اتوار، 22 اکتوبر، 2006

فری ہوسٹ پر ورڈپریس کی تنصیب(پہلا سبق)

محترم عادل جاوید چوہدری نے میرے بلاگ کی تعریف کے ساتھ ساتھ ایک ورڈپریس بلاگ بنانے کے سلسلے میں مدد کی درخواست کی تو میرے اس خیال کو مہیمز ملی کہ جو کچھ ورڈپریس کی تنصیب کے دوران سیکھا ہے اسے آگے پہنچاؤں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی یہ تحریر ہے۔
انٹرنیٹ پر بلاگنگ اب اردو والوں کے لیے اجنبی نہیں۔ بلاگنگ کیا ہے سب جانتے ہیں۔ اردو بلاگرز البتہ بلاگز کو شاعری وغیرہ کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت کوئی پچاس سے زیادہ اردو بلاگ موجود ہیں۔ جن میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بلاگنگ کی مشہور خدمات بلاگر، بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم جیسی ویب سائٹس فراہم کرتی ہیں۔ کچھ چھوٹی موٹی اور بھی کمپنیاں ہیں۔ بلکہ ان میں بھی بلاگر ممتاز ہے۔ میں نے بھی اپنا بلاگ بلاگر پر ہی بنایا تھا۔ چند ماہ پہلے بلاگر پر پاکستان میں پابندی لگا دی گئی اور ساتھ ہی اردو بلاگرز یتیم ہوگئے۔ بہت سے ٹوٹکے آزمائے گئے کبھی پی کے بلاگ سائٹ بنائی گئی۔ کبھی پراکسی سائٹس ٹرائی کی گئییں مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی۔ مزہ جاتا رہا ۔ خود میں بلاگنگ سے ایسا بے زار ہوا کہ مہینوں کے بعد جا کر ایک آدھ پوسٹ ہوتی وہ بھی صرف اپنی موجودگی ثابت کرنے کے لیے۔ آہستہ آہستہ اردو بلاگروں نے بلاگ سم اور ورڈپریس ڈاٹ کوم کی طرف ہجرت شروع کردی۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ ان عمومی مستعمل خدمات پر بھی کسی دن پابندی لگ جائے گی اور حال وہی۔ تو کیوں نہ کوئی مستقل حال نکالا جائے۔ مستقل حل یہ ہے کہ اپنی جگہ خرید کر یا کسی فری ہوسٹ پر ورڈپریس نصب کرکے اردو بلاگنگ شروع کردی جائے
اسی خیال کا نتیجہ کہ میں اب اس پر بلاگنگ کررہا ہوں۔ اگرچہ میں پس دید میں اس کا انگریزی ورژن استعمال کررہا ہوں لیکن ہم اردو محفل پر اس کے اردو ورژن پر بھی کام کررہے ہیں۔ ترجمہ مکمل ہے بس اس کی سٹائل شیٹ اور تدوینی قطعات میں ویب پیڈ شامل کرنے کی کسر رہ گئی ہے۔ انشاءاللہ وہ بھی جلد ہی پوری ہوجائے گی۔ تب تک ہم انگریزی ورژن پر ہی طبع آزمائی کرتے ہیں اور آپ کو اسی سے سارا طریقہ کار سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک عدد ویب سائٹ بنانے کے لیے سب سے پہلی چیز ایک عدد ہوسٹ ہے یعنی انٹرنیٹ پر کچھ جگہ کی فراہمی جہاں ویب سائٹ رکھی جاسکے ایک بلاگ کے لیے 50 میگا بائٹ کی جگہ بہت ہوگی۔ آپ کسی بھی ہوسٹ سے یہ جگہ خرید سکتے ہیں۔ ورڈپریس کی پیشہ ورانہ ویب سائٹ اپنے کچھ شرکائے کار کا بھی ذکر کرتی ہے جیسے ڈریم ہوسٹ، یاہو ویب ہوسٹ وغیرہ تاہم آپ اپنی پسند کے ہوسٹ پر جگہ اور اپنا ڈومین نیم خریدیں۔ نہیں‌استطاعت رکھتے تو فری ہوسٹ ہمارے لیے ہی ہیں۔ خود ہمارا بلاگ ایک فری ہوسٹ پر چل رہا ہے۔ یہاں آپ کو اردو کے لحاظ سے بہترین فری ہوسٹ بتا رہا ہوں۔ایک تو
