جمعرات، 18 اپریل، 2013

زلزلے اللہ کا عذاب؟

ہر زلزلے کے بعد اس قوم میں جو بحث چھڑتی ہے اس کا عنوان یہ یا ملتا جلتا ہوتا ہے۔
"زلزلے اللہ کا عذاب ہیں"۔
"ہم گناہگار ہو چکے ہیں اور زلزلہ بطور وارننگ آیا ہے۔"
"فلاں علاقے میں بہت گناہ ہو رہے تھے اس لیے زلزلہ آیا۔"
"کشمیر میں عصمت فروشی بہت زیادہ تھی اس لیے زلزلہ آیا۔"
وغیرہ وغیرہ۔

میرے جیسا نیم سمجھ والا بندہ اس معاملے میں کنفیوز ہو جاتا ہے۔ اگر ہر زلزلہ اللہ کا عذاب ہے تو سمندروں میں جو زلزلے آتے ہیں وہ کس پر بطور عذاب آتے ہیں؟ اس تھیوری کا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جاپانی دنیا کی سب سے زیادہ گناہگار قوم ہیں کہ زلزلے تو سب سے زیادہ وہیں آتے ہیں۔ اور باقی دنیا ان کی نسبت زیادہ نیک ہے اس لیے زلزلے یعنی اللہ کا عذاب ان پر کم آتا ہے۔

اس تھیوری کا ایک منطقی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے (جو کہ میرے خیال میں غیر شعوری ہے) کہ اس پر یقین رکھنے والے زلزلے سے بچنے کے اقدامات نہیں کرتے۔ چونکہ زلزلے اللہ کا عذاب ہیں، اور عذاب اسی صورت میں ٹل سکتے ہیں جب اللہ کی فرمانبرداری کی جائے، یعنی زلزلہ نہ آنے کے لیے سچے پکے مسلمان بنا جائے۔ توبہ استغفار کی جائے، رحم کی بھیک مانگی جائے۔ وغیرہ وغیرہ۔ مزید یعنی زلزلے سے بچاؤ کے لیے کوئی آفات سے نمٹنے کا ادارہ، آفات سے نمٹنے کا منصوبہ نہ بنایا جائے، چونکہ زلزلے اللہ کا عذاب ہیں اس لیے آپ، میں جو مرضی کر لیں اب پیدا کرنے والے کی پکڑ سے تو نہیں بچ سکتے نا۔ تو زلزلے تو آئیں گے، وگرنہ اپنے آپ کو درست کر لیں؛ یعنی سچے پکے مسلمان۔

مجھے اس تھیوری سے کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ماشاءاللہ بڑے نمازی، پرہیز گار اور خوفِ خدا رکھنے والے مسلمان یہ سوچ رکھتے ہیں۔ میں بذاتِ خود ایمان کے آخری درجے پر کھڑے مسلمان کی حیثیت سے اللہ سے اس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہوں۔ اللہ کو اللہ کریم کہہ کر پکارتا ہوں، کہ عذاب والی بات سے مجھے ڈر لگتا ہے، اس کی پکڑ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ رحمت، کرم، فضل اور عطاء کا طلبگار ہوتا ہوں۔

لیکن، اُلٹی کھوپڑی، پُٹھی سوچ، میرے لیے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہیں۔ چونکہ میں زمین پر دیکھتا ہوں کہ زلزلے کئی ایسی جگہوں پر بھی آتے ہیں جہاں کوئی آبادی نہیں، تو میں انہیں عذاب نہیں سمجھ سکتا، چونکہ میں اللہ کو کریم، رحیم، رحمان کے روپ میں دیکھتا ہوں۔ اور وہ اپنی مخلوق پر (علاوہ انسان) زلزلے نہیں بھیجتا۔ اس کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیئے کہ انسانوں پر زلزلے پھر ہمیشہ عذاب ہوتے ہیں لیکن بے آباد جگہوں پر آنے والے زلزے عذاب نہیں ہوتے ہوں گے۔ یعنی جب بھی زلزلہ آبادی میں آیا اٹینشن ہو جاؤ تم خراب لوگ ہو اپنے آپ ٹھیک کر لو ورنہ پکڑ میں آ جاؤ گے۔

لیکن چونکہ میں ایک پُٹھی سوچ والا نچلے درجے کا مسلمان ہوں، میری نظر اللہ کی رحمت پر رہتی ہے اس لیے میرے لیے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہوتے۔ ہاں بعض اوقات اللہ کا عذاب، اللہ کی وارننگ ہوتے ہوں گے۔ زلزلے پر میں بھی اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن میں زلزلے کو ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں سمجھتا۔ میری اس سوچ کی تصدیق قرآنی آیات سے ہوتی ہے۔ یہاں لفظ "زلزلہ" والی چھ قرآنی آیات (ترجمہ عرفان القرآن) پیش کر رہا ہوں۔ مجھے لفظ زلزلہ کے لیے تلاش میں یہی آیات ملیں۔ ملاحظہ کریں:

