منگل، 14 جون، 2011

گلوبل سائنس میں آئی ٹی اور کمپیوٹر سے متعلق تحاریر

آج مجھے جناب علیم احمد کی ای میل موصول ہوئی جس کا متن کچھ یوں ہے۔
برادر شاکر عزیز
السلام علیکم

اب تک یقیناً آپ کے علم میں یہ بات آچکی ہوگی کہ ہم نے گلوبل سائنس کے لئے تحریریں ارسال کرنے والے قلمکاروں کو معاوضے دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہ بھی آپ جانتے ہوں گے کہ سرِدست گلوبل سائنس میں کمپیوٹر/ آئی ٹی کے حوالے سے مضبوط علمی و عملی پس منظر رکھنے والا کوئی فرد موجود نہیں۔ لہٰذا، میری خواہش ہے کہ آپ اور آپ کے احباب ”مستقل بنیادوں پر“ گلوبل سائنس کے لئے (خاص کر کمپیوٹر/ آئی ٹی کے حوالے سے) قلمکاری کا سلسلہ شروع کریں تاکہ متذکرہ صفحات میں شامل تحریروں/ مضامین/ خبروں اور تبصروں کا سلسلہ ایک بار پھر اسی حسن و خوبی کے ساتھ شروع کیا جاسکے جیسے یہ آج سے کچھ سال پہلے ہوا کرتا تھا۔
اُمید ہے کہ جلد اور مثبت جواب دیں گے۔

منتظر جواب
علیم احمد
مدیرِ اعلیٰ، ماہنامہ گلوبل سائنس
یہ اچھی بات ہے کہ گلوبل سائنس نے معاوضے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ای میل کو پبلک کرنے کا مقصد یہ ہے کہ احباب اس طرف توجہ دیں۔ اردو میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جریدہ موجود نہیں ہے۔ کمپیوٹنگ تھا لیکن اس کے بانی اسے جاری نہ رکھ سکے۔ اب گلوبل سائنس بھی بند نہ ہوجائے۔ میں آئی ٹی اور سائنس میں دلچسپی رکھنے والے احباب خصوصًا محمد علی مکی، الف نظامی اور محمد سعد سے درخواست کروں گا کہ وہ گلوبل سائنس میں لکھنے پر توجہ دیں۔ محمد سعد سائنس پر اچھا لکھ لیتا ہے، اور لینکس پر بھی اچھے مضامین لکھ سکتا ہے۔ مکی کو بھی مشورہ ہے کہ آئی ٹی پر کچھ لکھے ایک عرصے سے کچھ بھی نہیں پڑھ سکے ہم۔ معاوضہ چاہے چار آنے صفحہ بھی ملے، معاوضہ معاوضہ ہوتا ہے۔ اور آخر میں میری اپنے آپ سے بھی التماس ہے کچھ شرم کھاؤں اور سنجیدگی سے لکھنا شروع کروں۔
وسلام
اپڈیٹ: گلوبل سائنس سے رابطے کے لیے