www.ueuo.com اور دوسرے www.ifastnet.com۔ بہت تحقیق و جستجو کے بعد انھیں ہی بہترین پایا ہے۔ بلکہ اول الذکر تو سب سے اعلٰی سمجھ لیں۔ اس پر اشتہار بازی نہیں( کم از کم اب تک اس کا چکر کیاہے وہ آگے کھاتا بنانے کے دوران بتاتے ہیں) یہ کرل اضافت کی سپورٹ کرتا ہے فقط اتنا سمجھ لیں کہ آپ اس طرح اپنے بلاگر بلاگ سے تحاریر درآمد کرسکیں گے صرف ایک سنگل کلک سے۔ آئی فاسٹ نیٹ بھی اچھی سروس ہے اس کا اچھا پن صرف اشتہار نہ دینے تک ہے یہ اعلانیہ اشتہار کے بغیر ہوسٹنگ مہیا کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر بندہ بلاگر ہوسٹ سے اپنی تحاریر درآمد نہیں کرسکتا۔ مزید یہ ایک کلک سے ورڈپریس کی تنصیب کی سہولت بھی مہیا کرتے ہیں جس کے استعمال کا ہمیں ذاتی طور پر اتفاق نہیں ہوا چونکہ ہمیں اول الذکر بہت پسند آیا تھا۔
خیر آپ اپنی پسند کا کوئی اور ہوسٹ بھی چن سکتے ہیں گوگل اس سلسلے میں مددگار ہوگا اگر کوئی اچھا ہوسٹ ملے تو ہم سے بھی ذکر کیجیے گا تاکہ اسے اس فہرست میں شامل کیا جاسکے۔ تو صاحبو بسم اللہ کرتے ہیں۔
ueuo.com پر چلے جائیں اور صفحے کے آخر میں جاکر اپنی پسند کا سب ڈومین لکھ کر Proceed دبا دیں۔ تمام اندراجات کو احتیاط سے پر کریں۔ دو تین مراحل میں آپ کا اندراج ہوجائے گا(جب ایڈز یعنی اشتہارات کا انتخاب سامنے آئے توManual کا انتخاب کیجیےگا)۔برقی پتہ دھیان سے دیں کیونکہ اسی پر آپ کو فعالی کوڈ موصول ہوگا ہمارا مشورہ ہے کہ جی میل استعمال کریں خیر کوئی بھی چلے گا۔ کھاتہ فعال ہونے کے بعد جو سب سے پہلا کام آپ نے کرنا ہے وہ ہے ایک عدد کوائفیہ (Database) بنانے کا کام۔ یہ مائی ایس کیو ایل میں بنے گا۔ جو مقبول عام ویب بیسڈ کوائفیہ پروگرام ہے۔ ایک بات اور جب آپ نے ہوسٹ یا فری ہوسٹ ورڈپریس بلاگنگ کے لیے چننا ہے تو اس میں مائی ایس کیو ایل ڈیٹابیس اور پی ایچ پی 5 کی سہولیات لازمی دیکھ لینی ہے۔ پی ایچ پی ایک سکرپٹنگ زبان ہے اگر اس کی معاونت نہ ہوئی تو ورڈپریس نہیں چلے گا جو سارے کا سارا ورڈپریس پر مشتمل ہے۔
اچھا تو ہم کوائفیہ بنانے جارہے تھے۔ یہ سارا کام یک سنگل کلک کا ہے۔ اس تصویر میں جو کنٹرول پینل آپ کو نظر آرہا ہے اسی سے ہم نے سارا کام کرنا ہے۔
DataBase
دائرہ لگے انتخابات پر غور کریں ان میں سے پہلے والا یعنی بائیں طرف والا جب آپ کا کھاتہ ابھی نیا بنا ہوگا اس پیغام پر مشتمل ہوگا کہ کوائفیہ بنائیں۔ بٹن پر کلک کریں اور اگلے صفحے پر کوائفیے کی تفاصیل ہونگی جو آپ کو ورڈپریس میں داخل کرنی ہیں۔ انھیں سنبھال لیں یہ ضروری ہے۔
کوائفیہ بنا لیا۔ اب اگلا کام ہے فائلیں چڑھانا ۔ ایسا کریں یہاں جائیں اور فائل زیلا اتار لیں۔ یہ ایک عمومی مستعمل اور بہترین نتائج دینے والا آزاد سافٹویر ہے اور اسی کو ہم فائلیں چڑھانے کے لیے استعمال کریں گے۔
اگلی قسط میں ورڈپریس کی بنیادی وضع قطع(Configuration) اس کو چڑھانا اور اس کی تنصیب کے اسباق شامل ہونگے۔
وسلام

