اتوار، 27 جنوری، 2013

اردو بلاگ کانفرنس پر پڑھی گئی

عزیزانِ گرامی، عالی قدر بلاگران و سامعین اسلام و علیکم!
سب سے پہلے تو اردو بلاگ فورم اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جنہوں نے مجھے  سینئر بلاگر سمجھا۔ ورنہ بقول کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی،  میرے جیسے لوگ اکثر کسی کونے میں پڑے پڑے  سینئر ہو جایا کرتے ہیں۔ جس میں  کمال ان کے کچھ نہ کرنے کا ہوتا ہے۔ میں بھی ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں،  اور پچھلے کئی سال سے ایویں بلاگر ہوں۔ خیر آپ سب احباب کا شکریہ، اور مزید شکریہ کہ آپ مجھے برداشت کر رہے ہیں۔
میرے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا کہ یہاں تشریف لا کر اردو بلاگنگ پر کچھ ارشاد فرماؤں۔ تو صاحبو کوشش کرتا ہوں کہ کچھ بیان کر سکوں، کوتاہی یا صرفِ نظر ہونے پر، کچھ رہ جانے پر پیشگی معذرت کرتا ہوں۔ میرے لیے اردو بلاگنگ کی تاریخ بیان کرنا تو ممکن نہیں ہو سکے گا، کہ یہ کام برادرم  میم بلال میم بہ احسن اپنے بلاگ پر سر انجام دے رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ پایہ تکمیل تک بھی پہنچے گا۔ اس مختصر سے وقت میں میری کوشش، یہاں اس محفل میں یہ ہو گی کہ پچھلے سات آٹھ برس میں جو کچھ میں نے دیکھا، محسوس کیا اور جو کچھ مجھے آئندہ ہوتا لگ رہا ہے، وہ بیان کر دوں اور کم سے کم الفاظ میں بیان کر دوں۔
تو آئیں پھر بلاگ سے بات شروع کرتے ہیں۔ بلاگ کی کوئی باضابطہ قسم کی تعریف مہیا نہیں کروں گا۔ بس اتنا  کہ میری سمجھ کے مطابق بلاگ ایک ڈائری ہے، ایسی ڈائری جو آپ آنلائن لکھتے ہیں اور دوسرے اسے پڑھ کر اس پر تبصرہ ، رائے وغیرہ ظاہر کر سکتے ہیں۔ بلاگ ایک غیر رسمی قسم کی ویب سائٹ ہے، جہاں کوئی کسی بھی موضوع پر اپنے خیالات تحاریر کی شکل میں بیان کر سکتا ہے۔ اور بلاگ عموماً زمروں اور ماہانہ بنیادوں پر  درجہ بند ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ہر دو اعتبار سے ایک بلاگ پر تحاریر کو پڑھ سکتے ہیں۔
بلاگ کی بات ہو گئی تو اب پاکستانی بلاگز اور اردو بلاگز کی جانب چلتے ہیں۔ انگریزی بلاگز کا ذکر نہیں کروں گا، چونکہ میں اس معاملے میں اناڑی ہوں، بذاتِ خود نہ انگریزی بلاگنگ میں بہت زیادہ ڈبکی لگائی، نہ انگریزی بلاگنگ کے رجحانات سے اتنی زیادہ واقفیت ہے۔ ہاں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ انگریزی بلاگر اور پاکستانی انگریزی بلاگر اردو کی نسبت کچھ آگے ہیں، آج کی محفل ،جو اردو بلاگز کی تاریخ کی پہلی ایسی محفل ہے، ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ اور وہ لوگ بطور پیشہ یہ کام بھی کرتے ہیں۔ تو واپس اردو بلاگز پر آتے ہیں۔  میں ماضی سے شروع کروں گا، کچھ یادیں کچھ باتیں آپ سے شئیر کر کے حال اور پھر مستقبل کی جانب بڑھوں گا۔
مجھے یاد ہے شاید 2005 کے آخری ماہ تھے ، جب میں نے انٹرنیٹ پر اردو محفل سے واقفیت حاصل کی۔ کیسے اس فورم کا پتا چلا، یہ اب یاد نہیں۔ تاہم اس کے بعد مجھے دوسروں کی دیکھا دیکھی بلاگ لکھنے کا شوق چڑھا۔ چند احباب جو کبھی بہت فعال تھے، یا اس وقت بلاگنگ کرتے تھے ان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ زکریا اجمل ہوا کرتے تھے، جو اردو اور انگریزی دونوں میں بلاگ لکھتے تھے۔ پھر ان کا اردو کی طرف رجحان کم ہوتا گیا۔ قدیر احمد رانا، ایک بہت ہی فعال بلاگر ، بہت پیارا انسان  لیکن پھر وہ بھی غمِ روزگار کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اس  نے اپنا اردو بلاگ بھی شروع کیا، اور اردو ٹیک نیوز کے نام سے بھی ایک بلاگ چلایا کرتا تھا۔ ایک آدھ بار میں نے بھی اس بلاگ کے لیے کچھ لکھا۔ پھر ایک بدتمیز بھائی ہوا کرتے تھے، آج کل شادی شدہ ہو کر عمران حمید ہو گئے ہیں۔ بہت تیکھا بندہ تھا، ایک عرصے تک میں موصوف سے بات کرنے سے بھی ہچکچاتا تھا، یہی ڈر ہوتا تھا کہ اس کے ہتھے چڑھ گئے تو بہت بری ہونی ہے۔ لیکن بڑی پیاری شخصیت ، سنجیدہ اور متین ، بالمشافہ ملاقات میں  عرفیت کے بالکل متضاد نظر آئے۔ پھر ہمارے راشد کامران ہوا کرتے تھے۔ ہیں تو اب بھی لیکن بہت کم ۔ انہوں نے اردو بلاگنگ کے نام سے اردو بلاگرز کے لیے ایک سروس بھی شروع کی انہیں دنوں میں۔ تب اردو نسخ ایشیا ٹائپ کا دور تھا، تو ان کی سروس کے نئے نئے فونٹ بہت ہی بھلے لگتے تھے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد یہ سروس بند ہو گئی۔ عمران حمید کے حوالے سے اردو ٹیک بلاگنگ سروس کا  تذکرہ بھی ضروری ہے، جہاں اردو بلاگرز نے ایک عرصے تک بلاگز بنائے رکھے۔ لیکن پھر عدم توجہی کی بنیاد پر یہ منصوبہ بھی ٹھپ ہو گیا۔ ایک اور  صاحب ماشاءاللہ آج کل بہت مشہور قسم کے وکیل، جناب شعیب صفدر صاحب مجھ سے سینئر بلاگر، اور ان کے بلاگ کی تھیم مجھے ہمیشہ  بڑا اٹریکٹ کرتی تھی۔ پھر غلام مصطفٰی خاور جاپان والے بھی مجھ سے کئی سال سینئر بلاگر ہیں۔ ایک عرصے تک ان کی تحریر کا فونٹ  ٹائمز نیو رومن یا اس جیسا کوئی فونٹ رہا۔ پچھلے کچھ برسوں سے نستعلیق میں پوسٹ نظر آنے لگی ہے، اور قارئین کو پڑھنے میں کچھ آسانی ہوتی ہے اب۔ پھر ایک بھائی کراچی سے ہوا کرتے تھے، نعمان یعقوب، اپنی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ اور دودھ دہی کی دوکان کیا کرتے تھے۔ پھر ساتھ انگریزی بلاگنگ شرو ع کر دی، میرا اور ان کا ایک مشترکہ شوق لینکس تھا۔ آج کل ماشاءاللہ سوشل میڈیا ایکسپرٹ  ہیں، اور سرچ انجن آپٹمائزیشن کے ماہر بھی ہیں۔ تذکرہ چلا تو افتخار اجمل صاحب جو  بزرگ اور پرانے ترین بلاگرز میں سے ایک ہیں، میرا پاکستان والے افضل صاحب جو ایک عرصہ تک بڑی باقاعدگی سے بلاگ لکھتے رہے۔ اور پھر اردو محفل والے نبیل، جن کے تیار کردہ جاوا اسکرپٹ اردو ایڈیٹر نے انٹرنیٹ پر اردو لکھنا بہت آسان کر دیا۔ (تدوین: جہانزیب اشرف کا نام رہ گیا جس کا مجھے بہت افسوس ہوا۔ وہ بھی عرصہ دراز تک اردو میں بلاگ لکھتے رہے اور ابتدائی بلاگروں میں شامل تھے، کچھ برسوں سے کم نظر آتے ہیں۔)
احبابِ مکرم!   2004، 5 یا 6  یا 2008تک بھی  اردو بلاگرز دو تین درجن کی تعداد میں تھے، اور ان میں سے بھی بہت کم فعال تھے۔ ابھی نستعلیق کا دور نہیں آیا تھا، اردو نسخ ایشیا ٹائپ بہر حال تاہوما سے بہتر فونٹ تھا، اور یہی طےشدہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ورڈپریس ابھی نیا نیا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک بار اس کے ورژن 1 اعشاریہ کچھ کا ترجمہ کرنے کی کوشش بھی کی، اور پھر  دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ ترجمہ آگے نہ چل سکا۔ اردو بلاگرز کئی جگہوں پر بلاگز بناتے رہے۔ 2006 میں بلاگسپاٹ پر پابندی لگی تو فری ہوسٹس پر منتقل ہو گئے۔ وہاں سے ڈیٹا ضائع ہوا تو واپس بلاگسپاٹ پر۔ کچھ نے ورڈپریس ڈاٹ کام کو ٹرائی کیا، اس دوران اردو ٹیک کی بلاگنگ سروس بھی زیرِ استعمال رہی۔  رفتہ رفتہ کچھ احباب نے ذاتی ڈومین خرید لیے۔
اور آج، اگر ہم دیکھیں تو اردو بلاگز کے سب سے پرانے ایگریگیٹر اردو سیارہ پر ڈیڑھ سو بلاگز رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں کئی نابغہ روزگار ہستیاں موجود ہیں۔ کرک نامہ کے ابوشامل، آئی ٹی نامہ کے ظہیر چوہان، موبائل پر اردو بلاگ کا آغاز کرنے والا نوجوان، میرا خیال یہ نوجوان ایک اور بلال ہے، جو شاید کراچی سے ہیں۔ پھر ہمارے پاس ادب پر لکھنے والی شخصیات میں محمد وارث، آہنگِ ادب والے احباب، خرم بشیر بھٹی  جیسی شخصیات موجود ہیں۔  فرحان دانش اپنا بلاگ بھی لکھتے ہیں اور سُوکر نامہ بھی شاید انہی کی ادارت میں چلتا ہے۔ اسی طرح محمد اظہار الحق جو روزنامہ دنیا کے کالم نگار بھی ہیں، اور بلاگ پر بھی مضامین شائع کرتے رہتے ہیں۔ غرض ہمارے پاس ایک لمبی فہرست ہے جس میں موضوعاتی بلاگنگ کی کچھ بہت کامیاب مثالیں بھی موجود ہیں جیسے کرک نامہ، شوگر پر شائع ہونے والا ایک بلاگ، اور منظرنامہ جو ایک بہت اچھی کوشش تھا لیکن زیادہ عرصہ چل نہ سکا۔ طنزو مزاح کے حوالے سے بلو بلا، ڈفر اور جعفر جس کی ہر تحریر کی کاٹ ہی الگ ہوتی ہے۔ پھر بہت سی خواتین بلاگرز موجود ہیں، اللہ جنت الفردوس میں جگہ دے، عنیقہ ناز جیسی ہستی بھی ہمارے درمیان موجود تھی۔ کچھ احباب بھارت سے بھی بلاگنگ کرتے ہیں حیدرآبادی، شعیب صاحب وغیرہ۔ غرض لمبی فہرست ہے اور جن کا تذکرہ میں نہیں کر سکا ان سے معذرت، یہ میری کوتاہی  اور وقت کی کمی کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔
عزیزانِ گرامی حال میں ہمارے پاس نہ اردو لکھنے میں کوئی مسئلہ کہ پاک اردو انسٹالر دستیاب ہے، نہ تھیم کی دستیابی کوئی بہت بڑی وجہ کہ بہت سے تھیم اردو میں پہلے سے تبدیل شدہ موجود ہیں، اور نہ اچھا فونٹ نہ ملنے کا عذر کہ ہمارے پاس نستعلیق کی کم از کم تین اقسام موجود ہیں۔ اور تاج نستعلیق جیسے ہیرے بھی جلد ہی دستیاب ہوں گے۔ آج ہم 2004 یا اس سے قبل کے مقابلے میں بہت آگے آ چکے ہیں۔ ہمارے پاس وہ سہولیات ہیں جن کا صرف ایک وقت میں خواب دیکھا جا سکتا تھا۔ مثلاً ویب پر رینڈرنگ کے قابل ایک نستعلیق فونٹ، یہاں وضاحت کرنا چلوں کہ نستعلیق فونٹ ڈسپلے ہونے میں زیادہ پروسیسنگ مانگتا ہے، یا پھر ان پیج کی طرح ترسیمہ جاتی فونٹ ہو جیسا کہ جمیل نستعلیق اور فیض لاہوری نستعلیق جیسے فونٹ موجود ہیں۔
