پیر، 24 مارچ، 2014

دو قومی نظریہ؟

اس قوم کی تاریخ میں اتنے بڑے بڑے ہاسے ہیں کہ ہس ہس کر وکھیاں ٹوٹ جائیں لیکن ہاسے مخول ختم نہیں ہوتے۔ مثلاً یہ دو قومی نظریہ ہی لے لیں۔ ایک وقت تھا جب ابو الکلام آزاد وغیرہ کے خیال میں دو قومی نظریہ کچھ نہیں تھا۔ آج کل کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ابوالکلام بعد میں اپنے خیال پر پچھتائے۔ کچھ اور لوگوں کا خیال ہے کہ ابوالکلام نے کوئی پیشن گوئیاں کر دی ہوئی تھیں کہ بنگال اور مغربی پاکستان وغیرہ کے ٹوٹنے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ خیال چونکہ دو قومی نظریے کی جانب پچھواڑا کر کے چلتا چلا جاتا ہے اس لیے اس کے پچھواڑے پر ہی حتی المقدور لات رسید کر کے اسے  دفع دور کیا جاتا ہے اور دو قومی نظریے کی جی جان سے حفاظت کی جاتی ہے۔

سینتالیس میں جو دو قومی نظریے کے مبینہ مخالف تھے آج وہ اس کے مبینہ وارث بنے بیٹھے ہیں۔ اور جو دو قومی نظریے کے مبینہ وارث تھے آج کل وہ مبینہ طور پر فریڈم مارچ وغیرہ نکالتے پائے جاتے ہیں۔ ہے نا ہاسے والی گل۔ سنا ہے کہ جس دن محمد بن قاسم نے برصغیر پر حملہ کیا تھا اس دن یہاں دو قومیں بن گئی تھیں ایک مسلمان اور ایک ہندو۔ پھر سینتالیس ہو گیا اور پھر اکہتر ہو گیا اور مسلمانوں کے اندر دو مزید قومیں بن گئیں۔ ایک بنگالی اور ایک پاکستانی۔ اور پھر اپنی ماں پاکستانی قوم کو کھا کر اس کے پیٹ سے کوئی ادھی درجن اور قومیں نکل آئیں۔ انہیں میں سے کل سندھی نامی ایک قوم کوئی لال جھنڈے اٹھائے کسی پاکستان نامی ملک سے آزادی کے نعرے لگا رہی تھی۔ ہے نا ہاسے والی گل کہ دو قومی نظریہ جو اب کثیر قومی نظریہ ہو گیا ہے لیکن نہیں ہوا۔ عیسائیوں کی تثلیث کی طرح۔ سارے ایک ہیں اور ایک سارے ہیں۔ کیسی ہاسے والی سی گل ہے نا جی؟

دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ مسلمان ایک قوم ہیں اور باقی کافر ہیں۔ چنانچہ دنیا میں صرف دو قومیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ ارے نہیں مسلمان ایک امت ہیں۔ اور کافر ایک اور امت ہیں دو پھر دو امتیں ہوئیں: مسلمان اور کافر۔ یعنی دو بیانات کو اکٹھا کریں تو ریاضی کی زبان میں قوم = امت۔ اور نتیجہ؟ ایک پانچ ٹانگوں اور دو دھڑ والا بچہ۔ جو امت بھی ہے اور قوم بھی ہے۔ قوم بھی ہے اور امت بھی ہے۔ اور پھر اس قوم/امت میں سے کبھی عرب قوم نکل آتی ہے اور عجمی قوم نکل آتی ہے۔ پھر عرب قوم میں سے سعودی قوم قطری قوم سے سفیر واپس بلا لیتی ہے۔ اور پھر پاکستانی قوم میں سے بنگالی قوم الگ ہو جاتی ہے۔ اور پھر سندھی قوم بھی ہو جاتی ہے اور مہاجر قوم بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ امت کدھر گئی؟ لگتا ہے قوم = امت فٹ نہیں بیٹھتا۔ یہ اتنی ساری قومیں ایک ہی مذہب کی بنیاد پر کیوں ایک امت نہیں رہ سکیں؟ یا یہ امت ہی ہیں اور قوم کو امت کے برابر رکھ کر دو دھڑ پانچ ٹانگوں والا بچہ زبردستی جنا گیا ہے؟ یا شاکر فیر اپنے پاغل پن میں اول فول بک رہا ہے؟ ایہہ کی چکر است؟

