جمعہ، 16 فروری، 2007

صدر صاحب فیصل آباد کو عزت بخش رہے ہیں

کل مورخہ 17 فروری بروز ہفتہ ہمارے ہردلعزیز صدر جناب پرویز مشرف صاحب فیصل آباد کو رونق بخش رہےہیں۔


ان کی آمد کے پیش نظر چمچے کڑچھے الرٹ ہوچکے ہیں۔شہر کی سڑکوں پر سٹریٹ لائٹو ں کے ساتھ پرنٹ شدہ اشتہار لگ چکے ہیں جن میں بڑے لیڈر صاحب چھوٹے لیڈر یعنی سب کے بھائی پرویز الہی کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔


شہر کے ہر چوک پر مشرف زندہ باد، مشرف کو دوبارہ لانا ہے، مشرف آوے ای آوے کے بینر معہ چمچوں کی "منجانبوں" کے لگ چکے ہیں۔


سکولوں کو چھٹی کردی گئی ہے اور بچوں کو اقبال سٹیڈیم پہنچنے کی ہدایت دے دی گئی ہے بلکہ حکومت کے خرچے پر بسیں بھر کر بچے اقبال سٹیڈیم پہنچانے کا بندوبست کردیا گیا ہے تاکہ اسمبلی کی طرح یہاں "کورم" کا مسئلہ نہ بن جائے۔


حفاظتی نقطہ نظر سے فوج طلب کرلی گئی ہے جس نے اقبال سٹیدیم و نواحی علاقوں کو کنٹرول میں لے لیا ہے تاکہ ہردلعزیز لیڈر کو کسی بھی قسم کے گزند سے بچایا جاسکے۔ اور عاوام کا کیا حال ہوگا ٹریفک کدھر جائے گی کوئی ٹینشن نہیں کسی کو۔


پولیس حفظ ماتقدم کے طور پر شہر کے ہر چوک پر تعینات کردی گئی ہے ۔


ٹی وی کی کوریج کا بھی مناسب بندوبست کردیا گیا ہوگا اور سرکاری ٹی وی کا پیٹ بھرنے کے لیے عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح گھسیٹ کر سٹیڈیم لے جانے کا بھی وافر انتظام ہوگا اور یقینًا چمچوں کڑچھوں کو ان کا کوٹا الاٹ کردیا گیا ہوگا کہ اتنی بھیڑیں چاہییں تمہاری طرف سے۔


صدر صاحب زندہ باد، صدر صاحب کا پاکستان زندہ باد۔


اور عوام کا کیا ہے یہ تو کم عقل ہیں۔ جاہل کوم تھرڈ کلاس لوگ تھرڈ کلاس سوچ یہ کیا جانیں پاکستان کو کس طرح چلانا ہے اور جمہوریت کس طرح پروان چڑھانی ہے۔ اسی لیے ان کو روزی روٹی کی ڈال دی گئی ہے نہ بھوک ختم ہو نہ یہ سر اٹھائیں۔


 


 


 

بدھ، 14 فروری، 2007

آج ویلنٹائن ڈے ہے

آج ویلنٹائن ڈے ہے ۔۔


جس کا نام آتے ہی ایک عدد عاشق صادق ایک عدد محبوبہ دلنواز ایک عدد میز اور ایک عدد بڑے سے سرخ گلابوں کے گلدستے کا خیال آتا ہے۔


ویسے تو آج کل ٹیلی وژن والے بڑے زور و شور سے اسے یوم محبت عشق ڈے وغیرہ وغیرہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس دن سے جتنی چڑ ہے آج اپنے شاگردوں کی وجہ سے اتنا ہی پیار آٰیا ہے اس دن پر۔


آج میں اکیڈمی میں دس منٹ کے قریب دیر سے پہنچا۔ ایک لڑکی کے علاوہ سارے شاگرد غائب تھے۔ اس سے پوچھا تو بولی سر تینوں اٹھ کر ابھی گئے ہیں۔


میں نے غصے میں آکر ریاضی کا کروانا شروع کردیا دس منٹ کے بعد وہ آئے تو تینوں کے ہاتھوں میں ایک ایک گلاب کی ادھ کھلی کلی تھی۔ بولے سر آپ کے لیے لے کر آئے ہیں۔ میں غصے میں تھا بولا کھڑے رہو۔ لیکن چھٹی کے وقت انھوں نے با اصرار مجھے ایک کلی دے ہی دی۔ لیکن باقی دو میں نے دوسرے اساتذہ کو بھجوا دیں جنھوں نے خصوصًا میرا شکریہ ادا کیا۔ میرے بچوں نے مفت میں اکیڈمی میں میری ٹور بنوا دی۔


