ہفتہ، 29 مارچ، 2008
وزیراعظم کا سو ایام کا پلان
طلباء اور میڈیا یونینوں پر پابندی کا خاتمہ اچھی چیز ہے لیکن اس کے لیے بھی مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے۔ ہمارا تو دور ہی گزر گیا دو سال انٹر کے اور دو سال گریجویشن کے اور ہمیں پتا ہی نہ تھا کہ یونین بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیکن اب الیکشنوں کا حکم دے دیا گیا ہے لیکن اس کے لیے مناسب ضابطہ اخلاق ضرور تشکیل دینا چاہیے۔ کہیں کالج اور تعلیمی ادارے سیاسی اکھاڑے ہی نہ بن جائیں۔ ہم ویسے بھی ہر معاملے کو بگاڑنے اور اس کی ممکنہ منفی حد تک لے جانے میں مہارت کاملہ رکھتے ہیں۔ پابندی تھی تو کیا حال تھا اب جانے کیا ہو۔۔۔
دعا ہے کہ جو وعدے کیے گئے ہیں ان پر عمل بھی کیا جائے۔
جمعرات، 27 مارچ، 2008
اوپن سوسی کے ساتھ پہلا دن
خیر انسٹالیشن کے بعد لاگ ان ہوئے اور کوئی ستر بار تو کوشش کرہی لی ہوگی ریزولوشن بدلنے کی لیکن مجال ہے جو 1024 ضرب 768 سے ایک انچ آگے پیچھے ہوجائے۔ اصل میں ونڈوز پر تو یہ ٹھیک ہے لیکن لینکس پر ہمارا گرافکس کارڈ مسئلہ کرجاتا ہے اور سکرین ایک طرف کو چلی جاتی ہے اور سکرین کا سائز بھی کافی چھوٹا ہوجاتا ہے جیسے ونڈوز پر 800 بائی 600 کی ریزولوشن پر ہوتا ہے۔ اوبنٹو پر گسٹی کے بعد ریزولوشن بدلنے کا بڑا اچھا سسٹم آگیا تھا سوسی کو ابھی تک کوئی توفیق نہیں ہوئی۔
خیر اس کو بھی چھوڑتے ہیں ہم ایک کچھ کرلیں گے اس کا ایک طرف ایک پینل لگا دینے سے شاید کام بن جائے اوپن سوسی کا ورژن 11 جلد ہی آرہا ہے شاید وہاں معاملہ ٹھیک ہوجائے۔ آگے کی سنیے ہمیں پیکج منجر کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یاسٹ اپنے پلے تو نہیں پڑاعجیب سی چیز ہے۔ جی ٹی کے میں اس کا موجہ ہے اور سوسی والوں نے سارا کے ڈی ای کنٹرول سینٹر اس میں گھسیڑ دیا ہے۔ سارے سسٹم کی کنفگریشن یہیں سے ہوسکتی ہے لیکن سافٹویر کا انتظام مجھے پسند نہیں آیا۔ ہم تلاش میں تھے کہ ایڈوانسڈ پیکجنگ ٹول مل جائے کہیں سے۔ آخر ہمیں آفیشل دستاویزات سے اس کا ایک حل مل ہی گیا ہے۔ انشاءاللہ آج رات بیٹھ کر ہم اسے اور سنیپٹک کو انسٹال کرلیں گے۔اس کے بعد سسٹم کو اپڈیٹ کریں گے تاکہ کچھ کام کا سلسلہ بن سکے۔
اس میں وہی پرانا مسئلہ ہے فائر فاکس کا جو کبھی اوبنٹو میں تھا دو سال پہلے جس کی وجہ سے اردو کے فونٹس ٹھیک رینڈر نہیں ہوتے تھے۔ مجھے نعمان کے بلاگ پر ایک بار پھر جانا ہوگا لگتا ہے۔ لیکن پہلے اپگریڈ کروں گا سسٹم کو شاید کام بن جائے ایسے ہی ورنہ پھر پینگو کو ڈس ایبل کروں گا۔
دعا کیجیے اس کا اور میرا ساتھ بن جائے۔ میں اس بار بڑے خشوع و خضوع سے اوبنٹو کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ ورنہ اس کی چاٹ ایسی لگی ہے کہ کوئی اور ڈسٹرو ایک دن سے زیادہ میرے پاس ٹکی ہی نہیں۔ ایک آپس کی بات بتاؤں لینکس میں میرا سب سے زیادہ تجربہ اے پی ٹی استعمال کرنے کا ہے اور اوبنٹو کو بار بار انسٹال کرنے کا۔ اور کچھ نہیں آتا مجھے۔ باقی ادھر ادھر سے ٹیوٹوریل پکڑ کر گزارہ کرلیا کرتا ہوں۔ ;)