تو صاحب ہمارے پاس آج بڑے پیارے پیارے لوگ موجود ہیں، بڑی نابغہ روزگار ہستیاں ہیں۔ آج اردو بلاگنگ اپنے پنگھوڑا دور سے باہر آ چکی ہے۔ لیکن آج بھی ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں۔ میں بہت زیادہ تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔ بس سرسری تذکرہ کرکے اس گفتگو کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں۔ پہلا مسئلہ تو مستقل مزاجی کا ہے۔ منظر نامہ کی مثال دی گئی، قدیر احمد رانا اور عمران حمید جیسے بلاگر، جو کچھ عرصے بعد بلاگنگ کو خیرباد کہہ گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بنیاد رکھی تھی، لیکن  پھر ہمارا اور ان کا ساتھ چھوٹ گیا۔ مستقل مزاجی سے جڑی ایک چیز ہے پیشہ ورانہ پن، جو اردو بلاگنگ میں ابھی موجود نہیں۔ صرف کرک نامہ جیسی جہادی قسم کی مثالیں موجود ہیں، تاہم ابوشامل جیسی ڈٹرمینیشن  ہر کسی کے پاس نہیں ۔ مستقل مزاجی اور پیشہ ورانہ پن اس وقت آتا ہے جب کسی کام کے ساتھ روزی روٹی لگ جائے۔ اور اردو بلاگنگ میں ابھی یہ بہت دور کی کوڑی لگتی ہے۔ شاید کئی سال اور، چونکہ اردو بلاگز کو اشتہار نہیں ملتے، جو آج کل کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اس لیے بلاگرز اتنے فعال نہیں رہتے یا پھر ویسے ہی غمِ روزگار پر بلاگنگ کو قربان کر دیتے ہیں۔
کمیونٹی کے حوالے سے دیکھیں تو ہمیں فعال نظر آنے کے لیے ایسے اکٹھ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بہت ہی خوش آئند ہے کہ اردو بلاگ فورم معرضِ وجود میں آیا اور دعا ہے کہ یہ کانفرنس ایک لمبے سلسلے کا پہلا قدم ہو، اور ہر برس بلکہ ہر چند ماہ بعد ہر بڑے شہر میں ایسے اکٹھ ہوں۔ جہاں ہم مل بیٹھ کر نہ صرف پیشہ ورانہ مسائل پر گفتگو کریں، بلکہ ایک دوسرے سے سیکھیں بھی اور اپنے ملک کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داری کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کریں۔
ایک اور اہم  چیز روایتی میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے رابطے کا فقدان ہے۔ اگرچہ بی بی سی اردو، جنگ، ڈان اردو وغیرہ وغیرہ پر اردو بلاگ نظر آنے لگے ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ بطور کمیونٹی ہمارا تعلق ابھی دوری والا ہے۔ میں آپ کو اپنی مثال دیتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی کوشش نہیں کی کہ اپنی کوئی تحریر کسی بڑے ادارے مثلاً ڈان اردو کو ہی بھیج دوں کہ وہ اپنے بلاگنگ سیکشن میں شائع کر دیں۔ ہمیں رابطے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم، یعنی عام عوام میں سے کچھ لوگوں کی بات زیادہ بڑے پیمانے پر سنائی دے تو ایسے رابطے بڑھانے ہوں گے۔
کاپی رائٹ کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہمیں نہ صرف دوسروں کے کاپی رائٹس کا خیال رکھنا ہو گا، بلکہ اپنی تحاریر کی چوری پر بھی چپ رہنے کی بجائے مناسب حکمتِ عملی کے ذریعے اس کا سدِباب کرنا ہو گا۔ کرک نامہ کی کچھ تحاریر کچھ ماہ قبل ایک کرکٹ میگزین نے بلا اجازت اور اپنے نام سے چھاپ دیں، لیکن ہمارے پاس  کاروائی کا کوئی ذریعہ ہی نہ تھا، چناچہ ایک دو پوسٹس، اور فیس بک پر دو چار شئیرنگ کے بعد چپ ہو کر بیٹھ گئے۔
آخر میں گروپ بلاگنگ اور موضوعاتی بلاگنگ کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔ گروپ بلاگنگ جس کی ایک اچھی مثال منظرنامہ تھا، ایک اچھا قدم ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا بلاگ جہاں پر اردو بلاگرز کی بہترین تحاریر کو جگہ ملے۔ یا حالاتِ حاضرہ پر کوئی ایسا بلاگ  بھی بن سکتا ہے۔ اور موضوعاتی بلاگنگ، کرک نامہ کی ٹیم کو سلام ہے کہ مفتو مفت کام کیے جا رہے ہیں۔ آئی ٹی نامہ، سوکر نامہ، پاک موبائل وغیرہ کچھ چراغ روشن تو ہیں لیکن انہیں چراغاں میں بدلنا ہو گا۔ اور اس کے لیے جہاں ذاتی کوشش چاہیے، وہاں اجتماعی کوشش بھی چاہیے۔ بطور کمیونٹی اگر ہم فعال ہوئے تو میڈیا اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو احساس ہو گا کہ  یہ لوگ بھی ریڈرشپ رکھتے ہیں۔ اور شاید اس طرح  ٹیلنٹڈ بلاگرز کے لیے مالی مشکلات کا بھی کچھ مداوا ہو سکے۔
بلاگرانِ عالی قدر، آپ کی سمع خراشی  کی ،ا تنا سارا وقت لیا۔ اس زحمت کو برداشت کرنے کا شکریہ۔ اردو بلاگ فورم کا پھر سے شکریہ جنہوں نے  یہ اکٹھ ممکن بنایا،  دعا ہے کہ اللہ کریم اس میں ہمارے لیے بہتری  پیدا فرما دے۔
وما علینا الالبلاغ

