منگل، 4 جنوری، 2011

شارٹ کٹ اسلام

لو جی پی پی پی کو ایک اور شہید مل گیا۔ مرنے والا جیسا بھی تھا،جو بھی تھا۔اس کے خلاف کاروائی کا اختیار حکومت وقت کو تھا یا مرنے کے بعد ذات باری کو ہے۔ پر ہمارے ڈنڈا بردار کلاشنکوف شارٹ کٹ اسلام نے اسے ٹھنڈا کرکے اپنے لیے جنت پکی کرلی ہے۔
یہ اچھا راستہ ملا ہے یار لوگوں کو۔ ایک طرف وہ ہیں جو ساری عمر کِیسی کرتے رہیں، متھا رگڑتے رہیں اور اینڈ پر جاکر پھر شک ہی ہو کہ پتا نہیں مغفرت ہوگی بھی نہیں، اور ایک طرف یہ ایک گولی بندوق کسی بھی وقت، یا ایک باردی جیکٹ خود کش حملے والی۔ سادہ نسخہ ٹرائی کریں اور ڈائرکٹ جنت میں جائیں۔ یہ قادری تو جنتی ہوگیا جی پکا پکا۔ دنیا بگاڑ کر آخرت سنوار بیٹھا۔
خبردار، خبردار اب کوئی اور نہ بولے۔ نہیں تو جنت کی ریس میں کسی اور کا شارٹ کٹ لگ جائے گا۔ چُپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پیر، 3 جنوری، 2011

کچھ تصویریں

کہتے ہیں ایک تصویر بعض اوقات وہ کچھ کہہ جاتی ہے جو سینکڑوں الفاظ نہ کہہ سکیں۔ ملاحظہ کریں یہ تصاویر۔


