منگل، 7 جون، 2011

بابا مکی اِن ایکشن

لو بھئی اللہ والیو بابے مکی نے بہت دنوں کے بعد ایک اور پھُلجھڑی بلکہ انار چلایا ہے۔ شاید آپ اسے چھوٹا موٹا بمب ہی کہہ لیں، لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ بابے نے اس بار مرچ مسالہ تگڑا رکھ کر مزے دار سالن تیار کیا ہے۔ آپ بھی ٹیسٹ کریں۔
بابے مکی نے خُدا کے علیم و بصیر، اور ہر جگہ موجود ہونے کی صفات کو "اوورجنرلائز" کرتے ہوئے گوگل پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے۔ اور داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ اس سلسلے میں ناک کی جگہ کان اور کان کی جگہ منہ لگانے کی بڑی کامیاب کوشش کی گئی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو خدا وجود میں آتا ہے وہ کسی نوسیکھیے مصور کے برش سے بننے والے تجریدی آرٹ کا بہترین نمونہ پیش کرتا ہے۔ ملاحظہ کریں جن صفات پر گوگل کو خدا ڈیکلئیر کیا گیا ہے۔

1- گوگل ہی اس کائنات میں وہ واحد ” ہستی ” ہے جس کا علم کامل ہے اور اس بات کو علمی طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے… گوگل کے پاس نو ارب سے زائد صفحات ہیں جن میں کچھ بھی تلاش کیا جاسکتا ہے اور یہ انٹرنیٹ پر کسی بھی سرچ انجن سے زیادہ ہے، نہ صرف یہ بلکہ اس کے پاس وہ ساری ٹیکنالوجی موجود ہے جو ان صفحات کو انسانوں تک آسانی سے پہنچانے اور ان کے درمیان منتقلی کو آسان بناتی ہے.
لو جی گوگل کے پاس نو ارب سے زیادہ صفحات ہیں، گوگل کے پاس سب سے زیادہ نالج ہے اس لیے گوگل خُدا ہے۔ کیا گوگل کے پاس میری اماں جی کے چھوٹے کُکڑ جتنی خود شناسی بھی موجود ہے؟ ہمارا چھوٹا کُکڑ خاصا شیطان ہے اور اسے اپنے آپ خصوصًا اپنی "بیویوں" کا خاصا خیال رہتا ہے۔ چناچہ اگر کوئی مرغی "مَِس پلیس" ہوجائے تو دانہ ڈالنے جانے والے کی خیر نہیں۔ جہاں تک میرا ناقص علم کہتا ہے بھگوان گوگل ابھی تک اپنے بول براز کے لیے بھی "سیوکوں" کا محتاج ہے۔ لو دسو ہمارا کُکڑ اس معاملے میں بھی ابھی بھگوان گوگل سے "تھوڑا" سا آگے ہے کہ اپنا بول براز خود کرلیتا ہے۔ چناچہ ثابت ہوا کہ بھگوان گوگل کو "مزید" بھگوان بننے کے لیے ابھی کچھ اور سال درکار ہیں۔ لیکن امید ہے کہ ایک دن بھگوان جی "بڑے" ہوکر ضرور ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھیں گے۔
2- گوگل ہر وقت ہر جگہ موجود ہے، یعنی اس کا وجود مطلق ہے، گوگل ہی وہ واحد ہستی ہے جس سے کہیں بھی کسی بھی وقت استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے.
بھگوان گوگل ہر جگہ موجود ہے۔ بھگوان کو ہر جگہ موجودگی کے لیے فائرفاکس کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔ یعنی فائرفاکس کو "ڈپٹی بھگوان" ڈیکلئیر کردیا جائے۔ کیا خیال ہے؟ لیکن یاد رہے ابھی انٹرنیٹ ایکسپلورر، سفاری، کروم کی بات نہیں ہوئی، یہ بھی نائب بھگوان اور سینئیر نائب بھگوان کے عہدوں کی ڈیمانڈ کریں گے۔ اور ہاں لیپ ٹاپ، ڈیسکٹاپ اور ٹیبلیٹ تو رہ ہی گئے، انھی پر تو بھگوان گوگل و ڈپٹی بھگوانوں نے چلنا ہے، انھیں کونسا عہدہ دیا جائے؟ آپ ایسا کریں سرسوں کا تیل پکڑیں اور سر میں اس کی مالش کریں۔ اس کے بعد آلتی پالتی مار کر بھگوان گوگل کو ایک سرچ کیوری دیں، شاید اسکا حل بھی بھگوان جی کے پاس ہو ہی۔