گل سوچنے والی ہے نا؟ دو قومی نظریے کے وڈے کہتے ہیں کہ قوم مذہب کی بنیاد پر بنتی ہے۔ اسلام آ گیا تو بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مسلمان قوم ہو گئی اور ایک کافر قوم ہو گئی۔ پر چودہ سو سال کی تاریخ میں مذہب قبائلی، لسانی، جغرافیائی اور نسلی تعصبات کیوں ختم نہ کر سکا؟ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مذہب کی بنیاد پر قومیں بنتیں اور پھر قوم = امت ہو کر مسئلہ حل ہو جاتا۔ لیکن اس گندی غیر مثالی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ چند ایک مستثنیات کے علاوہ قوم پرستی اور قوم بندی میں مذہب کے ساتھ کوئی آدھ درجن اور فیکٹر آ شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے پھر امت کا تصور روحانی رہ جاتا ہے، بلکہ اخلاقی رہ جاتا ہے۔ چلیں اپنے صدر صاحب کی مثال لے لیں۔ وہ ہیں تو سہی لیکن بے ضرر ہیں، بس نام کے ہیں۔ تو امت بھی ہے تو سہی لیکن نام کی ہے۔ جس دن اللہ کا کوئی فرستادہ قیامت سے پہلے مسلمانوں پر اتر آیا تو قوم اور امت اکٹھے ہو جائیں شاید۔ اس سے پہلے امت وہ اوووووووووووپر آسمان پر موجود ایک تصور ہے۔ نظر تو آتا ہے، اچھا بھی لگتا ہے، اپنانے کو بھی دل کرتا ہے لیکن پھر یہ گندی دنیا، گندی باتیں، گندی دنیا داری اور مادی فائدے یہ سارے نظر کو گدلا کر دیتے ہیں دھندلا دیتے ہیں اور زیادہ مادی تصور یعنی قوم بحساب نسل، رنگ، جغرافیہ، زبان پر نظر چپک جاتی ہے۔ مذہب بھی حصہ رہتا ہے لیکن اسی طرح جس طرح باقی فیکٹر ہیں کبھی ذرا برتر کبھی ذرا کم تر۔ کبھی فیصلہ کن لیکن ہمیشہ نہیں۔ ویسے ہی جیسے بنگالیوں کی بار زبان فیصلہ کن ہو گئی تھی، پاکستان کی بار مذہب فیصلہ کن ہو گیا تھا۔

پر دو قومی نظریے کے وڈے یہ بات نہیں مانتے ان کے خیال میں ایک ہی قوم ہوتی ہے جس کا نام پاکستانی قوم ہے۔ اگر اس قوم کے علاوہ کوئی قوم مان لی تو پاکستان تو گیا۔ پاکستان کیوں گیا بھائی؟ پاکستان ایک حقیقت ہے اور کہیں نہیں جاتا۔ ساری قوموں کو تسلیم کرنے سے بھلا پاکستان کیوں کہیں جائے گا۔ یہ ہمارا گھر ہے، ہمارا وطن ہے، جیسے سعودی عرب سعودیوں کا وطن ہے۔ جیسے مکہ اور پھر مدینہ نبی ﷺ کا وطن تھا اور نبی ﷺ کو اپنے وطن سے محبت تھی۔ تو ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے۔ اس میں اتنا ڈرنے والی کیا بات ہے اگر اتنی ساری قومیں نکل آئی ہیں؟ شش، چپ رہو، بات نہ کرو، خبردار، ہٹو بچو کہہ کر کیا زبانیں بند کروا لو گے؟ دنیا اور چیخ چیخ کر کہے گی کہ بلوچستان کی تاریخ پاکستان سے الگ ہے۔ یہ کل ہی ایک سنڈے میگزین میں ایک بلوچ لکھاری کا ارشاد لکھا ہوا تھا۔ فریڈم مارچ ہوں گے۔ کراچی صوبہ اور سرائیکی صوبے کے نعرے لگیں گے۔ حق دو، جینے دو۔ پاکستان کی فیڈریشن میں ہر کسی کو حقوق دو۔ دو قومی نظریے نے پاکستان بنا دیا۔ اب اس کو قائم رکھو اور یہ قائم رکھنا دو قومی نظریے نہیں کثیر قومی نظریے سے ممکن ہے۔ اس ملک کے اندر دیکھو۔ اندر سے خطرے ہیں، آدھی درجن قوموں کے خطرے۔ تقسیم در تقسیم ہونے کے خطرے۔ ان کو زبردستی باندھنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ محبت پیار امن آشتی سے فاصلے مٹاؤ۔