منگل، 25 دسمبر، 2012

کرسمس کرسمس

ہر سال کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو گیا جس سے خبردار کرنے کے لیے باقاعدہ فتوے جاری کرنے پڑے. پر فتوے والوں نے خود ہی فتوے لگا لگا کر ان کی حیثیت گھٹا ڈالی ہے. ہر کروٹ پر فتوی ، بسیار گوئی کا کوئی تو نتیجہ نکلنا تھا.
ایک اور ٹرینڈ فیس بک کا چل نکلا ہے وہاں ایمان بچاؤ برگیڈ ہر ایسے موقع پر سرگرم عمل ہو جاتا ہے. ماشاءاللہ عظیم لوگ ہیں اور نیک نیت رکھتے ہوں گے. میرا مقصد یہاں یہ ان وجوہات کو قلم بند کرنا ہے جو مجھے کرسمس کی مبارکباد دینے پر مجبور کرتی ہیں.
اول تو یہ کہ قرآن و حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں غیر مسلموں کو ان کے تہواروں کی مبارکباد دینےکی ممانعت مجھے نظر نہیں آتی. یار لوگ چند قدیم ملاؤں کے اقوال پیش کرتے ہیں اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی والی حدیث (جو اکثر معاملات پر فٹ کی جاتی ہے مثلاً پینٹ شرٹ ). یہاں مبارکباد باد دینے سے کس مشابہت کا خدشہ لاحق ہوتا ہے میں سمجھنے سے قاصر ہوں.
کچھ لوگوں نے نقطہ اٹھایا کہ نبی پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم.نے تو مبارکباد نہ دی. کچھ تحقیق سے معلوم ہوا کہ تب تو عیسائی گنتی کے چند لوگ تھے مدینہ اور مکہ میں. مثلاً اماں خدیجہ کے کزن. اسی طرح مدینہ کے اسلام دشمن عیسائی کا ذکر ملتا ہے عامر نامی شاید. یعنی اس وقت اولاً تو عرب میں عیسائی تھے نہیں یا کم تھے ، ثانیاً یہ رسم ابھی اتنی مقبول نہیں ہوئی تھی کم از کم عرب کے عیسائیوں میں جو اکثر راہب ہی بنے. اس کے برخلاف نجران یا جو بھی مقام تھا ، کے عیسائی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو مسجد نبوی میں قیام بھی کرتے ہیں اور عبادت بھی. یعنی نبی رسول صلی اللہ علیہ وسلم.ان کی دلجوئی کا اتنا خیال تھا.
پھر دلیل یہ بھی دی گئی کہ کرسمس کا مطلب اللہ نے بیٹا جنا نعوذ باللہ اور پیدائش مسیح علیہ اسلام پر ساری بحث کہ تاریخ پچیس دسمبر نہیں. میرے پاس تو بس یہ وجہ ہے کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے. میری نیت یہ ہے کہ اسلام کا اچھا تاثر جائے اور مجھ میں جتنا بھی رتی بھر اخلاق اور رواداری اس عمل سے انہیں نظر آتی ہے اسے دیکھ کر شاید وہ اسلام کی جانب مائل ہوں. جیسے میرے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم.کا طرز عمل تھا.
میرے ایک عیسائی کولیگ کئی برس سے ہر عید پر مبارکباد دیتے ہیں. بطور مسلمان نہ تو مجھے ادھار رکھنا پسند ہے اور نہ ہی میرے پیشوا رحمت اللعلمین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت یہ ہے کہ شفقت و رحمت کا سلوک روا نہ رکھا جائے. چنانچہ میں بھی عیسائی بھائی بہنوں کو کرسمس کی مبارکباد دوں گا اور انشاء اللہ یہ عمل مرتے دم تک رہے گا.
نبی سائیں صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ سب انسان برابر ہیں. عیسائی مسلمان بھی برابر ہیں. چنانچہ میرا فرض ہے کہ بطور مسلمان یہ رویہ نہ دکھاؤں کہ میں تو چنیدہ مخلوق ہوں اور وہ جسٹ اینی باڈی. اللہ کرے یہ طرز عمل سب اختیار کریں اور اسلام کا پیغام محبت سے غیر مسلموں میں پہنچے. تاکہ وہ اسلام کا مطالعہ کریں اور اسلام قبول کریں.
تمام عیسائی بھائی بہنوں کو کرسمس مبارک ہو.

بدھ، 24 اکتوبر، 2012

یادیں

جانے والے چلے جاتے ہیں اور یادیں رہ جاتی ہیں۔ ابھی ہنستا کھیلتا لڑتا جھگڑتا آتا جاتا وجود، ابھی وہی وجود بے جان ہو کر سامنے پڑ اہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ وقت بہت بڑا استاد ہے۔ پر موت بھی بہت بڑ ا استاد ہے جی۔ ایسے ایسے سبق پڑھا جاتی ہے کہ ساری عمر نہیں بھولتے۔ پیچھے پچھتاوے، سوچیں اور رونے رہ جاتے ہیں۔ جب کوئی اپنا آنکھوں کے سامنے جان دے دے، ہاتھوں میں سانس کی ڈور منقطع کر ڈالے، جب زندگی بھرا وجود پل بھر میں کھگھا بن جائے۔ تب کی وہی جانتاہے جس پر یہ بیتتی ہے۔ باقر فوت ہو گیا، کئی احباب نے فون کیے، کئی نے میسج، فیس بک، ای میل، ذاتی ملاقات میں تعزیت کی۔ سب کی بڑی مہربانی، انہوں نے یاد رکھا۔ اللہ اس بچے کی مغفرت کرے۔ اس کے جانے کے بعد احساس ہوا کہ وہ کتنا اجنبی تھا۔ ایک گھر میں اٹھارہ سال ساتھ رہنے کے بعد، اچانک چلا گیا۔ اس کے جانے پر کونسی آنکھ ہے جو اشک بار نہیں تھی۔ عجیب بات ہے کہ میرے سامنے اس کی ڈیڈ باڈی پڑی تھی اور میں ہاتھ میں موبائل پکڑے کبھی کسی کو فون کروں کبھی کسی کو۔ خالہ کو بتایا، فلاں کو بتایا۔ ہر کسی نے رو لیا لیکن میں نہ رو سکا۔ بے حسی تھی، صبر تھا یا میں نے اسے اپنے ہاتھوں میں مرتے نہیں دیکھا۔ میرے اندر اب بھی بس کبھی ابال سا اٹھ جاتا ہے لیکن اب تک میری آنکھوں سے آنسو نہیں گر سکے۔ دل کرتا ہے کہ کچھ لکھوں۔ لیکن کیا لکھوں۔ اس کے جانے پر اب کیا لکھوں۔ اب بھی یہ چند سطریں اس لیے گھسیٹ رہا ہوں کہ کراچی سے اردو بلاگر انیقہ ناز کی وفات کی خبر آ گئی۔ ان کے برادرِ نسبتی کے فیس بک اسٹیٹس سے ایکسیڈنٹ کے ذریعے موت کا پتا چلا۔ پیر کو وہ انتقال کر گئیں۔