میرا بلاگ اب مکمل ہے :D

پچھلے ایک ماہ بلکہ زیادہ کی ہی محنت اب جاکر ٹھکانے لگی ہے۔ بلاگر سے دانہ پانی اٹھ جانے کے بعد وہاں لکھنے کو دل ہی نہیں کرتا تھا۔ بی کام کے پرچے دے کر بھی اس طرف دھیان نہ گیا۔ پھر ورڈپریس کا ایسا چسکا پڑا کہ اپنے نہ ہونے والے داخلے سے زیادہ فکر مجھے اس کی رہی۔ آج کونسا ٹوٹکا آزمانا ہے۔ تھیم اردو میں کرنا ہے یہ مسئلہ آرہا ہے اس کا حل یہ ٹرائی کرنا ہے، آج فلاں فری ہوسٹ پر آزمائشی بلاک بنانا ہے، آج فلاں تھیم ٹرائی کروں گا۔ یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے۔ حتٰی کہ میں فارم جمع کروا رہا تھا، انٹرویو کے لیے دھکے کھا رہا تھا اور دھیان اس میں لگا ہوتا تھا۔
کہتے ہیں شکرخورے کو رب شکر ہی دیتا ہے، اور واقعی میں جو سوچتا رہا ہوں وہی ملا۔ یعنی ایک عدد ورڈپریس بلاگ وہ بھی فری ہوسٹ پر۔
اور داخلہ سائیاں کہا پتر اگلے سال سہی۔
اس کھجل خواری نے بھی بہت سے سبق دیے اور بلاگ کی کھجل خواری نے بھی۔ اور اب میرا دھیان اردو ورڈ پریس کی طرف ہے جسے ہم بہت جلد جاری کرنا چاہ رہے ہیں۔ انشاءاللہ جلد ہی اس کے تدوینی قطعات(Editing Areas) جن میں اردو کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اردو ویب پیڈ شامل کرنے کا آغاز کردوں گا۔
دعا کیجیے گا یہ کام جلد مکمل ہوسکے۔ نعمان مجھ سے تنگ رہتے ہیں کہ ابھی تک جی ڈی ایم ہیڈر فائل کا ترجمہ نہیں کرسکا اور میں اپنی ہی دھن میں مست ہوں۔ اللہ مجھ پر رحم کرے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔
اور عید آرہی ہے آپ سب کو بہت بہت عید مبارک۔ دعا ہے یہ عید روزہ داروں، غیر روزہ داروں و روزہ خوروں کے لیے مبارک ہوجائے اور ہمیشہ کی طرح سو کر نہ گزارنی پڑے۔
Eid Mubarakعید مبارک

جمعہ، 20 اکتوبر، 2006

سمپل کوڈ

سمپل کوڈ ورڈ پریس کے لیے ایک سادہ سا دخیلہ ہے جسے پوسٹ وغیرہ میں کوڈ لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ورڈپریس میں کوئی مسئلہ ہے جس کی وجہ سے کوڈ ٹیگ کے اندر لکھے ہوئے کوڈ کو بھی براؤزر چلانا شروع کردیتا ہے جس کے نتیجے میں صفحے کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ سمپل کوڈ ایک سادہ سا دخیلہ جو کوڈ پر کوئی پھونک مار کر اسے سلیمانی چادر اوڑھا دیتا ہے اور براؤزر اسے بھی پوسٹ کا مواد سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ اس میں کچھ خامیاں تھیں جیسے یہ یونیکوڈ کا ستیا ناس کردیتا تھا۔(تفصیل کے لیے) سو اس مسئلے کا حل نکال کر یہ اس کا تبدیل شدہ ورژن حاضر ہے۔ احباب اسے صرف ایک پی ایچ پی فائل کی اضافت میں محفوظ کرکے اپنے ورڈپریس کے پلگ ان فولڈر میں چڑھا دیں۔ پھر اسے فعال کرلیں اور دیکھیں خدا کی قدرت۔ ;)
<?php
/*
Plugin Name: SimpleCode for WordPress
Plugin URI: http://www.village-idiot.org/archives/2006/04/09/wp-simplecode/
Description: Simplecode for WordPress takes ordinary markup, and processes it for use within code examples. It's inspired by Dan Cederholm's SimpleCode script.
Author: whoo
Version: 1.00
Author URI: http://www.village-idiot.org/
*/


function sc_menu () {

add_submenu_page('post.php', 'SimpleCode', 'SimpleCode', 9, basename(__FILE__), 'sc_form');