  1. 7|78|سو انہیں سخت زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا پس وہ (ہلاک ہو کر) صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
  2. 7|91|پس انہیں شدید زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو وہ (ہلاک ہوکر) صبح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،
  3. 7|155|اور موسٰی (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے ستر مَردوں کو ہمارے مقرر کردہ وقت (پر ہمارے حضور معذرت کی پیشی) کے لئے چن لیا، پھر جب انہیں (قوم کو برائی سے منع نہ کرنے پر تادیباً) شدید زلزلہ نے آپکڑا تو (موسٰی علیہ السلام نے) عرض کیا: اے رب! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں کو اور مجھے ہلاک فرما دیتا، کیا تو ہمیں اس (خطا) کے سبب ہلاک فرمائے گا جو ہم میں سے بیوقوف لوگوں نے انجام دی ہے، یہ تو محض تیری آزمائش ہے، اس کے ذریعے تو جسے چاہتا ہے گمراہ فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت فرماتا ہے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے، سو ُتو ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے،
  4. 22|1|اے لوگو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ بیشک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے،
  5. 29|37|تو انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلا ڈالا پس انہیں (بھی) زلزلہ (کے عذاب) نے آپکڑا، سو انہوں نے صبح اس حال میں کی کہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ (مُردہ) پڑے تھے،
  6. 79|6|(جب انہیں اس نظامِ کائنات کے درہم برہم کردینے کا حکم ہوگا تو) اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آجائے گی، 79|7|پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا،
مذکورہ بالا آیات میں پہلے سورہ نمبر ہے پھر آیت نمبر، اور ترجمہ عرفان القرآن ہے۔ یہاں چار آیات میں زلزلہ بمعنی عذاب آیا ہے۔ ہر مرتبہ ایک نبی علیہ السلام صورتحال میں موجود تھے۔ عموماً متعلقہ قوم انتہا درجے کے کفر میں مبتلا تھی، انہیں پہلے وارننگ دی گئی اور پھر جب نبی مایوس ہو گئے تو زلزلے نے انہیں آ گھیرا۔ بقیہ دو آیات قیامت کے زلزلے سے متعلق ہیں۔
 
انہیں آیات کا اقتباس دے کر "زلزلے عذاب ہیں" کی دلیل دی جاتی ہے۔ لیکن یہ اقتباسات سیاق و سباق سے ہٹ کر دئیے جاتے ہیں، اگر پورے سیاق و سباق کو مدِ نظر رکھا جائے تو انبیا کی نافرمان قوم کا سارا منظر نامہ بنتا ہے اور زلزلہ آخری حل کے طور پر بطور عذاب مسلط کیا جاتا ہے۔ اور یاد رہے ایسا صرف چار مرتبہ ہوا ہے۔ زلزلوں کی سالانہ فریکوئنسی (چند ہزار سال ارضیاتی پیمانے پر چند دن کے برابر ہیں، اس لیے آج اگر سالانہ ہزاروں زلزلے آتے ہیں تو دو تین ہزار سال قبل بھی یہی صورتحال ہونے کا اغلب امکان ہے۔) کو دیکھیں تو یہ بات محال لگتی ہے کہ ہر زلزلہ عذابِ الہی ہو۔ اگر ایسا تھا تو قرآن میں صرف چار واقعات ہی کیوں (میں آیات کی تعداد کے حوالے سے چار واقعات کہہ رہا ہوں لیکن تین آیات ایک جیسی اور ایک موسی علیہ اسلام والی مختلف ہے، اس طرح عذاب کے دو واقعات بنتے ہیں نہ کہ چار)، انسانی تاریخ تو کم از کم (بنی اسرائیل کے حوالے سے دیکھیں تو) کئی ہزار سال قبلِ مسیح تک جاتی ہے۔ تب سے نبی کریم ﷺ کے زمانے تک صرف چار زلزلے بطور عذاب؟ تو صاحب میری سوچ یہ ہے کہ زلزلے اللہ کا عذاب ہوتے ہیں، چونکہ قرآن کہتا ہے لیکن زلزلے ہمیشہ بطور عذاب نہیں آتے۔ یہ ایک ارضیاتی عمل ہے جو زمین جیسے سیاروں پر نارمل بات ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پیدا کرنے والا کبھی کبھی جھٹکا دینے کے لیے قدرتی مظاہر کو استعمال کرتا ہے تاکہ انسان سنبھل جائے۔

اور اس سوچ کے لیے میں ہوا اور آندھی کی مثال دینا چاہوں گا۔ قرآن میں عذاب کی دوسری صورتیں بھی بیان ہوئی ہیں، جن میں سے ایک ہوا کے عذاب کی ہے۔ مثلاً آیت ملاحظہ ہو۔

  • 46|24|پھر جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی وادیوں کے سامنے آتا ہوا دیکھا تو کہنے لگے: یہ (تو) بادل ہے جو ہم پر برسنے والا ہے، (ایسا نہیں) وہ (بادل) تو وہ (عذاب) ہے جس کی تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ (یہ) آندھی ہے جس میں دردناک عذاب (آرہا) ہے،
یہاں بادل اور آندھی جیسے قدرتی مظاہر کو وارننگ کے لیے استعمال کرنے کا ذکر ہے۔ بالکل جیسے زلزلے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن قرآن ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ بادل رحمت لے کر آتے ہیں۔ مثلاً
  • 15|22|اور ہم ہواؤں کو بادلوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے بھیجتے ہیں پھر ہم آسمان کی جانب سے پانی اتارتے ہیں پھر ہم اسے تم ہی کو پلاتے ہیں اور تم اس کے خزانے رکھنے والے نہیں ہو،
تو عزیزانِ گرامی میرے خیال سے زلزلے ہمیشہ اللہ کا عذاب نہیں ہوتے۔ اللہ تعالٰی کی ذات سے ہمیشہ عذاب کی امید رکھنے والے میری نظر میں رحمت سے ناامید لوگ ہیں۔ چونکہ میری نظر اُس کی پکڑ سے زیادہ رحمت پر ہے، اس لیے میں اس تھیوری سے انکار کرتا ہوں کہ ہر زلزلہ اللہ کا عذاب ہوتا ہے۔ زلزلہ ایک نارمل ارضیاتی عمل ہے، جیسے بادل اور ہوا ہیں۔ لیکن جیسا کہ قرآن بتاتا ہے کبھی ان ارضیاتی عوامل کو استعمال کر کے قوموں کو جھنجھوڑا بھی جاتا ہے اور ایسا عموماً بڑی سخت صورتحال میں ہوا، جب کسی قوم نے اپنے نبی کا مکمل انکار کر دیا، ان پر حجت تمام ہوگئی، ہدایت پہنچا دی گئی تو پھر بھی نہ ماننے والوں پر عذاب آ گیا چاہے وہ پتھر برسنے کی صورت میں ہو، ہوا یا بادل سے یا زلزلے کی صورت میں ہو۔