اردو بلاگنگ میں ان لوگوں میں سے تھیں جن کا میں دلی احترام کرتا تھا۔ سارے بلاگر قابل احترام ہیں، لیکن کچھ لوگوں کا باقاعدہ قاری تھا۔ ان بلاگ بھی ان میں سے ایک تھا۔ اب اردو بلاگنگ میں ننھی پری کی چھوٹی چھوٹی باتیں کوئی نہیں لکھے گا۔ مختلف اور ترقی پسند (یا سیکولر قسم) کی تحاریر کوئی نہیں لکھے گا۔ متبادل نقطہ نظر، اور جسے پڑھ کر اکثر بلاگروں کو آگ لگ جاتی تھی، اس کا ایک ذریعہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ اللہ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے۔ موت بہت بڑا دکھ ہے جی، پر جوان موت اس سے بھی بڑا دکھ۔ اگلوں پچھلوں کو توڑ کر مٹی کر دیتی ہے۔ جس کے سامنے کوئی اپنا بھری جوانی میں رخصت ہوا ہو یہ اسی کو پتا ہوتا ہے کہ جوان موت کا غم کیا ہوتا ہے۔ بیٹا، بھائی، باپ، ماں، بہن ان میں سے کوئی بھری جوانی میں چلا جائے تو پیچھے رہ جانے والے ساری عمر اس کے شاک سے نہیں نکل سکتے۔ اللہ ان کی بچی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ مرحومہ کے والدین اور خاوند کو حوصلہ اور صبر جمیل عطا کرے۔ پتا نہیں ان کی بچی ٹھیک ہے یا نہیں، اللہ اس کو دنیا کی تتی ہواؤں سے بچائے۔
 بہت بڑا غم ہے۔۔۔
 انا للہ و انا الیہ راجعون

جمعرات، 13 ستمبر، 2012

غلط کو غلط نہ کہنے کی روش

آج کے اخبارات، اور کل کے آنلائن شماروں میں یہ خبر نمایاں طور پر شائع ہوئی کہ امریکی معلون پادری ٹیری جونز نے توہین آمیز ویڈیو تیار کی ہے۔ جس کے نتیجے میں لیبیا میں بلوائیوں کے ایک گروہ نے امریکی سفیر کو ہلاک کر ڈالا۔

بات شروع ہوتی ہے فیس بک سے، جہاں ایک صاحب تصویر شئیر کر رہے ہیں۔ نیچے لکھے کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ شامی انجینئر پوچھ رہے ہیں لیبیا والوں نے تو یہ سب کر کے اپنی محبت کا ثبوت دے دیا، پاکستانی کہاں ہیں؟ ان سطور کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ پاکستانی بھی اٹھیں اور ملک میں غیر ملکیوں پر حملے شروع کر دیں، ان کے سفیروں کو ہلاک کر ڈالیں۔ ایک ایسے جرم کے لیے جو انہوں نے نہیں کیا، ایک ایسی صورتحال میں جب وہ نہ ہمارے ساتھ حالتِ جنگ میں ہیں، اور نہ ہتھیار بند ہو کر مقابلے پر اترے ہوئے ہیں، اور کچھ ایسے لوگوں کے ہاتھوں جو اپنے آپ کو اعلی درجے کے مسلمان اور عاشق رسول سمجھتے ہیں، اور بزعم خود قاضی القضاۃ کے عہدے پر فائز ہو کر،آن دی اسپاٹ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ان کو مار ڈالتے ہیں۔

میں نے فیس بک پر یہ سوال کیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو اسلامی ملک میں ذمی کی حیثیت رکھتا ہے، اسکی جان و مال کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے، اس کا قتل کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اور اس پر ایک دوسرے کو شہہ کیسے دی جا سکتی ہے کہ دیکھو فلاں نے کر دیا اور تم پیچھے رہ گئے۔ مجھے جواب دیا گیا کہ غیر ملکی سفیر ذمی نہیں ہوتے۔ میں نے مان لیا، لیکن پھر سوال اٹھ آیا کہ ایک غیر ملکی سفیر جو ویزے پر اسلامی ریاست میں داخل ہوا، ایک معاہدہ جو اس کے اور ریاست کے مابین ہے کہ ہماری حدود میں داخلے پر تمہاری جان و مال کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ ایک معاہدہ یعنی وعدہ جس کے لیے محمد الرسول اللہ ﷺ تین دن تک ایک جگہ کھڑے رہتے ہیں، آج ان کے نام لیواؤں کے نزدیک ردی کے ٹکڑے کی اہمیت بھی نہیں رکھتا۔

مجھے جواب دیا جاتا ہے کہ امریکی مسلمانوں کے ساتھ پوری دنیا میں یہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسامہ بن لادن کو بنا کسی عدالت کے ایسے ہی موت کے گھاٹ اتارا۔ طالبان پر بنا کسی عدالت کے ایسے ہی حملہ کیا، عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا۔ ان کے ساتھ کوئی سفیر کا معاہدہ نہیں۔ ان کا قتل جائز ہے۔ میرا سوال بس یہ کہ کیا اسلامی ریاستوں نے امریکہ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا؟ کیا وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیے؟  ان کے سفیروں کو وارننگ دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا؟ ان کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا گیا؟ آگے سے پھر وہی جواب آئے کہ یہ عین جائز ہے چونکہ امریکہ ۔۔۔۔اگلا حصہ آپ جانتے ہیں اس لیے اسکپ کر رہا ہوں۔

