منگل، 9 دسمبر، 2014

میں کیا لکھوں

کل صبح سے میرے اندر دھیمی آنچ جل رہی ہے، خون مسلسل کھولن کی کیفیت میں ہے۔ بار بار غصہ، فرسٹریشن، مایوسی ابلتی ہے، دل کرتا ہے کچھ تہس نہس کر دوں لیکن پھر ضبط کر کے بیٹھ جاتا ہوں۔
میرا شہر کل سارا دن ان بے غیرتوں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہا۔ ایک اقتدار کا پجاری سائیکو کیس اور اس کے مخالفین بدمعاش حکمران۔ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا ملیدہ۔ میرے شہر کا ایک نوجوان اپنی زندگی ہار گیا۔ ایک زندگی ہار گیا، اور سینکڑوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ فیس بک پر مرنے والے کی تصویریں لگا کر گو گو کے نعرے لگانے والے اپنے بستروں میں بیٹھے ہیں۔ ارے کوئی اس ماں سے بھی پوچھے جس کا لعل چلا گیا۔  یہ تو اپنی سیاست چمکا کر واپس چلا آیا، کوئی اس بہن سے پوچھے جس کا جوان بھائی قبر کی مٹی اوڑھ کر لیٹ گیا۔ میرے پاس لفظ ختم ہو رہے ہیں، دل کرتا ہے کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں۔ میرا سوہنا شہر فیصل آباد، اور ان کنجروں نے اسے گلزار سے آتش فشاں بنا دیا۔
ایک حق نواز مرا ہے، سینکڑوں حق نواز ایک دوسرے کے جانی دشمن بن گئے ہیں۔ ان کی گندی سیاست نے بھائی کو بھائی کے سامنے کھڑا کر دینا ہے۔ اور یونیورسٹی، کالجوں اور سکولوں میں گرم خون کے نوجوان ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہ بے غیرت ہمیں جس ٹائم بم پر بٹھا گئے ہیں اس سے نقصان کسے ہو گا؟ ہم ہی مریں گے نا۔ پی ٹیائی والوں کا خون سفید ہے یا نونیوں کا؟ کون لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ پڑھنے والا نہیں ہے؟ کون پاکستانی نہیں ہے؟
بھاڑ میں گئی ان کی دھاندلی، بھاڑ میں گئے ان کے چار حلقے۔ خدا غارت کرے انہیں، خدا انہیں قبر میں بھی چین نصیب نہ ہونے دے۔ ان اقتدار کے بھوکے جنگلی جانوروں کو، خدا کی لعنت ہو ان سب پر۔ ان کے اقتدار کے اس گھناؤنے کھیل میں پتہ نہیں کتنے حق نواز جان سے جائیں گے۔

ہفتہ، 15 نومبر، 2014

مولا میں تیری رحمت کا محتاج

آج سے کوئی تین ہفتے قبل میری زندگی کا ایک خواب پورا ہوا۔ ایک عرصہ قبل یہ خواہش کی تھی کہ خود کو کسی یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوا دیکھوں۔ اور اللہ نے وہ خواہش آخرکار پوری کر دی۔ یونیورسٹی آف گجرات، حافظ حیات کیمپس میں بطور ایسوسی ایٹ لیکچرار تعیناتی نہ جانے کیسے جھٹ پٹ ہو گئی۔ اللہ سائیں کی رحمت تھی کہ اس نے ہر رکاوٹ دور کی۔ میں جب بھی لکھنے بیٹھوں تو الفاظ ختم ہو جاتے ہیں، بولوں تو زبان کہاں سے لاؤں کہ میں اس قابل کہاں تھا کہ اتنی عطاء ہو جاتی۔

دل تو سالا پاگل ہے، دوسروں کو دیکھ کر مچلتا ہے دس والی چیز ہو تو پندرہ والی مانگتا ہے۔ اب بھی دل کرتا ہے کہ ایسوسی ایٹ کی بجائے لیکچرر کی مل جاتی تو کیا تھا۔ اور شہر سے اتنی دور کی بجائے ادھر فیصل آباد میں ہی مل جاتی تو کیا تھا۔ ایسے "تو کیا تھا" اور "کاش" میرے بلٹ ان ناشکرے پن کی وجہ سے کبھی نہیں ختم ہو سکتے۔ لیکن یہ جو اللہ کی رحمت ہوئی ہے اس پر میں تو اس قابل بھی نہیں کہ شکر ہی ادا کر سکوں۔ میں کیا اور میری اوقات کیا، اس کی عطاء اور کرم، رحمت اور فضل۔۔۔یہ جو سب کچھ اس کا دیا ہوا ہے میں اس پر کس منہ سے شکر ادا کروں۔ میری اتنی جرات کہ میں شکر ادا کروں۔

