بدھ، 22 مارچ، 2006

ہمیں ہوش کب آئے گا۔۔۔

لو میاں حکومت کو بھی ہوش آہی گیا۔
کیا ہوا کس ہوش کی بات ہورہی ہے۔
استاد اپنی حکومت نے عوام کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایک وفد بھیجنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے۔
ہاں بھئی ان کی بڑی مہربانی کہ انھوں نے وفد بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ورنہ ان کا کیا کرلیتے ہم۔
ہاں بھئی ان کا کیا کرنا ہے کرنا تو اپنا ہی ہے۔ پاگل کتے کی طرح اپنی ہی دم چبا ڈالیں گے ہم اور کیا کرسکتے ہیں۔
ہاں یار۔اوئے سنا ہے اپنی اپوزیشن نے ساتھ جانے سے انکار کردیا ہے۔
اوئے ان لوگوں نے بھی اپنے نمبر بنانے ہیں۔یہ اسلام کے نہیں اسلام آباد کے خواہشمند ہیں۔
خیر اب یہ تو تیرے اندر حکومت کی زبان بول رہی ہے نا۔
اچھا بھئی استاد پھر ملتے ہیں۔
رب راکھا۔
(چند دن کے بعد)
ہاں بھئی کیا حال ہیں استاد۔کوئی نئی تازی سنا یار۔
نئی تازی یہ ہے کہ اپنا وفد یورپی یونین کے دفتروں کی خاک چھان کر واپس آگیا ہے۔
ہیں؟؟ خاک چھان کر۔اوئے وہ پاکستان کا کوئی سرکاری محکمہ تو ہے نہیں ۔پھر یہ لوگ خاک کس طرح چھانتے رہے ہیں۔
او یار یہ پوچھ۔ کتوں والی کی ہے انھوں نے ان کے ساتھ۔ہمارے وزیر موصوف گئے تھے ساتھ وفد کے۔
سنا ہے وہاں صرف ان کے ساتھ ڈائریکٹر کی سطح کے لوگوں نے بات کی ہے۔
اوئے سچی؟؟
یار یہ تو بہت ماڑی گل اے یار۔
اوئے ان کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے ہمیشہ۔
یہاں ایسے بیان دے رہے تھے جیسے وہاں رستم جہاں کا دنگل جیتنے جارہے ہیں۔ اب بڑے آرام سے بیٹھے ہیں۔ وہاں سے انھوں ‌نے ٹھنڈے کرکے بھیجے ہیں۔
یار یہ ہمارے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے۔
اور کس کے ساتھ ہو پیارے۔ ہمارے کام ہی ایسے ہیں۔ اب دیکھ لو ساری قوم سُسری کی طرح سو گئی ہے نا۔ صابن کی جھاگ طرح کی ان کی عقیدت اب بیٹھ گئی ہے۔ اور نیچے سے میل کی طرح ان کی اصلیتیں ظاہر ہوگئی ہیں۔دوغلا پن تو ان کے اندر خود ہے ۔
ہاں یار۔ اسی لیے ہر طرف سے ہمیں ہو جوتے پڑتے ہیں۔ رب سے بھی اور اس کے بندوں سے بھی۔
لے اور سن۔۔۔
اب کیا ہوگیا۔
یہ دیکھ آج کی اخبار میں۔۔ لکھا ہے:

“ایک اخباری خبر کے مطابق عراق کے وزیر تعمیرات جاسم محمد جعفر نے یہ بیان دیا ہے کہ عراق میں ہونے والے مزار بم دھماکے انتہائی تربیت یافتہ افراد کی کاروائی ہیں۔جاسم محمد جعفر نے دھماکوں کے فورًا بعد امام حسن عسکری اور امام نقی کے مزاروں کا دورہ کیا تھا انھوں بتایا کہ مزار کے چاروں ستونوں میں سوراخ کرکے دھماکہ خیز مواد بھرا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول سے اڑایا گیا۔“
سنا بھئی شہزادے ۔ ہے نا موج۔ اور یہ مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں۔
یار پر میڈیا والے تو خودکش حملے کا شور مچا رہے ہیں۔
او میرے بھولے بادشاہ وہ تو ایسے ہی ‌کریں‌ گے۔آخر امریکہ بہادر کو تیل بھی تو چاہیے نا۔
بات تو تمھاری ٹھیک ہے استاد پر ہماری عقلوں‌ پر پردے کیوں‌ پڑے ہوئے ہیں۔
اور پائیا ابھی تو نے سنا پڑھا ہی کیا ہے یہ سن:
“ سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق ہالینڈ کی حکومت نے بنیاد پرستی ماپنے کے لیے ایک ٹیسٹ وضع کیا ہے۔“
پتا ہے وہ ٹیسٹ کیا ہے؟
کیا ہے؟؟
نئے امیگرینٹ کو عریاں فلم دکھائی جائے گی۔جس میں دو ہم جنس پرست آپس میں بوس و کنار کر رہے ہیں اور ایک لڑکی مکمل عریاں ان کے ساتھ فلم میں‌ موجود ہے۔ اس فلم پر کسی شخص کے اشتعال کا اندازہ لگا کر اس کی بنیاد پرستی کا درجہ مقرر کیا جائے گا۔
کیوں بھئی استاد کیسی رہی؟؟
او یار یہ تو بڑے روشن خیال بنتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھی ان کی روشن خیال کو بطور فیشن اپنا رہے ہیں۔
شہزادے ایسے ہی ہوتا ہے ابھی تُو آگے آگے دیکھ ہوتا کیا ہے۔
ابھی تو ابتدا ہوئی ہے۔ وڈے سائیں کہہ دیا نہ کہ یہ ہمارے دوست نہیں ہوسکتے۔
تو دیکھ لے میرے بھائی اس کی صداقت پرکھ۔ابھی تو اور ایسے کئی نمونے تیری میری نظر سے گزریں گیں۔
پر ہمیں ہوش کب آئے گا؟؟
جب پانی سر سے گزر گیا ویر میرے ہوش تب آئے گا۔اگر
آپ پاکستان سے بلاگ تک رسائی نہیں حاصل‌کرسکتے تو یہ ربط استعمال
کریں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