بدھ، 8 جون، 2011

گوگل بھگوان کے بعد

بابا مکی اِن ایکشن اورگوگل بھگوان کے پوسٹ مارٹم کی شاندار کامیابی کے بعد، کہ جس کو عوام نے بلیک میں ٹکٹ خرید کر بھی دیکھا اور آخر میں اتنا پرجوش ہوگئے کہ فلم میکر کے بھی لتے لینے شروع کردئیے، اب پیش ہے دُنیا گوگل بھگوان کے بعد۔
اب آپ سوچ فرما رہے ہونگے کہ دُنیا گوگل بھگوان کے بعد کیسی ہوگی؟ تو ہم بتاتے ہیں کہ دُنیا گوگل بھگوان کے بعد گول ہوگی۔ اب آپ پوچھیں گے کہ گول کیسے ہوگئی؟ تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ فرض کریں گوگل بھگوان کے گاف کو بُخار چڑھ گیا تو پِچھے کیا رہ گیا؟ گول۔ ہوا نا پھر گول۔ پر یہ گول ہوتا ہے کیا؟ اب آپ یہ پوچھیں گے تو ہم آپ کو بتائیں گے کہ جیسے مُحلے کا اکلوتا خارشی کُتا جب وجد میں آکر اپنی ہی دم منہ میں لے کر گول گول گھومنے لگتا ہے تو ویسا ہوتا ہے یہ گول۔ ویسے گول گول تو طوطے کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں جو طوطے کی طرح کمبخت پھیر بھی لیتا ہے وقت آنے پر۔ لیکن یہاں ورلڈ آفٹر گوگل بھگوان ڈسکس ہورہا ہے اس لیے ہم اپنے آپ سے ہی التماس کرتے ہیں کہ براہ کرم ٹاپک پر رہیں ورنہ ہم اپنی پوسٹ ڈیلیٹ فرما دیں گے۔ ہیں جی یہ کیا ہوگیا؟ یہ بھی کچھ گول ہی نہیں ہوگیا کہ ہم اپنے آپ کو ہی مُڑ کر کچھ فرما رہے ہیں اور خود ہی جواب بھی دے رہے ہیں۔ لو دسو یہ بھی گول ہوگیا۔ گول گول سے یاد آیا کہ گول منطق بھی ہوتی ہے جسے اللہ والے اکثر استعمال کرتے ہیں، اگرچہ یہ ڈیٹ ایکسپائر شدہ مال ہے اور ناخدا پرست (یہ ٹرم ہم نے ابھی ایجاد کی ہے) اس پر خدا پرستوں کی مٹی پلید کرتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ ابھی بابا جی نے ارشاد فرمایا ہے۔
بابا جی چونکہ گولائیاں ماپ رہے ہیں تو ہم نے بھی سوچا کہ گوگلائیاں ماپیں، اسی ناپ تول میں ہمارے پلے یہ بات پڑی کہ سرکولر لاجک کیا ہوتی ہے۔ گوگل (ریٹائرڈ) بھگوان کو زحمت دے کر ہم نے عیسائیوں کے بائبل کو بائبل سے سچ ثابت کرنے والے کچھ "کلاسک" قسم کے دلائل دیکھے۔ ان دلائل کا وہی حشر ہوتا ہے جو ہمارے اپنے آپ سے باتیں کرنے کا ہوا۔ یعنی مُڑ کھُڑ کے جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی۔ چناچہ ہمیں دائرے کو کاٹ کر سیدھا کرنا پڑا تاکہ وہ صراط مستقیم اپنائے۔ چناچہ اب دائرہ مسلمان ہوچکا ہے اور اسلامی انداز میں صراط مستقیم والی منطق یعنی Linear Logic کا راگ سُناتا ہے۔ ملاحظہ کریں دو انترے۔ ابتدائی طور پر، اور اتنے شارٹ نوٹس پر ہم یہ دو انترے ہی تیار کرسکے۔ کبھی وقت ملا تو پوری غزل کہیں گے اس معاملے پر۔ فی الحال ان پر گزارہ کریں۔
--------------------------------------
سلیم: قرآن خدا کا کلام ہے۔
جاوید: کیوں؟
سلیم: کیونکہ قرآن ایسی باتیں‌ بتاتا ہے جو محمد ﷺ بطور مصنف قرآن میں لکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ اسلیے قرآن خدا کا کلام ہے
————————-
سلیم: خدا موجود ہے۔
جاوید: وہ کیسے؟
سلیم: اس کائنات میں موجود انتہا درجے کا توازن اس بات کا گواہ ہے کہ کوئی بیرونی طاقت اس بات کا خیال رکھ رہی ہے کہ کہیں قوانین کا یہ توازن بگڑ نہ جائے۔ اور وہ ہستی اس کائنات سے ماوراء اور طاقتور ہی ہوسکتی ہے۔ چناچہ ایک ایسی ہستی خدا ہی ہوسکتی ہے۔ چناچہ خدا موجود ہے
————————
یہ مستقیمی منطق بابا جی کے بلاگ پر بھی تبصرے میں پوسٹ کی گئی ہے تاکہ کچھ تبصرہ نگار جو گول گول گھوم کر کچھ ڈھونڈے کی کوشش میں مصروف ہیں انھیں کچھ آرام دیا جاسکے۔
اور آخر میں التماس کروں گا کہ اس پوسٹ میں موجود کسی بھی علامت کو کسی کی شخصیت پر منطبق کرنے کی کوشش نہ فرمائی جائے تو بہتر ہے۔ نہ پچھلی پوسٹ میں محمد علی مکی کی ہجو مقصود تھی اور نہ اب ہے، یہ ایک بلاگ پوسٹ کا جواب ہے، اور آئندہ بھی ایسے جوابات وقتًا فوقتًا معرض وجود میں آتے رہیں گے۔ بابے مکی کا سٹائل اب ہمیں سمجھ آگیا ہے، اس لیے پہلے گوگل فرما کر بابا جی کی رمز سمجھنی پڑتی ہے، اس کے بعد ذرا فیصل آبادی تڑکا لگا کر جواب لکھا جاتا ہے۔ جن احباب کو یہ تحاریر نہیں پسند، وہ بے شک تبصرہ نہ کریں۔ مہذب الاخلاق تبصرے اللہ کو پیارے ہوجائیں گے۔