ابھی میں اپنے بنیادی سوال کی طرف نہیں آیا۔ آئیں ایک صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ ایک واقعے میں عیسائی ریاستوں میں سے ایک میں ایک مسلمان خاتون کو شہید کر دیا جاتا ہے، اس کا جرم کیا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہے اور مسلمان ہے۔ مسلمان اس پر چراغ پا ہو جاتے ہیں، ان کے نظام انصاف کو صلواتیں سناتے ہیں۔ گالیاں دیتے ہیں، اسے نا انصافی کہتے ہیں۔ دوسرے واقعے میں ایک اسلامی ریاست میں جنونیوں کا ایک گروہ ایک شخص کو اس لیے ہلاک کر دیتا ہے چونکہ وہ اسی ملک سے تعلق رکھتا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کو یہ مجرم سمجھتے ہیں۔ اس پر سب واہ واہ کرتے ہیں، ایک دوسرے کو ہلا شیری دیتے ہیں اور شرم دلاتے ہیں کہ دیکھو فلاں آگے بڑھ گیا۔ درج بالا دونوں واقعات میں دو چیزیں مشترک ہیں۔ نمبر ایک مرنے والے دونوں افراد حالت جنگ میں نہیں تھے، ایک غیر ملک میں تھے، ان کا قصور اتنا تھا کہ وہ گروہِ مخالف سے تعلق رکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ انہیں مارنے والے بھی ایسے لوگ تھے جو ریاست (اولی الامر) کی نمائندگی نہیں کرتے، کچھ ایسے جنونی جنہوں نے بزعم خود اپنے آپ کو جج کے عہدے پر متمکن کر لیا اور ان کے قتل کا فیصلہ صادر کر کے اپنے تئیں انصاف کے تقاضے پورے کر دئیے۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر آپ اول الذکر واقعے کو غلط سمجھتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ دوسرے کو بھی غلط سمجھا جائے؟ یا دوسرے کو صرف اس لیے غلط نہیں سمجھا جائے گا کہ مرنے والا ایک غیر مسلم تھا، اور چونکہ غیر مسلموں کا خون نیلا ہوتا ہے، اور (نعوذ باللہ) قرآن کا حکم (ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے) اصل میں "ایک مسلمان کا قتل کا ساری انسانیت کا قتل ہے"۔ کیا مسلمان ہونا یہ گارنٹی ہے کہ ہم ہر اس انسان کو اڑا سکتے ہیں جو ہم سے کمزور ہے، جس پر ہمارا بس چلتا ہے، جو ہمارے سامنے فی الوقت کمزور پڑ جاتا ہے۔ کیا ایسا اس لیے ہے کہ مسلمان اللہ کی چنی ہوئی امت ہیں، امت آخر، نبی اکرم ﷺ کے ماننے والوں کی امت، اسلیے ان کے نام پر اس امت کے لیے ہر جرم معاف ہے؟ کیا یہی سوچ یہودیوں کی نہیں تھی اور ہے؟  کیا یہی سوچ اس بھیڑئیے کی نہیں تھی جس نے میمنے کو اس جرم میں پکڑ لیا کہ اس کے آباء میں سے کوئی اسی ندی پر پانی پیتا رہا تھا جس ندی پر آج بھیڑیا پانی پی رہا ہے۔ سوال ہے کہ ہماری انصاف کی چھری 'ہم' اور 'وہ' کی تخصیص کیوں کرے۔ جب محمد الرسول اللہ ﷺ نے کبھی انصاف کے معاملے میں کسی کے ساتھ فرق روا نہ رکھا تو مسلمان ایسا کیوں کریں؟

مجھے یہ منطق دی گئی کہ حرمت رسول ﷺ پر جان بھی قربان ہے۔ جب حرمت رسول ﷺ کی بات آ گئی تو سارے معاہدے باطل، اور گستاخِ رسول ﷺ کی سزا موت۔ میں نے بصد احترام عرض کیا کہ اس سفیر کا کیا قصور تھا کیا وہ گستاخِ رسول ﷺ تھا؟ کیا اس پر اس الزام کے سلسلے میں باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا اور یہ جرم اس پر ثابت ہو گیا؟ (اس نظام کے تحت جو رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور قرآن حکیم کے تحت اسلام میں صدیوں سے نافذ چلا آ رہا ہے۔) چلیں مقدمہ نہ چلانے کی بات مان لیتے ہیں، رسول اللہ ﷺ کی سیرت سے ہمیں ایک واقعہ ملتا ہے کہ مدینہ میں ایک مخالف گروہ (شاید یہودیوں) سے ایک آدمی (اغلباً ایک شاعر) نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ آپ ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کون ہے جو جا کر مجھے اس کا سر لا دے یعنی اس جرم میں قتل کر دے۔ تو ایک صحابیؓ گئے اور اس کا سر کاٹ لائے یا اسے قتل کر دیا۔ بظاہر یہاں کوئی مقدمہ ملوث نہیں ہے۔ اسلامی ریاست کے سربراہ (جو اس واقعے میں خود رسول اللہ ﷺ ہیں) نے ایک غیر ریاست کے شہری (یاد رہے اسلام کے ابتدائی دور میں ریاستِ مدینہ کئی گروہوں میں بٹی ہوئی تھی اور پورے مدینہ پر مسلمانوں کا ایسا کنٹرول نہیں تھا جیسا آج ایک عمومی حکومت کے لیے نارمل خیال کیا جاتا ہے) کے قتل کا حکم دیا اور اس پر عمل درآمد ہو گیا۔ یہاں سے یہ استدلال سامنے آتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے مجرم کو فوراﷺ سزائے موت دی جائے چاہے وہ غیر ملک یا غیر قوم کا شہری/ رکن ہی ہو۔ لیکن ایک باریکی جو یہاں ڈاکٹر حمید اللہ نے دریافت کی، قابل بیان ہے۔ ڈاکٹر صاحب اسلامی قانون بین الممالک (انٹرنیشنل لاء) کے ماہر تھے، فرماتے ہیں کہ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ میثاقِ مدینہ یعنی مخالف فریقین کے مابین ایک معاہدہ ہوتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں میں نے باقاعدہ تحقیق کی، اور یہ بات سامنے آئی کہ میثاق مدینہ (جسے آج ہم اسے ایک معاہدے کے طور پر جانتے ہیں) اصل میں معاہدوں کے ایک مجموعے کا نام ہے جو وقتاً فوقتاً مدینہ کے مختلف گروہوں اور مسلمانوں کے مابین وجود میں آتے رہے۔ اور مذکورہ بالا واقعے کے وقت مسلمانوں اور متعلقہ گروہ کے مابین یہ معاہدہ ابھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس ساری بحث کا لب لباب یہ نکلتا ہے کہ عہدِِ رسالت ﷺ میں میں گستاخِ رسول کی سزائے موت اس وقت عمل میں آئی جب کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں تھا ورنہ صورتحال شاید مختلف ہوتی۔ اگر ہم اس ساری بحث کو نظر انداز بھی کر دیں تو بنیادی سوال "کیا غیر ملکی سفیر گستاخِ رسول ﷺ تھا؟" کا جواب نہیں میں نکلتا ہے۔ گستاخی واضح طور پر ٹیری جونز نامی معلون شخص کی شرارت ہے، اور اس کا سزاوار بھی وہی ہے، نا کہ اس کے ملک سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی دوسرا شخص۔ ایسی صورتحال میں اسلامی اور انسانی نقطہ نگاہ سے ایک غیر ملکی سفیر، جو اسلام کی نظر میں بے گناہ ہے اور بے گناہ انسان کا قتل اللہ کے نزدیک پوری انسانیت کا قتل ہے، نرم سے نرم الفاظ میں بھی بربریت ہے۔ اس کی حوصلہ افزائی کرنے والے اس جرم میں شریک۔