میرا نقطہ نظر کم علم کوتاہ نظر جاہل کی بڑ لگ سکتا ہے۔ لیکن جاہل ہوتے ہوئے بھی میں نظر اُس کی رحمت پر رکھنے کا عادی ہوں، پکڑ پر نہیں۔

مولا میں تیری رحمت کا محتاج، مولا میں تیری عطاء کا امیدوار، میرا ہر بال، میرا ہر سانس، میرا ہونا ہی مجھ پر تیری رحمت ہے میرے مالک، مجھ پر اپنا فضل کر دے، کرم کر دے، عطاء کر دے، رحمت کر دے۔ میں دو کوڑی کا، میں گندی نالی کا کیڑا میرے مالک تیری رحمت بے پناہ، تیرا فضل بے پایاں، تیری عطاء بے شمار، تیرا کرم بے کنار، تو اپنے نبی ﷺ، تو اپنے سوہنے نبی ﷺ کا صدقہ مجھے پر اپنی رحمت رکھنا۔ یا اللہ تیرا شکر ہے۔

جمعہ، 5 اپریل، 2013

خلافت چاہیئے جی

عوام سیاستدانوں سے اکتائی ہوئی ہے، الیکشن سر پر ہیں۔ مشرف کے آخری دن تھے تو ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے امیدیں تھیں، اب شرعی نظام اور خلافت سے امیدیں لگ گئی ہیں۔ خلافت کی ڈفلی بجانے والوں نے اپنی پوتھیاں پُستکیں جھاڑ پونچھ کر رکھ لی ہیں، اپنے تھیلے خالی کر کے سامان پھر سے سامنے سجا لیا ہے۔ دھڑا دھڑ اقتباسات دئیے جا رہے ہیں، دلائل اٹھائے جا رہے ہیں ، اور اسلام کا بول بالا کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اور ایسے میں کوئی میرے جیسا نیچ ذات بول پڑے تو وہ غیر مہذب، گدھا اور جانبدار کہلاتا ہے۔ خیر یہ تحریر اپنے آپ کو ان القابات سے بری الذمہ کرنے کے لیے نہیں  لکھی جا رہی، بلکہ مقصد یہ ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران ایویں مفت میں ہی دو تین بار خلافت نام کی بحث میں گھسیٹا گیا۔ جس کا نتیجہ اکثر یہ نکلا کہ عوام میری منہ پھٹ طبیعت سے بے زار ہو گئی اور مجھے القاباتِ عالیہ سے بھی نوازا گیا۔ ابھی کل برادرم میم بلال نے فیس بک پر ایک سوال کر دیا ، موضوع یہی خلافت تھی اور میں نے حسبِ معمول خاصا چپیڑ جیسا جواب ٹھونک دیا۔ بعد میں بیس پچیس تبصروں تک اس پر بڑی لے دے ہوئی، رات کو دیکھا تو مجھے لگا کہ اب ذر ا مناسب لمبائی والی پوسٹ میں اپنا موقف بیان کرنا چاہیئے۔ چنانچہ تحریر لکھی جا رہی ہے۔

عوام خلافت مانگتی ہے۔ شاکر عوام کے ساتھ ہے، لیکن خلیفہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہو تو شاکر بیعت کرنے والوں میں سب سے پہلا، ورنہ شاکر کے ہاتھ کھڑے ہیں۔ چلو کوئی حسن ابنِ علی جیسا لے آؤ، حسین ابنِ علی، عبد اللہ ابنِ زبیر، معاویہ ابنِ ابو سفیان، عمر بن عبد العزیز رضوان اللہ علیم اجمعین تک بھی بات چلے گی۔ اس کے بعد؟ اس کے بعد معذرت کے ساتھ شاکر کے دونوں ہاتھ کھڑے ہیں۔ شاکر کے لیے خلافتِ راشدہ کے بعد کوئی خلافت نہیں۔ جس کو یہ عوام خلافت کہتی ہے وہ شاکر کے لیے ملوکیت ہے، خلافت کے نام پر بادشاہت۔ جس میں باپ کے بعد بیٹا، چچا، پھوپھا ، تایا، یا جس کا بس چلا وہ "خلیفہ" بن بیٹھا۔ چاہے وہ یزید ابن معاویہ جیسا گدھا ہی ہو۔ اور جب کوئی گدھا خلیفہ بن بیٹھے تو مذہبی ٹھیکے دار کیا کہتے ہیں؟ اولی الامر کی اطاعت کرو۔ اور اگر وہ گدھا ساری عمر کے لیے اقتدار پر براجمان رہے، جو خلافت/ بادشاہت/ ملوکیت کی اساس ہے تو شاکر جیسے نیچ ذات ساری عمر اس گدھے کو برداشت کریں؟ شاکر کے ہا تھ کھڑے ہیں جی، خلافت کی ڈفلی یہاں بے سُری ہو جاتی ہے۔

مسلمانوں کی تاریخ کے کوئی تیرہ سو سال ان پر یہی خلافت /ملوکیت / بادشاہت مسلط رہی۔ کبھی بنو امیہ ، کبھی بنو عباس، کبھی عثمانی ، کبھی فاطمی ، کبھی عبد الرحمن الداخل کی اندلسی بنو امیہ کی شاخ۔ اس میں مسلمانوں نے بڑی ترقی کی، بڑی بڑی حکومتیں اس خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت سے تھرتھراتی تھیں۔ مسلمانوں کا بڑ اسنہرا دور اسی عرصے میں رہا۔ بڑے بڑے علاقے فتح ہوئے۔ یعنی خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت کو بھی تسلیم کیا جائے، جیسی بھی ٹوٹی پھوٹی تھی، آخر تھی تو خلافت جی۔ خلفائے راشدین کی نشانی، پر شاکر چونکہ نیچ ذات ہے اس لیے نہیں مانتا۔ وجہ بڑی سادہ سی ہے۔ یہ خلفائے راشدین کی نشانی نہیں اپنے باپ داداؤں کی نشانی تھی۔ یہ قیصر و کسری کی نشانی تھی۔ یہ اسلام سے پہلے کے اس سیاسی نظام کا تسلسل تھی جس میں سکندر اعظم سے لے کر ایران ور روم اور یورپ کی بادشاہتیں  آتی ہیں۔ بس نام بدلا تھا، نام بدلے تھے۔ نام خلافت ہو گیا، نام مسلمانوں والے ہو گئے۔ اور اعمال؟ اعمال وہی تھے جو قیصر و کسری کے تھے، جو اونچے کنگروں والے محلات بنانے والوں کے تھے، جو عیاشیاں کرنے والوں کے تھے، جو اپنی حکومت وسیع کرنے والوں کے تھے۔ بس نام اسلام کا لگ گیا، اور کام جس نے کیا وہ مسلمان اور پھر خلیفہ کہلایا، باقی کچھ نہ بدلا۔