منگل، 7 جون، 2011

بابا مکی اِن ایکشن

لو بھئی اللہ والیو بابے مکی نے بہت دنوں کے بعد ایک اور پھُلجھڑی بلکہ انار چلایا ہے۔ شاید آپ اسے چھوٹا موٹا بمب ہی کہہ لیں، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ بابے نے اس بار مرچ مسالہ تگڑا رکھ کر مزے دار سالن تیار کیا ہے۔ آپ بھی ٹیسٹ کریں۔
بابے مکی نے خُدا کے علیم و بصیر، اور ہر جگہ موجود ہونے کی صفات کو "اوورجنرلائز" کرتے ہوئے گوگل پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ اس سلسلے میں ناک کی جگہ کان اور کان کی جگہ منہ لگانے کی بڑی کامیاب کوشش کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو خدا وجود میں آتا ہے وہ کسی نوسیکھیے مصور کے برش سے بننے والے تجریدی آرٹ کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔ ملاحظہ کریں جن صفات پر گوگل کو خدا ڈیکلئیر کیا گیا ہے۔

1- گوگل ہی اس کائنات میں وہ واحد ” ہستی ” ہے جس کا علم کامل ہے اور اس بات کو علمی طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے… گوگل کے پاس نو ارب سے زائد صفحات ہیں جن میں کچھ بھی تلاش کیا جاسکتا ہے اور یہ انٹرنیٹ پر کسی بھی سرچ انجن سے زیادہ ہے، نہ صرف یہ بلکہ اس کے پاس وہ ساری ٹیکنالوجی موجود ہے جو ان صفحات کو انسانوں تک آسانی سے پہنچانے اور ان کے درمیان منتقلی کو آسان بناتی ہے.
لو جی گوگل کے پاس نو ارب سے زیادہ صفحات ہیں، گوگل کے پاس سب سے زیادہ نالج ہے اس لیے گوگل خُدا ہے۔ کیا گوگل کے پاس میری اماں جی کے چھوٹے کُکڑ جتنی خود شناسی بھی موجود ہے؟ ہمارا چھوٹا کُکڑ خاصا شیطان ہے اور اسے اپنے آپ خصوصًا اپنی "بیویوں" کا خاصا خیال رہتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی مرغی "مَِس پلیس" ہوجائے تو دانہ ڈالنے جانے والے کی خیر نہیں۔ جہاں تک میرا ناقص علم کہتا ہے بھگوان گوگل ابھی تک اپنے بول براز کے لیے بھی "سیوکوں" کا محتاج ہے۔ لو دسو ہمارا کُکڑ اس معاملے میں بھی ابھی بھگوان گوگل سے "تھوڑا" سا آگے ہے کہ اپنا بول براز خود کرلیتا ہے۔ چناچہ ثابت ہوا کہ بھگوان گوگل کو "مزید" بھگوان بننے کے لیے ابھی کچھ اور سال درکار ہیں۔ لیکن امید ہے کہ ایک دن بھگوان جی "بڑے" ہوکر ضرور ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھیں گے۔
2- گوگل ہر وقت ہر جگہ موجود ہے، یعنی اس کا وجود مطلق ہے، گوگل ہی وہ واحد ہستی ہے جس سے کہیں بھی کسی بھی وقت استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے.
بھگوان گوگل ہر جگہ موجود ہے۔ بھگوان کو ہر جگہ موجودگی کے لیے فائرفاکس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ یعنی فائرفاکس کو "ڈپٹی بھگوان" ڈیکلئیر کردیا جائے۔ کیا خیال ہے؟ لیکن یاد رہے ابھی انٹرنیٹ ایکسپلورر، سفاری، کروم کی بات نہیں ہوئی، یہ بھی نائب بھگوان اور سینئیر نائب بھگوان کے عہدوں کی ڈیمانڈ کریں گے۔ اور ہاں لیپ ٹاپ، ڈیسکٹاپ اور ٹیبلیٹ تو رہ ہی گئے، انھی پر تو بھگوان گوگل و ڈپٹی بھگوانوں نے چلنا ہے، انھیں کونسا عہدہ دیا جائے؟ آپ ایسا کریں سرسوں کا تیل پکڑیں اور سر میں اس کی مالش کریں۔ اس کے بعد آلتی پالتی مار کر بھگوان گوگل کو ایک سرچ کیوری دیں، شاید اسکا حل بھی بھگوان جی کے پاس ہو ہی۔