کب تک ستر سال قبل کی دنیا میں جیو گے۔ آج کو دیکھو، آج اس وقت کو 2014 کو۔ آج پاکستان بنانا نہیں اسے قائم رکھنا ہے۔ اندر سے ہی گھن کھا گیا تو کھوکھا کس مول کا؟ گھن لگی لکڑی تو ایک ٹھوکر نہیں سہہ پاتی۔ خدارا اسے گھن لگنے سے بچا لو۔

ہفتہ، 22 مارچ، 2014

نفاذِ اسلام

میں جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے کالج سیکشن میں ایک کلاس پڑھا رہا تھا۔ بچوں کو لکھنے کے لیے ایک محرکاتی عنوان دیا ہوا تھا۔ آپ کے بس میں ہوتا تو کیا بہتر کرتے۔ کچھ اس قسم کا عنوان تھا اور بچے نے انگریزی میں کچھ فقرے لکھنے تھے۔ ایک بچہ کلین شیو، جینز پہنی ہوئی۔ اس نے ٹھیک کرنے کے لیے جو چیز لکھی تھی وہ مسلمانوں کا دین تھا۔ بچہ دینِ اسلام نافذ (اِمپوز) کرنا چاہتا تھا۔ اس کے الفاظ اور تاثرات کی شدت مجھے آج کئی ماہ بعد بھی ابھی کل کی بات لگتی ہے۔

مولوی ارشد میرے محلے میں کسی دوسرے شہر سے آ کر حجام کی دوکان کرتا ہے۔ اچھا ملنسار بندہ ہے۔ اس کے پاس بیٹھے ہوں تو حجاموں کی عادت کے عین مطابق باتیں کرنا اور سننا چلتا رہتا ہے۔ کوئی ایک ڈیڑھ برس سے اس سے ہی بال کٹوانے ہوتے ہیں، اچھا کام کر لیتا ہے اور اسے پتا ہے کہ میں کیسے بال کٹواتا ہوں۔ کوئی ایک ڈیڑھ ماہ پہلے دوکان کے سامنے سے گزرا تو اس نے لکھ کر لگایا ہوا تھا ہمارے ہاں شیو نہیں کی جاتی۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور حسبِ عادت تپ بھی چڑھی۔ میں نے کوئی دو چار باتیں بھی کہیں سنیں۔ لیکن پھر خیال آیا کہ بات کوئی ایسی غلط بھی نہیں، ویسے بھی اس کا حق ہے جو کام اس کا دل نہیں مانتا نہ کرے۔ خیر میں بال اب بھی اسی سے کٹواتا ہوں۔ اس تبدیلی کے بعد ایک آدھ بار ملاقات میں اس کے ساتھ اسلام پر بات چھڑ گئی اور بات کا اختتام سزاؤں پر ہوا۔ اللہ کی کتاب میں سزائیں بیان کی ہوئی ہیں، اس کا کہنا تھا۔ سزائیں نافذ کر دو، سارے تیر کی طرح کیسے سیدھے نہیں ہوتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ 

اسلام کے "نفاذ" اور مسلمانوں کو مزید مسلمان کرنے کے حوالے سے مسلمانوں میں یہ جذباتی بخار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کو ٹرک کی لال بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے کہ اسلام نافذ کر دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔   خلافت ہوتی تو ایسا نہ ہوتا۔ امریکہ کو جواب خلافت ہی دے سکتی تھی۔ اور پھر لشکر اور مسواک والی روایات۔ جنگ نہ جیت سکنے کی وجہ مسواک کا نہ کرنا۔ 

جذبات ، بیانات اور گفتار یہ ہے اور عمل یہ ہے کہ شادی بیاہ پر رنڈیاں بھی نچواؤ اور ربیع الاول میں عاشقِ رسول کا ٹیگ ایک عدد نقش بھی سینے پر لگاؤ۔  میں سوچتا ہوں کہ نبی ﷺ نے مکے میں زندگی کے تیرہ سال گلا دئیے۔ اپنے رشتے داروں، رشتے کے بھائیوں، بیٹوں، چچاؤں، ماموؤں کو دعوتِ دین دیتے رہے۔ نبی ﷺ نے تو آتے ہی نہ کہا کہ اسلام نافذ کر دو۔ اپنی زندگی کے سنہرے تیرہ سال ان لوگوں پر قربان کیے اور پھر ہجرت کی، جب کوئی چارہ نہ رہا۔ مدینے کے دس سال اور ان دس سالوں میں بھی اسلام پہلے انفرادی زندگیوں میں آیا پھر اجتماعی زندگی میں، بیک جنبشِ قلم نہیں بتدریج۔ پہلے دعوت و تربیت اور پھر عمل کا تقاضا۔ کیا ہی پیارا طریقہ تھا اور کیا ہی پیارا انسان ﷺ تھا جس نے سب کیا۔