تھینکس بچو۔ واقعی محبت رشتوں سے ماوراء ہوتی ہے۔


اب میں انھیں کل خود گفٹ دینے کا سوچ رہا ہوں۔ آپ کا کیا خیال ہے کیا دیا جائے؟


میرے ذہن میں پین یا بال پین ہیں۔ چونکہ ایک استاد قلم کا تحفہ ہی دے سکتا ہے اور آپ کو کیا بتاؤں میری کمزور سی پاکٹ کہیں قیں ہی نہ ہوجائے یہ بھی تو دیکھنا ہے۔



;)

بدھ، 7 فروری، 2007

سوِفٹ فاکس(Swiftfox) فائرفاکس کا لینکس روپ

موزیلا فائر فاکس اس وقت مقبول عام آزاد ویب براؤزر ہے۔ ونڈوز لینکس کسی بھی پلیٹ فارم پر اسے ہی استعمال کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے موزیلا نے لینکس کے لیے فائر فاکس کو ٹھیک طرح پالش نہیں کیا جس کی وجہ سے بعض اوقات لینکس پر چلتے ہوئے فائر فاکس رک رک کر چلتا ہے اور کم رفتار سے چل کر سسٹم کو بھی وخت ڈال دیتا ہے۔


اس صورت حال کو اوبنٹو والوں نے اپنی فائر فاکس اشاعت بنا کر پورا کیا ہے۔ شاید باقی قسموں نے بھی کوئی اسی قسم کا حل نکالا ہو جس میں فائر فاکس کو متعلقہ ماحول کے تحت بہتر طریقے سے وضع کیا گیا ہو۔ لیکنہمارے پیش نظر اس وقت اوبنٹو ہے۔ اوبنٹو کا بنا ہوا فائر فاکس استعمال تو کرلیا جائے لیکن انھوں نے اس کی خودکار تازہ کاری کا انتخاب معطل کررکھا ہے جس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے ونڈوز پر تو سیدھے سبھاؤ فائر فاکس خود ہی سارا کام کرکے آپ کو صرف اتنا بتاتا ہے کہ تازہ کاری اتر گئی نصب کرنے کے بارے میں بتائیں ابھی کریں گے یا ذرا ٹھہر کر۔


لیکن ہائے رے اوبنٹو۔ اوبنٹو کی ہر رگ ہی نرالی ہے۔ ہر چیز پر پہرے بٹھا رکھے ہیں انھوں نے۔


لیکن وہ کیا کہتےہیں کہ لوگ بھلا بعض آتے ہیں۔ صاحبو ہم بھی صدا کے ضدی ہیں وہ کام کرتے ہیں جو کرنے سے روکا جائے۔ اس لیے ہم بجائے کہ طےشدہ ورژن استعمال کرتے سوِفٹ فاکس نصب کرلیا۔فائر فاکس کی ہر نئی اشاعت کی کانٹ چھانٹ اور رنگ روغن کرکے سوفٹ فاکس بنا لیا جاتا ہے جو ہے تو فائر فاکس بس نام بدلا ہوا ہے۔ لینکس قسم کی قید سے آزاد یہ براؤزر فائر فاکس سے بہتر نتائج دیتا ہے خصوصًا جب فائر فاکس کو گنوم کے علاوہ استعمال کرنا ہو یعنی کے ڈی ای میں۔


اس کے ریلیز والے صفحے پر جائیں اپنے سی پی یو کے مطابق تنصیب کار سکرپٹ اتاریں اور ٹرمینل سے چلا لیں۔ سوفٹ فاکس اتر کر نصب ہوجائے گا خودکار تازہ کاریوں کو فعال کرنا ہے تو روٹ کھاتے سے داخل ہوکر اس کی ترجیحات میں جاکر اس انتخاب کو نشان زد کردیں آئندہ یہ خودبخود تازہ ہوتا رہے گا۔


اگر ایسا نہیں کرنا تو آٹومیٹکس اس کا بہترین حل ہے۔یہ آپ کے لینکس ورژن(یعنی اوبنٹو کبنٹو ورژن) اور سی پی یو سپیڈ کے مطابق سوفٹ فاکس اتار کر نصب کردیتی ہے ساتھ ہی اس کے دخیلوں یعنی پلگ ان نصب کرنے کا بھی آپشن ہے لگے ہاتھوں وہ بھی نصب کرلیں اور فائر فاکس کے مزے لوٹیں۔ لیکن دخیلے کچھ دیر لے سکتے ہیں جیسے ہمیں کوئی اڑھائی گھنٹے ہونے کو آرہے ہیں ابھی تک اترے ہی نہیں یہی کوئی 50 ایم بی ڈیٹا اتر چکا ہے۔