ہفتہ، 1 جنوری، 2011

مدیر گلوبل سائنس علیم احمد کے ساتھ کچھ تبادلہ خیال

گلوبل سائنس سے ہمارا رشتہ کوئی 9 سال پرانا ہے۔ 2001 میں پہلی بار گلوبل سائنس لے کر پڑھا تھا اور اب 2011 آگیا ہے۔ اس میں کئی بار لکھنے کا موقع بھی ملا۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ برادرم علیم احمد نے مجھے کل خصوصی طور پر ای میل کی جس میں میرے پچھلے مضمون، جو اومیگا ٹی اوپن سورس ٹرانسلیشن ٹول پر لکھا گیا تھا، کی تعریف کی گئی تھی اور مزید ٹیوٹوریلز باقاعدگی سے لکھنے پر بھی اصرار شامل تھا۔ علیم بھائی کے کہنے پر ہی اس ساری خط و کتابت کو اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں، چونکہ انھیں کمپیوٹر کے موضوعات پر لکھنے والوں کی ضرورت ہے۔ اردو بلاگنگ کمیونٹی سے اس سلسلے میں ہغور کی اپیل ہے۔ گلوبل سائنس جیسے پرچے میں لکھنا کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں ہے۔
Brother Shakir Aziz,
Assalaam U Alaikum,
I feel pleased to inform you that we have decided to celebrate 2011 as the year of revival and reinvention for monthly Global Science. As a matter of fact, it's a huge task to accomplish; and we can't do it alone. Therefore, I seek your cooperation on regular basis; and request you to write IT-related features/ tutorials for Global Science - that is, every month. You may also know that - during the last four or five years - tutorials like PHP, MySQL and others were left incompleted. I'd like to re-begin these tutorials, to complete before the end of 2011. Besides, Dr. Zeeshan Ul Hassan Usmani personally appreciated your article on OmegaT (translation memory software). On similar track, I'll appreciate if you write about more Urdu-language, Open Source, and free utilities available on the net; and how our readers can make better use of them.
Whatever your response may be, I'll appreciate an earliest possible reply from you.
Wassalaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
اسلام و علیکم
آپ کی ای میل کا شکریہ