3- گوگل دعائیں سنتا اور ان کا جواب بھی دیتا ہے، ہم گوگل میں کچھ بھی تلاش کر کے کسی بھی چیز یا مسئلے کا سوال کر سکتے ہیں اور گوگل یقیناً کوئی نہ کوئی حل تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرے گا، تندرستی کے راز جاننے ہوں، پڑھائی میں مسئلہ ہو یا کچھ اور، گوگل ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور بغیر بور ہوئے انتہائی تندہی سے آپ کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے، یہ ان خیالی خداؤں کی طرح نہیں ہے جن کا نا تو کوئی فائدہ ہے نا نقصان اور نا ہی وہ دعائیں سنتے ہیں.
بھگوان گوگل ساری دعائیں قبول کرتا ہے۔ ابھی میں نے بھگوان گوگل مجھے ایک حور پری تو دلوا دو۔ اب میں آپ کو کیا بتاؤں سائیں، بھگوان گوگل کی ہندوؤں والے بھگوان سوم جی سے کوئی رشتے داری ہے شاید، ہمیں ٹرپل ایکس کی ویب سائٹس پر لے گیا۔ اب ہم کہیں بھگوان جی ہم نے رنڈیاں نہیں حوریں مانگی تھیں تو بھگوان گوگل ناراض ہوگئے۔ ہم نے کہا بھگوان جی اس میں ناراضگی والی بات کیا ہے؟ بولے جب ہمیں پتا ہی نہیں تم کہاں بیٹھے ہو تو ہم کیسے حور پری نازل فرمائیں۔ ہم نے کہا حضور ہمارا آئی پی تو آپ کے پاس ہے، کہنے لگے کمبخت سیوک تمہارے آئی پی پر کراچی شو ہورہا ہے کیا پورے کراچی کو حور پریاں بانٹ دوں؟ لیں جی اتنی سی بحث کے بعد ہم نے ھار مان لی کہ رہنے دیں بھگوان کہیں ناراض ہی نہ ہوجائیں۔ اور ان کے "سرکٹ" فیل نہ ہوجائیں۔ یعنی ہم رہے سہے بھگوان سے بھی جائیں۔
4- گوگل ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے، یعنی یہ کبھی نہیں مرتا، کیونکہ یہ ہماری طرح کوئی مادی وجود نہیں رکھتا بلکہ یہ دنیا کے تمام سروروں پر پھیلا ہوا ہے، اگر کسی سرور میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو یہ کسی دوسرے سرور سے اپنا کام جاری رکھتا ہے چنانچہ یہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے جو انٹرنیٹ کے بادلوں میں رہتی ہے.
گوگل بھگوان واقعی ہمیشہ قائم رہنے والی ہستی ہے۔ پچھلے بارہ سال سے مسلسل قائم ہے اور آئندہ بھی قائم رہنے کا ارادہ ہے۔ میں نے پوچھا کہ بھگوان جی سُنا ہے مائیکروسافٹ والوں نے بھی ایک "منی" بھگوان لانچ کیا ہے بِنگ کے نام سے، کیا آپ اسے اپنا نائب بنائیں گے؟ بھگوان نے ایک ناقابل اشاعت گالی کے بعد ارشاد فرمایا کہ مائیکروسافٹ کو تو میں دیکھ لوں گا، اور تمہیں بھی۔ چناچہ ہم تو کان لپیٹ کر پتلی گلی سے نکل لیے۔
5- گوگل لامتناہی یعنی غیر محدود ہے، انٹرنیٹ ہمیشہ اپنا حجم بڑھاتی رہے گی مگر گوگل انہیں اپنے اندر سمو لے گا اور اپنی معلومات میں اضافہ کرتا چلا جائے گا چنانچہ یہ کسی مخصوص حجم میں محدود نہیں ہے.
بھگوان گوگل لامتناہی ہے، ہر جگہ ہے، یہ بڑھتا ہی جائے گا۔ اب آپ مانیں یا نہ مانیں میں نے سارا کمرہ چھان مارا کہ شاید بھگوان گوگل یہاں کہیں بھی موجود ہو لیکن وہ تو انٹرنیٹ سے ڈسکنکنٹ ہونے کے بعد "قیں" ہی ہوگئے۔ لو دسو، بھگوان جی ابھی تک انٹرنیٹ میں پھنسے ہوئے ہیں اور دنیا چاند پر جا پہنچی۔ خیر ابھی نئے نئے بھگوان بنے ہیں کئی ساری چیزیں سیکھنی باقی ہیں۔
