ہفتہ، 17 نومبر، 2007

احتجاج؟

ایمرجنسی لگے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ ہر جگہ احتجاج کی باتیں ہورہی ہیں یا احتجاج ہورہا ہے۔ حالات تیزی سے فوجی صدر کے خلاف ہوتے جارہے ہیں۔ میڈیا کی آزادی نے اس بار لوگوں کو بہت تیزی سے اس صورت حال سے باخبر کیا۔ اس کے نتیجیے میں مقبول ٹی وی چینلز کی بندش اور اس کے بعد جیو کے ختم ہونے کی خبر بھی سننی پڑی۔
میرے دوست احباب ساتھی بلاگرز بڑی شدو مد کے ساتھ ایمرجنسی کی مذمت کررہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے لیے کہہ رہے ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج کے طریقے لکھ رہے ہیں۔ اردو تو اردو انگریزی بلاگرز بلاشبہ زیادہ منظم ہیں وہ احتجاج کو کوریج دے رہے ہیں لمحہ لمحہ کی رپورٹ دے رہے ہیں۔ میرے کئی احباب نے احتجاج میں‌ حصہ ڈالنے کے لیے نجی ٹی وی چینلز کے روابط تک اپنی سائٹس پر ڈال دئیے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو مظاہرین کی تعریفیں کرکے ہی دل کی بھڑاس نکالی جارہی ہے۔
اوپر سب کچھ بیان کیا گیا حقیقت ہے۔ مجھے اسے تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی اس چھوٹی سی دنیا اور سول سوسائٹی، صحافیوں، وکلاء اور طلباء کے چھوٹے سے گروہ کے علاوہ احتجاج کرنے والا کوئی نہیں۔ سیاسی کارکن یا تو اندر ہے یا پھر اس کا احتجاج اپنے لیڈر کے اشارے کا مرہون منت ہے۔ یہاں احتجاج سے میرا وہ احتجاج ہے جو میڈیا، عدلیہ کی آزادی کے لیے کیا جارہا ہے۔ میرے اردگرد سب کچھ ویسا ہی ہے۔ بشیر مٹھائی والے کی دوکان ایسے ہی چل رہی ہے۔ منیر پٹرول والا اب بھی اسی سکون سے پٹرول بیچتا ہے اور جب میں اس کے قریب سائیکل پر سوار گزروں تو مجھے رانا صاحب کہہ کر ویسے ہی چھیڑتا ہے۔ میرے والد کو اب بھی اپنے کاروبار کی فکر ہے۔ میری والدہ کو اب بھی وہی فکر ہے کہ اب گھی ختم ہے اور یوٹیلٹی سٹور سے کوئی پتا کرے کہ آیا ہے یا نہیں تاکہ لائن میں‌ لگ کر لیا جاسکے۔ میری یونیورسٹی میں وہی گہما گہمی ہے کلاسز ہورہی ہیں طلباء آرہے ہیں جارہے ہیں۔ وہی آنکھ مٹکا چل رہا ہے، وہی سٹوڈنٹانہ ادائیں برقرار ہیں۔
