتے ہیں۔ پورا ڈیپارٹمنٹ مجھے جانتا تھا۔ اساتذہ سے لے کر طلبا تک، سب کو پتا تھا کہ شاکر نے اس بار ایم فِل میں داخلہ لینا ہے۔ لیکن یہ سارے ارادے کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئے۔ ہوا صرف یہ کہ ایک بندے کو میرا  انٹرویو پسند نہیں آیا۔ یہ بندہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا نیا ہیڈ ہے۔ اس نے 3 منٹ کے انٹرویو میں یہ نتیجہ نکال لیا کہ میں 15 میں سے دس نمبر کا بھی حقدار نہیں ہوں۔ (دس کی حد بھی اس نے خود مقرر کی تھی، تاکہ جو نیچے ہے وہ گھر کی راہ لے)۔ اس بندے نے یونیورسٹی کی ایڈمیشن پالیسی کو نظرانداز کیا۔ اپنا میرٹ اسکیل بنایا جو صرف اور صرف 20 نمبر کے انٹرویو پر مشتمل تھا۔ اکیڈمک ریکارڈ (بی اے اور ماسٹرز میں فرسٹ یا سیکنڈ ڈویژن) کے نمبر ہوتے ہیں اس نے انہیں نظر انداز کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ میرٹ لسٹ پر کم از کم تین نام ایسے آئے جو سیکنڈ ڈویژن رکھتے ہیں۔ صرف وہ اسے انٹرویو میں کہانی سنانے میں کامیاب رہے، یا سفارش تگڑی رکھتے تھے اور اس نے انہیں جگہ دے دی۔

اور میں خالی ہاتھ کھڑا، کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہوں، کبھی اپنی ڈگریوں کو، کبھی آسمان کو۔ میرے لبوں پر شکوہ ہے، بے بسی ہے، کبھی شکوہ پھسل جاتا ہے، کبھی بے بسی آنکھوں کے راستے راہ پا لیتی ہے۔ لیکن مجھ پر عجیب بے حسی طاری ہے۔ سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں۔ ارادہ پہلے بھی کئی بار ٹوٹا، لیکن اس وقت سنبھل جاتا تھا، مجھے تجربہ ہے جب ناں ہوتی ہے، لیکن میں اسے اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا۔ یہ بھی شاید میری غلطی ہے، میری کمیونیکیشن کی صلاحیت کسی قابل نہیں، میں تین منٹ میں ایک بندے کو کنوینس نہیں کر سکا۔ لیکن یہ برداشت کرنا پتا نہیں کیوں بہت اوکھا لگ رہا ہے۔ بےبسی بار بار باہر آجاتی ہے۔ یہ آزمائش ہے، اور بڑی سخت آزمائش ہے لیکن مجھ سے شکر نہیں ہوتا۔ طوطے کی طرح رٹا لگانے کی کوشش کی لیکن کچھ دیر بعد ساری کیفیت بھاپ بن کر اڑ جاتی ہے، اور نیچے سے پھر وہی بے بسی،، خالی ہاتھ۔ اگلا سارا سال کیا کروں گا، کسی اور جامعہ میں داخلہ بھی نہیں مل سکتا سب بند ہوگئے۔ کیا بنے گا، پورا سال، کوئی ڈھنگ کی نوکری بھی نہیں بس ترجمے کا کام ہے۔۔پورا سال، اور پھر خالی ہاتھ۔

ایسا نہیں کہ میں نے دل چھوڑ دیا ہے۔ روزانہ یونیورسٹی جاتا ہوں۔ کبھی وی سی کے پاس، کبھی رجسٹرار کے پاس۔ کسی کو درخواست، کسی کی منت۔ منت ہی کرسکتا ہوں سائیں، نہ کوئی ایم این اے، ایم پی اے میرا واقف نہ کوئی ڈین رجسٹرار میرا انکل۔ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے جن اساتذہ سے دعا سلام تھی وہ بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ وہ کیا کریں، ان کے ہیڈ نے تو یہ کیا ہے، وہ میرا ساتھ کیا دیں۔ کل پھر جانا ہے، رجسٹرار نے کہا تھا جمعے کو آنا پھر بات کرتے ہیں دیکھیں کیا بنتا ہے۔ اگر ادھر کچھ نہ بنا تو ہائی کورٹ تک تو جاؤں گا کم از کم۔ اتنی جلدی تو ہار نہیں مانتا میں۔ لیکن بےبسی نہیں جاتی۔ بار بار شکوہ زبان پر آجاتا ہے، نظریں آسمان کی طرح اٹھ کر نامراد لوٹ آتی ہیں جیسے وہ بھی مجھ سے ناراض ہے۔ پتا نہیں کیوں یہ بے بسی نہیں جاتی۔۔۔۔۔