8 تبصرے:

  1. پاکستانی عوام کو قطار میں لگا دیکھ کر دل کوسکون ہوا کہ چلو انہوں نے مہنگائی سے کچھ تو سیکھا

  2. میری والدہ سارا سارا دن لائن میں کھڑے ہوکر 2 پیکٹ گھی کے حاصل کرپاتی ہیں وہ بھی ساتھ کوئی اور چیز جیسے ٹوتھ پیسٹ، لکس صابن کی ایک ٹکیا یا ایسی ہی کوئی اور چیز ساتھ خریدنے کی شرط کے ساتھ۔ اور انھیں کے سامنے لوگ پچھلے دروازے سے یوٹیلیٹی سٹور میں جاکر گھی کے پیکٹوں کی دو دو بوریوں کو رکشوں میں لاد کرلے جاتے ہیں۔ یہ ہے اس قوم کے غریبوں کی اوقات۔ کس دنیا میں رہتے ہو میاں؟
    یہاں جس کے پاس طاقت ہے وہ ہر جگہ زبر ہے۔

  3. محترم کیا فائدہ آپ کے والدین کو آپ کا؟ اگر آپ یہ کام نہیں‌کرسکتے تو؟

    خیر یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن میں‌ یہ کہوں گا کہ ہم وہ لوگ ہیں‌جن کو خدا نے اپنا خلیفہ مقرر کیا لیکن ہم دنیاوی خدا بن بیھٹے۔

  4. کیا بتاؤں میاں۔۔۔یونیورسٹی جانا ہوتا ہے۔ دو بجے گھر سے نکلتا ہوں۔۔اور اس کام کے لیے یوٹیلٹی سٹور پر سارا دن حاضر رہنا پڑتا ہے۔۔اب بتاؤ پڑھوں کہ گھر کے لیے آٹا، گھی خریدوں۔۔۔:(

  5. بھیا اپنے علاقہ کے ناظم یا نائب ناظم کا سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. اسلام علیکم بھائی پہلے ایک بات تو بتاو آپ کی قوم کون سی ہے
    یہ تو ہماری قوم ہے میں‌ تو تسلیم کرتا ہوں کہ میں پاکستانی ہوں اور ساری زندگی رہوں گا انشاءاللہ
    خامیاں تو سب ہی دیکھتے ہیں کبھی خوبی بھی دیکھ لیا کرے شکریہ

  7. میاں ہم بھی اسی قوم سے ہیں۔۔اس قوم لکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آسمان سے اترے ہوئے ہیں۔ بالا سطور میں اپنا حال بھی لکھ چکے ہیں کہ آٹے اور گھی کے لیے کیسے اپنا قیمتی وقت برباد کرنا پڑتا ہے۔ خوبی ہے تو ہمیں‌ بھی بتادو بھائی۔۔۔ہمارے منہ سے نوالہ تک چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ہم کس کی خوبیوں کی تسبیحیں پڑھیں۔ ہم تو جو دیکھیں گے وہی دکھائیں گے۔۔جو دیکھا دکھا دیا۔ آپ کو جو دکھتا ہے وہ دکھادیں۔

  8. آپ کو سانس لینے دیا جارہا ہے آج کل کے اس دور میں‌کیا یہ کسی بڑی خوبی سے کم ہے؟

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