}

function sc_form () {
echo "<div class=\"wrap\">";
echo "<h2>SimpleCode</h2>";
echo "<p>Enter normal (X)HTML in the markup box below. Press \"Process\" and it will spit out entity-encoded markup suitable for &lt;code&gt; examples.</p>";
echo "<h3>1. Enter Markup</h3>";
echo "<div class=\"form\">";?>
<form action="post.php?page=<?php echo basename(__FILE__); ?>" method="post">
<?php
echo "<textarea name=\"html\" rows=\"10\" cols=\"40\"></textarea><br />";
echo "<input name=\"send\" type=\"submit\" id=\"send\" value=\"Process\" class=\"submit\" /></form></div>";
echo "<h3>2. Cut n' Paste</h3>";
echo "<div class=\"paste\">";
echo "<textarea rows=\"10\" cols=\"40\">";
echo "&lt;pre&gt;&lt;code&gt;";
if( $_POST['send'] ) {
echo htmlentities(htmlentities(stripslashes($_REQUEST["html"]),ENT_COMPAT,"UTF-8"),ENT_COMPAT,"UTF-8");
}
echo "&lt;/code&gt;&lt;/pre&gt;";
echo "</textarea>";
echo "</div>";
echo "<h3>3. Preview</h3>";
echo "<div class=\"preview\">";
echo "<textarea rows=\"10\" cols=\"40\">";
echo "<pre>";
if( $_POST['send'] ) {
echo stripslashes($_REQUEST["html"]);
}
echo "</pre></textarea>";
echo "</div>";
echo "</div>";
}
add_action('admin_menu', 'sc_menu');
?>