زمانہ بدلا، زمانے کے تقاضے بدلے، اندازِ حکومت بدلے اور بادشاہتیں پکے ہوئے پھلوں کی طرح ٹپا ٹپ گرتی چلی گئیں ۔ جو رہ گئیں وہ آئینی بادشاہتیں رہ گئیں۔ اور وہی بات خلافت/ ملوکیت/ بادشاہت پر بھی صادق آئی۔ زمانہ بدلا، تقاضے بدلے اور عوام نے ہاتھ کھڑے کر دئیے، عثمانیوں کا پتہ کٹ گیا۔ یہی کوئی 1920 کے آس پاس کے دن ہیں، جب یہ واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اور یہیں سے برصغیر کے مسلمانوں کا خلافت بخار شروع ہوتا ہے۔ تحریکِ خلافت بڑے زور و شور سے چلائی جاتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ جب ترکی کے عوام ہی نہیں چاہتے کہ خلافت ہو تو آپ میں بے گانی شادی میں عبداللہ دیوانہ؟ اور یہی کچھ ہوا بھی، تحریکِ خلافت کے غبارے سے پھونک نکل گئی۔ طبیعتیں پھُل گلاب ہو گئیں، عین روح تک سرشار ہو گئیں۔ وہ دن جائے اور آج کا دن آئے، خلافت ایک پرکشش نعرہ بن گیا۔ وہ خلافت تو نہ رہی لیکن ایک تحریک کی ڈفلی ہاتھ آ گئی، خلافت قائم کرنی ہے۔ خلافت قائم ہو گئی تو مسلمان پھر سے دنیا کے حاکم بن جائیں گے، جوتیوں سے اُٹھ کر ممبر پر جا بیٹھیں گے۔ خلافت ہو گئی تو اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ خلافت ۔۔۔۔۔خلافت ہر چیز کا حل، خلافت اسلام کا نظامِ حکومت۔

چلیں جی ماننا پڑتا ہے اب تو عوام اور نوجوان نسل بھی شرعی نظام کے حق میں ہے۔ اور یہی وقت ہے کہ لوہا گرم دیکھ کر چوٹ لگائی جائے،خلافت /ملوکیت / بادشاہت کے لیے کام کیا جائے۔ بس ایک سوال، یہ بھوکی ننگی عوام اسلام کی محبت میں ایسا کر رہی ہے یا روٹی کو ترسنے کے بعد؟ ترکی میں کوئی خلافت کا نعرہ کیوں نہیں لگاتا، وہاں تو خلافت نہیں بلکہ جب خلافت تھی اس سے بہتر صورتحال ہے اب۔ یہ پاکستان میں ہی خلافت کیوں؟ یہ ان جگہوں پر ہی خلافت کیوں جہاں حقوق غصب ہوتے ہیں، جہاں بھوک ننگا ناچ ناچتی ہے، جہاں  جنگل کا قانون ہے صرف وہیں خلافت کا نعرہ کیوں لگتا ہے؟  اگر آج اس ملک میں گڈ گورنس ہو جائے تو خلافتیوں کو ایندھن کہاں سے ملے؟ پاکستان سے تو نہ ملے کم از کم۔