تحریر کے اختتام پر پھر اپنا موقف دوہرانا چاہوں گا کہ ایک غلط عمل کے جواب میں کیا جانے والا غلط عمل موخر الذکر کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں۔ امریکہ اور اس کے حواریوں نے چاہے جتنی بھی ناانصافی کی ہو، نہتّوں پر بم برسائے ہوں، قتل عام کیے ہوں، اسامہ بن لادن اینڈ کمپنی کو قتل کیا ہو لیکن یہ تمام افعال اس بات کا اجازت نامہ نہیں کہ آپ ان ممالک کے نہتے شہریوں پر انفرادی حیثیت میں حملے کر کے، مقدمہ چلائے بغیر، ایک ایسے جرم میں موت کے گھاٹ اتار دیں جو انہوں نے کیا ہی نہیں۔ اگر بدلہ لینے کا شوق ہے تو مردوں کی طرح ان کے خلاف اعلانِ جنگ کریں، سفارتی رابطے منقطع کریں، ملعون گستاخِ رسول ﷺ کی حوالگی کا مطالبہ کریں اگر وہ نہیں کرتے تو دعوتِ مبازرت دیں۔ لیکن ایسا ہو نہیں سکتا چونکہ حکومتیں کرپٹ ہیں، کوئی بھی ریاست سچی اسلامی ریاست نہیں ہیں۔ مسلمانوں کی اکثریت ان ممالک میں بسلسلہ روزگار وغیرہ موجود ہے اور وہاں سے نوٹوں کے تھبنٹو واپس بھیجتی ہے، کاروباری مفادات وابستہ ہیں اس لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا اجتماعی یعنی ریاستی سطح پر ممکن نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور ان کے مابین ایک معاہدہ موجود ہے، معاہدہ امن (یاد رہے کہ عراق، افغانستان وغیرہ میں بھی حکومت کے ساتھ یہی نام نہاد معاہدہ امن موجود ہے جو انفرادی سطح پر کسی بربری فعل کی اجازت نہیں دے گا جب تک ریاست اعلان جنگ نہ کر دے) یعنی آپ ان کے شہریوں کو امان دیں گے، اور وہ آپ کے شہریوں کو امان دیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسا نہیں کرتے، ایسا نہ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اپنے شہریوں، ہم مذہبوں کے ساتھ ان ممالک میں یہی سلوک ہونے پر واویلا کریں۔ اگر آج پاکستان، لیبیا یا کسی بھی اسلام ملک کے سفیر کے ساتھ بھارت، فرانس یا امریکہ میں یہی سلوک ہوتا ہے تو وہ غلط ہے (وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے، رمشا مسیح کا تقریباً جھوٹا ثابت ہو چکا مقدمہ لے لیں، اس پر کوئی جنونی گروہ پاکستانی سفارتخانے پر اٹھ کر حملہ آور ہو سکتا ہے، جنونیوں کو تو بہانہ چاہئیے ہوتا ہے نا)، اسی طرح ان کے سفارتخانے پر ہمارے ہاں ہونے والا حملہ بھی غلط ہے۔ انصاف کا معیار دوہرا نہیں ہوتا، انصاف میرے لیے ہاں تمہارے لیے ناں نہیں ہوتا۔ ہم اس شخصیت ﷺ کے پیروکار ہیں جس نے جنگ میں جانے سے قبل بھی لشکریوں سے کہا تھا سنو عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہ کرنا۔ درخت، نہ کاٹنا، فصلیں نہ اجاڑنا، لاشوں کا مثلہ نہ کرنا، جو ہتھیار نہ اٹھائے اس پر حملہ نہ کرنا۔ لیکن ہم انہیں ﷺ سے محبت کے نام پر انہیں کی تعلیمات کو فراموش کر رہے ہیں۔ میں پھر کہتا ہوں کہ کسی کا غلط طرزِ عمل اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم بھی انصاف کے تقاضے چھوڑنے کے لیے آزاد ہو گئے ہیں، ہم مسلمان ہیں اور ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات موجود ہیں، ورنہ ہم میں اور جنگلی جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور اس بھیڑئیے میں کوئی فرق نہیں جس نے میمنے پر اس لیے حملہ کر دیا کہ اس کے آباء میں سے کسی نے پانی پینے کا جرم کر ڈالا تھا۔ عذر تراشیاں کسی غلط طرزِ عمل کے ٹھیک ہونے کا ثبوت نہیں، ہمیں عذر تراشیاں ترک کر کے غلط کو غلط کہنا ہو گا، ان کے غلط کو تو غلط کہنا ہی ہے اپنی غلطی کو بھی تسلیم کرنا ہو گا، اور ایسے کسی بھی رویے کی حوصلہ افزائی ترک کرنا ہو گی۔

اَشہَدُ اَن لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدَا عَبدُہُ وَ رَسُوُلُہُ و خاتم النبین
میرے لیے ٹیری جونز کی حیثیت اس کتے سے بھی بدتر ہے جو میرے محلے میں ہر صبح بلا وجہ بھونکنا شروع کر دینے والوں میں ہوتا ہے۔ اور میں ایسے کتوں کو پتھر مارنا بھی گوارا نہیں کرتا۔  میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، مجھے کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مجھے ان ﷺ سے کتنی محبت ہے، اور نہ کسی کو میرے ایمان پر سوال اٹھانے کا حق ہے کہ یہ میرا اور میرے رب کا معاملہ ہے۔ لیکن جو غلط ہے میں اسے غلط کہوں گا۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ غلط ہوا، اسامہ بن لادن کو مقدمے کے بغیر قتل کرنا انصاف کا قتل تھا، عراق، افغانستان اور دوسرے اسلامی ممالک پر امریکہ اور اس کے حواریوں کے حملے غلط تھے، مغربی ممالک میں مسلمان شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کر دینے والے قوانین اور رویے غلط ہیں۔ لیکن ان سب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنے ہم مذہبوں کے ہاتھوں بے گناہوں کے قتل کو جائز قرار دینے لگوں۔ یہ غلط ہے اور میں غلط کو غلط کہوں گا۔ کاش میری قوم بھی یہ بات سمجھ جائے۔

برادرم کاشف نصیر کی اس پوسٹ کو ٹیگ کرنا ضروری ہے، جس سے مجھے آج کی یہ تحریر لکھنے کی انسپائریشن ملی۔
وما علینا الا البلاغ