ایڈمن ہونا

ایڈمن نامی مخلوق ہمارے اردگرد عام پائی جاتی ہے۔ وہ نیٹ ورک ایڈمن ہو، دفتر میں فنانس ایڈمن جیسی کوئی چیز ہویا انٹرنیٹ پر فورم کے ایڈمن ہوں۔ ایڈمن ہونا ایک اعزاز بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ فی الحال ہمارا پیش نظر فورم کے ایڈمن ہیں۔ ایڈمن کیسے ہواجاتا ہے اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں اور ایڈمین برادری کے مسائل کیا ہیں یہ ہمارا مطمع نظر ہے۔
صاحبو انٹرنیٹ پر کوئی بھی ایڈمن بن سکتا ہے اس کے لیے آپ کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک عدد فورم سافٹویر ہے اور ایک عدد فری ویب سپیس اس کے بعد آپ کی موجیں آپ بن گئے ایڈمن۔ لیکن ٹھہریے ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔
صرف فورم کے ایڈمن بن جانے سے بات نہیں بنتی ایڈمن کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ ہم نے حاسد سے پوچھا تو ان کا جواب تھا۔ ان کا مزید ارشاد یہ تھا کہ ایڈمین فورم کا ٹریڈ مارک ہوتا ہے اس لیے اسے ذرا منہ متھے لگنے والا بندہ ہونا چاہیے۔ ہم نے ٹریڈ مارک پر اعتراض کیا جسے مسترد کردیا گیا۔ خیر ہم نے حاسد کا کہا ہو بہو نقل کیا ہے۔
صاحبو ایڈمن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا اوتار اس قسم کا ہو کہ دور سے ہی چہرے پر ایک ابدی ٹھہراؤ محسوس ہو۔اب آپ پوچھیں گے کہ ابدی ٹھہراؤ کس طرح محسوس ہوتو ہمارا مشورہ ہے اوتار کے لیے تصویر ایسی بنوائیں جیسی پچاس کے نوٹ پر قائد اعظم کی ہوتی ہے۔خبردار کبھی بھی لمبے بالوں کے ساتھ، بڑھی مونچھوں کے ساتھ تصویر کو بطور اوتار نہ لگائیں ورنہ اراکین کے مختلف قسم کے تبصرے آپ کو چین نہیں لینے دیں گے۔ اوتار کو مختلف اوقات میں بدلتے رہیں اپنی تصویر سے نہیں، کبھی پھول لگا دیے کبھی کوئی اینی میشن پھر اپنی تصویر تاکہ اراکین کو آپ کا اوتار ہضم کرنے میں آسانی ہو۔
اس کے ساتھ آپ کو اپنی گفتگو میں ٹھہراؤ، وقار اور شائستگی پیدا کرنا ہوگی۔
یہاں ایک واقعہ سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ٹھہراؤ کا مطلب کیا ہے۔ ایک جماعت کے استاد نے اپنے شاگردوں سے کہہ رکھا تھا کہ ہر اہم بات کرنے سے پہلے سو تک گنتی ضرور گنیں اور اس کے بعد شائستہ الفاظ میں مدعا بیان کریں۔ ایک دن کیا ہوا کہ استاد صاحب حقے کا شوق فرما رہے تھے چلم سے ایک بد نیت اور بد طینت چنگاری اڑی اور جناب کی ٹنڈ اطہر پر موجود ٹوپی پر جاپڑی سب شاگردوں نے تیزی سے سو تک گنتی گنی اور اس کے بعد ایک شاگرد اٹھ کر کچھ یوں ہم کلام ہوا۔
“جناب استاد محترم ایک بدطینت و شرارتی چنگاری حضور کی چلم سے پرواز کرکے سر مبارک پر لینڈ کرچکی ہے اس سے پہلے کہ حضور کے سر انور کو کوئی نقصان۔۔۔“
ابھی شاگرد یہیں پر تھا کہ استاد محترم ساری شائستگی بھول کر چلا اٹھے اور اپنی ٹنڈ مبارک سہلانے لگے ناہنجاز و بدبخت چنگاری اس دوران اپنا وار کرچکی تھی اس شاگرد کا باقی جماعت کا اس کے بعد استاد گرامی کے ہاتھوں کیا حال ہوا یہ ہمارا موضوع نہیں ہمارا موضوع ہے ایڈمن کے لیے شائستگی کی ضرورت۔ تو اصحاب آپ نے اوپر بیان کردہ واقعے جیسی شائستگی نہیں دکھانی۔ شائستگی سے مراد ہے کہ آپ نہایت سکون سے تمام خطوط کا جواب دیں، الفاظ کا انتخاب ٹھونک بجا کرکریں بلکہ ہوسکے تو انتہائی ثقیل قسم کے چند الفاظ تحریر میں گھسیڑ دینے سے اراکین فورم پر آپ کا رعب بڑھے گا۔
دوسری چیز ہے سنجیدگی۔ پوسٹ میں حتی لامکان ایسے الفاظ استعمال کریں جس سے قاری کو محسوس ہو کہ ایڈمن صاحب بہت ہی سنجیدہ اور متین بندے ہیں۔ چلبلی مسکراہٹوں کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ آپ کا رعب قائم رہے۔
اپنے مشاغل ایسے منتخب کریں کہ عام رکن کو اس کی الف بے کا بھی پتہ نہ ہو۔وقتًا فوقتًا اس قسم کی کوئی پھلجھڑی قسم کی پوسٹ چھوڑ کر اسے اپنے مشغلے کا نام دے دیا کریں۔اس طرح اراکین آپ کو بہت اونچی شخصیت سمجھیں گے۔