آج اس دوغلے اور منافق معاشرے کو ٹھیک کرنے کے دعوے دار انقلابی ، بندوق بردار اور "شرعی" داڑھیوں والے، ان کی سمجھ میں کیوں یہ بات نہیں آتی کہ اسلام نافذ کرنا ہوتا تو اللہ اور اس کے نبی نے اسی دن کر دینا تھا جس دن جبریل پہلی وحی لے کر اترا تھا۔ انہیں یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ حکومت کے اسلام "نافذ" کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ کچھ اس وقت ہوتا ہے جب عوام اپنے اوپر اسلام خود طاری کرے۔ 

خدا ان کو ہدایت دے، خدا ہمیں ہدایت دے، خدا ہم پر رحم کرے، خدا اس ملک اور قوم پر رحم کرے۔ ان لوگوں نے اسلام کا نام، شریعت کا نام بیچ بازار رسوا کر ڈالا۔ ان کی انقلابی پھُرتیوں، ان کی فرقہ وارانہ سازشوں، ان کے فہمِ دین نے آج اجتماعی سطح پر اسلام پر عمل کی کسی بھی کوشش کو اسلام مسلط کرنا بنا دیا۔ انہوں نے سیاست کے نام پر اسلام کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ انہوں نے سچ کر دکھایا کہ جہاں مذہب اور سیاست یکجا ہوئے وہاں یہی کچھ ہو گا۔ لوگ ڈرتے ہیں، اسلام کے نفاذ سے ڈرتے ہیں۔ لوگ خوف کھاتے ہیں، پتھر اٹھائے وحشی ہجوموں کا خوف جو کسی کو بھی زانی قرار دے کر پیوندِ زمین کر سکتا ہے۔ کٹے ہوئے ہاتھوں کا خوف، کسی نے روٹی چرائی ہو، دس روپے چرائے ہوں یا دس ہزار چرائے ہوں۔ سرِ بازار کوڑوں کا خوف، جرم کوئی بھی ہو سزا کوڑے ہوں گے۔ لوگ دھماکوں سے ڈرتے ہیں، سی ڈی اور حجاموں کی دوکانوں پر دھماکوں سے ڈرتے ہیں۔ سینماؤں میں دستی بموں کے حملوں سے ڈرتے ہیں۔ 

نفاذِ اسلام کے نام پر مافیائیں وجود میں آ چکی ہیں۔ ہر ایک کا اپنا ایجنڈا ہے، ہر ایک کا اپنا نعرہ ہے، ہر ایک کا اپنا حلیہ ہے۔ ہر کوئی اسلام کے نام پر اپنے فرقے کا نمائندہ ہے۔ ہر کسی نے اسلام کو سیاست میں بیچ بازار بے پردہ کیا ہوا ہے۔ اسلام کے نام پر دوکان سجائے بیٹھا ہے، ڈگڈگی چل رہی ہے اور بندر اس ڈگڈگی پر محوِ رقص ہیں۔ نام اسلام کا، فائدہ سیاستدان کا۔ 

اور پھر میں سوچتا ہوں یہ کافر جو سارے ہیں، اس دنیا میں جو پچاس ساٹھ فیصد کافر ہیں اور کافر ملک ہیں۔ یہ جو امریکہ اور یورپ نامی کافروں کے علاقے ہیں۔ انہوں نے بھی کیا اسلام نافذ کیا ہوا ہے؟ وہ تو جمہوریت کی بات کرتے ہیں نا، کافروں کا نظامِ حکومت۔ پھر بھی ان کے شہری ہم سے زیادہ سکون میں کیوں رہتے ہیں؟ ادھر یہ بھارت میں کجریوال جیسے ہندو مشرک، وہ کیسے مسلمان نہ ہو کر بھی اچھے کام کر لیتا ہے۔ پھر میں اپنے ملک میں دیکھتا ہوں ہر کسی کے نام کے ساتھ نبی ﷺ کا نام ہے، آلِ نبی ﷺ کا نام لگا ہوا ہے۔ لیکن کام کیسے ہیں؟  اور پھر یہ نفاذِ اسلام کی بات، یہ کونسے نفاذ کی بات کرتے ہیں؟ ہر بات کا حل نفاذِ اسلام ، ہر بات کا حل ایک عدد "اسلامی" حکومت۔ 
میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے پتا نہیں کیا کیا کفریہ سوچ سوچتا ہوں۔