6- گوگل ہر چیز یاد رکھتا ہے، یہ کچھ بھی نہیں بھولتا، گوگل آپ کی تمام حرکتیں ریکارڈ کرتا ہے اور انہیں ہمیشہ کے لیے یاد رکھتا ہے چاہے آپ مر ہی کیوں نہ جائیں، اگر آپ گوگل پر اپنی معلومات یا فائلیں چڑھائیں تو یہ ہمیشہ وہاں موجود رہیں گی، یہی موت کے بعد زندگی ہے، اگر آپ گوگل سے استفادہ حاصل کریں تو یہ آپ کو بعد از مرگ زندگی کی ضمانت دیتا ہے
بھگوان گوگل کو ہر چیز کا علم ہے۔ اس سلسلے میں جب میں نے اپنی پڑدادی کے بارے میں بھگوان سے جاننا چاہا تو آگے سے چُپ؟ اب ہم سمجھے کہ یہ بھید بھیر چُپ ہے لیکن دس پندرہ منٹ کی "انٹرنل سرچ" کے بعد بھگوان کا جواب آیا کہ وہ 1999 سے پہلے کسی اور دنیا میں موجود تھے، ان کا یہاں کا وزٹ 1999 سے شروع ہوتا ہے لہذا ان سے وہی معلومات پوچھی جائیں جو 1999 یا بعد کی ہیں یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (یہاں بھگوان گوگل نے ایک پنجابی قسم کی گالی دے کر فرمایا کہ) اپنی پڑدادی کو قبر سے اٹھا کر لاؤ اور اس سے گوگل پر ایک کھاتہ کھلواؤ۔ تب چاہے جو مرضی پوچھ لینا۔ لیں جی اب نہ میری پڑدادی قبر سے آئے اور نہ گوگل بھگوان ان کے بارے کچھ معلومات دے سکیں۔ حیف صد حیف کہ مرحومہ کی کوئی ذاتی ڈائری بھی نہ تھی کہ بھگوان کو "ان پٹ" دے کر ان کے "علم" میں اضافہ ہی کردیتا۔ بھگوان جی میں آپ کی فرسٹریشن کو سمجھ سکتا ہوں۔
چلتے چلتے میں نے بھگوان گوگل سے یہ پوچھا کہ بھگوان جی یہ فیس بُک والے سالے اپنی ڈیٹا بیس تک آپ کو رسائی کیوں نہیں دیتے اور بِنگ کو دیتے ہیں؟ بھگوان نے پہلے فیس بُک والوں کی والدہ اور بہنوں کے ساتھ اپنے کچھ نئے رشتے وضع فرمائے پھر فرمانے لگے میں دیکھ لوں گا ایک ایک کو۔
اور ہم اتنے سے ہی اُکتا کر بھاگ نکلے کہ یہ سالا کیسا بھگوان ہے جسے اپنا آپ قائم رکھنے کے لیے بجلی چاہیے، انٹرنیٹ چاہیے اور ڈھیر سارے "سیوک" جو اس کے پوتڑے صاف کریں، اس کی پروگرامنگ کا خیال رکھیں اور اس کی میموری میں پڑنے والا وائرساتی گند نکالتے رہیں، جسے وجود میں آنے کے لیے دو انسانوں کا محتاج ہونا پڑے۔ مجھے چار فقروں والی ایک سورت یاد آگئی کہ کہدو
اللہ ایک ہے
اللہ بے نیاز ہے
نہ اُس نے کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا۔
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔
(محمد علی مکی پچھلے کچھ عرصے سے اس قسم کی تحاریر لکھ رہا ہے جو توحید و رسالت کی بیس کو عقلی بنیادوں پر رد کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ شروع میں میرا خیال تھا کہ یہ ترجمہ ہیں، تاہم موصوف سے گفتگو پر معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے۔ اس تحریر سے بھی ایسا ہی لگتا ہے کہ یہ ترجمہ ہے، لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ مکی نے خاصا وقت برباد کرکے یہ پٹاخہ تیار کیا تھا۔ چناچہ مناسب سمجھا کہ ایک شافی قسم کا فیصل آبادی سٹائل میں کاسٹک سوڈے والا جواب لکھا جائے۔ جس کے نتیجے میں یہ تحریر سامنے آئی۔ میرا مذہب کے بارے میں علم وہی ہے جو آج کل کے کسی نوجوان کا ہوسکتا ہے، لیکن گوگل بھگوان سے پرانی یاری ہے۔ چھوٹے ہوتے ہم اکٹھے اخروٹ کھیلتے رہے ہیں، چناچہ مرچ مسالہ مناسب سا رکھ کر ہم نے بھی ایک پکوان بنا دیا۔ امید ہے پسند آئے گا۔)
اپڈیٹ: میں نے تبصرے بند کردئیے ہیں، میرا خیال ہے جو کچھ کہا جاسکتا تھا کہہ دیا گیا۔ اب پیچھے ذاتیات پر حملے ہی رہ گئے ہیں، جیسا کہ شیعب صاحب میرے بارے میں فرما رہے تھے۔