ماشاءاللہ یہ سن کر خوشی ہوئی کہ گلوبل سائنس نئے جذبے سے 2011 میں داخل ہورہا ہے۔ ٹیوٹوریل کی فراہمی کے سلسلے میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ مجھے جب بھی موقع ملتا ہے میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھتا ہوں اور کوشش ہوتی ہے کہ دوسرے صارفین کو بھی اس سے آگاہی حاصل ہو۔ کمپیوٹنگ ایسا رسالہ تھا جس میں میں نے، اور محمد علی مکی نے باقاعدگی سے لکھا۔ اس کی وجوہات میں ایک تو اس کا مکمل طور پر کمپیوٹر کے موضوعات پر مبنی ہونا تھا، دوسرے اس وقت اتنی مصروفیت نہیں تھی، تیسری وجہ ہمارا امانت علی گوہر اور دوسرے مدیران وغیرہ سے آنلائن واقفیت اور اکثر گفتگو و چیٹ تھی۔ ایک اور وجہ ظاہر ہے ان کی طرف سے ادا کیا جانے والا معمولی سا مشاہرہ بھی تھا۔ گلوبل سائنس کے سلسلے میں کئی بار تو یہ دل کیا کہ آپ کے اعزازی مدیر والے پلان میں حصہ لوں تاہم مصروفیت اور گلوبل سائنس کے مزاج کی وجہ سے ایسا نہ کرسکا۔ چونکہ یہاں سب کچھ ٹیوٹوریلز ہی نہیں ہوسکتے، یہ ایک عمومی سائنسی جریدہ ہے۔ تاہم میری کوشش ہوگی کہ اپنے محدود علم کے مطابق وقتًا فوقتًا آپ کو ٹیوٹوریلز ارسال کرتا رہوں۔ پروگرامنگ کے ٹیوٹوریلز کے بارے میں عرض یہ ہے کہ میرا علم اس سلسلے میں خاصا محدود ہے، سی شارپ کبھی سیکھی تھی کارپس لنگوئسٹکس اور ٹیکسٹ پروسیسنگ کے لیے، یہ سیلف سٹڈی نالج ہی ہے میرے پاس، اس کے علاوہ کسی اور پروگرامنگ زبان سے نابلد ہوں۔ چناچہ اس سلسلے میں پرانے ٹیوٹوریلز کو آگے لے کر نہیں چل سکوں گا۔ لینکس وغیرہ پر ٹیوٹوریلز کے لیے میں محمد علی مکی کا نام تجویز کروں گا۔ اردو لینکس کے سلسلے میں ان کا بہت کام ہے اور آپ کو بہت کچھ دے سکتے ہیں۔ دوسرے میری یہ گزارش ہوگی کہ اردو بلاگز اور اردو فورمز خصوصًا اردو ویب محفل، پر ضرور تشریف آوری رکھیں۔ آپ جو مسائل گلوبل سائنس کے ادارے میں اٹھاتے ہیں وہی مسائل آپ ان فورمز پر اٹھا کر زیادہ بہتر رسپانس حاصل کرسکتے ہیں۔ میری مراد ادارے کے مالی مسائل، اور نئے لکھاریوں کی فراہمی وغیرہ سے ہے۔ اردو انٹرنیٹ کمیونٹی بہت فعال ہوچکی ہے اور اب بھی اس سے دور رہنا گلوبل سائنس کے مستقبل کے لیے اچھی چیز نہیں ہوگی۔ یہاں ایک سے بڑھ کر ایک ہنرمند موجود ہے، امید ہے آپ کی کمپیوٹر سے متعلق لکھاریوں کی کمی یہاں سے پوری ہوسکتی ہے۔ نیز آپ کو اردو سے متعلق بہت سی خبریں بھی ان ویب سائٹس سے حاصل ہوسکتی ہیں۔
اور آخر میں آپ کو نیا سال مبارک۔ ای میل اردو میں لکھی ہے چونکہ اردو ہی ہمارا مقصد ہے ۔
نیک خواہشات کے ساتھ
وسلام
Shakir Mian,
Assalaam U Alaikum,

sub say pehlay to mu'azrat chahoonga keh main yeh jawab Roman Urdu main likh raha hoon. Dar-asl meray computer main Urdu support bohet achchhi naheen, jebkeh mujhay Muqtadira kay puranay (1990 kay zamanay walay) keyboard per kaam kernay kee adat hay, aur koshish kay bawajood main phonetic keyboard per apna haath rawaan naheen kersaka.