جمعہ، 14 مارچ، 2014

بَٹ کائن: دجال کا نیا ہتھیار

سودی مالیاتی نظام، کاغذی نوٹوں اور کریڈٹ کارڈ جیسے دجالی ہتھیاروں کے بعد اب امتِ مسلمہ کو پھانسنے کے لیے دجالی چیلوں کا نیا ہتھیار!
  • بَٹ کائن: ایک ایسی کرنسی جو وجود ہی  نہیں رکھتی۔
  • ایک ایسی کرنسی جسے کوئی چھاپتا ہی نہیں۔
  • ایک ایسی کرنسی جو ہر سودے پر خودبخود پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔
  • ایک ایسی کرنسی جو امتِ مسلمہ کو کافروں کے بنائے برقی آلات کا محتاج کر دے گی۔

جانیں کہ:
  • کہیں یہ قربِ قیامت کی ایک اور نشانی تو نہیں؟
  • عظیم دوست چین نے جس کرنسی پر پابندی لگا دی۔ امریکی سامراج آخر اسے کیوں پھیلانا چاہتا ہے؟
  • بَٹ کائن کا خالق ساتوشی ناکاموتو آخر کون ہے؟ کیا وہ جاپانی ہی ہے؟ آخر کوئی اس کی اصلیت کیوں نہیں پا سکا؟ اہلِ یہود کی ایک اور سازش بے نقاب کرنے کا عظیم الشان اور تفصیلی احوال پڑھیں!
  •  یہودی جو صدیوں سے سود کا مال کھاتے آ رہے ہیں۔ یہودی جو آج کے سرمایہ دارانہ نظام کے ان داتا ہیں۔ یہی یہودی اب امتِ مسلمہ کو اپنے مکروہ پنجوں میں جکڑنے کے لیے ایک اور خفیہ سازش کر رہے ہیں۔

آج ہی چربِ مومن کا تازہ شمارہ خریدیں اور اپنے محبوب لکھاری کے قلم سے نکلا تہلکہ خیز مضمون پڑھیں۔
مجاہدُالقلم، بحر العلم حضرت ہِسٹیریا مخول ہیجان مدظلہ کے آتش قلم سے نکلا سچ۔ جو آپ کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گا۔ چودہ طبق روشن کر دینے والے حقائق، روح فرسا انکشافات، قیامت خیز پیشن گوئیاں۔۔۔آج ہی چربِ مومن کا تازہ شمارہ خریدیں۔
نوٹ: بَٹ کا انگریزی لفظ Butt بمعنی پچھواڑا اور اردو لفظ بٹ بمعنی بٹ ذات سے کوئی تعلق نہیں۔
مزید نوٹ : تحریر میں کسی بھی نام سے مشابہت اتفاقیہ ہو گی۔ آگے آپ سمجھدار ہیں۔

اتوار، 18 اگست، 2013

یاداں

یہ یاداں بھی سالی عجیب ہوتی ہیں۔ بےوقت کی راگنی کی طرح بھیرویں شروع کر دیتی ہیں۔ چلتے چلتے اچانک ٹھوکر لگ جانے کی طرح، کہیں سے اچانک کوئی ہاتھ آ کے چٹکی بھرتا ہے اور یاداں گھوڑے کی طرح بدک اٹھتی ہیں۔ پھر لاکھ سنبھالو نہیں سنبھلتیں۔ زنجیری تعامل جو شروع ہوتا ہے تو ایک کے بعد دوسری، تیسری چوتھی ۔۔۔اور پھر یاداں کی ایٹمی چھتری پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ سارا حال ماضی کی دھول میں اٹ جاتا ہے۔ غائب حاضر اور حاضر غائب بن جاتا ہے۔ اَن دِکھی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں، لوگ، چیزیں، موسم، وقت سب کچھ: حقیقت اور غیر حقیقت ایسے ملغوبہ بن جاتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ جانے والوں کے چہرے تو کبھی بھولتے ہی نہیں، لیکن جب یاداں کا ایٹمی حملہ ہوتا ہے تو گویا جانے والوں کے آسیبی وجود عدم سے وجود میں آ جاتے ہیں۔ ابھی یہاں کچھ نہیں تھا، اور ابھی وہ چلتا پھرتا نظر آنے لگتا ہے۔ ہنستا، کھیلتا، گاتا، جیتا، جاگتا، وجود جو اس عدم اور وجود کے درمیان برزخ میں کبھی نابینا آنکھوں کے لیے بینا ہو جاتا ہے کبھی پھر سے ان دیکھے پردوں کے پیچھے اوجھل ہو جاتا ہے۔

