منگل, اپریل 23, 2013

زبان

✩ کسی قوم کی خود داری کا اندازہ کرنا ہو تو  اپنی زبان کے متعلق اس کے رویّوں کا جائزہ لے لو۔

✩ زبان سیاسی نہیں ہوتی لیکن گندی سیاست زبان کو سیاسی بنا دیتی ہے۔

✩ زبان زندہ تو ثقافت، روایت اور کلچر زندہ۔ ایک زبان کی موت ایک ثقافت  کی موت ہوتی ہے۔

✩ زبان ہزاروں برس کے جینے مرنے، دکھ  سکھ، ان گنت زندگیوں کا جیتا جاگتا ریکارڈ ہوتی ہے۔

✩ زبان بولی جائے یا لکھی جائے، زبان  ہی کہلائے  گی۔

✩ کوئی زبان کسی دوسری زبان سے بہتر یا بد تر نہیں۔  ہر زبان اپنے اہلِ زبان کی لسانی ضروریات کے لیے عین کافی ہوتی ہے اور یہی زبان کے پرفیکٹ ہونے کی دلیل ہے۔

✩ کسی قوم کو یقین دلا دو کہ اس کی زبان کمتر ہے۔ اور وہ زبان اپنوں کی بے رخی کا زہر پیتے پیتے ہی گھُل گھُل کر دم توڑ جائے گی۔

✩ مادری زبان میں تعلیم کا حصول ہر انسان   کا بنیادی انسانی حق ہے۔

✩ اگر کسی عربی کو کسی عجمی پر ، کسی گورے کو کسی کالے  پر کوئی فوقیت حاصل نہیں، تو  ایک زبان کو بھی کسی دوسری زبان پر کوئی فوقیت حاصل نہیں۔

✩ خدا زبان کا محتاج نہیں۔ دل کی زبان میں بات کرو  وہ جواب دے گا،  وہ جواب دیتا ہے، وہ جواب دیتا آیا ہے۔

✩ جس نے دشمن کی زبان سیکھ لی وہ اس کے شر سے محفوظ ہو گیا۔

✩ زبانیں سیکھو، ہر زبان  دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا انداز ہوتی ہے۔ ہر زبان دنیا سے ایک نئے انداز میں ملاقات کرواتی ہے۔

✩ یک لسان کی مثال ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے شخص کی طرح ہے، اور کثیر اللسان کئی کمروں کے پرتعیش مکان میں رہنے والا رہائشی، دونوں کی سوچ، رہن سہن، اندازِ فکر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔

✩ شاعر، ادیب اور لکھاری زبان کو  اوزار  عطا کرتے ہیں لیکن اگر عوام ان اوزاروں کو شرفِ قبولیت نہ بخشے تو  وہ تاریخ کے کباڑ خانے میں زنگ آلود پڑے رہ جاتے ہیں۔

✩ زبان وہ ہے جو عوام کی زبان پر ہو، زبان وہ ہے جو تھڑے، گلی محلے اور کوچے میں بولی جائے۔ لغات اور قواعد و انشاء کی کتب اگر اس زبان سے میل نہ کھائیں تو  ان کی حیثیت لسانی قبرستان سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

✩ تغیر زبان کا مقدر ہے۔ تغیر ایک ایسا دریا ہے جس کے آگے بند باندھ بھی لو تو وہ کسی اور جانب سے راستہ بنا لے گا۔

✩ اہلِ زبان کے لیے آج، ابھی کی زبان ہی زبان ہوتی ہے۔ ان کے لیے زبان کی تاریخ وہیں سے شرو ع ہوتی ہے جب ان کا شعور پروان چڑھا۔ ان  کے لیے سو سال قبل کی زبان بے معنی ہوتی ہے، جیسے سو سال بعد کی زبان بے معنی ہو گی۔

5 تبصرے:

  1. بہت خوب، زبردست۔ پڑھ کر اچھا لگا۔ ایک لسانیات کا طالب علم جب لکھتا ہے تو اچھا لگتا ہے لیکن جب وہی طالب علم غصہ میں کڑہتا ہے تو انجانے میں کئی ضرورت سے زیادہ سخت الفاظ استعمال کر جاتا ہے۔ امید ہے میری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ ادھر ادھر ہتھ ہولا رکھا کرو دوست۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوب لکھا آپ نے زبان کے بارے میں ،واہ وا واہ ۔۔۔۔مجھے ایک نیتا کا کم عمری میں پڑھا جملہ یاد آرہا ہے ۔۔کسی قوم کو ختم کرنا ہے تو اُن کی زبان کو مٹادو۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. درست فرمایا قبلہ ۔ اس میں یہ اضافہ فرما لیجئے کہ دنیا کی کوئی سی بھی زبان اپنا لیجئے جو ابلاغ مادری زبان میں ممکن ہے کسی اور زبان میں نہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. یار یہ نیم یو آر ایل کا آپشن تو اینیبل کر دو ، یہ کونسا ششمیتا سین کا بلاگ ہے جو نازیبا تبصرے ہوں گے

    جواب دیںحذف کریں
  5. اس تحریر میں آپ کا یہ جملہ مجھے بہت اچھا لگا:
    "یک لسان کی مثال ایک کمرے کے مکان میں رہنے والے شخص کی طرح ہے، اور کثیر اللسان کئی کمروں کے پرتعیش مکان میں رہنے والا رہائشی، دونوں کی سوچ، رہن سہن، اندازِ فکر میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔"

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