Global Science kay baaray main aap ka farmana bilkul baja hay keh yeh science ka umoomi jareeda hay, jiss main computer or information technology kay mazameen "bhee" shamil hotay hain - y'ani hum poora shumara computer or IT kay leay makhtes naheen kersaktay. Yeh hamari aik idarti majboori hay. Computing kay zareay Amanat Ali Gauher nay koshish to bohet achchhi kee thee, (.....)

Main yeh da'wa bhee naheen karoonga keh agar aap logon main say koi Global Science kay leay likhay ga to hum usay m'uawza day sakaingay; taahem, itna yaqeen zuroor dila sakta hoon keh Global Science kay zareay aap ke awaz, Pakistan bher main phailay huay, unn logon tek zuroor ponhchay gee jo computer ka shauq rakhtay hain aur isay sanjeedgi say seekhna chaahtay hain.

Global Science kay saath t'aawun kay leay main chahoon ga keh agar aap meri saabiqah email aur apna jawab apni website per deegar ahbaab kay mulahizay kay leay rakh dain to shayed koi naya likhnay wala is jaanib mutawajjuh hosakay. Aap say email per raabta rahay gaa, aur, aanay waalay dino main, In-sha-Allah, hum koi aisa raasta zuroor nikaal laingay jiss say aap kay idaray/ website ka bhee fayeda ho aur humain bhee apna kaam behter taur per anjaam dainay ka mauqa milay.

Wasslaam,
Aleem Ahmed,
Monthly Global Science
Room Number 139,
Sunny Plaza,
Hasrat Mohani Road,
Karachi-74200
Pakistan.
وعلیکم سلام بھائی جی
آپ نے بڑی نستعلیق اردو فرنگیوں کے رسم الخط میں لکھی۔ بے تکلفی اور مخصوص فیصل آباد سٹائل میں آنے پر معذرت نہیں چاہوں گا۔ آپ کی پہلی انگریزی ای میل کی وجہ سے فارمیلٹی سی بن گئی تھی ورنہ گلوبل سائنس تو گھر والی بات ہے۔ :-)
اب بات کیے لیتے ہیں کمپیوٹنگ کی۔ آپ کے نکتہ نظر کا احترام کروں گا تاہم اس سلسلے میں میری رائے محفوظ ہے۔ کمپیوٹنگ اچھی کوشش تھی جو اگر جاری رہتی تو اردو والوں کا بہت فائدہ ہوسکتا تھا۔ ان لوگوں کا اپنے لکھاریوں سے بہت قریبی رابطہ تھا۔ اور اس چیز کی گلوبل سائنس کی انتظامیہ میں کمی ہے۔ اب آپ یہ دیکھ لیں کہ آپ کے علم میں یہ نہیں ہے کہ مقتدرہ کا کی بورڈ ونڈوز کے لیے بن چکا ہے۔ اور یہ اردو محفل پر ہی موجود تھا۔ ملاحظہ کریں۔ میں پھر گزارش کروں گا کہ گلوبل سائنس کی انتظامیہ کو انٹرنیٹ اردو کمیونٹی کے بارے میں اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اپنے قارئین سے قریبی تعلق رکھنے کے لیے فیس بُک خصوصًا اردو فورمز پر تشریف آوری رکھنے کی ضرورت ہے، آپ کو بہت سی ایسی چیزیں ملیں گی جن سے ادارے کا نہ صرف بھلا ہوسکتا ہے بلکہ آپ کی انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کے بارے میں اپروچ بھی بدلے گی۔ نیٹ نامہ وغیرہ کے سلسلے میں مجھے سخت اعتراض ہے کہ اس میں اردو کی ایک بھی ویب سائٹ کا کبھی تعارف شامل نہیں کیا گیا، جبکہ یہاں اردو فونٹس، اردو فورمز اور اردو سافٹویرز کے ڈھیر موجود ہیں۔ آپ کا قاری انٹرنیٹ سے کھیلتا ہے پاء جی اب، اسے ٹربل شوٹنگ، ونڈوز ٹپس وغیرہ جیسی چیزیں دکھا کر مطمئن کرنا میرے ذاتی خیال سے اب اتنا آسان نہیں ہے۔ چھوٹے چھوٹے ہاؤ ٹو کے تو ڈھیر لگے ہوئے ہیں، ونڈوز کی ٹربل شوٹنگ جتنی کہیں اتنی، انگریزی سے ترجمہ کرکے چھاپ دینا ہی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔۔ اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ محمد علی مکی اور اس جیسے دوسرے لکھاریوں سے رابطے میں رہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس آپ کو دے چکا ہوں۔ اردو بلاگرز ہی آپ کے لیے اتنا کچھ لکھ سکتے ہیں کہ آپ کو اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی۔
اور آخر میں یہ کہ معاوضہ ہر کسی کو اچھا لگتا ہے، تاہم گلوبل سائنس کے معیار کے پرچے میں لکھنا بھی بڑی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ کو کمپیوٹر پر لکھنے والوں کی ایک اچھی خاصی ٹیم مل جائے گی۔ یہ ای میل، اور آپ کے جوابات میں اپنے بلاگ پر شائع کررہا ہوں۔ جس کا ربط آپ کو بھیج دوں گا تاکہ آپ بھی تازہ ترین تبصروں اور اپڈیٹس سے آگاہ رہیں۔
وسلام