منگل، 25 مارچ، 2008
امید
نئی حکومت آگئی ہے اور ہر کسی کی طرح مجھے بھی اس حکومت سے ہزاروں توقعات وابستہ ہیں۔ بجلی سستی ہوجائے گی۔ آٹا ملا کرے گا۔ گیس بھی سستی ہوجائے گی۔ گھی کے ایک کلو کے لیے گھنٹوں خوار نہیں ہونا پڑے گا اور لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی نیز جج بحال ہوجائیں گے۔ سمجھ لیں ہر وہ کام جو "ہو" سکتا ہے مملکت خداداد میں اور ہم اس کے "ہونے" کے منتظر ہیں مجھے اس کے"ہونے" کی اس نئی حکومت سے امید ہے۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ امید کتنی درست ہے۔ لگا تو ہم لیتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے ایک کالم میں اس نے کچھ ایسی ہی بات کی کہ ہر نئے وزیراعظم کے آنے پر لوگ نئے سرے سے اس کی شان میں بھجن گانا شروع ہوجاتے ہیں لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو انداز کلام بدل جاتا ہے اور الفاظ الٹ ہوجاتے ہیں میں نے تو یہ کہا تھا لیکن اس نے سنی ہی نہیں ۔۔۔۔
امید لگانا درست ہے لیکن بے جا امیدیں لگانا اور پھر خون جلانا بے کار ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس وقت ملک کی معیشت کی جو حالت ہے اس میں ریٹ اوپر تو جاسکتے ہیں نیچے آنے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ ہمیں ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ک"ا اشارہ" مل چکا ہے۔ ہماری برآمدات اور درآمدات کا فرق ہر ماہ نئی بلندیاں دیکھتا ہے۔ توانائی کے بحران نے ہماری صنعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے۔ لے دے کر ایک کراچی اسٹاک ایکسچینج ہے جو نئی حکومت کے آنے پر تیزی دکھا سکتی ہے لیکن کراچی سٹاک ایکسچینچ سے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ ہاں خزانہ بھی بھرا ہوا ہے لیکن ان ڈالروں سے ہم اپنا مزار بھی نہیں بنوا سکتے یہ اسی طرح خزانے شریف میں سڑتے رہیں گے۔
چناچہ امید ذرا ہولی رکھیے۔ جج تو بحال ہوجائیں گے انشاءاللہ۔ لیکن نچلی سطح پر انصاف کا بول بالا شاید ہی ہوسکے۔ جانے کب تک مزید کچہریوں میں جھوٹے مقدمات میں برسوں ذلیل ہونا پڑے گا ابھی۔ گھی بھی دستیاب ہونا شروع ہوجائےگا لیکن یہ بھول جائیں کہ اس کی قیمت سو روپے سے کم ہوگی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کا ہونا بھی کوئی مستقبل قریب کی بات نہیں لگتی۔ اس میں "ترقی" ہی نظر آتی ہے۔
امید لگائیے لیکن ایسی نہیں کہ بعد میں خون جلانا پڑے۔ یہی حقیقت ہے کہ یہ حکومت اگر اتفاق سے ایماندار نکل بھی آئی تو اس جیسی کئی حکومتیں درکار ہونگی ہمیں ساٹھ سال کا گند دھونے کے لیے۔
پیر، 24 مارچ، 2008
الحمد اللہ
