جمعرات، 17 مئی، 2007

حکمرانوں کی بوکھلاہٹیں

میڈیا کے جرات مندانہ کردار نے حاکموں کو چیخنے پر مجبور کردیا ہے۔ کل مشرف صاحب اخبار میں فرما رہے تھے کہ میڈیا کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے گا. مشرف صاحب کو اب اپنے اقتدار کی جتنی شدید فکر پڑ گئی ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اب تو امریکہ بہادر بھی خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ اتحادی جماعتوں کو مشرف صاحب نے صدارتی انتخابات کی تیاریاں کرنے کی ہدایت کردی ہے۔


 جاوید چوہدری کا کہنا ٹھیک ہی تھا یوں لگتا ہے حاکم اب ڈرے ہوئے ہاتھی ہیں جو اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو روندتے جاتے ہیں۔

منگل، 15 مئی، 2007

جب ہمارے پسینے چھوٹے۔۔۔

کل تک ہم نے پسینے چھوٹنے کے بارے میں چند ایک واقعات اور محاورات ہی سن رکھے تھے۔۔
لیکن کل  محسوس بھی کرلیا اور دیکھ بھی لیا۔ ہمارے استاد محترم سر راشد نے جو ہمیں انگریزی گرامر پڑھاتے ہیں ایک اسائنمٹ دی۔ ساری کلاس کی طرح ہم نے بھی اسے "لائٹ" لیا اور جب کل اسائنمنٹ چیک ہوئی تو ہمارے آدھے کام نے ہمارے پسینے چھڑوا دئیے۔ پسینوں پر عروج تب آیا جب سر نے اسائنمنٹ چیک کرکے اس کے نمبر دینا شروع کردئیے۔ ہمیں بے اختیار رومال نکالنا پڑا۔


کل بقول ہمارے ہی موج ہوگئی۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے یہ پسینے دوبارہ چھوٹیں۔


 

اتوار، 13 مئی، 2007

کچھ مزید تصاویر

فیصل آباد کی کچھ باضابطہ تصاویر۔ مختلف اوقات مختلف مقامات لیکن اکثر جی سی یونیورسٹی کے آس پاس اور میرے عمومی روٹس کی ہیں۔ انشاءاللہ دوسرے مقامات کی تصاویر بھی ساتھ ساتھ شامل کرنے کی کوشش کروں گا۔


اہل اقتدار کے بھنگڑے

اہل اقتدار اس نشے میں ہیں کہ انھوں نے کل میدان مار لیا۔ مشرف صاحب اتنےسارے لوگوں کو دیکھ کر یقینًا پھولے نہیں سمائے ہونگے اور ان کا بیان جاری کرنا بھی حق بنتا ہے آخر وردی والے صدر ہیں اور ق لیگ ہی تو ان کی جماعت ہے۔ابھی بی بی سی پر پنجاب سے آنے والے قافلوں کی تصاویر دیکھیں تو اپنے ملنے جلنے والوں کے تبصرے یاد آگئے۔


ایک صاحب نے فرمایا کہ ہر یونین ناظم کو دوسو افراد کا ٹارگٹ دیا گیا تھا۔ ایک اور دوست فرماتے ہیں کہ میرے پاس کئی لوگ آئے جنھوں نے تین سو پانچ سو روپے فی بندہ معاوضے کا ذکر کیا۔


خود ہماری نظروں کے سامنے ایک بس تیار ہورہی تھی جس پر ہمارے ٹاؤن ناظم صاحب کا بینر لگا ہوا تھا۔ آگے آپ خود سمجھدار ہیں۔ واپڈا والے دو دن وہاں مصروف رہے ہیں۔ لاکھوں روپے  سیکیورٹی پر خرچ کردئیے گئے ہیں۔ حکومت کیوں نہ بھنگڑے ڈالے۔۔۔۔۔


کاش یہ روپیہ جو جھوٹی شان دکھانے میں اڑا دیا گیا کسی غریب کے تن کا کپڑا اور منہ کا نوالہ بن جاتا۔ کاش۔۔۔

ہفتہ، 12 مئی، 2007

آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟

جنزل صاحب بڑے بے خبر صدر ہیں۔ فرماتے ہیں یہ عوامی طاقت ہے۔ میں ایک تیسرے درجے کا شہری یہ بات جانتا ہوں کہ انھیں تین سو روپے فی بندے کے عوض پورے پنجاب سے اکٹھا کیا گیا ہے جنھیں یہ "عوامی" طاقت بتا رہے ہیں۔ انھیں اصل میں عوامی نہیں خزانوی طاقت کہنا چاہیے تھا۔ آخر خزانے میں بارہ ارب ڈالر ہوگئے ہیں کہیں تو خرچ ہونے تھے۔ اور اپنی حکومت کے لیے خرچ کرنا تو عین کار ثواب اور راہ نجات ہے۔
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