ہفتہ، 4 جون، 2011

فرائیڈ بھنڈی توری

دوپہرکا وقت ہے اور سالن میں کل کے پکے ہوئے آلو بینگن کے علاوہ کچھ نہیں۔ اور ایک سائیڈ پر بھنڈی توری پڑی نظر آجائے، تو آپ کو بھی چاہیے کہ ہماری طرح بقلم خود بھنڈی توری کو فرائی کریں اور اس کے ساتھ روٹی نوش فرمائیں۔
اجزاء: بھنڈی توری دس بارہ عدد، پیاز دو سے تین درمیانے، گھی حسب ضرورت، کالی مرچ اور نمک حسب ذائقہ
طریقہ: بھنڈی توری کو کاٹ لیں پیار کو چھیل کر کاٹ لیں۔ ایک عدد برتن میں گھی کو کڑکڑائیں اور دونوں چیزیں اس میں ڈال کر ہلکی آنچ پر رکھ دیں۔ دس پندرہ منٹ تک انتظار کریں جب پیاز سنہری ہونے لگے تو اس کو اتار لیں۔ زائد گھی کو الگ کرلیں اور نمک و کالی مرچ چھڑک کر نوش فرمائیں۔ انتہائی مزیدار ہوگا (اگر میری طرح نمک زیادہ نہ ہوگیا تو)۔
یہ دیکھیں میری ڈش دور سے ہی کتنی لذیذ لگ رہی ہے۔