یہ سب کیوں ہے؟ جب میرے اندر بھانبھڑ جل رہے ہیں۔ میں‌ جب سٹاپ پر اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک پیلا پڑتا پوسٹر نما لے کر کھڑا ہوتا ہوں جس پر عدلیہ کو آزاد کرو اور آئین بحال کرو جیسے گھسے پٹے نعرے درج ہیں‌تو سب میری طرف ایسے کیوں دیکھتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے جیسے ان کی نظریں کہتی ہیں "سالا پاگل ہے"۔ ایمرجنسی لگنے کے باوجود سب کچھ ویسا ہی کیوں ہے؟ لوگوں نے جیو چھوڑ کر سٹار پلس دیکھنا شروع کردیا ہے۔ یا دو چار گالیاں مشرف کو بک کر پھر اپنے کام کیوں لگ جاتے ہیں جیسے کوئی دن میں‌ ایک آدھ بار کھانس د ے اور بس۔۔۔
شیرازی ویڈیو سی ڈی والا یہ کیوں کہتا ہے کہ ہم سب ۔۔۔۔۔۔ ہیں اور ہم سے بڑا ۔۔۔۔۔۔۔ مشرف ہے۔ جیسی قوم ویسا لیڈر۔ یہ قوم پہلے نعرہ لگاتی ہے پھٹے چک دیاں گے اور جب پھٹے چکنے کی باری آتی ہے تو سب غائب ہوتے ہیں۔
آخر مسئلہ کیا ہے؟
میں نے اس پر بہت سوچا۔ بہت سوچا لیکن مجھے اس کی کوئی وجہ یا حل نظر نہیں آیا۔ یہ بے حسی ہے لیکن یہ بے حسی کس وجہ سے طاری ہوگئی ہے میری ننھی سی عقل میں‌ نہیں آسکا۔
چلیں ایک اندازہ لگاتے ہیں۔ شاید یہ ناخواندگی کی وجہ سے ہے۔ یا پھر مہنگائی کی وجہ سے کہ ہر کسی کو اپنی روزی روٹی کی فکر پڑی ہوئی ہے۔
اگر یہ اس وجہ سے ہے تو اس کا تدارک کیسے کیا جائے؟
آخر کونسی چیز ہے جو عام آدمی کو یہ باور کروا سکتی ہے کہ یہ غلط ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔ میری نظر میں‌ یہ ایک لمبا طریقہ کار ہے۔ مختصر دورانیے یا شارٹ ٹرم میں‌ اگر یہ لوگ جاگ بھی گئے تو چک دیاں گے پھٹے کہہ کر پھر غائب ہوجائیں گے۔ ضرورت یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں کچھ کیا جائے۔ کچھ ایسا بندوبست جو اپنے اندر ہمیشگی رکھتا ہو۔
بات بڑی سیدھی سی اور صاف ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ہم بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی اس کے پیچھے کبھی اس کے پیچھے اور کبھی اکیلے ہی باں باں کرتے رہیں گے یا پانچ انگلیوں کی بجائے مکا بن کے مخالف کے منہ پر پڑیں گے۔ اس کا واحد حل میری نظر میں‌ ایک ہی ہے وہ ہے ایک عدد تنظیم۔۔۔
سیاسی نہیں لیکن غیر سیاسی بھی نہیں۔ ایک ایسی تنظیم جو الطاف حسین کی متحدہ کی طرح اشارہ ملنے پر مرنے مارنے پر اتر آئے۔ یہ سچ ہے کہ عام آدمی میں شعور کی کمی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ سوچنا کم ہی گوارہ کرتا ہے۔ چھڈ یار کہہ کر ایک طرف ہوجاتا ہے یا سر نیچے کرکے اپنے کام سے لگا رہتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کچھ باشعور لوگ اس بھیڑ بکری شعور کو سیدھے راستے پر لگائیں۔