تو مسئلہ کہاں ہے؟ مسئلہ نظامِ حکومت میں ہے۔ بات پھر وہیں آ گئی۔ اور خلافت /ملوکیت / بادشاہت بہترین نظامِ حکومت ہے، ہیں جی۔ لیکن نہیں بہترین نہیں۔ جس کو ساری عمر کے لیے اقتدار میں لے آؤ گے وہ سر پر چڑھ کر ڈھول بجائے گا۔ اس لیے خلافت/ملوکیت/ بادشاہت نامنظور۔ حل؟ حل سادہ سا ہے اقتدار کی مدت مقرر کرو، ووٹ ڈلواؤ، ساتھ جو مرضی اسلامی ڈال لو۔ تھرمامیٹر لگا کر تقویٰ چیک کرو،  متھا اور گِٹے دیکھ کر متقی پرہیز گار لوگوں کی مجلس شوری بناؤ، لیکن وہ منتخب ہو، عوام کو حق دو، عوام کو حق ہے کہ وہ فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں۔ جیسے نبی ﷺ کے جانشینوں نے مثال قائم کی، ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا۔ لیکن خلافت/ ملوکیت /بادشاہت؟ نا سائیں وہ دن لد گئے، جب سیاں جی کوتوال تھے۔ اب تو اور مسائل ہیں۔ اور بادشاہت آج کے مسئلوں کا حل کہیں سے بھی نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس نیم خلافت سے شاکر کو اتنی تکلیف کیوں؟ لیکن جوابی سوال یہ ہے کہ جمہوریت یا جو بھی آج کے نظامِ حکومت کو نام دیا جائے اس سے اتنی تکلیف کیوں ہے؟ جواب یہ کہ اس جمہوریت کے خمیازے آج بھگت رہے ہیں۔ سوال یہ کہ اگر جاگیر دار، وڈیرے، سرمایہ داروں کو ہی اقتدار سے باہر کرنا ہے تو یہ مسلمانوں کی تاریخ میں کب اقتدار میں نہ تھے۔ برصغیر کی تو تاریخ ہی جاگیر داروں اور بادشاہوں کے گرد گھومتی ہے، بادشاہ جاگیر دار کو نوازتا تھا اور جاگیر دار اپنے مزارعوں کو۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں عہد نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ کے علاوہ کونسا دور ہے جس میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون نہیں نافذ رہا؟ تو آج اگر جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے تو اتنی تکلیف کیوں؟ تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت اسلام کا ملمع چڑھا ہوا تھا، تکلیف اس لیے ہے کہ اس وقت کھانے کو مل ہی جاتا تھا بھوگ کا ننگا ناچ نہیں ہوتا تھا جو آج ہوتا ہے۔ تو حل یہ ہے کہ دماغ کو وسیع کرو محمد الرسو ل اللہ ﷺ کا لایا ہوا دین خلافت و امامت سے اوپر کی چیز ہے۔ اگر خلافت اراکین اسلام میں سے ہوتی تو قرآن طلاق اور وراثت کے قوانین کی طرح خلافت کے قوانین بھی بتاتا۔ آخری نبی ﷺ صرف ایک عبوری فیصلہ کر کے، کہ خلیفہ قریش میں سے ہوگا ، اس دنیا سے پردہ نہ فرماتے۔ کیا محمد الرسول اللہ ﷺ اور محمد الرسول اللہ ﷺ کے خدا کو نہیں معلوم تھا کہ "خلیفہ قریش میں سے ہوگا" کا حکم تا قیامت نہیں چل سکے گا؟ اسلام میں کسی عربی کو عجمی پر، کسی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل نہیں والے اصول کا رد نہ ہو جاتا یہ؟ اس لیے خلافت فرض نہیں کی گئی، خلافت کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔ رسول ﷺ کے جانشینوں نے اپنے وقت میں بہترین طریقے سے نظامِ حکومت چلایا۔ اس بیک ورڈ قبائلی معاشرے میں اسلام پر عمل اور عوام کی فیصلہ سازی میں شمولیت کی ایسی درخشندہ مثال قائم کی کہ زمانہ انگشتِ بدنداں رہ گیا۔ لیکن اس کے بعد؟ اس کے بعد جب نیتیں صاف نہ رہیں تو وہی اندھیرا پھر سے لوٹ آیا ، کہیں کہیں ٹمٹماتی ہوئی روشنیاں اور پھر ایک لمبا اندھیرا۔ اور آخر بیسویں صدی آ پہنچی، تقاضے بدلے، زمانہ بدلا تو نظام بھی بدل گئے۔ بدلنا تو مقدر ہے، انسان ہوں، زمانہ ہو یا نظام۔ لیکن اسلام اگر زمانے کا پابند رہ گیا تو  تاقیامت دینِ انسانیت تو نہ ہوا۔ اس لیے شاکر کی سوچ بڑی سادہ سی ہے۔ اسلام کے اصول بڑے سادہ ہیں، کسی بھی نظامِ حکومت پر اطلاق کر دو اسلامی نظام ہو جائے گا۔ اور بھوک کا ننگا ناچ رکوانا ہے تو عوام کو تعلیم دو کہ ان کا حق ہے پوچھنا، سوال کرنا، انہیں بتاؤ کہ سوال کریں۔ جو سوال کے جواب میں آئیں بائیں شائیں کرتا ہے اسے رد کریں۔ آج کے نظام میں بہتری لاؤ۔ یہی نظام ترکی میں ہے، برطانیہ میں ہے، ملائیشیا میں ہے وہاں کیا تکلیف ہے کہ یہاں سے ہزار درجے بہتر صورتحال ہے؟ وہی کچھ یہاں کیوں نہیں ہو سکتا، اس کے حل کے لیے لیے برانڈ نیم کا چُوسا ہی کیوں؟

لیکن کیا کریں جی، برانڈ نیم سب کو اچھا لگتا ہے۔ خلافت /ملوکیت / بادشاہت حکومتی نظاموں میں ایک اسلامی برانڈ نیم ہے، اور پچھلے سو سال سے اس برانڈ نیم کی سیاست پر بہت سوں کی واہ واہ ہے، عزت ہے اور روزی روٹی لگی ہوئی ہے۔ عوام بھی سمجھتی ہے کہ بہتر ہے چیز "اسلامی" ہی ہو، چاہے اس پر اسلام کا ملمع ہی چڑھایا ہوا ہو، لیکن چیز اسلامی ہو۔ اس لیے عوام جمہوریت کو "کافرانہ" کہتی ہے، "خلافت" کو اسلامی سمجھتی ہے۔ بھولی عوام ہے، مذہبی ٹھیکے داروں نے چُوسا دیا ہوا ہے، اور عوام چُوس رہی ہے۔ کوئی سوال کر لے تو، خیر اس کا حال پھر شاکر جیسا ہوتا ہے۔ جس کے سوالنے کو گدھے کا رینکنا سمجھا جاتا ہے۔

خیر ایسے گدھے، نیچ ذات، ایمان کے آخری درجے پر کھڑے منش ہر دور میں ہوئے ہیں۔ ایک شاکر بھی ہو گیا تو کوئی گل نہیں۔ تحریر کسی کے متفق ہونے کے لیے نہیں لکھی، تحریر کوئی صفائی پیش کرنے کے لیے بھی نہیں لکھی ، تحریر صرف موقف بیان کرنے کے لیے لکھی ہے۔ اور غلط فہمی دور کرنے کے لیے کہ جو شاکر کو انٹلکچوئل سمجھتے تھے۔ غیر جانبدار سمجھتے تھے، سمجھدار سمجھتے تھے اپنی اپنی سمجھ پر نظرِ ثانی کر لیں۔ یہاں کوئی غیر جانبداری نہیں، یہاں سب کا ایجنڈا ہے، یہاں سب کے "سچ" ہیں، اپنے اپنے سچ۔ خلافتیوں کا اپنا سچ ہے، اور شاکر جیسے نیچ ذاتوں کا اپنا سچ۔ اور اپنے اپنے سچ میں گم ہیں۔ اس دن تک جس دن سارے جھوٹے سچ پرزے پرزے ہو جائیں اور سچے سائیں کا سچا سچ آنکھیں چندھیا دے۔