بدھ، 1 جون، 2011

ردعمل

دائرہ کی اس پوسٹ پر تبصرہ کرنا تھا، اور بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔
سائیں جب رسول اللہ ﷺ کے نام نامی کے ساتھ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں سلیمان علیہ السلام کے ستر بی بیوں کے ساتھ جماع کرنے اور انشاءاللہ نہ کہنے کا ذکر ملتا ہے۔ تو آپ اسے کیا کہیں گے؟ کیا یہ رسول اللہ ﷺ کا عمل ہے؟ یہ سنت تو نہیں۔ یہ تو ان کی طرف منسوب ایک روایت ہے۔ اس میں تو عمل کرنے والی کوئی بات ہی نہیں۔ یہ کوئی فعل نہیں، ایک روایت ہے۔ یہ سنت نہیں، حدیث ہے۔ امید ہے آپ فرق سمجھ گئے ہونگے۔
ہاں آپ اسے بھی سنت ثابت کردیں تو مجھے کوئی حیرانگی نہیں ہوگی۔ پہلے سنت اور حدیث کو مکس اپ کردیا گیا، پھر حدیث رسول ﷺ اور حدیث اصحاب رسول ﷺ میں کوئی فرق روا نہ رکھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شریعت احکام الہیہ اور نبی ﷺ کے بعد آنے والوں کے ورلڈ ویو کا مکسچر بن گئی۔ اور ہم نے سب کو دین سمجھ لیا۔ شیعہ جمعہ کی دوسری اذان اس لیے نہیں دیتے چونکہ یہ عثمان رضی اللہ عنہ کا حکم تھا۔ صبح کی اذان میں الصلوۃ خیر من النوم نہیں کہتے چونکہ یہ "ایڈیشن" عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ کی طرف سے تھی۔ سنی ان سب کو بھی دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو اصحاب رسول ﷺ نے کیا، شیعہ اس کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں جو ان کے فقیہوں نے کیا، اذان میں ایڈیشن، کلمے میں ایڈیشن، عقائد میں ایڈیشن۔ دین کہاں گیا؟ دین کے بنیادی سورسز کو ہی ترجمے اور تفسیر نے ہرا، نیلا، پیلا، گلابی رنگ دے دیا۔ چناچہ دین پیچھے ہر گیا، رنگ برنگے اسلام سامنے آگئے۔ اور پھر قرآنسٹ سامنے آگئے جو قرآن کو اس کے سیاق و سباق میں سمجھنے کی بات کرتے ہیں۔ تاریخی حوالوں کے بغیر، صرف لفظی سیاق و سباق پر انحصار کرتے ہوئے۔
اس سب میں اسلام کہاں گیا؟ اور مسلمان کہاں گیا؟ اسلام کے ٹکڑے ہوگئے اور لوگوں نے اپنی اپنی پسند کا ٹکڑا اٹھا کر اس پر پینٹ کرکے اپنے طاقوں میں سجا لیا، جی یہ ہمارا اسلام ہے۔ اور مسلمان کہاں گیا؟ مسلمان، آج کا مسلمان گواچی گاں بن گیا کہ کدھر جائے، کونسا اسلام "خریدے"، کہ ہر ایک نے اپنی دوکان سجائی ہوئی ہے، اور ہر ایک کے نعرے بڑے دلکش ہیں، کہ رب کریم نے ہر ایک کے لیے اس کا عمل خوشگوار بنا دیا، جیسے کہ خود اس کا فرمان ہے۔ مسلمان دُبدھا میں پڑ گیا کہ اگر اسلام کا نفاذ ہوا تو کونسے اسلام کا ہوگا؟ شیعہ، سُنی؟ سلفی؟،دیوبندی؟ یا بریلوی؟ یا مودودی؟، یا قرآنسٹ اسلام؟ چناچہ مسلمان، یعنی میرے جیسا مسلمان، جو ایک گواچی گاں ہے، اور ہر پاسے منہ اُٹھائے باں باں کرتا پھرتا ہے، جان کی خلاصی اسی میں جانتا ہے کہ اسلام کو ذات تک ہی محدود رکھا جائے، اور بدنوق لے کر جو لوگ "اپنا اسلام" نافذ کرنا چاہتے ہیں ان کے خلاف حکومت کو بندوق کی زبان میں ہی بات کرنے کا کہے۔ تاکہ اس کا "اسلام" تو محفوظ رہ سکے۔

