جمعہ، 23 نومبر، 2007

ایک اور جنازہ اٹھتا ہے

میر بالاچ مری ایک عرصے تک بلوچ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔ اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک کاروائی میں‌ ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس واقعے پر سندھ اور بلوچستان میں ہنگامے ہورہے ہیں‌ جن میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوچکے ہیں‌۔

میں نہیں‌ جانتا وہ صحیح‌ تھا یا غلط۔ بقول میرے ایک جاننے والے کے قبائلی صرف ڈنڈے کی زبان سمجھتے ہیں۔ چناچہ ان پر ہیلی کاپٹروں‌ سے آگ برسا کر بالکل ٹھیک کیا جارہا ہے۔ میں اس وقت بھی ان صاحب سے متفق نہیں تھا اور اب بھی نہیں‌۔ مذاکرات ہر مسئلے کا حل ہوتے ہیں۔ قوم پرستوں‌ کے مطالبات ایسے نہیں‌ کہ انھیں پورا نہ کیا جاسکے۔ لیکن کیا کہیں ہماری فوج کا جسے اپنی تربیت بھی تو کہیں آزمانی ہے۔ گولہ بارود پڑا سڑتا رہے اس سے بہتر ہے کہ کہیں "کام" آجائے۔

جمعرات، 22 نومبر، 2007

ایک نیا کھلونا

مجھے اچھی طرح یاد ہے آج سے کوئی دس سال پہلے میرے ماموں کی بیٹھک میں ڈاکٹر قدیر خان کا ایک پورٹریٹ ہوا کرتا تھا۔ جس پر لکھا تھا محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان۔ ایک عرصے تک ڈاکٹر قدیر خان ہمارا ہیرو رہا۔ ہم اس کے گن گاتے رہے۔ پھر مشرف آیا اور اسے بند کردیا۔ ہم نے کچھ عرصہ تک احتجاج کیا۔ دبی دبی کراہیں بلند ہوئیں اور معاملہ دب دبا گیا۔ کبھی کبھی کوئی اخبار والا بین کردیتا ہے اور فرض کفایہ ادا ہوجاتا ہے۔
پھر اس سال مارچ میں ہمیں ایک اور کھلونا مل گیا۔ یہ افتخار محمد چوہدری تھا۔ پرویز مشرف نے اس کے خلاف ریفرنس کیا بھیجا ساری قوم کو جیسے آگ لگ گئی اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ ملک کے پھنے خاں صدر نے بھی ہاتھ کھڑے کردئیے۔ افتخار چوہدری جو اس سے پہلے ایک عام سا چیف جسٹس تھا ہمارے لیے بہت خاص بن گیا۔ جیسے یہی اس قوم کا مسیحا ہو۔ اخبار، میڈیا اور میرے جیسوں کی زبانیں اس کی تعریف میں سہرے کہنے لگیں۔ لیکن حالیہ ایمرجنسی نے ہم سے ہمارا یہ کھلونا بھی چھین لیا۔ اب افتخار چوہدری کوئٹہ میں نظر بند پڑا ہے۔ کبھی کبھار اس کے بارے میں کوئی ذکر کرلیتا ہے اور بات ختم۔
اب ہمیں اک نیا کھلونا مل گیا ہے۔ پوجنے کے لیے ایک نیا چہرا۔ عمران خان، گریٹ خان پاکستان کا سابق کپتان اور پاکستان تحریک انصاف کا صدر۔ امید باندھنے والوں کو تو بس ایک آس چاہیے ایک ہلکی سی آس سو انھوں نے اس کے ساتھ لگا لی ہے۔ عمران خان ہی شاید مسیحا ہے میرے جیسے یہ سوچتے ہیں۔ عمران خان ظلم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے سچا کھرا انسان ہے وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔ ہر کوئی اپنے انداز میں اس کی تعریفیں کررہا ہے۔ ان عام انتخابات میں --اگر ہوئے تو-- اس کی پارٹی اچھی خاصی نشستیں‌ جیتنے کی امید کرسکتی ہے۔
بات کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مجھے لگا شاید ہم پچاری ہیں۔ محمد بن قاسم کی آمد سے بھی پہلے کے پچاری، بس بت بدل گئے ہیں۔ جلدی جلدی بدلنے لگے ہیں یا ہم کسی بت سے جلد ہی اکتا جاتے ہیں۔ ہمارا کام بس پوجا کرنا ہے، یا کھیلنا۔ یہ ہمارے کھلونے ہیں جن سے ہم کھیلتے ہیں اور جب ایک چھن جاتا تو ہم دوسرا تراش لیتے ہیں۔
ہم بچے ہیں، نادان بچے جنھیں اپنے کھلونے سے غرض ہے، بس ایک کھلونا ملا رہے اور اس ایک کھلونے کے بل پر ہم اپنے خوابوں خیالوں میں جانے کیا کیا کرگزرتے ہیں۔

منگل، 20 نومبر، 2007

اور اب اوبنٹو کی بورڈ

یار لوگ ابھی تک صرف ونڈوز کی بورڈ استعمال کرتے آئے ہیں جس پر کنٹرول اور آلٹ کے مابین مائیکروسافٹ ونڈوز کے نشان والا ایک بٹن گھسیٹر کر "شدھی" کیا گیا ہے۔ اوبنٹو بھی پیچھے نہیں رہا۔ اگرچہ طریقہ کار وہی ہے کہ دونوں سائیڈز پر ونڈوز کی جگہ اب اوبنٹو بٹن نظر آتا ہے۔
یو ایس بی کی بورڈ کی قیمت صرف پچیس ڈالر ہے۔ اگر اوبنٹو پر اتنے فدا ہوچکے ہیں کہ ونڈوز کی شکل کی بورڈ پر بھی گوارہ نہیں تو پچیس ڈالر خرچ کرکے اپنی جیب ضرور ہلکی کیجیے۔
Free Image Hosting at www.ImageShack.us

ہفتہ، 17 نومبر، 2007

احتجاج؟

ایمرجنسی لگے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ ہر جگہ احتجاج کی باتیں ہورہی ہیں یا احتجاج ہورہا ہے۔ حالات تیزی سے فوجی صدر کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی نے اس بار لوگوں کو بہت تیزی سے اس صورت حال سے باخبر کیا۔ اس کے نتیجیے میں مقبول ٹی وی چینلز کی بندش اور اس کے بعد جیو کے ختم ہونے کی خبر بھی سننی پڑی۔
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں‌ حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں‌ لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں‌ جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیں‌تو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں "سالا پاگل ہے"۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں‌ ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں‌ نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں‌ یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں‌ اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں‌ ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں‌ ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں‌ خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں‌ یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں‌ وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا

جمعرات، 15 نومبر، 2007

ایک بار پھر سے

عزیزان من ہم ایک بار پھر سے آنلائن ہیں۔ مکی بھائی کا شکریہ جن کے ساتھ مل کر ہم نے نئی بلاگ ہوسٹنگ لی ہے۔ اس عرصے میں بہت کچھ ہوگیا۔ فرصت ملنے پر اس پر لکھوں گا۔


تھیم شاید آپ کو فائر فاکس پر تنگ کرے۔ لیکن گزارہ کیجیے فی الحال۔ چونکہ ہماری عادت ہے کہ بلاگ نیا تو تھیم بھی نیا اور اپنے ہاتھ سے لولا لنگڑا اردو کیا ہوا۔ کسی سادے سے تھیم کو اب دیکھتے ہیں مزید اردو کرنے کے لیے۔


وسلام