رہے نام اللہ کا۔

جمعرات، 28 مارچ، 2013

سلیپ موڈ

کبھی کبھی کچھ اس قسم کی صورتحال بن جاتی ہے جیسے بندہ موبائل ہو اور اس پر سلیپ موڈ لگا ہوا ہو۔ سارا دن نیم خوابیدگی کی کیفیت میں گزر جاتا ہے۔ کام ہو بھی رہے ہوتے ہیں لیکن شاید ان کا کنٹرول کسی نیم سوئے دماغ کی  اتھاہ گہرائیوں میں موجود کسی شخص کے پاس ہوتا ہے۔ سارا دن ایک دھندلی سی کیفیت میں گزر جاتا ہے اور رات چلی آتی ہے۔ اور پھر ایک اور دن چڑھ جاتا ہے۔ دنوں کی گنتی بڑھتے بڑھتے ہفتوں میں بدل جاتی ہے اور ہفتے مہینوں میں ڈھلتے چلے جاتے ہیں۔ عجیب آگہی و عدم آگہی کے برزخ کا عالم ہوتا ہے۔ جیسے دھواں بھی نہ اٹھ رہا ہو اور نیچے کہیں سلگاہٹ بھی موجود ہو۔ اوپر سے دیکھ تو ٹھنڈی راکھ ہو لیکن اندر کہیں گرمائش موجود ہو۔ اسی طرح یہ برزخ چلتا ہے، نیم اندھیرے نیم اجالے کی سی اس کیفیت میں کام بھی ہوتے چلے جاتے ہیں اور بے کاری بھی چلتی رہتی ہے۔ ایک عجیب سی اکتاہٹ بھی طاری رہتی ہے جو ویلے رہنے کا شاخسانہ ہوتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بڑے اہتمام اور چاؤ کے ساتھ کام کرنے کی مصروفیت بھی مرنے نہیں پاتی۔

یہ دوہری کیفیت بالکل ایسے ہے جیسے کوئی ایسا موبائل فون جو ایمرجنسی موڈ پر لگا ہوا ہو، اور ضروری کمیونیکیشن کے علاوہ ہر چیز بند پڑی ہو۔ بٹن دبانے پر بس ایمرجنسی کال کی جا سکتی ہو اور اس کے علاوہ سب بند۔ اور اس ضروری کی تعریف میں ضروری، ضروری سے 180 درجے الٹ ہے۔ ہر وہ کام جس کی بظاہر ضرورت نہیں ہوتی بڑے اہتمام سے سر انجام دیا جاتا ہے، پورے پروٹوکول کے ساتھ کیا جاتا ہے اور جو کام کرنا ہو، ہاں اچھا کرتے ہیں ہاں یار یہ بھی کرنا ہے جیسے خیالات کے بعد اسے واپس ذہنی شیلف پر رکھ دیا جاتا ہے، کل کرنے کے لیے۔ کوئی بات کر لے تو تفصیلی جواب مل جاتا ہے کوئی نہ بات کرے تو دنیا جائے بھاڑ میں، ہمارے اندر اپنی ایک دنیا آباد ہے جسے کسی کی ضرورت نہیں۔ دماغ صرف انتہائی ایمرجنسی کی کیفیت میں مکمل طور پر بیدار ہوتا ہے ورنہ ملگجی بیداری ہی طاری رہتی ہے۔ ایمرجنسی کی تعریف مختلف مواقع کے حوالے سے مختلف ہو سکتی ہے مثلاً کل کے لیے کوئی انتہائی ضروری ترجمہ کرنا ہو تو دماغ حاضر ہوتا ہے، یا کوئی کوئز، ٹیسٹ، ریڈنگ ملی ہوئی ہو تو دماغ ا س کے لیے حاضر ہوتا ہے۔ اور باقی کاموں کے لیے دماغ اسسٹنٹ کو کرسی پر بٹھا کر خود پچھلے کمرے میں جا کر سو جاتا ہے۔ یہ اسسٹنٹ بھی کم بخت مارا چرسی لگتا ہے جو ساری ترتیب الٹ دیتا ہے، جو کرنا ہو وہ نہیں کرنے اور جو نہیں کرنا ہو وہ کرنے کی فہرست میں ڈال کر خود انجوائے منٹ میں لگا رہتا ہے۔

انجوائے منٹ کی تفصیلات بھی انتہائی غیر اسلامی، غیر  اخلاقی اور تقریباً ہر "غیر جمع اسمِ صفت" کی ترکیب تلے آ جاتی ہیں۔ مثلاً دیہاڑی دار اسسٹنٹ دماغ فلموں کا رسیا ہے۔ ایک عدد بیسٹ موویز کی فہرست اتارنے کے بعد ایک ایک یا دو دو کر کے دو وقت روزانہ فلمیں دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے فلمیں دیکھنا انتہائی غیر اسلامی کام ہے۔ اسسٹنٹ دماغ کی ایک اور مصروفیت پچھلے دور کی پڑھی ہوئی کہانیاں بھی ہے، یا کوئی بھی نئی کہانی مل جائے تو اسے بڑے اہتمام کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، اس کے ساتھ عموماً کچھ ٹھونگنے کا اہتمام کیا جاتا ہے اور ضرورت کے کام ایک جانب کھڑے بٹ بٹ منہ تک رہے ہوتے ہیں کہ "ساڈے اُتے وی اکھ رکھ وے"۔ لیکن ظاہر ہے انہیں لفٹ نہیں کروائی جاتی چونکہ یہ مستی ٹائم ہوتا ہے اسسٹنٹ مستی ٹائم چونکہ وڈا دماغ خوابِ خر گوش کے مزے لُوٹ رہا ہے۔ اسی انجوائے منٹ کا ایک تیسرا حصہ لامتناہی نیند کے سائیکل ہیں۔ ہر کچھ عرصے کے بعد اسسٹنٹ دماغ تھک کر چُور ہو جاتا ہے، جس کے بعد اسے ایک لمبی نیند کی ضرورت پڑتی ہے۔ منہ سے جمائیاں خارج ہوتی ہیں، سر بھاری ہو جاتا ہے اور آنکھیں دو کے چار دکھانے لگتی ہیں۔ چنانچہ بستر ڈھونڈا جاتا ہے اور اسسٹنٹ دماغ جسم کو بھی سُلا دیتا ہے۔ اس سلسلے میں جاگ تبھی آتی ہے جب کھانے کا وقت ہو یا شومئی قسمت اذان سنائی دے جائے۔