;)


 


 

پیر، 5 فروری، 2007

لینکس(اوبنٹو/کبنٹو) میں فونٹ ہِنٹنگ کو فعال کریں۔Enable Hinting in Linux For Better Font Rendering

عزیزان من آج ہم نے بڑی کام کی شےء ڈھونڈی ہے۔ محفل کے گراں قدر رکن اور پاک نستعلیق کے خالق جناب محسن حجازی نے ایک بار محفل پر ہی لینکس میں فونٹ ہنٹنگ کے بارے میں ذکر کیا تھا کہ طےشدہ طور پر فعال نہیں ہوتی کرنا پڑتی ہے چونکہ یہ ملکیتی اور پیٹنٹ شدہ چیز ہے۔ اسی وجہ سے ہمیں لینکس پر فونٹ اس معیار کے نظر نہیں آتے تھے جس معیار کے ونڈوز پر تھے۔ آخر کار ہمیں آج ایک حل مل ہی گیا سوچا آپ سے شئیر کرتے چلے جائیں۔ اس ربط پر چلے جائیں۔ دی گئی فائل کو ہدایت کے مطابق اتار کر اپنے ہوم فولڈرمیں نام بدل کر رکھ دیں۔ خروج کرکے دوبارہ داخل ہوں اور کمال دیکھیں آپ کو فونٹس کی پیشکش میں واضح فرق نظر آئے گا یہ ہِنٹنگ کی وجہ سے ہے۔ اصل میں ہنڈنگ سے فونٹ تھوڑا سا موٹا نظر آتا ہے (کم از کم لینکس پر) جس سے اس کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے۔ لینکس استعمال کرتے رہیں اور موج کرتے رہیں۔ وسلام

ہفتہ، 3 فروری، 2007

How to Upgrade Wordpress?ورڈپریس کو جدید کس طرح کریں؟

کئی دن کی کھجل خواری اور ڈر ڈر کے آخر دو دن پہلے ہم نے ورڈپریس کو جدید کر ہی لیا۔ پہلے ہمارے پاس ورڈ پریس 2.0.4 تھا لیکن جب ورڈپریس 2.1 آیا تو اس میں موجود خوبیاں دیکھ کر ہمارا دل بے اختیار للچا اٹھا چناچہ ہم نے متعلقہ سائٹ سے ورڈپریس کو جدید کرنے کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں اور اللہ کا نام لے کر پرسوں صبح بیٹھ کر یہ کام کرہی ڈالا۔ الحمد اللہ ہمارا ورڈپریس بالکل وَل چل رہا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے نبیل بھائی کا ویب پیڈ اب اس کے پوسٹ پیج پر کام نہیں کرتا چونکہ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں ہم نے کافی زور آزمائی کی لیکن بات نہ بنی۔ خیر امید ہے یہ کام بھی ہوجائے گا بقول نبیبل بھائی کے وہ ویب پیڈ کی شمولیت مزید آسان بنانے کے لیے اس کو جدید کررہے ہیں اللہ کرے یہ آسانی سے شامل ہوجائے ورڈپریس میں۔


لو جی اتنی ساری بک بک سننے کے بعد آپ لازمًا بور ہوگئے ہونگے سو آپ کی بوریت کو دور کیے دیتے ہیں اور لیے چلتے ہیں آپ کو بطرف ورڈ پریس کی جدت۔


ویسے تو ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے پیشہ ورانہ سایٹ پر ہدایات موجود ہیں۔لیکن ہم آپ کو دیسی اور آسان طریقہ بتاتے ہیں جو کہ اخذ وہیں سے کیا گیا ہے لیکن ذرا دیسی سٹائل میں اس کا بیان آپ کو سمجھنے میں آسانی مہیا کردے گا۔


سب سے پہلا کام جو آپ نے ورڈپریس کو جدید کرنے کے لیے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کی ویب سائٹ سے ورڈپریس اتار لینا ہے۔