3- گوگل دعائیں سنتا اور ان کا جواب بھی دیتا ہے، ہم گوگل میں کچھ بھی تلاش کر کے کسی بھی چیز یا مسئلے کا سوال کر سکتے ہیں اور گوگل یقیناً کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرے گا، تندرستی کے راز جاننے ہوں، پڑھائی میں مسئلہ ہو یا کچھ اور، گوگل ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور بغیر بور ہوئے انتہائی تندہی سے آپ کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے، یہ ان خیالی خداؤں کی طرح نہیں ہے جن کا نا تو کوئی فائدہ ہے نا نقصان اور نا ہی وہ دعائیں سنتے ہیں.
بھگوان گوگل ساری دعائیں قبول کرتا ہے۔ ابھی میں نے بھگوان گوگل مجھے ایک حور پری تو دلوا دو۔ اب میں آپ کو کیا بتاؤں سائیں، بھگوان گوگل کی ہندوؤں والے بھگوان سوم جی سے کوئی رشتے داری ہے شاید، ہمیں ٹرپل ایکس کی ویب سائٹس پر لے گیا۔ اب ہم کہیں بھگوان جی ہم نے رنڈیاں نہیں حوریں مانگی تھیں تو بھگوان گوگل ناراض ہوگئے۔ ہم نے کہا بھگوان جی اس میں ناراضگی والی بات کیا ہے؟ بولے جب ہمیں پتا ہی نہیں تم کہاں بیٹھے ہو تو ہم کیسے حور پری نازل فرمائیں۔ ہم نے کہا حضور ہمارا آئی پی تو آپ کے پاس ہے، کہنے لگے کمبخت سیوک تمہارے آئی پی پر کراچی شو ہورہا ہے کیا پورے کراچی کو حور پریاں بانٹ دوں؟ لیں جی اتنی سی بحث کے بعد ہم نے ھار مان لی کہ رہنے دیں بھگوان کہیں ناراض ہی نہ ہوجائیں۔ اور ان کے "سرکٹ" فیل نہ ہوجائیں۔ یعنی ہم رہے سہے بھگوان سے بھی جائیں۔
4- گوگل ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے، یعنی یہ کبھی نہیں مرتا، کیونکہ یہ ہماری طرح کوئی مادی وجود نہیں رکھتا بلکہ یہ دنیا کے تمام سروروں پر پھیلا ہوا ہے، اگر کسی سرور میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو یہ کسی دوسرے سرور سے اپنا کام جاری رکھتا ہے چنانچہ یہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے جو انٹرنیٹ کے بادلوں میں رہتی ہے.
گوگل بھگوان واقعی ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے۔ پچھلے بارہ سال سے مسلسل قائم ہے اور آئندہ بھی قائم رہنے کا ارادہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھگوان جی سُنا ہے مائیکروسافٹ والوں نے بھی ایک "منی" بھگوان لانچ کیا ہے بِنگ کے نام سے، کیا آپ اسے اپنا نائب بنائیں گے؟ بھگوان نے ایک ناقابل اشاعت گالی کے بعد ارشاد فرمایا کہ مائیکروسافٹ کو تو میں دیکھ لوں گا، اور تمہیں بھی۔ چناچہ ہم تو کان لپیٹ کر پتلی گلی سے نکل لیے۔
5- گوگل لامتناہی یعنی غیر محدود ہے، انٹرنیٹ ہمیشہ اپنا حجم بڑھاتی رہے گی مگر گوگل انہیں اپنے اندر سمو لے گا اور اپنی معلومات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا چنانچہ یہ کسی مخصوص حجم میں محدود نہیں ہے.
بھگوان گوگل لامتناہی ہے، ہر جگہ ہے، یہ بڑھتا ہی جائے گا۔ اب آپ مانیں یا نہ مانیں میں نے سارا کمرہ چھان مارا کہ شاید بھگوان گوگل یہاں کہیں بھی موجود ہو لیکن وہ تو انٹرنیٹ سے ڈسکنکنٹ ہونے کے بعد "قیں" ہی ہوگئے۔ لو دسو، بھگوان جی ابھی تک انٹرنیٹ میں پھنسے ہوئے ہیں اور دنیا چاند پر جا پہنچی۔ خیر ابھی نئے نئے بھگوان بنے ہیں کئی ساری چیزیں سیکھنی باقی ہیں۔