یاداں بڑی ظالم ہوتی ہیں۔ روتے روتے ہنسا دیتی ہیں اور ہنستے ہنستے رُلا دیتی ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ یادِ ماضی عذاب ہے یا رب۔۔۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ یاداں ماضی ہی کیوں، مستقبل بھی تو یاداں میں آ سکتا ہے۔ یہ شاید ایسا ہی لگے جیسے مچھلیوں کا اڑنا، آگ کا ٹھنڈا کرنا اور بھینسوں کا درخت پر چڑھنا لگے۔ جیسے آگ کا کام جلانا ہے ویسے ہی یاداں کا کام ماضی کو حال میں واپس لانا ہے۔ لیکن یاداں میں آگ کی سی اضافی خاصیت ان کو دو دھاری بنا دیتی ہے۔ کہتے ہیں آگ جلاتی ہے اور شدید ٹھنڈک بھی جلاتی ہے ایسے ہی یاداں بھی کرتی ہیں۔ خوشی بھری ہوں یا دکھ بھری، سر پر سوار ہو جائیں تو آنسوؤں کی بھینٹ لے کر ہی ٹلتی ہیں۔

انسان بھی عجیب مخلوق ہے، حال میں رہتے ہوئے ماضی سے ناطہ توڑنا نہیں چاہتا، اس لیے یاداں کو ایسے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے جیسے کوئی محبت کے پہلے تحفے کو سنبھال کر رکھتا ہے۔ ساری عمر یاداں کے پودے کو اپنی ذات پر سینچتا ہے، اپنے اندر پروان چڑھاتا ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ یاداں امر بیل ہیں، جیسے جیسے عمر گزرتی ہے یاداں کا درخت تناور ہوتا چلا جاتا ہے اور جان کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب ہستی کے درخت کے ساتھ یاداں رہ جاتی ہیں اور چند سوکھے پتے۔ پھر بلاوا آ جاتا ہے اور یاداں۔۔ ۔پتا نہیں یاداں یہیں رہ جاتی ہیں، مٹی میں مل جانے کے لیے یا آگے پاس آن ہو جاتی ہیں ایک لامتناہی دنیا میں۔۔ ۔جہاں کسی چیز کا کوئی انت نہیں۔ شاید دکھ اور خوشی کا بھی نہیں۔

جمعرات، 8 اگست، 2013

فیس بُکی ارشادات و اقوالات

میرے احباب میں سے اکثر فیس بُک پر پلاٹ یا پلازوں کے مالک ہیں۔ اور میری سڑیل طبعیت کے کرم ہیں کہ پورے محلے میں مجھے لوگ اتنی بار مہینے میں نہیں دیکھتے ہوں گے جتنی بار فیس بک پر روزانہ دیکھتے ہیں۔ چنانچہ اس صورتِ حال کا سادہ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ میں اکثر فیس بُک پر پایا جاتا ہوں، اور دن کے کسی بھی وقت (بشمول رات) کسی بھی وقت بڑی بے شرمی سے پایا جا سکتا ہوں۔ اس پائے جا سکنے کی وجہ سے میں نہ صرف بذاتِ خود وہاں ادھر اُدھر کی ہانکتا رہتا ہوں، بلکہ اپنے جیسے دوسرے (ویلے کہنا زیادتی ہو گی) فیس بُکیوں کے ارشاداتِ گرامی بھی پڑھتا سنتا رہتا ہوں۔