اس صورتحال کو ریچھوں کی سرمائی نیند سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے لیکن یہ اس نیند سے مناسب حد تک اختلاف کی حامل ہے۔ مثلاً یہ سال کے چھ مہینے طاری نہیں رہتی، بلکہ اس کا تجزیہ کیا جائے تو عُقدہ کھلتا ہے کہ یہ کسی بھی وقت طاری ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی کوئی معینہ مدت نہیں ہوتی۔ چند دن سے لے کر چند ہفتوں اور چند مہینوں تک یہ کسی بھی عرصے کے لیے طاری رہ سکتی ہے۔ مزید اس کے درجوں میں بھی فرق آتا رہتا ہے، جیسے برتن کا پیندہ کہیں سے مضبوط اور کہیں سے کمزور ہو جاتا ہے اسی طرح ایمرجنسی موڈ کی نیند کبھی کم کبھی زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ درمیان میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں جن سے محسوس ہوتا ہے کہ صاحبِ نیند تقریباً انسان بن چکا ہے لیکن پھر ایک جماہی آتی ہے اور بستر سیدھا کر کے اس پر لیٹنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پرانا دوست/ سہیلی واپس آ چکی ہے۔

اس کیفیت پر تحقیق کی جائے تو کئی انکشافات بھی ہوں گے۔ چونکہ اسی کیفیت میں کئی مسائل کے سادہ سے حل سامنے آ جاتے ہیں جنہیں اگر نوٹ کر کے رکھ لیا جائے تو بعد میں خود پر تبرا بھیجنے کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اسی نیم ملگجے جاگنے کی کیفیت میں بہت سے مسائل حل بھی کر لیے جاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ مکمل بیداری پر اس حل کو کوڑے دان میں پھینک کر دوبارہ سے ایک نیا حل نکالنا پڑتا ہے۔

کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ دماغ اس کیفیت میں ایک سست رفتار کچھوا ہو جاتا ہے جو چلتا چلا جاتا ہے چلتا چلا جاتا ہے لیکن یہ چلنا اتنا سست ہوتا ہے کہ دماغ کو خود بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ چل رہا ہے۔ وہی مدھم مدھم سلگاہٹ اور گرماہٹ، جس کا احساس خود کوئلے کو بھی نہیں ہوتا کہ وہ جل رہا ہے، جلتا چلا جا رہا ہے حتی کہ وہ اسی زُعم میں راکھ ہو جاتا ہے کہ ابھی تو بہت وقت باقی ہے۔۔ دماغ بھی اسی کیفیت میں، خود فراموشی کی کیفیت میں خود کو مبتلا کر کے جیسے سمجھ لیتا ہے کہ دنیا بھی اس کے ساتھ تھم گئی ہے، وقت کی لگام کھنچ گئی ہے اور وہ حقیقی برزخ میں آ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن یہ دماغ کی خام خیالی ہوتی ہے، وقت بھلا کبھی رُکا ہے، وقت چلتا چلا جاتا ہے اور جب دن ہفتے مہینے گزرنے کے بعد ہوش آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ یوگی کے مراقبے کے دوران اتنا وقت گزر گیا۔ اور وہ وقت، بظاہر دبے پاؤں دھیرے دھیرے چلتا وقت بھی خاموشی سے نہیں گزرتا، نشان چھوڑ جاتا ہے، جسم پر، گرد و نواح پر اور دماغ پر۔ دماغ کو ہوش آنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ کیا تھا اور کیا ہو گیا، دماغ جو خود کو تین دن کے لیے غار میں بند کرتا تھا اس کے اٹھنے پر صدیاں بیت چکی ہوتی ہیں۔ بس یہاں کوئی معجزہ نہیں ہوتا، یہاں کوئی غار نہیں ہوتا، نیند اور جاگنے کی کیفیت میں کوئی وحی کار فرما نہیں ہوتی یہ عام سی نیند ہوتی ہے۔ بلکہ نیند کہنا بھی نیند کی توہین ہے، یہ نیم نیند بہت کچھ لے جاتی ہے۔

شاید یہ نیم نیند بہت کچھ دے بھی جاتی ہو۔ اٹھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ادھورے سے کئے ہوئے کام، کچھ ادھوری سی لکھی ہوئی سوچیں، کچھ نیم پروسیسنگ جو پسِ منظر میں ہوتی رہی اس کا ادھورا سا نتیجہ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ یہ کچھ دے بھی جاتا ہے۔ کبھی کبھی اس حالت میں چلی ہوئی گولی نشانے پر لگ جاتی ہے اور پوبارہ بھی ہو جاتے ہیں۔ شاید یہی وہ کیفیت تھی جب بنزین کا چھ رُخا  مالیکیول چھ سانپوں کی صورت میں خواب میں آ وارد ہوا۔ شاید یہی وہ کیفیت ہو جس میں شاہکار تخلیق ہوتے ہوں۔ شاید یہی وہ کیفیت ہو جس میں پہاڑ جیسے مسائل کے اتنے سادہ حل سامنے آ جاتے ہوں کہ ان کی سادگی پر قربان ہو جانے کو دل کرے۔ شاید یہ کیفیت اچھی بھی ہو، لیکن بات تو فریکوئنسی پکڑنے کی ہے۔ اگر درست فریکوئنسی پکڑ لی تو پوبارہ، ورنہ ۔۔۔۔۔۔