جمعہ، 27 مئی، 2011

بابا مکی

محمد علی مکی آج کل بابا بنا بیٹھا ہے۔ اگرچہ یہ میرا انداز نہیں ہے کہ میں براہ راست کسی کے بارے میں اپنے بلاگ پر لکھوں، ایسے مباحث کو عمومًا نظر انداز کردیا کرتا ہوں۔ لیکن مکی کا انداز آج کل نرالا ہی ہے۔ مکی ایک ایسا بابا بن بیٹھا ہے جسے سب کچھ پتا ہوتا ہے اور اب لوگوں کی پریشانیاں دیکھ کر مسکراتا ہے۔ مکی کا انداز اس سو سالہ بوڑھے جیسا ہے جس کے سامنے موجود دس دس سال کے بچے دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ بابا ہر دس منٹ کے بعد ایک پھُلجھڑی چھوڑ کر چپ ہوجاتا ہے، اور بچے اس کے پیچھے دیوانہ وار بھاگتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے لڑتے ہیں، بابے کی دھوتی کھینچتے ہیں، لیکن بابا آگے سے مُسکرا دیتا ہے۔ پھر جب ایک پھُلجھڑی ختم ہوجاتی ہے تو بابا پٹاری میں سے کچھ اور نکال کر چلا دیتا ہے، تاکہ بچوں کی توجہ اور طرف نہ لگ سکے۔
مکی بھی آج کل یہی کچھ کررہا ہے۔ اب رب جانے یہ امیوزمنٹ کا ذریعہ ہے۔ یا قوم کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش فرمائی جارہی ہے۔ میں تو دس بھی نہیں، پانچ سال کا بچہ ہوں، جو ان سارے شعبدوں کو ڈر کر دیکھتا ہے اور اپنی ماں کی جھولی میں گھُس جاتا ہے۔ بابا بڑا ڈاہڈا ہے سائیں، پتا نہیں انار، پھلجھڑی کی جگہ کوئی بم ہی چلادے۔