6- گوگل ہر چیز یاد رکھتا ہے، یہ کچھ بھی نہیں بھولتا، گوگل آپ کی تمام حرکتیں ریکارڈ کرتا ہے اور انہیں ہمیشہ کے لیے یاد رکھتا ہے چاہے آپ مر ہی کیوں نہ جائیں، اگر آپ گوگل پر اپنی معلومات یا فائلیں چڑھائیں تو یہ ہمیشہ وہاں موجود رہیں گی، یہی موت کے بعد زندگی ہے، اگر آپ گوگل سے استفادہ حاصل کریں تو یہ آپ کو بعد از مرگ زندگی کی ضمانت دیتا ہے
بھگوان گوگل کو ہر چیز کا علم ہے۔ اس سلسلے میں جب میں نے اپنی پڑدادی کے بارے میں بھگوان سے جاننا چاہا تو آگے سے چُپ؟ اب ہم سمجھے کہ یہ بھید بھیر چُپ ہے لیکن دس پندرہ منٹ کی "انٹرنل سرچ" کے بعد بھگوان کا جواب آیا کہ وہ 1999 سے پہلے کسی اور دنیا میں موجود تھے، ان کا یہاں کا وزٹ 1999 سے شروع ہوتا ہے لہذا ان سے وہی معلومات پوچھی جائیں جو 1999 یا بعد کی ہیں یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں بھگوان گوگل نے ایک پنجابی قسم کی گالی دے کر فرمایا کہ) اپنی پڑدادی کو قبر سے اٹھا کر لاؤ اور اس سے گوگل پر ایک کھاتہ کھلواؤ۔ تب چاہے جو مرضی پوچھ لینا۔ لیں جی اب نہ میری پڑدادی قبر سے آئے اور نہ گوگل بھگوان ان کے بارے کچھ معلومات دے سکیں۔ حیف صد حیف کہ مرحومہ کی کوئی ذاتی ڈائری بھی نہ تھی کہ بھگوان کو "ان پٹ" دے کر ان کے "علم" میں اضافہ ہی کردیتا۔ بھگوان جی میں آپ کی فرسٹریشن کو سمجھ سکتا ہوں۔
چلتے چلتے میں نے بھگوان گوگل سے یہ پوچھا کہ بھگوان جی یہ فیس بُک والے سالے اپنی ڈیٹا بیس تک آپ کو رسائی کیوں نہیں دیتے اور بِنگ کو دیتے ہیں؟ بھگوان نے پہلے فیس بُک والوں کی والدہ اور بہنوں کے ساتھ اپنے کچھ نئے رشتے وضع فرمائے پھر فرمانے لگے میں دیکھ لوں گا ایک ایک کو۔
اور ہم اتنے سے ہی اُکتا کر بھاگ نکلے کہ یہ سالا کیسا بھگوان ہے جسے اپنا آپ قائم رکھنے کے لیے بجلی چاہیے، انٹرنیٹ چاہیے اور ڈھیر سارے "سیوک" جو اس کے پوتڑے صاف کریں، اس کی پروگرامنگ کا خیال رکھیں اور اس کی میموری میں پڑنے والا وائرساتی گند نکالتے رہیں، جسے وجود میں آنے کے لیے دو انسانوں کا محتاج ہونا پڑے۔ مجھے چار فقروں والی ایک سورت یاد آگئی کہ کہدو
اللہ ایک ہے
اللہ بے نیاز ہے
نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔
(محمد علی مکی پچھلے کچھ عرصے سے اس قسم کی تحاریر لکھ رہا ہے جو توحید و رسالت کی بیس کو عقلی بنیادوں پر رد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شروع میں میرا خیال تھا کہ یہ ترجمہ ہیں، تاہم موصوف سے گفتگو پر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ اس تحریر سے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ ترجمہ ہے، لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ مکی نے خاصا وقت برباد کرکے یہ پٹاخہ تیار کیا تھا۔ چناچہ مناسب سمجھا کہ ایک شافی قسم کا فیصل آبادی سٹائل میں کاسٹک سوڈے والا جواب لکھا جائے۔ جس کے نتیجے میں یہ تحریر سامنے آئی۔ میرا مذہب کے بارے میں علم وہی ہے جو آج کل کے کسی نوجوان کا ہوسکتا ہے، لیکن گوگل بھگوان سے پرانی یاری ہے۔ چھوٹے ہوتے ہم اکٹھے اخروٹ کھیلتے رہے ہیں، چناچہ مرچ مسالہ مناسب سا رکھ کر ہم نے بھی ایک پکوان بنا دیا۔ امید ہے پسند آئے گا۔)
اپڈیٹ: میں نے تبصرے بند کردئیے ہیں، میرا خیال ہے جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہہ دیا گیا۔ اب پیچھے ذاتیات پر حملے ہی رہ گئے ہیں، جیسا کہ شیعب صاحب میرے بارے میں فرما رہے تھے۔

