بدھ، 22 دسمبر، 2010

تُک بندی

11 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 8:53 PM ,
بہت عرصے بعد ایک نشست میں بیٹھ کر کچھ تُک بندی کی ہے۔ حسب معمول کسی بھی بحر پر پوری نہیں اترے گی، تاہم تمام مصرعے ہم وزن کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ سمجھ لیں دل سے ڈائرکٹ بلاگ پر لینڈ ہوئے ہیں یہ لفظ۔
تم پاس رہو تو کیا ہے
تم آس رہو تو کیا ہے
پاگل سے بے کل اس من کی
تم پیاس رہو تو کیا ہے
بے روح سے تن میں بن کر
احساس رہو تو کیا ہے
اس عام سے انساں کے لیے
تم خاص رہو تو کیا ہے
کچھ راس نہیں ہے مجھ کو
تم راس رہو تو کیا ہے

ہفتہ، 18 دسمبر، 2010

لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ

5 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 11:14 PM ,
آج محمد علی مکی سے بات ہورہی تھی۔ مکی آج کل اردو لینکس ڈِسٹرو پر کام کررہے ہیں۔ ان سے دوران چیٹ ترجمے کا کام، اس کی دیکھ بھال، اردو برادری کی حالت زار اور مستقبل کے نقشے پر کچھ بے معنی بکواس سی کی ہے۔ آپ کی نظر ہے۔ اس پر تھنکیں، اور مجھے چاہے نہ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ پنجابی کی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد سے کسی پنجابی کو پکڑ لیں۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا جو آپ کو بتا دے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ خوش رہیں۔
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: ‏‫جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..

ہفتہ، 11 دسمبر، 2010

فینٹیسی (افسانہ؟)

7 تبصرے, ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:03 AM ,
ہمیں آڈیو بُکس کا چسکا نعمان، المعروف نعمان کراچی والے نے لگایا۔ ان کی ایک بلاگ پوسٹ سے ہمیں آڈیو بُک کے بارے میں پتا چلا تھا۔  پہلے پہل ہم نے ہیری پوٹر کو سننے کی کوشش کی۔ حصہ نمبر سات سنا بھی۔ چونکہ باقی حصے پڑھے جاچکے تھے، اور کمپیوٹر پر بیٹھ کر پڑھے جاچکے تھے اس لیے ساتویں کو سننے پر ہی اکتفا کیا۔ لیکن ہمارا سب سے بڑا پروجیکٹ وہیل آف ٹائم تھا۔
وہیل آف ٹائم آنجہانی رابرٹ جارڈن نے 1990 کے عشرے میں لکھنی شروع کی تھی۔ اس کی کوئی دس کے قریب کتابیں لکھ کر موصوف مرحوم ہوگئے۔ بیس سال کے عرصے میں دس کتابیں۔ کوئی حال نہیں ویسے اس مصنف کا بھی۔ خیر ہم نے سرچ وغیرہ ماری، پتا لگا کہ کہانی مزے دار ہے اور مصالحے دار بھی۔ ہمارے لیے مصالحے دار کہانی یہ ہوتی ہے کہ کوئی نئی دنیا ہو اور ہیرو کے پاس ڈھیر ساری طاقتیں ہوں۔ یہاں ہیرو کے پاس سب کچھ تھا اور دنیا بھی مصنف کے اپنے ذہن کی تخلیق۔ چناچہ ہم نے اللہ کا نام لے کر ٹورنٹس کو لگا دیا۔ اور کتاب نمبر صفر کو موبائل میں ڈال کر کانوں سے لگا لیا۔
بس نہ پوچھیں پر کیا گزری ہے ہم پر۔ اس کی دس کتابیں تحریر کردہ از رابرٹ جارڈن اور آخری 3 از برینڈن سینڈرسن، ہر کتاب اپنے اندر ایک نیا جہان۔ ہر کتاب کی آڈیو کوئی 60 گھنٹے طویل۔ اور ہم نے یہ ساری کتابیں بقلم خود سنی ہیں۔ اب آپ تصور کرلیں کہ واش روم میں، کھانا کھاتے ہوئے، شیو کرتے ہوئے، منہ دھوتے ہوئے، حتی کہ نہاتے ہوئے اونچی آواز میں باہر لگا کر ہم اسے سنتے رہے ہیں۔ گھر والے کہنے لگ گئے تھے پُتر کان پک جانے ہیں تمہارے۔ پر سائیں جو سواد آیا ہے، یہ سواد دس سال پہلے دیوتا پڑھ کر ہی آیا تھا۔ جب چوری چوری چالیس کتابیں، باریک لکھائی والی پڑھی تھیں۔ وہ بھی کیا دن تھے، اور یہ بھی کیا دن ہیں۔
ذرا سٹوری پر نظر ڈال لیں۔ وہیل آف ٹائم اصل میں فینٹیسی ناول سیریز ہے جس میں رابرٹ جارڈن نے بہت دور دور کی چھوڑی ہے۔ ہیرو جو ڈریگن کا نیا جنم ہے، اور اس کے کندھوں پر دنیا کو تاریکی والے سے بچانے کی ذمہ داری ہے۔ آخری لڑائی قریب ہے اور پہلے تو ڈریگن رسا تڑوا کر بھاگتا رہتا ہے، اور تاریکی کے دوست اسے پھڑکانے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ آخر یہ سیکھ جاتا ہے اور ڈریگن بن جاتا ہے۔ اصلی تے وڈا ڈریگن۔ ڈریگن، اور دوسرے کچھ مخصوص لوگ طاقت کو استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ طاقت آگے پانی، ہوا، آگ، زمین اور روح میں منقسم ہے۔ ان اجزاء کو ملا کر یہ لوگ بنت یا ویو بناتے ہیں، جس سے مختلف کام لیے جاسکتے ہیں۔ جیسے کسی کو اٹھا کر پٹخنا، یا کسی کا علاج کرنا۔ طاقت کے دو حصے ہیں، ایک سائیڈار جسے خواتین ہی استعمال کرسکتی ہیں دوسرے سائیڈین جسے مرد ہی استعمال کرسکتے ہیں۔ پرانے کسی زمانے میں اس طاقت پر ریسرچ کرتے کرتے اس وقت کے محققین نے ایک نئی طاقت کا سراغ پایا۔  اس طاقت کو استعمال کرنے کے لیے جنس کی تخصیص نہیں تھی۔ لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ یہ طاقت اصل میں تاریکی والا، یا شیطان، ہے۔ چناچہ پھر شیطان کے پیروکاروں اور روشنی کے پیروکاروں میں جنگ ہوتی ہے جو کئی سو سال چلتی ہے۔ پھر شیطان کو عارضی طور پر محصور کردیا جاتا ہے لیکن اب اس کی قید کمزور ہورہی ہے، ڈریگن ایک بار پھر سے پیدا ہوا ہے۔ اور کہانی چلتی رہتی ہے ایسے۔
بڑی مزے دار چیز ہے سائیں۔ سن کر دیکھیں کبھی۔ اتنے وسیع  و عریض پلاٹ اور اس افسانوی دنیا کو بڑی خوبی سے تخلیق کیا گیا ہے۔ رابرٹ جارڈن نے ایک ایک تصور پر بڑی وضاحت سے تفصیلات دی ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر آپ کو وہیل آف ٹائم کے کئی ایک وکی اور کمیونٹی سائٹ مل جائیں گی جہاں وہیل آف ٹائم کی دنیا، کرداروں وغیرہ کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