بطور ایڈمن اگر آپ بیرون ملک مقیم ہیں تو یہ اور پلس پوائنٹ ہوگا۔
ایڈمن کی تعلیم بہت ضروری ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ آپ کم از کم پی ایچ ڈی شدہ ہوں۔ سو ٹھہریے اگر آپ پی ایچ ڈی شدہ نہیں تو پہلے پی ایچ ڈی کرکے آئیں ویسے ایڈمن بننا بے فائدہ رہے گا۔
ایڈمن کو کچھ مزید ضمنی خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ مثلاً اسے ایک اچھا ویب مکینک ہونا چاہیے۔ وقتًا فوقتًا فورم کو بند کرکے اس پر اپگریڈ کے لیے بند ہے کا بورڈ آویزاں کرنا خوامخواہ اراکین کو زیر دست کردے گا۔ فورم کی بھی واہ واہ اور آپ کی بھی واہ واہ ہوگی۔ کبھی کبھار کوئی خرابی آجائے تو اسے ٹھیک کرکے بڑے فخر سے اعلان کرنا، اگر ایسا نہ ہوسکے تو خود سے کوئی خرابی پیدا کرکے اس کو ٹھیک کرنے کا اعلان آپ کو ایک اچھا ویب مکینک ثابت کردے گا۔
اس کے علاوہ آپ کو اراکین کی بھی مدد کرنا ہوگی۔ مثلًا آپ کی ایڈمن ٹول کٹ میں ایسے ٹوٹکے، مشورے اور نسخے موجود ہونے چاہیئں جس سے کسی رکن کے بلاگ یا ویب سائٹ کا بخار اتارا جاسکے، اس کی اڑچن ختم کی جاسکے، کوئی نیا فیچر شامل کیا جاسکے وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اراکین کو آپ کا احسانمند کردے گا جو آپ کے وقار میں اضافے کا باعث بنے گا۔
صاحبو فورم پر پوسٹ کرنے کے موسم ہوا کرتے ہیں۔ کبھی شعر و شاعری کا غلغلہ ہے اور ہر کوئی منہ اٹھائے شعر پر شعر لٹائے چلا جارہا ہے۔ کبھی نثر کا رواج ہے اور ایک دوسرے پر فقرے بازی ہورہی ہے کبھی اراکین غائب ہوجاتے ہیں لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خزاں آجاتی ہے۔ یہ خزاں اس وقت آتی ہے جب فورم پر کوئی سیاسی ایشو زیر بحث آجاتا ہے۔ان حالات میں ایڈمن کا صحیح امتحان شروع ہوتا ہے۔ ایک اچھا ایڈمن اس موضوعات سے اجتناب کرتا ہے۔ اگر اس سے رائے پوچھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے یا سیاسی قسم کا بیان دیتا ہے جس سے کسی کی بھی فیور نہ ہوتی ہو۔ آپ کو ایک واقعے سے سمجھانے کی کوشش کی جائے گی کہ ایسا نہ کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔
ایک بندہ حج کرنے چلا گیا۔ سارے مناسک حج پورے ہونے کے بعد جب شیطان کو کنکرمارنے کی باری آئی تو سب کے ساتھ یہ بھی تھا۔ باقی سب مارتے رہے تو کچھ نہ ہوا۔ اس نے کنکر مارا تو آواز آئی یار توُ تو ہمارا بندہ تھا۔
اسی طرح کاحال ایڈمن کا ہوتاہے جس کی بھی طرف داری ہوجائے دوسری پارٹی اسی طرح حیرت بھرے انداز میں کہتی ہے“ایڈمن صاحب ہم تو آپ کو اپنا بندہ سمجھتے تھے“۔ اس لیے ایک اچھا ایڈمن ایک کول مائنڈڈ بندہ ہوتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے رمیض راجہ کی انضمام الحق کے بارے میں کمنٹری سنی جائے جس میں وہ انضمام کو کوُل لائک کوکمبر کا خطاب دیتا ہے۔
لیکن ٹھہریں ایڈمن کا کام یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتا۔ ایسی صورت میں جب بات جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے اور اراکین آپس میں‌ بکروں کی طرح ڈھڈیں لڑانے کا ارادہ کرتے ہوئے سروں کو جھکا لیں ایک اچھے ایڈمن کا فرض ہے کہ اس کی ٹول کٹ میں قفل موجود ہو۔ جیسے ہی کوئی دھاگہ جذباتی رنگ اختیار کرنے لگے فورًا اس پر ایک انتظامی قسم کا نوٹ لکھ کر اسے مقفل کردیا جائے۔ اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ اراکین اس قفل سے دو چار دن ٹکریں ماریں گے اور ان کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔ زیادہ سے زیادہ کسی اور دھاگے میں اپنی بھڑاس نکال لیں گے اور فورم کا ماحول پھر پرسکون ہوجائے گا۔