ہفتہ، 4 جون، 2011

فرائیڈ بھنڈی توری

دوپہرکا وقت ہے اور سالن میں کل کے پکے ہوئے آلو بینگن کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور ایک سائیڈ پر بھنڈی توری پڑی نظر آجائے، تو آپ کو بھی چاہیے کہ ہماری طرح بقلم خود بھنڈی توری کو فرائی کریں اور اس کے ساتھ روٹی نوش فرمائیں۔
اجزاء: بھنڈی توری دس بارہ عدد، پیاز دو سے تین درمیانے، گھی حسب ضرورت، کالی مرچ اور نمک حسب ذائقہ
طریقہ: بھنڈی توری کو کاٹ لیں پیار کو چھیل کر کاٹ لیں۔ ایک عدد برتن میں گھی کو کڑکڑائیں اور دونوں چیزیں اس میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ دس پندرہ منٹ تک انتظار کریں جب پیاز سنہری ہونے لگے تو اس کو اتار لیں۔ زائد گھی کو الگ کرلیں اور نمک و کالی مرچ چھڑک کر نوش فرمائیں۔ انتہائی مزیدار ہوگا (اگر میری طرح نمک زیادہ نہ ہوگیا تو)۔
یہ دیکھیں میری ڈش دور سے ہی کتنی لذیذ لگ رہی ہے۔