بابا جی سرفراز اے شاہ کہا کرتے ہیں کہ دعا میں دنیا مت مانگو بلکہ اللہ سے اس کی ذات ہی مانگ لو۔ کہ مولا تو ہی میرا ہو جا۔ بابا جی کی باتیں اللہ والوں والی ہیں۔ میرے جیسے دنیا کے کتے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں بھی تو دنیا ہی مانگیں گے۔ کھانی مولا کی اور چاکری دنیا کی۔ کیا کریں گندی نالی کے کیڑے کی یہی اوقات ہوتی ہے کہ گھوم پھر کر پھر وہیں گندگی میں جا گھستا ہے۔ وہی حال میرے جیسے دنیا داروں کا ہے، گھوم پھر کر پھر اسی گندگی میں جا گھستے ہیں۔ گندگی سے گردن نکال کر ذرا سی دیر کے لیے پالنے والے کی سمت دیکھا اور پھر گندگی میں دھنسا لی۔

لیکن رب تو سب کا ہے جی، وہ اپنے نیک بندوں کی بھی سنتا ہے اور میرے جیسے کمی کمینوں کی بھی سنتا ہے جن کا سونا جاگنا اٹھنا بیٹھنا مردہ بدبودار بکری سے بھی حقیر دنیا ہی ہے۔ پچھلے دنوں سرفراز اے شاہ صاحب کی کتاب لوحِ فقیر پڑھتے ہوئے ان کا قول نظر سے گزرا کہ اللہ سے دعا میں اس کا فضل، اس کی رحمت اور اس کا کرم مانگیں۔ اللہ جانے یہ بابا جی کو پڑھ کر شروع کیا تھا یا میرے اندر کے دفاعی میکانزم نے خودبخود چرخہ چلا دیا تھا۔ چھوٹے کی مرگ سے اگلا دن تھا، سب روتے تھے اور میں چپ تھا۔ اسی دن ہی سے یاد پڑتا ہے کہ ایک جملہ میری زبان پر چڑھ گیا تھا "مولا میں تیری رحمت کا محتاج" اور آج وہ حرزِ جاں بن گیا ہے۔ میں بہت گنہگار ہوں، اتنا کہ شاید اس کی مخلوقات میں میرے جیسا رذیل کوئی نہ ہو۔ لیکن اس کی ذات مجھے اپنے سایہ رحمت میں لیے رکھتی ہے اور میری منہ سے بس اتنا نکلتا ہے کہ مولا میں تیری رحمت کا محتاج۔ مجھ سے دکھ برداشت نہیں ہوتے یا میں کرنا نہیں چاہتا، مشکل دیکھ کر پتلی گلی سے نکل لیا کرتا ہوں اور ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش رہتی ہے۔ گاڑی بھی چلاؤں تو کم رش والے روڈ سے گزرتا ہوں کہ رش بھی ایک مشکل ہے۔ میری اسی چور بزدل ڈرپوک طبیعت نے مجھے اللہ کی رحمت میں پناہ ڈھونڈنے پر مجبور کر دیا کہ اس سے مشکلیں آسان ہو جاتی ہیں۔ اللہ کی رحمت بھی اپنے فائدے کے لیے مانگتا ہوں، میں بھی کیسا بدنصیب ہوں۔