اگلا کام یہ کریں کہ اپنی ڈیٹابیس کی پشتادہ نقل یعنی بیک اپ کرلیں تاکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوجائے تو مسئلہ نہ ہو۔ ورڈپریس والے تو ساری کی ساری فائلوں کو نقل کرلینے کا مشورہ دیتے ہیں لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا بہرحال یہ آپ کے وسائل پر منحصر ہے ویسے احتیاط اچھی بات ہوتی ہے۔ اور ہاں ورڈپریس کی ڈیٹابیس کی نقل لینا کوئی مشکل کام نہیں پلگ انز میں جاکر ڈیٹابیس بیک اپ کے دخیلے کو فعال کریں پھر مینج میں جاکر اس سے پشتادہ نقل تیار کرلیں۔ یہ دخیلہ ورڈپریس میں طےشدہ طور پر موجود ہوتا ہے۔


لوجی ورڈپریس اتنی دیر میں اتر گیا ہوگا اور آپ نے یقینًا ڈیٹابیس اور متعلقہ فائلوں کی پشتادہ نقل تیار کرلی ہوگی۔ اگلا کام اب یہ ہے کہ آپ نے ورڈپریس کنفگ پی ایچ پی فائل جو کہ روٹ میں ہی موجود ہوتی ہے کو ہوبہو نقل کرکے نئے ورڈپریس فولڈر میں ڈال دینا ہے اور اس میں پہلے سے موجود فائل جو کہ wp-sample-config.php کے نام سے ہوگی کو اڑا دینا ہے اس فائل میں آپ کی ڈیٹابیس کی معلومات محفوظ ہوتی ہیں سو اس کو نہیں چھیڑتا۔


اس کے بعد آپ نے اپنے تمام کے تمام فعال دخیلے یعنی پلگ انز ورڈپریس ناظمی پینل کے پلگ ان نامی ربط میں جاکر باری باری غیر فعال کردیتے ہیں۔


اگلا کام جو آپ نے کرنا ہے وہ یہ ہے کہ فائل زیلا یا اپنے کسی بھی پسندیدہ ایف ٹی پی مینجر سے ورڈپریس 2.1 کو اٹھا کر اپنے سرور پر چڑھا دینا ہے لیکن ٹھہریں آپ نے /wp-content نامی فولڈر کو سرور پر کچھ نہیں کہنا۔


اس فولڈر میں آپ کے پسندیدہ ورڈپریس حلیے یعنی تھیم اور دخیلے ہوتے ہیں اس کو ایسے ہی رہنے دینے کے لیے ہم نے یہ کیا تھا کہ ورڈپریس 2.1 جو سرور پر چڑھانا تھا کے فولڈر میں سے وپ کونٹینٹ والا فولڈر ہی اڑا دیا اور باقی سب کو منتخب تمام کرکے سرور پر چڑھا دیا۔ اس دوران آپ کا ایف ٹی پی ناظم پوچھے گا کہ کیا پرانی فائلوں کو اوور رائٹ کردوں آپ نے ہاں کردینی ہے بلکہ ہر بار کی زحمت س بچنے کےلیے آپ نیچے دئیے ہوئے ہمیشہ ایسا کریں کے بکس کو نشان زد کردیجیے۔ کوئی دو میگا بائٹ کے قریب ورڈپریس کی چڑھائی آپ کے کنکشن کی رفتار پر منحصر ہوگی۔ اس کو آدھ گھنٹے سے زیادہ نہیں لینا چاہیے ویسے۔


لیجیے جب یہ کام ہوگیا تو اگلا کام آپ نے اپگریڈ پی ایچ پی فائل کو چلانے کا کرنا ہے۔ اس کی مثال یہ ہوسکتی ہے۔


( http://example.com/wordpress/wp-admin/upgrade.php )


یہاں مثال کی جگہ اپنا بلاگ پتہ لکھ دیں اور اسی کو چلالیں۔ فائل چلے گی اور آپ کو بلاگ جدید کرنے کو کہا جائے گا آپ اللہ کا نام لے کر اس بٹن پر کلک کردیں۔ اگلے مرحلے پر سب کچھ ہوجائے گا اور آپ کو انجوائے اٹ کا ایک ربط نظر آئے گا اس پر کلک کریں اورآپ کا بلاگ جدید ہوگیا۔ ایڈمن پینل میں جائیں آپ کو واضح تبدیلیاں نظر آئیں گی۔۔ اگر کوئی گڑبڑ محسوس ہو تو صفحے کو ایک بار تازہ کرلیں امید ہے مسئلہ حل ہوجائے گا۔ اب اپنے دخیلے دوبارہ سے فعال کرلیں اور آپ تیار ہیں تازہ ترین ورڈپریس استعمال کرنے کے لیے۔