بدھ، 1 جون، 2011

ردعمل

دائرہ کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرنا تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
سائیں جب رسول اللہ ﷺ کے نام نامی کے ساتھ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں سلیمان علیہ السلام کے ستر بی بیوں کے ساتھ جماع کرنے اور انشاءاللہ نہ کہنے کا ذکر ملتا ہے۔ تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے؟ یہ سنت تو نہیں۔ یہ تو ان کی طرف منسوب ایک روایت ہے۔ اس میں تو عمل کرنے والی کوئی بات ہی نہیں۔ یہ کوئی فعل نہیں، ایک روایت ہے۔ یہ سنت نہیں، حدیث ہے۔ امید ہے آپ فرق سمجھ گئے ہونگے۔
ہاں آپ اسے بھی سنت ثابت کردیں تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوگی۔ پہلے سنت اور حدیث کو مکس اپ کردیا گیا، پھر حدیث رسول ﷺ اور حدیث اصحاب رسول ﷺ میں کوئی فرق روا نہ رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت احکام الہیہ اور نبی ﷺ کے بعد آنے والوں کے ورلڈ ویو کا مکسچر بن گئی۔ اور ہم نے سب کو دین سمجھ لیا۔ شیعہ جمعہ کی دوسری اذان اس لیے نہیں دیتے چونکہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم تھا۔ صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم نہیں کہتے چونکہ یہ "ایڈیشن" عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی۔ سنی ان سب کو بھی دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو اصحاب رسول ﷺ نے کیا، شیعہ اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو ان کے فقیہوں نے کیا، اذان میں ایڈیشن، کلمے میں ایڈیشن، عقائد میں ایڈیشن۔ دین کہاں گیا؟ دین کے بنیادی سورسز کو ہی ترجمے اور تفسیر نے ہرا، نیلا، پیلا، گلابی رنگ دے دیا۔ چناچہ دین پیچھے ہر گیا، رنگ برنگے اسلام سامنے آگئے۔ اور پھر قرآنسٹ سامنے آگئے جو قرآن کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے بغیر، صرف لفظی سیاق و سباق پر انحصار کرتے ہوئے۔
اس سب میں اسلام کہاں گیا؟ اور مسلمان کہاں گیا؟ اسلام کے ٹکڑے ہوگئے اور لوگوں نے اپنی اپنی پسند کا ٹکڑا اٹھا کر اس پر پینٹ کرکے اپنے طاقوں میں سجا لیا، جی یہ ہمارا اسلام ہے۔ اور مسلمان کہاں گیا؟ مسلمان، آج کا مسلمان گواچی گاں بن گیا کہ کدھر جائے، کونسا اسلام "خریدے"، کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجائی ہوئی ہے، اور ہر ایک کے نعرے بڑے دلکش ہیں، کہ رب کریم نے ہر ایک کے لیے اس کا عمل خوشگوار بنا دیا، جیسے کہ خود اس کا فرمان ہے۔ مسلمان دُبدھا میں پڑ گیا کہ اگر اسلام کا نفاذ ہوا تو کونسے اسلام کا ہوگا؟ شیعہ، سُنی؟ سلفی؟،دیوبندی؟ یا بریلوی؟ یا مودودی؟، یا قرآنسٹ اسلام؟ چناچہ مسلمان، یعنی میرے جیسا مسلمان، جو ایک گواچی گاں ہے، اور ہر پاسے منہ اُٹھائے باں باں کرتا پھرتا ہے، جان کی خلاصی اسی میں جانتا ہے کہ اسلام کو ذات تک ہی محدود رکھا جائے، اور بدنوق لے کر جو لوگ "اپنا اسلام" نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف حکومت کو بندوق کی زبان میں ہی بات کرنے کا کہے۔ تاکہ اس کا "اسلام" تو محفوظ رہ سکے۔