جمعہ، 23 نومبر، 2007

ایک اور جنازہ اٹھتا ہے

میر بالاچ مری ایک عرصے تک بلوچ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک کاروائی میں‌ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پر سندھ اور بلوچستان میں ہنگامے ہورہے ہیں‌ جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں‌۔

میں نہیں‌ جانتا وہ صحیح‌ تھا یا غلط۔ بقول میرے ایک جاننے والے کے قبائلی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان پر ہیلی کاپٹروں‌ سے آگ برسا کر بالکل ٹھیک کیا جارہا ہے۔ میں اس وقت بھی ان صاحب سے متفق نہیں تھا اور اب بھی نہیں‌۔ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں‌ کے مطالبات ایسے نہیں‌ کہ انھیں پورا نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا کہیں ہماری فوج کا جسے اپنی تربیت بھی تو کہیں آزمانی ہے۔ گولہ بارود پڑا سڑتا رہے اس سے بہتر ہے کہ کہیں "کام" آجائے۔

4 تبصرے:

  1. میں مسلح تحریک کا ہمیشہ سے مخالف ہوں لیکن یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ملکی اور قومی معاملات صرف اور صرف مذاکرات سے حل ہوتے ہیں ۔ گولی یا بم کے استعمال سے نہیں ۔ یہی بلوچ نواز شریف کے دوست صرف مذاکرات کی وجہ سے بنے تھے ۔ پرویز مشرف نے اسلحہ استعمال کر کے بلوچوں کو ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ۔ یہی کام ذوالفقار علی بھٹو نے بھی کیا تھا ۔ اکبر بگٹی جس نے کبھی ملک و قوم کے خلاف بات نہ کی تھی اسے پرویز مشرف نے مروا دیا ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. بلوچوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اتنا ہی افسوسناک اور قابل مذمت ہے جتنا بنگالیوں کے ساتھ کیا گیا۔ بالاچ مری کا جوان موت مارا جانا اکبر بگٹی کے بعد بلوچوں کے لیے بہرحال سانحہ ہے اور ہم جیسے افراد اس پر افسوس کے سوا کر بھی کیا سکتے ہیں۔ وہ دونوں ذاتی طور پر جیسے بھی تھے لیکن وسیع تر (حقیقی) ملکی مفاد میں بجائے اسلحہ اٹھانے کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہیے۔
    ہماری فوج اپنے ہی ملک میں جو کچھ کر رہی ہے اس بارے میں تاریخ کا مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ قدیم زمانے سے بادشاہوں کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مقابلے میں ملک میں کسی قوت کو مستحکم نہیں ہونے دیتے کیونکہ اگر ان کی سلطانی میں کوئی بھی کمزوری آئی اور Power vacuum پیدا ہوا تو فطری اصول کے تحت ملک میں موجود سب سے بڑی قوت اقتدار پر قابض ہو جائے گی۔ اس لیے وہ خصوصاً افواج کا دھیان بٹانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔ اس سلسلے میں رومی شہنشاہوں کے "کشتیوں کے اکھاڑے" اور مسلم سلاطین کے اپنی حکومتیں بچانے کے لیے فوج کو "جہاد" پر لگانے کے واقعات ہر کسی کے سامنے ہیں۔ یہ سب اپنی کرسی اقتدار کو برقرار رکھنے کی کوششیں تھیں۔ سلطنت عثمانیہ میں جب سرکاری فوج کی سرکشی بڑھنے کا اندیشہ ہوتا تو انہیں ملک گیری کے لیے سرحدوں پر بھیج دیا جاتا تھا اور انہی اقدامات کے باعث سلطنت عثمانیہ تین براعظموں میں پھیلی۔ پاک فوج کبھی بھی ملک سے باہر کوئی جنگ تو جیت نہ سکی، اس لیے کسی پڑوسی سے "دو دو ہاتھ" کرنے کے بجائے اپنی کی قوم کو "فتح" کرنا اس بار مقصد ٹھہرا ہے، ایک فرد کی حکومت کو قائم رکھنے کے لیے "نیچے والوں" کو "مصروف" کر دیا گیا ہے۔ اب یہ "مصروفیت" کب تک جاری رہتی ہے اللہ جانتا ہے۔ انصاف کا گلا تو پہلے ہی دبا دیا گیا ہے اب "مخلوق خدا کے مٹنے" کے امکانات بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ اللہ رحم کرے

    جواب دیںحذف کریں
  3. میں اب بھی پریشان ہوں کہ مذاکرات کن سے اور کس بنیاد پر؟
    میں سمجھتا ہوں‌کہ وہ اپنی جگہ پر 100ٕٕ% درست ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد شاکر عزیز25 نومبر، 2007 4:07 PM

    آپ کن کی بات کررہے ہیں؟
    فوج کی یا بلوچوں کی؟
    مذاکرات ہوسکتے ہیں ہر جگہ اور ہر وقت ہوسکتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