ایڈمن فورم کا آڈیٹر ہے جو فورم کے پیغامات کو جانچتا ہے کہ آیا پالیسی کے مطابق ہیں یا نہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ کوئی پیغام آپ کے نظریے کے مخالف ہے تو آپ بڑی آسانی سے اس کو پالیسی کی خلاف ورزی کی آڑ میں ختم کرسکتے ہیں۔ متعلقہ رکن کو ایک عدد ذپ کرکے اس بارے میں خبردار کریں اور احسان عظیم کرتے ہوئے اسے ایک اور موقع عنایت کرتے ہوئے تنبیہہ کریں کہ اگلی بار اس پر پابندی بھی لگائی جاسکتی ہے۔ بے چارہ رکن اتنے میں ٹھنڈا ہوجائے گا یعنی ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔ اگر کچھ زیادہ ہی غصہ ہے تو متعلقہ رکن کو ہی بین کردیں نہ رہے بانس نہ رہے بانسری ایسے ایڈمن جو تنگ نظر ہیں اس کلیے کو با آسانی اپنا سکتے ہیں، بعد میں ایک عدد تعزیتی قسم کی پوسٹ جس میں شکوہ کیا گیا ہو کہ فلاں رکن آج کل نہیں آرہے اللہ خیر کرے وغیرہ وغیرہ آپ کے دامن کو اجلا رکھنے میں مدد گار ثابت ہوگی۔
ایڈمن ہونے کے لیے آپ کو اپنے جذبات کو مارنا ہوگا۔ ایڈمن ہونے کی آئیڈیل سچویشن یہ ہے کہ آپ شادی شدہ ہوں۔ اس طرح آپ پر صنف نازک سے تعلق رکھنے والی اراکین کا اعتماد زیادہ ہوگا۔ اگر آپ ابھی تک شادی شدہ نہیں تو آپ کو بہت محنت کرنا ہوگی۔ مثلًا آج سے ہی “ابھی تو میں جوان ہوں“ یا “پریتو میرے نال ویاہ کرلے“ جیسے گانے چھوڑ کر “اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لیے ہیں“ اور “اے پتر ہٹاں تے نئیں وِکدے“ قسم کے گانے سننا شروع کردیں تاکہ بوقت ضرورت آپ کے جذبات کنٹرول رہیں اور کسی بدمزگی سے بچا جاسکے۔ فورم پر آپ سب کے بھائی بن جائیں تو آپ کی شرافت سند یافتہ ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سب اراکین خصوصًا خواتین کے ساتھ ایک بزرگانہ قسم کا رویہ اختیار کریں اس طرح آپ کی خصوصی عزت ان کے دلوں میں پیدا ہوجائے گی۔
صاحبو آپ نے دیکھا کہ ایڈمن بننا کتنا مشکل کام ہے۔ لیکن حاسد کا کہنا ہے کہ آج کا ایڈمن کل کا ناظم ( بابے مشرف والا ناظم) اور پرسوں کا وزیراعظم۔ اور آگے وزیر اعظم کی قسمت کہ اسے مشرف نہ ٹکر جائے۔
ایڈمن کا ذکر ہوا تو ایڈمن کے چمچے کا بھی ذکر بھی ہوجائے۔ چمچہ پیار سے ایسے بندے کو کہتے ہیں جو کسی بڑی شخصیت کا خوشامدی درباری ہوتا ہے۔فورم پر ایڈمن کا چمچہ بننے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کی نظروں میں آجائیں۔ اس طرح ہوسکتا ہے کل کو آپ بھی ایڈمن بن جائیں ورنہ ناظم (بابے مشرف والا نہیں) بن ہی جائیں گے۔ ایڈمن کی نظروں میں آنے کا منفی طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آتے ہی تھرتھلی مچا دیں تین چار سنجیدہ قسم کے دھاگوں میں‌ بیٹھ کر ڈھول بجانا شروع کردیں۔ خواتین اراکین سے خصوصًا چھیڑ چھاڑ کریں۔ فورم کے ماحول کا مشاہدہ کرکے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیں جس کو اچھا نہ سمجھا نہ جائے اور سب چونک جائیں۔ یہ آزمودہ نسخہ ہے آپ دنوں میں زبان زد عام ہونگے۔
مثبت طریقہ ذرا لمبا ہے۔ مثلًا آپ کو سب کو سلام کرنے عادت ڈالنی ہوگی۔ ہر دھاگے پر بنفس نفیس حاضر ہوکر وہاں کے موضوع کے مطابق شائستگی سے کلام کرنا ہوگا، اپنے آپ کو ایک اچھا ادب نواز ثابت کرنے کے لیے آپ کو شعر و شاعری کے دھاگوں میں‌اپنی دھاک بٹھانی ہوگی، اگر اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ کی ایک آدھ غزل بھی فورم کی زینت بن جائے( چاہے سرقہ شدہ ہی ہو) اور دو اراکین ہی اسے پسند کرلیں تو آپ کا نمبر لگ گیا سمجھیں۔ ایڈمن کی ہاں میں ہاں ملائیں خصوصًا ایڈمن کے شروع کردہ دھاگوں کی تاک میں رہیں اور وہاں جواب ضرور دیں چاہے “جواب“ ہی ہو۔ فورم کی پالیسی یا آئندہ منصوبوں کے بارے میں رائے دیں۔ ہوسکے تو اپنی طرف سے کوئی منصوبہ پیش کردیں۔ چلنے والے منصوبوں کے لیے اپنی خدمات پیش کردیں اس طرح آپ بہت جلد ایڈمن کے قریب ہوجائیں گے اور اگر آپ کی قسمت ہوئی تو کوئی عہدہ بھی مل جائے گا۔
تو اصحاب یہ تھا ہمارے تجربات کا نچوڑ اسے پڑھ کر عمل کرنے والے اپنے برے بھلے کے ذمہ دار خود ہونگے چونکہ یہ صرف نظریات ہیں ان کا ثبوت موجود نہیں۔ اسے آزاد مصدر اجازت نامے کے تحت بغیر کسی وارنٹی و گارنٹی کے جاری کیا جاتا ہے۔ فقط صرف آپ کا۔۔۔۔