لیکن کیا کروں، میں جیسا بھی ہوں اس کے نبی ﷺ کے نام لیواؤں میں سے ہوں۔ ایمان کے جس کمترین درجے پر بھی کھڑا ہوں، بندہ تو اسی کا ہوں۔ پھر میں آخر کیوں نہ کہوں کہ مولا میں تیری رحمت کا محتاج، میں تیرے فضل کا امیدوار، میں تیری عطاء کا بھوکا، میں تیرے کرم کا محتاج، میرا ہر بال، میرا ہر سانس تیری رحمت کا محتاج۔ تو سخی مولا، تیرے نبی ﷺ کی ذات سخی مولا۔ تو نبی ﷺ کا صدقہ، تو آلِ نبی ﷺ کا صدقہ، تو اصحابِ نبی ﷺ کا صدقہ مجھ پر اپنی رحمت ہی رکھیو۔ میری جھولی میں تیری رحمت کے سوا بھلا اور کیا ہے۔ یہ تیرا کرم ہی تو ہے، تیرا فضل اور تیری عطاء ہی تو ہے کہ میں آج جو کچھ بھی ہوں صرف تیری وجہ سے ہوں۔ میری سانس کا آنا جانا بھی مجھ پر تیری رحمت ہے۔ میرے ہونے میں بھلا میرا کیا کمال ہے مالک۔ یہ تو تیرا کرم ہے کہ تو نے مجھے پیدا کیا۔ میرا لوں لوں تیری رحمت کا قرضدار میں سنکھوں بار پیدا ہو کر بھی یہ قرض چکا نہ پاؤں۔ میں بھلا تیرے در کے سوا کہاں جا سکتا ہوں۔ اگر تیری رحمت نہ ہو تو میرے پلے کیا رہ جائے بھلا۔
مولا میں تو بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں تیری رحمت کا محتاج۔ میں بھلا تیرا شکر کیسے کر سکتا ہوں۔