جمعہ، 7 ستمبر، 2012

حجاب، نقاب ہم اور ہمارے رویے

ایک عرصہ ہو گیا میں 'موسمی' موضوعات پر لکھنا چھوڑ چکا ہوں۔ جب سارے اردو بلاگر ایک موضوع کو لے کر اس کی مٹی پلید کر رہے ہوتے ہیں اس وقت میری خواہش ہوتی ہے کہ کچھ مختلف لکھا جائے۔ خیر لکھنے والی بات بھی نوے فیصد جھوٹ ہی ہے کہ میں اکثر ایک نام نہاد قسم کا بلاگر ہوں جو مہینوں بعد کچھ لکھتا ہے۔ لیکن بلاگر ہونا شرط ہے، لکھا تو کبھی بھی جا سکتا ہے۔ آج کل کا اِن موضوع حجاب،نقاب وغیرہ ہے۔ ایک طرف یار لوگوں نے عالمی حجاب ڈے وغیرہ کی ڈفلی اٹھائی ہوئی ہے، دوسری طرف سے زبردستی مسلمان کروانے وغیرہ کے راگ الاپے جا رہے ہیں۔ اور اس دوران شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار قسم کے تبصرہ نگار ایسی بلاگ پوسٹوں پر طنزیہ لہجے میں براہ راست ہتک آمیز تبصرے بھی کر رہے ہیں۔
خیر یہ تو ہماری قومی عادت ہے کہ برداشت نہیں کرنا، تصویر کا ایک ہی رخ لے سامنے رکھ کر چلائے چلے جانا اور "میں نا مانوں" کا نمونہ اکمل بنے رہنا۔ میں نے سوچا موضوع اِن ہے تو ہم بھی اڑتے کیچڑ میں دو چار پتھر پھینک لیں۔ کروانے تو کپڑے ہی گندے ہیں، ویسے بھی برسات ہے تو چلن دیو۔
میرے حساب سے حجاب نقاب جس کی آج بات کی جا رہی ہے اس کے دو حصے ہیں۔ اول جو اس پیرے میں زیر بحث آئے گا، وہ ہے یورپی ممالک میں مسلمان خواتین پر ہونے والی سختیاں (بسلسلہ حجاب) جن میں حکومتی اقدامات سے لے کر نسلی امتیاز تک ہر چیز شامل ہے۔ دیکھیں جی ہر کسی کو اس کے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے۔ اور یورپی مسلمانوں کو یہ اجازت نہ دے کر انتہا پسندی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ میرا اس سلسلے میں مزید کوئی خیال نہیں، بس اتنا خیال ہے کہ اوکھے دن ہیں لنگھ جائیں گے۔ حجاب کے متعلق آگاہی پھیل رہی ہے، اس کے حامی بھی ظاہر ہے یورپیوں میں ہوں گے، کرنا یہ ہے کہ اپنی آواز پر امن انداز میں شانتی اور سکون سے بلند کی جائے۔ اور اللہ کی مہربانی سے وہ وقت بھی آئے گا جب انسانی حقوق کے یہ بزعم خود علمبردار حجاب کی اجازت دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ ہاں جب تک وہ سختی کرتے ہیں تو اللہ تو دیکھ رہا ہے نا جی، اسے پتا ہے کہ مسلمان بے بس ہیں تو اس کی ذات معاف کرنے والی ہے۔ کوشش کرنا ہمارا فرض اور باقی اللہ سائیں راہیں سیدھی کرنے والا۔ چناچہ لگے رہو بھائیو حجاب ڈے مناؤ، اور اپنا موقف ان کے کانوں تک پہینچاتے رہو۔۔۔۔
لیکن تہاڈی مہربانی ہے مسلمانوں کو مسلمان نہ کرو۔ خدا کا واسطہ ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ پاکستان میں کس حجاب کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ ہو رہا ہے۔ پچھلے پانچ سو برس سے یہ علاقہ، اور اس کے باشندے جو مسلمان ہیں، اور ان کی روایات اور ثقافت اسلام اور مقامیت کا رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ان میں پردہ تب سے رائج ہے جب سے اسلام یہاں ہے۔ میری والدہ، نانی اور خالہ ایک اڑھائی گز کی چادر سر پر لیا کرتی تھیں۔ اور آج بھی میں نے انہیں وہی چادر لیے دیکھا ہے۔ نانی اور خالہ کو زمینوں پر کھانا دینے جانا ہوتا تھا، اور وہ اسی چادر میں جاتی تھیں۔ جسے اوڑھنی کہتے ہیں۔ اب مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اور کیا چاہیئے کیا زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیں عورتوں کو؟ سر تا ییر برقعہ اوڑھا کر کام کیسے کرواؤ گے بھائی؟ ہمارے بہادر تو یہ چاہتے ہیں کہ عورت کے ہاتھوں پر بھی دستانے ہوں۔ صدقے جاؤں ایسے اسلام کے اسی نے بیڑے غرق کیے ہیں۔ رونا روتے ہیں یورپیوں کی انتہا پسندی کا خود ان کے استاد ہیں اس معاملے میں۔ برداشت کا ایک ذرہ بھی نہیں ہیں، مار دو، کاٹ دو، قتل کر دو، جو'اہل ایمان' نہیں اسے اڑا دو۔ اور اہل ایمان کی اپنی تعریف ہر کسی کی۔ اللہ جماعت اسلامی کو ہمیشہ اقتدار سے دور رکھے، آمین۔ ضیاء الحق کے رفقاء میں شامل رہنے والے یہ لوگ نان ایشوز کی سیاست بڑے ول انداز میں کرتے ہیں۔ پاسپورٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو، پارلیمان کی ویب سائٹ پر تصویر میں کلمہ نظر نہ آ رہا ہو یہ سب سے آگے اور اب حجاب کو آئین میں لازم قرار دیا جائے۔ پہلے مجھے کوئی یہ بتائے گا کہ کونسا حجاب؟ میری والدہ، ان کی ماں، ان کی ماں کی ماں اور ان کی دس نسلوں سے جو اوڑھنی چلی آ رہی ہے، یا شٹل کاک برقع جو افغانستان سے درآمد ہوا ہے، یا عربی اسٹائل حجاب، یا سعودی اسٹائل فل سائز برقعے۔  کونسا حجاب سائیں؟ یہ کدھر کو چل پڑے ہیں، ہر چیز کو مسلمان بنانے پر تلے ہیں۔ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر گرا نہ سکتے تھے اس لیے کلمہ لکھ کر مسلمان کر لیا۔ عمارتیں، نشانات، آثار یا تو مٹا دئیے یا 'مسلمان' کر لیے۔ یہی کام مسلمانوں کے ساتھ کیا۔ یا تو مسلمان کر لیے، جو'رافضی'، 'کافر' وغیرہ بچے انیہں زندگی کی قید سے آزاد کر دیا۔ واہ بھئی، صدقے اس اسلام کے۔ صدقے۔
آخری بات عرض کرتا چلوں، کہ آج نوجوان لڑکیاں چادر یا اوڑھنی والا نقاب نہیں برقعے والا نقاب کرتی ہیں۔ اس کی وجہ اسلام ہائپ تو ہے ہی، معاشرتی عدم تحفظ بھی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اسلام اسلام کرنے سے اوپر اوپر تو ملمع چڑھ گیا ہے، اندر کی بےغیرتی نہیں گئی۔ جب تک یہ بے غیرتی نہیں جائے گی حجاب چھوڑ کر نماز پڑھنے کا آرڈیننس بھی جاری کروا دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