کہتے ہیں جی کہ سانپ کو سانپ مارتا ہے، آرائیں کو آرائیں ہی ٹکرتا ہے اور فیس بُکیے کا دکھ درد ایک فیس بُکیا ہی سمجھ سکتا ہے۔ فیس بُک پر آپ غم غلط کرنے کے لیے بے شمار کام کر سکتے ہیں۔ گیم کھیلنا تو اب پرانا شوق ہو چکا ہے، تصویر بنا کر شئیر کرنا بھی کچھ نیا نہیں رہا، اپنے "میں ڈھڈی والے جا رہا ہوں" قسم کے اسٹیٹس اپڈیٹ بھی اب پرانے ہو چکے ہیں۔ لیکن فیس بک پر نئی چیزوں کی کبھی کمی نہیں ہوتی۔ چنانچہ آج کل حبیبانِ فیس بُک  کے ہاتھ آ ئے چھنکنے کا نام ہیش ٹیگ ہے۔ اب ہیش ٹیگ اکیلا ہوتا تو کوئی حیرت والی بات نہیں تھی یہی ہیش ٹیگ ٹوئٹر اور گوگل پلس پر عرصہ دراز سے کھجل ہو رہے ہیں۔ فیس بُک احباب نے (یہاں اردو لکھنے والے فیس بکیے مراد ہیں) ایک نئی جگاڑ لگائی ہے۔ اپنے اقوالِ زرّیں کی تشہیر کے لیے انہوں نے ذاتی ٹیگ تخلیق کیے ہیں۔ مثلاً بلو، ٹِلو، اچھو، نِمو، بھالو وغیرہ ۔ چنانچہ اپنے اقوالِ زریں اور زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کرنے کے بعد نیچے یہ ٹیگ لگا دیا جاتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو فیس بک پر جا کر ان ناموں سے ہیش ٹیگ سرچ کر کے دیکھ لیں آپ کو زندگی کو سنوارنے والے ایسے ایسے اقوال ملیں گے کہ کانوں سے دھواں نکلنے لگے گا، آنکھوں کے آگے اندھیرا آنے لگے گا، اب تک کی زندگی برباد شدہ لگے گی، آئندہ زندگی اس فیس بُک مرشد کے بغیر بے کار لگنے لگے گی، اور آپ حد سے زیادہ حساس واقع ہوئے ہیں تو غصہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، فون وغیرہ وغیرہ قسم کے آلہ رسائی فیس بُک پر بھی نکل سکتا ہے۔

عزیزانِ گرامیِ بلاگ آوازِ دوست! ایک وقت تھا کہ ہم کھُل کر حسد فرما لیا کرتے تھے۔ یہی کوئی بیس برس پہلے۔ جب ہم چھوٹے یعنی، نِکے ہوا کرتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے ہمیں اپنا حسد چھپانا پڑا کہ یہی دنیا کی ریت ہے۔ اب تقریباً پکی عمر تک پہنچتے پہنچتے اور پکتے پکتے یہ عادت اتنی پک چکی ہے کہ حسد کیے بغیر اگلا کھانا ہضم نہیں ہوتا (ہم حسد مارکہ پھکی بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔)۔ خیر حسد تو ہوتا ہے لیکن ہم اس کو ویسے نکال نہیں سکتے جیسے چھوٹے ہوتے نکال لیا کرتے تھے۔ اور چونکہ ہماری اکثر و بیشتر کائنات فیس بُک ہی ہے، تو اس پر لوگو ں نے جب نئے طریقے ایجاد کر لیے تو ہمارا بھی دل کیا کہ ہم بھی ایسا کریں۔ اور نہ کر سکنے کی وجہ سے ہم بھی شدید قسم کے حسد کا شکار ہو گئے۔ اس کو نکالنے کے لیے ہم نے سوچا کہ زہر کو زہر سے اور ہیش ٹیگ کو ہیش ٹیگ سے مارا جائے، # حاسد کا ہیش ٹیگ تشکیل دے کر عوام الناس، خواص الناس بلکہ یکے بعد دیگرے ہر ایک کاستیا ناس بلکہ سوا ستیا ناس مارا جائے، دل کی بھڑاس نکالی جائے، ریسٹ روم میں 'ریسٹ' فرماتے ہوئے اترنے والے، بدہضمی اور پیٹ کی خرابی کی صورت میں گیس کے ساتھ دماغ کو چڑھنے والے زریں خیالات کو اقوالِ زریں کی صورت میں عوام الناس کی مت مار نے کے لیے فیس بُک پر رکھا جائے۔