بدھ، 27 مارچ، 2013

اینڈرائیڈ کے لیے انگریزی اردو لغت

قارئین اس بلاگ کا خادم، یعنی شاکر عزیز اینڈرائیڈ کے پرانے عاشقوں میں سے ایک ہے۔ اگرچہ اینڈرائیڈ ایپل آئی او ایس کے مقابلے میں ذرا "سستا" آپریٹنگ سسٹم گردانا جاتا ہے، اور یار لوگ اس پر مال وئیر اور وغیرہ وغیرہ 'وئیرز' کے خطرات کی نشاندہی فرماتے رہتے ہیں، پھر بھی میرا دل اینڈرائیڈ ہی مانگتا ہے۔ اسی عشق خانہ خراب کا شاخسانہ ایک عدد سام سنگ گلیکسی وائے اور پھر ایک عدد نیکسس سیون کی صورت میں میرے ہاں ظاہر ہو چکا ہے۔ اینڈرائیڈ چونکہ اب میری روزمرہ زندگی کا عمومی حصہ ہے تو اس کے لیے چھوٹے چھوٹے پروگراموں کی تلاش بھی رہتی ہے۔ انہیں میں سے ایک لغات کی تلاش ہے۔ پڑھتے ہوئے، براؤزنگ کرتے ہوئے، فلم دیکھتے ہوئے مجھے اکثر انگریزی سے انگریزی اور انگریزی سے اردو لغات کی ضرورت پڑی۔ انگریزی کے لیے تو مریم ویبسٹر کی بڑی شاندار ایپ موجود ہے۔ لیکن برا ہو اردو والوں کا اول تو کوئی ایپ دستیاب نہیں تھی، اگر ہونا شروع ہوئیں تو ان میں ڈھٹائی کی آخری حدوں کو بھی پار کر کے اشتہارات ٹھونسے ہوئے تھے۔ یعنی نستعلیقیت کا کوئی زمانہ ہی نہیں، ڈویلپر یہ سمجھتے ہیں کہ صارف کی ناک میں بھی چار پانچ اشتہار ٹھونس دئیے جائیں تو کم رہے گا۔ خدا کا غضب ڈیٹا سارا کلین ٹچ اردو لغت، مقتدرہ قومی لغت اور اردو انگلش ڈکشنری ڈاٹ کام جیسی جگہوں سے اٹھایا ہوا، اور صرف ایک سرچ ایپلی کیشن بنانے پر یہ سزا کہ انٹرنیٹ نہ ہو تو ایپ نہیں چلتی۔ اور ایپ نہ بھی چل رہی ہو تو نوٹیفکیشن بار میں اشتہار ٹھکا ٹھک چل رہے ہوتے ہیں۔ تو جناب ہم نے صرف ایک دن یہ گھٹیا پن برداشت کیا اور پھر کوئی اردو لغت استعمال کرنے سے توبہ کر لی۔ خدا بھلا کرے کوئک ڈکشنری والے کا جس نے ایک اوپن سورس اطلاقیہ بنا ڈالا، اشتہارات سے پاک اور بس کرنا یہ تھا کہ اردو ویب لغت والے ڈیٹا کو اس میں ڈال دیا جاتا۔ اللہ بھلا کرے محمد سعد کا اس نے اس ڈیٹا کو کوئک ڈکشنری لغت فائل کی صورت میں ڈھال دیا اور اب ہم ایک بہترین قسم کی آفلائن انگریزی اردو اور اکثر اردو انگریزی لغت سے مستفید ہوتے ہیں۔ تو جناب آپ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں، اینڈرائیڈ کے صارف ہیں تو انگریزی اردو لغت نصب کر کے اپنی زندگی آسان بنائیں۔ ہمارے لیے نوے فیصد مواقع پر یہ لغت کام دے جاتی ہے، امید ہے آپ کے لیے بھی دے گی۔ لغت نصب کرنے کے لیے مندرجہ ذیل مراحل پر نمبر وار عمل کریں اور ثوابِ دنیا و آخرت کمائیں:
انگریزی اردو لغت فائل اتاریں۔
اپڈیٹ: مقتدرہ قومی لغت فائل اتاریں۔
اپڈیٹ2: اردو انگلش ڈکشنری فائل اتاریں۔
اپڈیٹ 3: ابھی درج بالا دو لغات فائلز میں مسائل ہیں جن پر مزید تحقیق ہو رہی ہے۔ تب تک ایک سے کام چلائیں۔
3۔ یہ سیون زپ یا زپ فارمیٹ میں ہے، اس لیے سیون زپ نصب کر کے اس کو زپ فائل سے نکال لیں۔
4۔ اپنے اینڈرائیڈ آلے کو پی سی سے منسلک کریں۔
5۔ اپنے ایس ڈی کارڈ میں quickDic نامی فائل فولڈر تلاش کریں۔ اور اپنی پسندیدہ لغت فائل اس میں کاپی کر دیں۔
6۔ کوئیک ڈکشنری ایپ کو چلائیں اور یہ خوبخود موجودہ لغت فائلوں کاسراغ لگا لے گی۔
7۔ استعمال کریں اور موج لوٹیں۔ یہ فائلیں بنیادی طور پر انگریزی سے اردو لغت کے لیے ہیں، تاہم اردو سے انگریزی تلاش کی سہولت بھی کوئک ڈکشنری میں موجود ہے بس سرچ باکس کے ساتھ بائیں طرف ایک بٹن کو دبا کر زبان تبدیل کر لیں۔
اور جن احباب کو اس لغت کا علم نہیں انہیں مطلع ضرور کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ عوام اس سے مستفید ہو سکے۔
اور جاتے جاتے میرے نیکسس 7 پر لغت کی تصویر ملاحظہ کرتے جائیں۔

منگل، 26 مارچ، 2013

آنکھیں

غزال آنکھیں
کمال آنکھیں
وہ آپ اپنی
مثال آنکھیں
کہ بس سراپا
جمال آنکھیں
جو نم ذرا ہوں
وبال آنکھیں
جو جینا کر دیں
محال آنکھیں
اے یار تیری
کمال آنکھیں
(ذاتی تُک بندی)