جمعہ، 22 جون، 2007

انتخاب

پھڑ نقطہ چھڈ حساباں نُوں


چھڈ دوزخ گر عذاباں نوں


کر بند کفر دیاں کتاباں نوں


کر صاف دلے دیاں خواباں نوں


گل ایسے گھر وچ ڈھکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


ایویں متھا نئیں زمیں تے گھسائی دا


پالما محراب دکھائی دا


پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا


دل اندر سمجھ نہ لائی دا


کدی سچی گل وی لُکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


اک جنگل بحریں جاندے نیں


اک دانہ روز دا کھاندے نیں


بے سمجھ وجود تھکاندے نیں


گھر آون ہوکے ماندے نیں


چلیاں اندر جند سکدی اے


اک نقطے وچ گل مکدی اے


کئی حاجی بن بن آئے جی


گل نیلے جامے پائے جی


حج ویچ، ٹکے لے کھائے جی


پر ایہہ کھل کینہوں بھائے جی


کتھے سچی گل وی رُکدی اے


اک نقطے وچ گل مُکدی اے


بلھے شاہ

جمعہ، 15 جون، 2007

ترقیاں


موج ہوگئی بقول ہمارے ہی


کل سے اصل میں ہمارے فری سرور کو بخار تھا اور نئی پوسٹ نہیں ہورہی تھی.  ہم نے آج صبح ایسے ہی یہ مسودہ اٹھا کر شائع کرڈالا. امید نہیں تھی کہ اب بھی پوسٹ شائع ہوجائے گا. لین ایرر دیئے بغیر یہ شائع ہوگئی. سونے پر سہاگہ نیٹ بند ہے صبح سے چناچہ اس نمونے کو ٹھیک کرنے کا خیال ہی نہیں آیا اور احباب اندازے لگا لگا کر ہلکان ہورہے ہیں.


ویسے یہ ترقیاں کا مقصد حکومت کے بخیے ادھیڑنا ہی تھا جیسا کہ ٹرینڈ ہے آج کل کا.


شاید اردو بلاگنگ میں پہلی بار ہورہا ہے. پوسٹ بعد از تبصرے.

اتوار، 3 جون، 2007

ہمارا موڈ شریف

ہمارا موڈ بھی عجیب ہے۔ جب پرچے قریب آجائیں پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ لوگ پرچے قریب آنے پر حاجی ہوجاتے ہیں۔ مسجد میں حاضریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ زبان پر استغفار کا ورد ہر وقت رہنے لگتا ہے۔ نظریں نیچی اور ہاتھوں میں کتابیں آجاتی ہیں۔ گوشہ نشینی اور راہبانیت اپنا لیتے ہیں۔ اور ایک ہم ہیں۔


سال کے شروع سے لے کر بڑی باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ ہر ٹاپک ہماری ٹانگ تلے ہوتا۔ کلاس میں ٹور الگ ہوتی ہے۔ اور پرچے نزدیک آجائیں تو کام ختم۔ کہاں کی کتابیں۔ کل ہمارا پرچہ ہے اور ہم صبح سے انٹرنیٹ کے سامنے جمے ہوئے ہیں۔ یونہی کے ڈی ای کی وضع قطع درست کررہے ہیں۔ تھیم ڈاؤنلوڈ ہورہے ہیں۔ ویب سائٹس کا وزٹ ہورہا ہے یہ کہہ کر کہ بس یہی آخری۔ ای میلز چیک ہورہی ہیں۔ رات ایک فلم آئی تھی اس کو دیکھا ہے۔ یعنی پڑھائی کے علاوہ ہر کام۔


سمجھ سے باہر ہے یہ رویہ۔ آخر کس چیز کا ڈر ہے جو پڑھنے سے روکتا ہے۔


کیا آپ اس کے پیچھے کارفرما نفسیاتی وجوہات بتا سکتے ہیں؟ شاید ہم اپنے آپ کو ٹھیک کرسکیں۔

جمعہ، 1 جون، 2007

کیا پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہے؟

محفل پر ایک نہایت ہی محترم رکن نے دوران گفتگو یہ بات کی کہ پنجاب کی نئی نسل اخلاقی انحطاط کا شکار ہوچکی ہے۔ ان کی باتوں کے آغاز میں گالی درمیان میں گالی اور آخر میں بھی گالی ہوتی ہے۔
 میں ایک پنجابی ہوں۔ پنجاب کے ایسے شہر کا رہنے والا جو قریبًا پنجاب کے درمیان میں واقع ہے۔ سوچا اس پر کچھ تحقیق کروں۔ محفل پر کچھ احباب نے اوپر دئیے گئے اس بیان پر اعتراض کیا تھا۔ میں نے بھی ایک نہیں لکھ مارا کہ ایسا نہیں۔ لیکن بعد میں جب تسلی سے سوچا تو نتیجہ کچھ اور نکلا۔ میں کوشش کروں گا کہ اس سارے سلسلے کو غیر جانبدار ہوکر دیکھ سکوں۔