اتوار، 31 اگست، 2014

خود کلامی

میں اپنے کمرے میں بیٹھا سورج کو نکلتا دیکھ رہا ہوں۔ ایک شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے۔ 
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیا واقعی شبِ ظلمات ڈھل چکی ہے؟ یا ایک شروع ہو رہی ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ 
شاید سورج آج معمول سے زیادہ اداس ہے۔ یا شاید نہیں ہے۔
شاید چودہ سو سال پہلے جب عثمان ابن عفان ؓ کی شہادت ہوئی تھی تب بھی ایسا ہی دن نکلا ہو گا؟
شاید فاطمہ ؓ بنت محمد ﷺ کے لعل حسینؓ ابنِ علی ؓ اور اسماء ؓ بنت ابی بکر ؓکے جگر گوشے عبداللہؓ ابن زبیرؓ کی شہادت کے بعد بھی ایسا ہی سورج نکلا تھا؟
نہیں ایسا نہیں ہوگا۔ وہ تو محبوب بندے تھے۔ ان کے جانے پر تو ساری کائنات بھی روتی تو کم تھا۔ 
ساری کائنات روئی ہو گی۔ میں خود کو جواب دیتا ہوں۔ لیکن دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان نہیں ہوں گے۔
کیا یہ سورج ایک بار پھر بے گناہ مرگ دیکھ کر اداس ہے؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟ مجھے کچھ ہلیوسی نیشنز کچھ دماغی فتور یاد ہے۔
شاید مجھے بخار تھا؟ نیند میں بڑبڑاتا رہا ہوں؟ میں ہذیان بکتا رہا ہوں؟
میں خود سے سوال کرتا ہوں۔ میں ساری رات کہاں رہا ہوں؟
ہاں مجھے کچھ کچھ یاد آ رہا ہے۔ میں نیم نیند میں رہا ہوں۔ 
میں سوتا بھی رہا ہوں اور جاگتا بھی رہا ہوں۔ بڑی لمبی رات تھی۔ 
میں ساری رات سنتا رہا ہوں، دوکانوں پر چلتے ٹیلی وژنوں پر جلتی بجھتی سرخیاں جو اتنی دور سے بھی میرے کان پھاڑتی رہی ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر کچھ مناظر اور کچھ تحریریں۔۔۔گلا پھاڑتی خاموش تحریریں۔۔۔
میں سنتا ہوں غریبوں پر بڑی لمبی رات تھی۔ ایک طرف کے غریب دوسری طرف کے غریبوں سے لڑتے رہے۔
ہر کوئی کنٹینر کی بات کرتا ہے۔ 
کون سا کنٹینر؟ میں سوال کرتا ہوں۔
اور میرے سامنے رنگ برنگے کنٹینر آ جاتے ہیں۔
ایک سے اعلان ہو رہا ہے کارکنو آگے بڑھو کپتان نے سوچ سمجھ کر تمہیں کہا ہے۔
ایک سے اذان نشر ہوتی ہے۔
اور کئی ایک کنٹینر ایک بستی کے اطراف میں پڑے ہیں، راستے بند کرنے کے لیے۔
میں نیم نیند کی کیفیت میں شاید ہذیان بکتا رہا ہوں۔ مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
لیکن یہ مرگ بر کنٹینر کیوں؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کیوں کہ ہر کنٹینر کے پیچھے انا، مَیں ، تکبر اور گھمنڈ کی ایک ڈھیری چھپی ہوئی ہے۔ میں اپنے آپ کو جواب دے کر پھر سے نعرے لگانے لگتا ہوں۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔
بخار شاید میرے دماغ کو چڑھ رہا ہے۔ اتنی گرمی بھی تو لگ رہی ہے۔ اوپر کپڑا لوں تو پسینہ آتا ہے ، نہ لوں تو سردی لگتی ہے۔
میں عجیب دوہری مصیبت میں پھنس گیا ہوں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی کدھر جاؤں۔
یہ کروں یا وہ کروں۔
بے چینی اور بے کلی ہے۔ میں پھر انٹرنیٹ کھول لیتا ہوں۔
لوگ جاگ رہے ہیں۔ سب جاگ رہے ہیں، پاکستان جاگ رہا ہے۔ شاید میری طرح جاگ رہے ہیں؟ نیم نیند کی کیفیت میں؟ شاید انہیں بھی نیند نہیں آ رہی؟
ہر چند منٹ بعد ایک اسٹیٹس آ دھمکتا ہے۔ 
لوگ ٹی وی کے آگے بیٹھے ہیں۔ ایک ہجوم کو دوسرے ہجوم سے لڑتا دیکھ رہے ہیں۔ 
پیچھے کہیں کنٹینر بھی نظر آ رہے ہیں۔
ایک ہجوم وردی والا ہے۔ ایک ہجوم وردی کے بغیر ہے۔
لیکن کپڑوں سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ میں خود سے سوال کرتا ہوں۔
کپڑوں کے اندر کون ہے؟
 تیس ہزار تنخواہ لینے والا ایک پولیس والا ہے۔ جس نے اپنے بچے پالنے ہیں۔
اس پولیس والے کے خلاف ایک کنٹینر بول رہا ہے۔ میرے کارکنوں کو کچھ نہ کہو ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہو گا۔
ہاں کارکن بھی ہیں۔ کارکن کون ہیں؟
عام لوگ ہیں۔ میرے جیسے۔ آنکھوں میں خواب سجائے وہاں گئے ہیں۔ 
نظام تبدیل کرنے کی خواہش لیے۔ اپنوں سے ٹکراتے ہیں۔
کیا یہ پولیس والے اپنے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں۔
اگر یہ اپنے ہیں تو انہیں پتھر کیوں پڑ رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
اگر یہ اپنے ہیں تو آنسو گیس کیوں برسا رہے ہیں؟ میرے پاس اس کا بھی کوئی جواب نہیں ہے۔
میں پھر اکتا جاتا ہوں۔
ایک جیسی باتیں۔ ایک جیسے اسٹیٹس۔ 
کوئی ایک کنٹینر کا حامی ہے۔ کوئی دوسرے کنٹینر کا حامی ہے۔
ہر کوئی کسی کو کوس رہا ہے۔
ہر کسی اسٹیٹس کے پیچھے موجود ہیجان صاف دکھائی دیتا ہے۔
جیسے اسٹیٹس گو سامنے بیٹھا کف اڑاتا ہوا سب کچھ چنگھاڑ رہا ہو۔
کنٹینروں پر لگے اسپیکروں کی طرح۔ یا شاید نہیں۔
ایک کنٹینر والا 14 لاشوں کا حساب مانگنے پہنچا ہے۔
ایک کنٹینر والا نیا پاکستان بنانے پہنچا ہے۔
اور ایک کنٹینروں والا استعفیٰ دینے کو تیار نہیں۔
تین اناؤں کی جنگ۔
لعنت ہو، لعنت ہو۔۔۔۔
مجھ پر پھر وحشت طاری ہوتی ہے۔ نیم نیند اور بخار مجھے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ پھر وحشت اور ہذیان۔۔۔۔
مرگ بر امریکہ۔ مرگ بر اسرائیل۔ مرگ بر کنٹینر۔۔۔۔
لاشوں کی سیاست کرنے والو۔ تمہیں خون کی پیاس ہے۔ تمہیں خون چاہیئے۔ غریب کا خون چاہیے۔ تبھی تمہارے اندر جلتی ہوسِ اقتدار کی آگ بجھے گی۔
پھر ہذیان ۔۔۔میں شاید پاگل ہو رہا ہوں۔ میں ہوش کھو رہا ہوں۔
کیا واقعی میں ہوش کھو رہا ہوں؟ 
اگر میں ہوش کھو رہا ہوں تو یہ جو ہجوم آپس میں گتھم گتھا ہے ، کیا یہ ہوش والے ہیں؟
یا ان کو لڑانے والے ہوش مند ہیں؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔
لیکن مجھے لگتا ہے میں ہوش کھو رہا ہے۔
یا شاید مجھے نیند آ رہی ہے۔
میں سو جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر سکون سے گزرتی ہے۔ اور پھر سورج نکل آتا ہے۔
میں نماز بھی قضا کر بیٹھا ہوں۔
خدایا! یہ کیسا دن نکلا ہے؟
کیا شب ظلمات کا اختتام ہو گیا؟ میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں۔
کیا ظلم کی سیاہ رات ختم ہو گئی ہے؟
کیا آنے والا عذاب ٹل گیا ہے؟
یا ایک اور ظلمتوں بھرے عہد کا آغاز ہو رہا ہے؟
میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بدھ، 2 جولائی، 2014