لیکن صاحبو کیا بتائیں آپ کو، کہ جیسے ہم اکثر و بیشتر شاعری کی قبض کا شکار رہتے ہیں، کچھ یہی صورتحال اقوالِ زریں کی صورت میں بھی رہی۔ ہم نے بہتیری کوشش کی، فیس بک پر کئی کئی گھنٹے قیام کیا کہ شاید کچھ غیرت ہی آ جائے، مشہور و معروف احباب کے ہیش ٹیگز پر مشتمل ارشاداتِ گرامی کو بار بار پڑھا کہ شاید کوئی لیڈ مل جائے، کوئی سرا ہاتھ آ جائے۔ لیکن صاحب یہ نہ تھی ہماری قسمت۔۔۔۔الخ، ہماری قسمت تھی ہی نہیں ہم زور لگا کر رہ گئے اور فیس بُکی احباب اقوالِ زریں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے۔ چنانچہ ہمارے پاس آخری حل یہ بچا کہ ایک عدد بلاگ پوسٹ لکھ کر دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں، جو ہم نے پھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہاں بھی سواد نہیں آیا۔ پھپھولے کچھ نہ کچھ رہ گئے۔

یہ تو منفی باتیں تھیں، مثبت بات یہ ہے کہ ہم کُلی طور پر اقوالِ زریں سازی کے عمل سے باہر نہیں رہے، کچھ نہ کچھ اس سلسلے میں تشکیل پاتا رہا، وہ الگ بات ہے کہ اسے عوام کے سامنے شئیر کرنے کی بجائے آگ لگا دینا اکثر بہتر معلوم ہوا۔ لیکن چونکہ اب معاملہ دل کی بھڑاس نکالنے کا ہے، اور اظہارِ حسد کا ہے، اور اس پوسٹ کا پیٹ بھرنے کا بھی ہے تو ہم نے ان اقوالِ زریں کو یہاں پیسٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آپ کو پسند آئیں یا نہ آئیں یہ یہیں پڑے ہیں۔ کر لو جو کرنا ہے۔

پہلا قولِ زریں در اصل ایک پیروڈی ہے جو ماہا ملک کے ناول 'جو چلے تو جاں سے گزر گئے' کا ٹیمپلیٹ لے کر ہم نے 'جو چلے تو گاں سے گزر گئے' بنایا۔ گاں یا اگاں پنجابی میں آگے یا فرنٹ کو کہتے ہیں، اب آپ اس کے اطلاقات پر سیر حاصل غور فرما سکتے ہیں، اور کوئی بعید نہیں کہ ایسے ایسے معانی دریافت کر لیں جو ہم نے خواب میں بھی نہ سوچے ہوں۔

ایسے ہی اگلے دن ہم لائبریری سے ایک ناول لینے گئے چھوٹی کی فرمائش پر تو اس کا نام تھا "زندگی گلزار ہے"۔ ہماری منجی ٹھوک طبیعت نے اس کے حصے بخرے کیے اور اپنی تھرڈ کلاس طبیعت سے مجبور ہو کران ٹکڑوں کو دوبارہ سے جوڑا تو نتیجہ یہ نکلا "زندگی شلوار ہے"۔ یہ ہم وزن تو ہو گیا لیکن ساتھ ہی خاصا بے ہودہ بھی ہو گیا (یہی وجہ ہے کہ ہم نے اسے فیس بک پر نہیں لگایا)۔ چنانچہ اس کی اضافی تشریح کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تو ہم نے کچھ ایسے تشریح کی: "زندگی شلوار ہے۔ جس کا نالا زیادہ کسا جائے تو بھی سانس رک جاتا ہے اور ڈھیلا رہ جائے تو بھی سنبھالنی مشکل ہو جاتی ہے۔۔۔" اس سلسلے میں مزید بکنے کی گنجائش موجود تھی لیکن ہم نے امنِ عامہ اور پی ٹی اے کی پابندیوں سے بچنے کے لیے اتنے پر ہی اکتفا کیا ہے۔

عزیزانِ گرامی اس سے پہلے کہ ہم مزید اقوالِ زریں بکیں، اور آپ کے ہاتھ اپنے بال (ظاہر ہے ہمارے بال آپ نہیں نوچ سکتے) نوچنے کی جانب بڑھنے لگیں، ہم اس پوسٹ کا یہیں اختتام کرتے ہیں۔ خوش رہیں، مسکراتے رہیں، اور فیس بُکی اقوالِ زریں تخلیق کرتے رہیں۔ کیا خبر کسی دن آپ کی ذاتی کتاب ہی چھپ جائے۔