بدھ، 18 اکتوبر، 2006

ویب پیڈ کی شمولیت اور میرے ایڈونچرز

مجھے لگتا ہے ایک آدھ سنسنی خیز سا ناول لکھ ڈالوں اس موضوع پر جس کا عنوان ہو “شاکر اینڈ دا ویب پیڈ انٹیگریشن اِن ورڈپریس“
ان تھیم والوں کو رب ہی پوچھے۔ اتنا کھپنا پڑا اتنا کھپنا پڑا کہ نہ پوچھیں۔ نبیل بھائی نے تو بنیادی تھیم میں ویب پیڈ کی شمولیت کے لیے ہدایات دے دیں اور اس کے بعد ہمارا سدا کا پاپی من مچل اٹھا کہ اسے اپنے موجودہ تھیم میں بھی شامل کرنا ہے۔ بس پھر کیا تھا شروع ہوگئے۔ تبصروں کے مصنف کے قطعہ میں شامل کیا، تبصروں کے قطعے میں شامل کیا۔ لیکن ۔۔۔۔ یہ کیا۔ایک میں دو دو حرف لکھے جارہے تھے اور دوسرے میں اردو بنیادی زبان منتخب ہی نہیں‌ہوتی تھی۔ اب؟؟؟؟؟؟
اب رولا ڈالا محفل پر جاکر اور بھلا ہو نعمان کا جنھوں نے ایک سیاپا ختم کیا۔ دو دو حرفوں کی ٹائپنگ تو ختم ہوگئی لیکن تبصروں والا قطعہ جوں کا توں رہا اور انھوں نے بھی ہاتھ اٹھا دیے میرے بس سے باہر ہے۔
ہماری قسمت، اور طبیعت جس کی ہوس نہیں جاتی۔ ہم نے ٹھانی کہ اب تلاش کے قطعے میں بھی اردو ویب پیڈ شامل ہو۔ بس پھر کیا تھا کل تین گھنٹے لگا کر شامل کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ سائیڈ بار بجائے سائیڈ بارے کے نیچے دکھنے لگا، تبصروں کے قطعے میں بنیادی زبان معجزاتی طور پر اردو ہوگئی یعنی ویب پیڈ ٹھیک کام کرنے لگا، تلاش کے قطعے میں بھی سب ٹھیک تھا لیکن مصنف والا قطعہ پھر اڑ گیا۔ :( :(
تھیم کا ستیا ناس کرکے ہم نے سوچا اس کو فی الحال بند کرو اور بنیادی تھیم کو چالو کرلو۔ سو آج پھر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت کی محنت کے بعد تلاش کے قطعے میں بھی ویب پیڈ شامل کرکے یہ پوسٹ فرما رہے ہیں۔
حسرت ان غنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے۔
لیکن ہم بھی چین لینے والے نہیں۔ ہم واپس آئیں گے۔ اس کوچہ گردی نے پی ایچ پی میں نقب لگانے کے کئی بھید کھولے ہیں ہم پر کہ ویب پیڈ کس طرح شامل کرنا ہے۔ ورڈ پریس ویب پیڈ ڈاکٹر یعنی مابدولت اب اس قابل ہیں کہ کسی بھی تھیم میں ویب پیڈ شامل کرسکتے ہیں۔
چلیں آپ کو بھی بتائے دیتے ہیں۔ ایک گر کی بات جو نعمان کی مہربانی سے پتا چلی۔ وہ یہ کہ نبیل بھائی کے طریقہ کے مطابق
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick=’setEnglish("s")’><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick=’setUrdu("s")’>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>

ہمیشہ ہیڈر پی ایچ پی فائل میں باڈی کے ٹیگ کے نیچے شامل کریں اس کے بعد تھیم میں‌ کہیں بھی ویب پیڈ شامل کرلیں۔ جیسے تلاش کے قطعے میں ایسے شامل ہوگا۔
<form method="get" id="searchform" action="<?php bloginfo('home'); ?>/">
<p><input type="text" name="s" id="s" onfocus="setEditor(this)" "<?php echo wp_specialchars($s, 1); ?>" size="22" tabindex="1" />
<script language="JavaScript" type=text/javascript>
makeUrduEditor("s", 12);
</script></p>
English<input type="radio" value="English" name="toggle" onclick=’setEnglish("s")’><font face="Urdu Naskh Asiatype">اردو</font><input type="radio" value="Urdu" checked name="toggle" onclick=’setUrdu("s")’>
<p><input type="submit" id="searchsubmit" value="تلاش" />
</p>
</form>

یہ بنیادی ورڈپریس تھیم میں شامل کرنے کا طریقہ کار تھا جس میں مابدولت نے تھوڑی سی تبدیلی بھی کی ہے۔ باقی طریقہ کار جاننا ہو تو اسے پڑھیں انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔آپ پر معرفت کے نئے راز کھلیں گے، جو غلطیاں میں نے کیں ان سے پرہیز کیجیے گا، اور مزید یہ کہ مشق کا کوئی مول نہیں۔ اتنا کھجل خوار ہونے کے بعد مجھے جو ملا ہے وہ شاید ویسے نہ ملتا اب انشاءاللہ کل دوبارہ ٹرائی کرتا ہوں ونٹر ڈے میں ویب پیڈ کی شمولیت کی۔
دعا کیجیے گا اس میں‌ کامیاب ہوجاؤں۔
وسلام