وزیرستان کے ضرورتمند بہن بھائیوں کے لیے عطیہ

رمضان بھی ہے اور وزیرستان کے بہن بھائی اس وقت ضرورتمند بھی ہیں۔ زکوٰۃ، صدقہ، خیرات کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اپنا دل بھی ہو گا کہ کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے۔ بس یہ یاد رکھیں کہ قابل اعتماد تنظیم، شخص یا ادارے کو عطیہ دیں۔ اس سلسلے میں مَیں نے جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن کو بہترین پایا ہے۔ جماعت الدعوۃ والوں کی خیراتی سروس فلاح انسانیت فاؤنڈیشن بھی اچھی ساکھ کی حامل ہے لیکن ان کے سخت گیر نظریات کی وجہ سے ایک آدھ بار کے علاوہ کبھی ان کو عطیہ دینے پر دل مائل نہیں ہوا۔ ضرورتمندوں کو دیکھ کر برساتی کھبمیوں کی طرح اگنے والی جعلی تنظیموں سے ہوشیار رہیں۔ یاد رکھیں صدقہ دے دینا ہی آپ کی ذمہ داری نہیں، یہ بھی جہاں تک ممکن ہو یقینی بنائیں کہ وہ ضرورتمند تک پہنچے گا بھی۔ یہ بھی پوچھ لیں کہ متعلقہ ادارہ یا تنظیم وزیرستان کے لیے کوئی آپریشن چلا رہا ہے یا نہیں، اگر ہاں تو کہہ کر اس فنڈ میں پیسے لکھوائیں۔ آپ کے شہر میں بے شمار مخیروں نے خیرات کرنی ہے، وزیرستان تک جانے والے سو میں سے چند ہی ہوں گے۔ اس لیے یقینی بنائیں کہ آپ عطیہ دیں بلکہ یہ عطیہ ضرورتمند بہن بھائیوں تک پہنچے بھی۔ 
اللہ کریم جزائے خیر دے۔

ہفتہ، 28 جون، 2014

سیاہ سیات

اس ملک میں ایک دیوار ہو جانا، یا درخت ہو جانا، یا راستے کا کوئی پتھر ہو جانا چاہے اسے ٹھُڈے پڑتے رہیں، یہ سب آسان کام ہیں۔ لیکن انسان ہونا مشکل اور ہولناک ترین کاموں میں سے ایک ہے۔ دیوار، درخت اور پتھر نہ سنتے ہیں نا بولتے ہیں۔ اپنی دنیا (اگر ایسی کوئی دنیا ہے تو) میں مست رہتے ہیں۔ کوئی توڑ دے، اکھاڑ دے یا ٹھُڈے مارتا رہے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بدقسمتی سے انسان سنتا بھی ہے، بولتا بھی ہے اور دیکھتا بھی ہے۔ اور اس سننے بولنے دیکھنے کی وجہ سے اس ملک میں انسان ہونا انتہائی مشکل اور بدترین باتوں میں سے ایک ہے۔ انسان کے لیے دو ہی راستے ہیں یا تو وہ پتھر ہو جائے صم بکم بے حسی کی آخری حدوں کو چھو لے یا پھر کف اڑاتا اور گالیاں بکتا پھرے۔ اور یہاں یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یا تو بے حس ہو جاؤ یا پھر لڑنے کے لیے ہر دم تیار رہو۔