کاش ہماری اعلٰی عدلیہ کی طرح نچلی سطح پر موجود منصف بھی ٹھیک ہوجائیں۔ہمارا نظام انصاف بہت بگڑ چکا ہے اتنا کہ پھوڑے سے ناسور بن گیا ہے۔ مقدمے بازی کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ عدالتی کارندوں کو جمع کروا دیں۔ ہمارے ایک عزیز ایک دو ناجائز مقدموں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فرماتے ہیں ہر بار قریب کی تاریخ لینے کے لیے بھی رشوت مانگتے ہیں۔ پچھلی بار دوسرا فریق آیا ہی نہیں اور انھیں پھر تاریخ قریب کی ڈلوانے کے لیے رشوت دینا پڑی۔۔
اتنی مہنگائی اور کاروبار میں بے تحاشا مندی کے ساتھ ایسے خرچے ۔۔۔ غریب آدمی کیسے جی سکتا ہے۔۔ اب گیس والوں نے بھی فی یونٹ ساڑھے تین روپے اضافے کی درخواست اوگرا کو دے دی ہے۔ گیس کا بل جو کبھی ڈیڑھ سو سے زیادہ نہیں آیا کرتا تھا پچھلے چار پانچ سالوں میں تین گنا ہوچکا ہے۔ اور آگے جانے کتنا بڑھے گا۔
ملک میں افراط زر نے متوسط طبقے کے لیے حساس اعشاریوں کو خطرناک حدوں تک پہنچا دیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید اس بری طرح متاثر ہوئی ہےکہ دوکاندار سارا دن بیٹھ کر مکھیاں مارا کرتے ہیں۔ لیکن کیا کریں کھانا تو ہے ڈیڑھ سو روپے کلو مرچ نہیں لے سکتے لیکن سو روپے کلو کے قریب ریٹ کی کوئی سبزی تو لینی ہی ہوگی جو پاپی پیٹ کی آگ بجھا سکے۔
پتا نہیں ترقی کہاں ہوئی ہے ہمیں تو کہیں نظر نہیں آتی۔ اتنی بھوک میں نے اپنی اس مختصر سی زندگی میں پہلی بار دیکھی ہے۔ گھی کے ایک پیکٹ کے لیے گھنٹوں کی خواری، کبھی آٹے کے ایک تھیلے کے لیے ذلالت مقصد صرف یہ کہ کچھ پیسے بچ جائیں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے۔
عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کے بحران نے اس صورت حال کو مہمیز کیا ہے۔ تیل تو جو مہنگا تھا سو مہنگا تھا ہی گھر کی توانائی بھی کم پڑتی جارہی ہے۔ بجلی اب صرف 20 گھنٹے کی رہ گئی ہے اور یہ پنجاب کے شہری علاقوں کی بات ہے کراچی اور دوسرے دیہی علاقوں میں یہ 20 گھنٹے بھی نہیں آتی۔ ملک کو پچھلے آٹھ سالوں میں ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چلایا گیا ہے۔ ان آٹھ سالوں کا خمیازہ جانے ہمیں کتنے عشرے بھگتنا پڑے۔
ہمارے ملک میں ذرائع رلتے پھرتے ہیں لیکن کسی کو خیال نہیں۔ میں کئی بار یہ سوچ چکا ہوں اور اپنے دوستوں سے ذکر بھی کرچکا ہوں کہ ہمارے پاس اتنی دھوپ ہوتی ہے کہ کئی کالاباغ ڈیم بھی اتنی بجلی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگر شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو کیا بعید ہے کہ ایک دو سال میں ہی بجلی کا بحران غائب ہوجائے۔ لگژری کے لیے قرضہ دیا جاتا ہے، الم غلم خریدنے کے لیے کریڈٹ کارڈز موجود ہیں کیا اس کام کے لیے بینک قرضے نہیں دے سکے؟ یہ ٹیکنالوجی ابھی مہنگی ہے لیکن اس کے فوائد بھی تو دیکھیں۔ متبادل توانائی بورڈ چند پائلٹ پراجیکٹ شروع کرکے جانے کہاں غائب ہے۔ آٹھ دس پون چکیاں اور ایک آدھ گاؤں میں شمسی بجلی کے لیے پائلٹ پراجیکٹ چلانے سے توانائی کا بحران کم تو نہیں ہوجائے گا۔ ہمارے حکمران ساری دنیا سے کشکول اٹھائے بھیک مانگتے پھرتے ہیں ایک بار یہ بھی مانگ لیں۔