شاید اب تک آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی ہو۔ مجھے عادت ہے لمبی لمبی چھوڑنے کی۔ ہم محفل پر بھی اسی طرح کی ایک چیز کی بات کرچکے ہیں۔ اور سارا پیپر ورک مکمل ہونے کے بعد بڑے آرام سے ٹھنڈے ٹھنڈے گھروں کو جاچکے ہیں اب اس دھاگے کو کوئی ہفتے میں ایک بار بھی نہیں دیکھتا۔ یہ سب کچھ انٹرنیٹ پر بیٹھ کر تو کبھی نہیں ہوسکے گا۔ اس کے لیے مل بیٹھ کر کوئی حل نکالنا ہوگا۔ میں پھر کہہ رہا ہوں بلاگ لکھ دینا۔ بی بی سی اردو سے احتجاج کی تصاویر اٹھا کر پوسٹ کردینا۔ صاحب اقتدار کو گالیاں دے دینا بے کار ہے۔ کمی ہے اور وہ کمی ہے جراءت کی۔ باتیں بہت ہوسکتی ہیں۔ میں ایک گھنٹے میں‌ ایک تنظیم کا ڈھانچہ تیار کرکے مہیا کرسکتا ہوں۔ دو چار لوگ تعریف کریں گے میں‌ خوش ہوجاؤں گا اور بات آئی گئی ہوجائے گی۔ کیسی بحالی کہاں کی بحالی اور ترقی۔ سب جائے بھاڑ میں مَیں پھر سے اپنے کام لگ جاؤں گا۔
صاحبان حل یہ ہے کہ میرے بزرگ احباب جو بلاگر ہیں اور جو محفل پر موجود ہیں اور میرے وہ دوست جو انٹرنیٹ پر اندرون و بیرون ملک موجود ہیں مل کر جدوجہد کرنے کی بنیاد رکھیں۔ اس سلسلے میں ایک سادہ سا قدم اردو بلاگرز کی میٹنگ ہوسکتا ہے۔ جس میں بیٹھ کر اردو بلاگنگ پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے اور کسی ایسی تنظیم یا آرگنائزیشن کی بھی۔ جو کچھ میں‌ یہاں کہہ رہا ہوں اس سے زیادہ تلخ حقیقتیں اس روبرو میٹنگ میں سامنے آئیں گی اور ان کا تدارک تب ہی ممکن ہے۔ تب ہی سوچا جاسکے گا کہ کیا کیا جائے، کیا کِیا جاسکتا ہے اور کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اگر آپ کے خیال میں ایس کچھ عملی طور پر ممکن نہیں۔ یا آپ جدوجہد کو مجازی دنیا میں ہی چلانے پر مصر ہیں۔ تو موج کیجیے۔ اس ملک کا کیا ہے خصماں نوں کھائے۔ ساتھ سے چل رہا ہے آگے بھی چل ہی جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ دو چار ٹوٹے ہوجائیں گے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان بھی تو الگ ہیں‌ وہ بھی جی رہے ہیں۔ بنگلہ دیشی بھی جی رہے ہیں ہم بھی جی لیں گے۔ پھر پشاور کراچی اور کوئٹہ جانے کے لیے ویزہ چاہیے ہوا کرے گا اور تو کچھ نہیں۔
رب راکھا