پیر، 16 مئی، 2011

توند فُل نَیس

ہمارے استاد محترم جٹ ہیں۔ لیکن بذلہ سنجی میں فرمایا کرتے ہیں کہ جٹ ایک ذات کا نام نہیں، بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے  جو کسی بھی بندے پر کسی بھی وقت طاری ہوسکتی ہے۔ پنجابی کی ایک کہاوت ہے جٹ اے تے مت نئیں، مت اے تے جٹ نئیں، جٹ برادری کے عقل کے بارے میں خاصے لطیفے مشہور ہیں۔ خیر جٹوں کو بدنام کرنا ہمارا مقصد نہیں یہ تو دیباچہ تھا۔ ذکر ایک کیفیت کا کرنا تھا جو جاٹ پن کی طرح روحانی نہیں بلکہ جسمانی کیفیت ہے۔ اس کیفیت کا نام ہم نے توند فُل نیس رکھا ہے۔ صاحبو توند فُل نیس ایسی جسمانی کیفیت کا نام ہے جس میں انسانوں خصوصًا مردوں کا پیٹ اپنی اصلی جگہ سے ناجائز تجاوزات کی طرح باہر کو نکل آتا ہے۔ دوکانوں کے پھٹے اور کاؤنٹر تو آپریشن کلین اپ کرکے اندر کروا کر فٹ پاتھ کی جگہ خالی کروائی جاسکتی ہے لیکن پیٹ کو اندر کروانا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کے کسی زرداری، گیلانی، چوہدری، شریف یا مخدوم کو اندر کروانا۔ اللہ زندگی دے، ہمارے استاد محترم کو ہر ڈیڑھ سال کے بعد پیٹ کے خلاف آپریشن کلین اپ کا بخار چڑھتا ہے چناچہ کبھی وہ خوراک (اپنی خوراک) پر پابندی لگا دیتے ہیں، صبح اٹھ کر جاگنگ شروع کردیتے ہیں اور اٹھتے بیٹھنے کہنا شروع کردیتے ہیں کہ میری پرانی پتلونیں اب مجھے پوری آنی شروع ہوگئی ہیں۔ پہلے پہل تو ہم ان کی باتوں کی سنجیدگی سے لیتے تھے، اب محرم راز ہوگئے ہیں اس لیے مسکرا دیتے ہیں۔ دور کے ڈھول سہانے، جس طرح جمہوریت پانچ سال پورے کیے بنا جانی والی نہیں، اسی طرح اب پیٹ ساری عمر اندر جانے والا نہیں۔ جب کھانے چرغے، مرغے اور روسٹ بروسٹ ہیں، اور سارا دن کرسی پر بیٹھنا ہے توند نے بڑے تو ہونا ہے۔ بچے ایسی چیزیں کھاتے ہیں تو اوپر کو بڑھتے ہیں۔ بڑے ایسی چیزیں کھاتے ہیں تو جسم کے عید درمیان سے نئی شاخ نکل کر اوپر کا سفر شروع کردیتی ہے۔
آپ کو یہ بات واہیات لگے گی لیکن بعض لوگوں کی توند دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ موصوف میں نئی زندگی پرورش پارہی ہے۔ توند کی بھی کئی قسمیں ہیں۔ اس کے سائز کے اعتبار سے آپ اسے ابتدائی، ثانوی اور انتہائی اقسام میں بانٹ سکتے ہیں۔ ابتدائی توند، یہ کوئی پچیس سے تیس کے درمیان لوگوں کی ہوتی ہے۔ ایسی توند بالکل ابتدائی مراحل میں ہوتی ہے، اور اسے دیکھنے کے لیے موصوف کا گرمیوں میں پینٹ شرٹ یا دھوتی بنیان میں ملبوس ہونا ضروری ہے ورنہ عام نظریں اس کو سکین نہیں کرسکتیں۔ ایسی نئی نئی توند نئی نئی جاب کا نشان بھی ہوتی ہے۔ راقم کا مشاہدہ ہے کہ نوجوانوں کے ایسی توند کے بارے میں جذبات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے اپنی متوقع اولاد کے لیے ہوتے ہیں۔ چناچہ احباب بے خیالی توند کو پیار کرنے لگتے ہیں۔ یونہی کھڑے کھڑے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیتے ہیں، اور کبھی تو ہلکے ہلکے تھپکیاں دینا شروع کردیتے ہیں۔ اور تو اور سوتے میں ڈر کر اٹھ جائیں تو پہلا ہاتھ توند پر رکھ کر اس کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہیں۔ ثانوی درجے کی توند ایک ایسی توند ہے جسے پانچ سے دس سال ہوچکے ہیں۔ ایسی توند پرانے کلرکوں اور افسروں سے لے کر کاروباری حضرات تک کی ہوتی ہے۔ اس توند کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ موصوف سے گلے ملتے ہوئے اکثر اس کی توند راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چانچہ آپ کو ذرا پرے رہ کر گلے ملنا پڑتا ہے۔  