بدھ، 23 مئی، 2007

میرے ویب دوست (چلتے چلتے ایک کرم فرما پر میری نظر کرم)

امانت علی گوہر۔ بقول علمدار ان کے نام سے لگتا ہے کہ ایک نہیں تین بندے ہیں جنھیں پیک کردیا گیا ہے۔ امانت علی گوہر کے بارے میں ہمارے احساسات بڑے مریدانہ قسم کے تھے۔ ان سے واقفیت تب کی ہے جب یہ گلوبل سائنس میں لکھا کرتے تھے اور ہم ان کی تحاریر پڑھ پڑھ کر سر دھنا کرتے تھے۔


(کبھی ان کا سر دھننے کا خیال آیا ہو تو حد ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہاں ذکر نہیں کررہے ۔) ان کے بارے میں اگلی سن گن اس وقت ملی جب ہم محفل پر تشریف لائے۔ یہ بھی کبھی کبھی آیا کرتے تھے۔ اس وقت ہمیں محسوس ہوتا تھا یہ کوئی انٹلکچوئل قسم کی چیز ہیں۔ مثلًا ایک بار تشریف آوری ہوئی تو ایک عدد اردو ورڈ فریکوئنسی کاؤنٹر بنا لائے۔ اب ہم ٹھہرے پینڈو ہم اتنے میں ہی مرعوب ہوگئے۔


پھر پتا چلا کہ طبیعت ناساز رہتی ہے۔ تو ہم نے اس سارے سیاق سباق سے یہ اندازہ لگایا کہ دانشور قسم کی چیز ہیں اور نازک طبع بھی کہ ذرا سی بات سے طبیعت ناساز ہوجاتی ہے۔


ان کا اگلا ٹاکر ہم سے محمد علی مکی کے "تھرُو" ہوا۔ انھوں نے انھیں ہماری طرف تھرو کردیا۔ ہمیں یاد ہے ذرا ذرا مکی بھائی فون پر ہم سے بات کررہے تھے کرتے کرتے انھوں نے انھیں فون پکڑا دیا۔ ہمیں  نوے فیصد شک ہے کہ ان کے احترام میں فورًا اٹھ کر کھڑے ہوگئے تھے ہم(اگرچہ یہ دو ماہ سے پرانی بات نہیں لیکن صاحبو ایسی باتیں ہمیں بھولنے کی پرانی عادت ہے)۔ ان کی آواز سنی تو لگا جیسے ساتھ والوں کا چھوٹا لڑکا بول رہا ہے۔ اس دن ہمارے ارے ارمان چکنا چور ہوگئے۔ ہم جو ان کو پیر و مرشد بنانے کے خواہش مند عرصہ دراز سے تھے اب ان کے انکل کے رتبہ جلیلہ پر فائز ہیں۔ یہ بھی لمبی داستا ن ہے بس اتنا سمجھ لیں کہ ایک بار جب ہم نے اپنی عمر عرض کرکے کہا کہ ابھی تو ہمارے کھلینے کودنے کے دن ہیں تو انھوں نے جواب آں غزل کے طور پر اپنی عمر ظاہر فرمائی اور ہمیں شک ہوا کہ اگر ہمارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں تو ان کے لازمًا جھولا جھولنے کے دن ہونگے۔


ٰامانت علی گوہرٰ واقعی تین بندے ہیں۔ جو کام انھوں نے "اتنی سی عمر" میں سنبھالا ہوا ہے ایک بندے کا کام نہیں۔ ویسے ہمیں شک ہے کہ ٰگوہرٰ ان میں عارضی بندہ ہے۔ چونکہ یہ ابھی منے ہیں لیکن بڑے ہونے پر ان کی شادی بھی ہوگی۔ اور ہمیں 99 فیصد یقین ہے کہ شادی کے بعد ان کا نام امانت علی گوہر نہیں امانت علی ٰشوہرٰ ہوجائے گا۔


امانت علی گوہر ہمارے بہت اچھے دوست اور کرم فرما ہیں۔ ان کی بدولت ہم خود اب لکھاری لکھاری سا محسوس کرتے ہیں۔ چلتے پھرتے یونہی جب خیال آئے کہ کمپیوٹنگ میں ہماری تحریریں بھی چھپتی ہیں گردن میں سریا آجاتا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ان کا اور کمپیوٹنگ کا ہم سے اور اردو سے ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