اخبار، فیس بک، ٹیلی وژن کچھ کھول لو ہر جگہ باؤلے پاگل ک (کتے والا کاف ملحوظ خاطر رکھیں) کا ایک گروہ نظر آتا ہے جو اقتدار نامی ہڈی ایک دوسرے سے چھیننے کے لیے ایک دوسرے کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ زمانہ جاہلیت اور دو تین سو سال قبل والی بادشاہت اور اس سے پہلے خلافت کے بھیس میں بادشاہت موجود نہیں اس لیے صرف منہ سے کف اڑانے اور ہُورے مُکے دکھانے پر ہی اکتفا ہوتا ہے۔ ورنہ یہاں ہر چوتھے دن لاشوں کا جمعہ بازار لگا کرتا۔ ہر کوئی مصلح قوم بن کر تلوار اٹھاتا اور بادشاہ/خلیفہ کے خلاف نکل کھڑا ہوا کرتا۔

جس دن کوئی لغت تیار کی تو سیاست کا غیر رسمی نام کنجر خانہ بھی پاورقی میں لازمی دوں گا۔ کہ ہر وقت تو کنجر خانہ لگا رہتا ہے۔ اور اسی کنجر خانے کو قوم نے تفریح طبع کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ سارا دن دوکانوں، گھروں، مسافر خانوں، دفاتر میں ٹیلی وژن چلتے ہیں۔ اور سارا دن اقتدار کے بھوکے ک کی بھونکیاں چار چار لکیروں کی صورت میں "بریکنگ نیوز" بن کر چلتی رہتی ہیں۔ فلاں ک نے یہ کہہ دیا، فلاں وڈے ک نے یہ کہہ دیا۔ ہر ک کے الفاظ وکھرے مگر مفہوم یکساں: مجھے اقتدار سونپ دو اور دیکھو پھر میں اس ملک کو ساتویں آسمان پر لے جاؤں گا۔ خود دفعان ہو جاؤ۔ 

قوم نے اس کنجر خانے کو اب قومی کھیل سمجھ لیا ہے۔ کرکٹ گیا، ہاکی پھُس ہو گئی، سکواش ٹھُس ہو گئی۔ کبھی دھماکے ہو گئے، کبھی غیر ملکی ٹیم پر حملہ ہو گیا۔ کبھی میچ لگا تو نچلی نسل کے محلے دار مصلحان قوم نے فتویٰ دے دیا لو ساری قوم کو میچ دیکھنے پر لگایا ہوا ہے، بھلا یہ کوئی شیوہ مسلمانی ہے؟ اور اب سیاسی کنجر خانے سے آنکھیں چمٹی رہتی ہیں، اسی میں تفریح تلاش ہوتی ہے، کھاتے پیتے سوتے جاگتے اسی سے کان بھرتے رہتے ہیں نتیجے میں خون مسلسل دھیمی آنچ پر کھولتا رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس نیم کھولنے کی کیفیت میں ایک نشہ سا آ گیا ہے۔ ساتھ خود ترسی کا جام بھرا ملتا ہے تو چسکیاں لیتے ہوئے دو آتشہ کیفیت ہو جاتی، پوری قوم اس افیم کے نشے میں دھت ہلکے ہلکے سرور میں کھوئی اپنے کام کرتی چلی جاتی ہے اور ک اپنے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔

ادھر کسی اور ملک سے ایک غیر ملکی اپنے گروہ کے ساتھ انقلابی پھکی لے کر نمودار ہوتا ہے۔ نعرہ نظام بدلنے کا ہے اندر خواہش اپنے اقتدار کی ہے۔ وہی پہلے پیرے والی بات: بیان وکھرا وکھرا۔۔۔۔لیکن مفہوم ایک بس مجھے اقتدار دے دو۔ ادھر کہیں سے کوئی خلافت کا نعرہ لگاتا ہے نظام نہیں سب کچھ بدلو جھُرلو پھیرو بادشاہت لاؤ پھر دیکھو کیا مزیدار چاٹ بنے گی۔ مفہوم وہی پہلے پیرے والا تم سب دفعان ہو جاؤ متقی اور پرہیزگار تو میں ہی ہوں اس لیے خلیفہ/ بادشاہ بننے کا حقدار بھی میں ہی ہوں بس مجھے اقتدار دو پھر دیکھتا ہوں۔ اور پھر کچھ جو زبان نہیں چلا سکتے وہ بندوق اٹھا لیتے ہیں کبھی مذہب کا نام ہے اور کبھی محرومیوں کا نام ہے لیکن منزل وہی ہے کہ اقتدار ملے۔

اور یہ قوم افیم کے نشے میں سوئی رہتی ہے ساتھ مارفین کے ٹیکے بھی لگتے رہتے ہیں: تمہارا ملک بڑا عظیم ملک ہے۔ ارے یہ تو اللہ نے بچایا ہوا ہے ورنہ جتنا اسے کھا لیا یہ تو کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ ارے ساری دنیا، کفار کے سارے ملک اور ساری ایجنسیاں اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ ارے اس کے بانوے ارب ڈالر سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہیں۔ ارے یہاں کیا چیز نہیں ہے، ہر چیز ہے بس یہ لوگ کھا جاتا ہے ہمیں نہیں دیتے۔ ارے اس کی جغرافیائی لوکیشن ہی تو سب کچھ ہے، اسی لیے تو امریکہ توڑنا چاہتا ہے اسے۔

مارفین کے نشے کے ٹیکے لگتے رہتے ہیں اور قوم لگے دم مٹے غم کا نعرہ لگا کر مست رہتی ہے۔ بجلی نہیں ملتی (گردشی قرضہ چڑھتا چلا جاتا ہے)، گیس ختم ہوتی چلی جاتی ہے اور روٹی پکانے کو بھی نہیں ملتی، پانی، زرعی زمین، جنگلات غرض ہر قدرتی وسیلہ (جو جتنا بھی ہے) ہر روز ناسور کی طرح پھیلتی آبادی ہڑپ کرتی چلی جاتی ہے۔ ہر دن اگلے دن سے زیادہ اوکھا نکلتا ہے۔ لیکن قوم اپنے آپ میں مست، جُتیاں بھی کھاتی رہتی ہے اور ہذیانی کیفیت میں بڑبڑاتی بھی چلی جاتی ہے۔ ہر دوسرے چوتھے دن کوئی ڈرامہ کھڑا رہتا ہے قوم کی انٹرٹینمنٹ کے لیے۔ کنجر کنجروں کے خلاف عدالت لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور قوم ہمیشہ کی طرح دھیمی آنچ والے نشے میں انجوائے کرتی رہتی ہے۔ کبھی ایک ک دوسرے کو جج کی کرسی پر برداشت نہیں کر سکتا اور جلدی باری لینے کے لیے لڑنے لگتا ہے کبھی ایک ک جب باری دے رہا ہو تو حاجی ہوتا ہے باری لینے پر آ جائے تو اسی ک کی پگ سر پر رکھ کر اس سے ایک انچ وڈا ک بن جاتا ہے۔ اور پھر ایک تیسرا ک کہیں اور سے آ کر کہتا ہے اوئے اے عدالت نئیں لگ سکدی ساڈا حصہ وی دؤ۔ سارا ڈرامہ چلتا رہتا ہے۔ اور پاکستانی یا تو پتھر، درخت  دیوار ہو جائے یا پھر گریبان پھاڑ کر ملنگ ہو جائے۔ درمیان میں کہہ رہ گیا تو دھیمی آنچ پر کھولتا اس کا لہو ایک دن لاوے کی طرح پھٹتا ہے اور نتیجے میں نقصان صرف اُس کا ہوتا ہے ک عدالت ویسے ہی لگی رہتی ہے۔

پر سانوں کی؟ ویسے بھی کنجر خانے میں طوطی کی آواز سنتا کون ہے؟