اکثر لوگ اس سٹیج پر آکر "نوند کانشئیس" ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اسے کم کرنے کی تدابیر شروع ہوجاتی ہیں۔ لیکن ان تدابیر کا حال وہی ہوتا ہے جو جمہوری دور کی پالیسوں کا پاکستان جیسے ملک کی حالت سنوارنے کے سلسلے میں ہوتا ہے، یعنی حالات بننے کی بجائے بگڑتے ہی چلے جاتے ہیں۔ صاحبو توند انتہائی، توند کی وہ قسم ہے جہاں توند پر آزمائے جانے والے تمام ڈاکٹری اور پیری فقیری نسخے ناکام ہوجاتے ہیں۔ اور توند پاکستان میں موجود کرپشن کی طرح بےلگام ہوجاتی ہے۔ ایسی توند کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عید شبرات پر بھی ملنے والے ایک فٹ پرے رہ کر ملتے ہیں۔ ایسے افراد سے ملتے ہوئے اصطلاح "گلے ملنا" نہیں "توند ملنا" ہونی چاہیے۔ اور اگر دونوں ملنے والے توند یافتہ ہوں تو سونے پر سہاگہ ہوجاتا ہے۔ دور سے دیکھنے والے کو ایسا لگتا ہے جیسے دونوں حضرات گلے مل نہیں رہے توندیں لڑا رہے ہیں، جیسے بکرے ڈھُڈ لڑایا کرتے ہیں۔ ایسے احباب کو اپنی اپنی توند سائیڈ پر کرکے گلے ملنا پڑتا ہے جو دیکھنے والے کا ہاسا نکال دیتا ہے۔ صاحبو توند انتہائی پچاس اور چالیس کے پیٹے میں موجود لوگوں کی ہوتی ہے۔ اور اس میں شامل اکثر افراد کھاتے پیتے ہوتے ہیں، اتنے کھاتے پیتے کہ اب ان کی توند بھی کھانا شروع کردیتی ہے۔ ایسے افراد کے بارے میں بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ، اور ان کی توند، کھانے کے لیے جیتے ہیں۔
صاحبو توند کے کئی فائدے ہیں۔ آپ کو پیر بھائی، اسلامی بھائی صرف پاکستان میں ملیں گے، باہر کم کم ملیں گے لیکن توند بھائی دنیا کی ہر رنگ و نسل میں مل جائیں گے۔ اگر تمام انسانوں کا مشترک نکالا جائے تو توند ان میں پہلے نمبر پر آئے گی۔ توند کا ایک اور فائدہ اضافی چربی کا ذخیرہ ہے جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے، یعنی توند فُل لوگ کچھ کچھ اونٹ جیسی خاصیت پیدا کرلیتے ہیں۔ توند کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت توند مار کر گرایا بھی جاسکتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بکرا ڈھُڈ مار کر فریق مخالف کو ضربِ شدید پہنچا سکتا ہے۔ چناچہ اگر آپ عقلمند ہیں تو توند آپ کا خفیہ ہتھیار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
راقم ان بدقسمت لوگوں میں شامل ہے جن کی توند ابھی تک پیدا نہیں ہوسکی اور اگلے دس سالوں میں بھی ا سکی نمو کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ چناچہ توند فُل احباب اس تحریر کو دل کا ساڑ اور غبار کہہ کر رد بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم توند جو بھی ہے، جیسی بھی ہے، ہمارے معاشرے کا ایک اہم رکن ہے۔ ہمیں توند کی عزت کرنی چاہیے اور اس کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے بقول عزیزی توند بھی آخر انسان ہے۔ توند کی نمو و ترقی کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں، بلکہ اس کے لیے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیے۔ توند کی ترقی کے لیے آل پاکستان توند فیڈریشن بھی بنائی جانی چاہیے اور ہر سال مسٹر توند کا مقابلہ بھی منعقد ہونا چاہیے جس کا پہلا انعام ایک سال تک ایک کلو بھنا ہوا گوشت روزانہ ہو۔ توندفُل حضرات کے بیرون ملک سرکاری خرچے پر دورے ہونے چاہئیں تاکہ مختلف ممالک کی توندوں میں ہم آہنگی پیدا کی جاسکے اور ان کو ایک دوسرے کے قریب لایا جاسکے۔
آپ کا کیا خیال ہے بیچ اس مسئلے کے؟