اور ہاں یہ تو میں بھول ہی گیا آخر ورڈپریس 2.1 میں نیا ہے کیا۔ اس میں ویسے تو کافی ساری خوبیاں ہیں جن کا ذکر پیشہ ورانہ ویب سائٹ پر موجود ہے لیکن میرے خیال سے جو بہترین خوبیاں اس میں اس بار شامل کی گئی ہیں ان میں نمبر ایک تو پوسٹ لکھتے ہوئے اس کا خودکار انداز میں ایک مخصوص وقت کے بعد سرور پر محفوظ ہوتے جانا ہے یہ ایک عرصے سے مطالبہ تھا ورڈپریس کے صارفین کی طرف سے جس کو اس اشاعت میں پورا کیا گیا ہے۔اس طرح لکھنے والا بار بار محفوظ کرنے کے عذاب سے بچا رہتا ہے ۔


دوسری چیز جو اس سے بھی زیادہ اچھی ہے وہ ہے ورڈپریس سے ورڈپریس بلاگ میں ڈیٹا برآمد کرنا۔ پہلے یہ سہولت غیر پیشہ ورانہ دخیلے کی صورت میں دستیاب تھی جس کو میں نے ٹرائی کیا بھی لیکن وہ کچھ اتنی خاص نہ تھی اور اس پر مزید کام کی ضرورت تھی۔ اب ورڈپریس میں درآمد اور برآمد دونوں کے انتخابات موجود ہیں۔


مینج میں جائیں اور ایکسپورٹ پر کلک کردیں۔ آپ کے سامنے ایک صفحہ کھل جائے گا جس میں کسی ایکس ایم ایل فائل بنانے کی بات کی گئی ہوگی۔ آپ کو صرف ایک بٹن پر کلک کرنا ہے اور آپ کے تمام کے تمام ورڈپریس ڈیٹا کی نقل آپ کے کمپیوٹر میں ایک ایکس ایم ایل یا آرایس ایس فائل کی شکل میں اتر جائے گی یہ فائل صرف ورڈپریس ہی استعمال کرسکے گا۔


اس کے بعد جب بھی آپ تحاریر دوبارہ سے واپس لانا چاہیں چاہے یہ کہیں کسی بھی ورڈپریس بلاگ پر ہو بس اسی ایکسپورٹ کے ساتھ والے ربط امپورٹ پر کلک کرکے تمام تحاریر، تبصرے، زمرے اور سب کچھ واپس حاصل کرلیں جو آپ کے پچھلے بلاگ میں موجود تھا۔ ہم یہ تجربہ ذاتی طور پر فرما چکے ہیں ملاحظہ کیجیے۔


مزے دار چیز ہے نا؟ وہ احباب جن کو اپنے ورڈپریس ڈیٹا کی فکر تھی اب بے فکر رہیں اب کچھ نہیں ہوگا اب آپ کسی بھی فری ہوسٹ پر بے دھڑک ورڈپریس بلاگ بنا سکتے ہیں۔ لیکن ایک حد شاید لگ جائے وہ ہے فائل چڑھانے کی حد۔ میرے سرور پر یہ حد ایک میگا بائٹ ہے شاید جس کی وجہ سے ورڈپریس کے درآمد کنندہ نے مجھے ایک میگا بائٹ زیادہ سے زیادہ فائل سائز کا اشارہ دیا تھا۔ خیر جب ایک میگا بائٹ ہوگا ہم کہیں اور اڑ چکے ہونگے۔ فی الحال تو چلنے دیں۔


تو یہ تھا جناب ورڈپریس کے بارے میں ہمارے تازہ ترین تجربات اور جاتے جاتے ایک خبر بھی سن لیجیے ورڈپریس والوں نے بھی اوبنٹو کی طرح مخصوص دورانیے کے بعد اپنے نئے نسخے جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان کا اگلا اہم نسخہ شاید اپریل کے آخر میں منظر عام پر آجائے گا۔


ورڈپریس جدید ہوتا جارہا ہے اور ہماری بدقسمتی ہم ہر بار اردو محفل پر صرف اس کا ترجمہ ہی جدید کرتے ہیں ایک اردو ورڈپریس پیکج بنانے کا خواب تھا جانے کب تعبیر بن سکے۔ :(


ہماری تو یہی دعا ہے کہ اللہ آزا د مصدر کو یونہی ترقی دے چاہے وہ لینکس کی صورت میں ہو یا ورڈپریس کی شکل میں۔


جئے آزاد مصدر جئیں آزاد مصدر کے چاہنے والے۔


دعاؤں میں یاد رکھیے گا


وسلام