7 تبصرے:

  1. اپنے ہی بلاگ پر احتجاج کرنا ۔ احتجاج کرنا اور احتجاج کی تصوریں لگانا ساتھیوں کو مشورہ دینا نہ ہو تو کم از کام بے خبر قارئین کو خبر پہنچانا ہوتا ہے ۔ پریشان ہونے کی بجائے استخارہ کیجئے شائد کوئی راستہ سوجھ جائے یا دل کو ہی اطمینان آ جائے ۔ پارٹی بنانا ۔ رہبری کرنا ۔ اپنا مستقبل یا اپنی جان ساتھیوں کیلئے خطرہ میں ڈالنا ۔ یہ سب کچھ اللہ کے فضل سے کیا ۔ بیوقوف ۔ پاگل اور باتونی کہلائے مگر اپنا فرض ہمیشہ پورا کرنے کی کوشس کی ۔ ہماری قوم کے پڑھے لکھے لوگوں کی بھی اکثریت صرف اپنا فائدہ دیکھ کر جھاگ کی طرح ایک دم اُٹھتے ہیں اور فائدہ نہ ہونے کی صورت میں پھر ایسے بیٹھ جاتے ہیں کہ کبھی اُٹھے ہی نہ تھے ۔ یہ پرانی باتیں ہیں ۔ فی زمانہ تو لوٹس ایٹرز کی طرح مدہوش ہیں ۔ آپ احتجاج کی بات کرتے ہیں جس کا نتیجہ برا ہو سکتا ہے ۔ اردو محفل پر میں نے بہبودِ عامہ کا دھاگہ چلایا تھا اور کسی کو پسند نہ آیا ۔ آپ کوئی شیطانی کام شروع کرنے کی دعوت دیجئے ۔ لوگ اس طرح ہو جائیں گے کہ جیسے مکھیوں میٹھی چیز پر آتی ہیں ۔
    ایک ہی طریقہ ہے کام کرنے کا ۔ اپنے آپ سے جو کچھ ہو سکے کیا جائے اور کامیابی اللہ سے مانگی جائے ۔ اگر کوئی ساتھ دے تو اللہ کا اور ساتھ دینے والے کا شکریہ ادا کیا جائے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. شاکر تمہاری بات ٹھیک ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام نہیں ہجوم کو پتہ ہی نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق کونسے ہیں؟ اب وہ چھڈ یار نہ کہیں تو اور کیا کہیں؟ پہلے یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لئے قلم ہی مؤثر ہتھیار ہے۔
    آپ تنظیم کی بات کر رہے ہیں لیکن ہم پاکستانی تو ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تو تنظیم کیلیے درکار اتحاد کہاں سے آئے؟
    لیکن جو بھی ہے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا بھی حماقت ہے جو بھی ہو سکے ، چھوٹی سے چھوٹی چیز ہمیں کرنی چاہیے۔۔۔آوازے کسنے والے بعد میں کف افسوس ہی ملتے رہینگے۔ کم از کم آپکو اتنا اطمینان رہیگا کہ آپ نے اپنا کام کسی حد تک تو کیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. السلام علیکم

    بھائی اگر آپ کو یاد ہو تو میں نے کہیں پر غالبا لکھا تھا کہ مجھے احتجاج نہیں‌کرنا۔
    دراصل میں‌ سمجھتا ہوں کہ ہم خود ہی بے حس ہو چکے ہیں ۔ ہمیں‌کسی چیز کی قدر ہی نہیں ہے ہاں اگر ہے تو صرف اس چیز کی ہے کہ ہم رات کو کیا کھائیں گے۔ ہم اپنے ہمسائے کو نیچا کیسے دیکھائیں گے۔
    سنا ہے کہ جو قوم اپنے محسنوں کو بھول جاتی ہے اس قوم کا یہی حال ہوتا ہے۔
    دراصل ہمیں‌احتجاج کی ضرورت نہیں ہے ہمیں ضرورت ہے اپنے ضمیر کے جاگنے کی۔
    آج وکیل کیوں‌پولیس کے ڈنڈے کھا رہا ہے؟
    آج صحافی کیوں‌ پولیس کے ہاتھوں پٹ رہا ہے؟
    آج عدالتیں کیوں پامال ہو رہیں‌ہے؟؟؟

    کیوں کہ عوام بے حس ہو چکی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. کل سے جو ایک بات میرے ذہن میں گردش کررہی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم لوگوں میں شہری شعور کی کمی ہے۔ جب تک شہری شعور بیدار نہیں ہوجاتا، اسی طرح روتے پیٹتے رہیں گے اور کچھ نہیں ملے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. محمد شاکر عزیز20 نومبر، 2007 2:41 AM

    اگر تنظیم نہیں تو تحریک شروع کی جاسکتی ہے۔ یا ایک غیر رسمی قسم کی آگاہی مہم۔ جیسا کہ رہبر نے اپنے بلاگ پر کہا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. ہم شاید پاگل ہی ہیں جو یہ سب باتیں سوچ کر اور لکھ کر دوسرے لوگوں کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔۔۔ لگتا ہے کہ ہمیں خود ہی کرنا پڑے گا، دوسروں کا انتظار بے کار ہے۔۔۔۔۔
    اب یہاں کوئی نہیں۔۔۔ کوئی نہیں‌ آئے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. جناب یہی تو بات ہے کہ ہم انتظار کرتے ہیں کسی مسیحا کا

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