بدھ، 22 دسمبر، 2010

تُک بندی

بہت عرصے بعد ایک نشست میں بیٹھ کر کچھ تُک بندی کی ہے۔ حسب معمول کسی بھی بحر پر پوری نہیں اترے گی، تاہم تمام مصرعے ہم وزن کرنے کی حتی الامکان کوشش کی ہے۔ سمجھ لیں دل سے ڈائرکٹ بلاگ پر لینڈ ہوئے ہیں یہ لفظ۔
تم پاس رہو تو کیا ہے
تم آس رہو تو کیا ہے
پاگل سے بے کل اس من کی
تم پیاس رہو تو کیا ہے
بے روح سے تن میں بن کر
احساس رہو تو کیا ہے
اس عام سے انساں کے لیے
تم خاص رہو تو کیا ہے
کچھ راس نہیں ہے مجھ کو
تم راس رہو تو کیا ہے

ہفتہ، 18 دسمبر، 2010

لینکس کا ترجمہ، اوپن سورس وغیرہم پر ایک مکالمہ

آج محمد علی مکی سے بات ہورہی تھی۔ مکی آج کل اردو لینکس ڈِسٹرو پر کام کررہے ہیں۔ ان سے دوران چیٹ ترجمے کا کام، اس کی دیکھ بھال، اردو برادری کی حالت زار اور مستقبل کے نقشے پر کچھ بے معنی بکواس سی کی ہے۔ آپ کی نظر ہے۔ اس پر تھنکیں، اور مجھے چاہے نہ بتائیں کہ آپ کا کیا خیال ہے۔ پنجابی کی سمجھ نہ آئے تو اپنے اردگرد سے کسی پنجابی کو پکڑ لیں۔ کوئی نہ کوئی مل جائے گا جو آپ کو بتا دے گا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ خوش رہیں۔
شاکر: يار مکي پائين
شاکر: ميں نے کبھي يہ کام دل لگا کر نہيں
شاکر: کيا
شاکر: اسليے کہ
شاکر: ہر 3 ماہ بعد اس کا نيا ورژن آجانا ہے
شاکر: اور ايک بار ترجمہ کرنے کے بعد اس کي ديکھ بھال کے ليے پوري ٹيم چاہيے
شاکر: اور کوئي ماں کا لاڈلا اس کام کي زحمت کرنے کو تيار نہيں
شاکر: اس ليے مجھے يہ کام بے کار لگتا ہے
شاکر: اوپر سے اوبنٹو سائيں نے ڈيسکٹاپ کا حليہ بدل لينا ہے اگلے ورژن ميں
شاکر: بندہ کرے تے کي کرے
شاکر: تے کتھوں کتھوں کرے
شاکر: تے کنہوں کنہوں کرے
شاکر: يعني کھانا پينا بھي چھوڑ کر اعتکاف ميں بيٹھ جائے
شاکر: ايک ليپ ٹاپ لے کر
شاکر: اور ترجمہ ہي کرتا رہے ساري عمر، مفت والا
شاکر: خير ميں تہانوں dicourage نہيں کرريا
شاکر: تُسيں کرو اے کم
شاکر: تے ميں جو مدد کرسکيا ميں نال آں
شاکر: پر ساڈے کول کوئي نظام ہونا چائيدا اے
شاکر: ون مين شو د و چار سال چل سکدا اے
شاکر: لانگ ٹرم وچ نئيں چل سکدا
شاکر: ٹيپو سلطان ايک اي سي
شاکر: اوس توں بعد سارے ماں دے يار
شاکر: سالے حرامي ڈرپوک منافق يار مار دھرتي نال فراڈ کرن والے
شاکر: نتيجہ کہ کچھ نئيں بنيا
شاکر: محمد علي مکي وي ايک اے
شاکر: جد مکي نہ رہيا تے
شاکر: فير کي بنےگا؟
شاکر: سانوں بندہ نئيں بندے چائيدے نيں پاء جي
شاکر: جيدي اگلے پنج سال وچ وي گھٹ اي اميد اے
شاکر: سب نوں اپني روزي روٹي دي فکر اے
شاکر: کون کرے اے
شاکر: جد ويلے ہُندے نيں
شاکر: جيسے ميں تھا
شاکر: تو سب کرتے ہيں
شاکر: جب کام مل گيا
شاکر: تو سب بھاگ ليے دم دبا کر
شاکر: سپرٹ نہيں اے سائيں
شاکر: ايس چيز دي ضرورت اے
شاکر: خير چھڈو تُسيں
شاکر: کيہڑياں گلاں وچ پے گئے آں
شاکر: تُسيں انجوائے کرو
شاکر: بھيگي بھيگي رات
شاکر: اسيں وي چلئيے ہُن
مکی: آپ کی باتیں بجا ہیں..
مکی: مگر اب کوئی اس طرف نہ آئے تو کیا کیجیے...
مکی: یہ تو میں بھی سمجھتا ہوں کہ ایک شخص ناکافی ہے اس کام کے لیے..
مکی: مگر مجبوری ہے جی..
مکی: یہ کام ٹیموں کا ہی ہے
شاکر: چلو جي جد تک تُسين او
شاکر: تب تک سانوں کوئي ٹيم نئيں چاہيے
شاکر: تُسيں اپنے اندر ايک ڈويژن دے برابر او
شاکر: ون مين آرمي
شاکر: اينہوں جاري رکھو
شاکر: اسيں تہاڈے نال آں
مکی:
شاکر: گلاں وچ وي
شاکر: تے ہور جنہاں ہوسکے
شاکر: انشاءاللہ کردے رہواں گے
مکی: ‏‫جہاں تک ابنٹو والوں کی بات ہے تو اسی وجہ سے ہم ڈیسٹرو بھی تو اپنی ہی بنا رہے ہیں..
مکی: تاکہ دوسری ڈیسٹروز پر انحصار نہ رہے..
شاکر: پاء جي اتنا بڑا سيٹ اپ نہيں چلے گا
شاکر: عريبين لينکس کي طرح سال بعد ٹھپ ہوجائے گا سب کچھ
شاکر: باہر سےکرسي لے کر اس کا رنگ ہي بدلنا ہے
شاکر: پر اس ميں بھي سياپا کم تو نہيں
شاکر: مسئلہ ہے يہ کہ کسي ڈسٹرو کے ساتھ ٹيم جڑي ہو
شاکر: جو ساتھ ساتھ ترجمے کو ديکھتي رہے
شاکر: تاکہ ايک بني بنائي چيز، جس کي کوالٹي بھي مسلمہ ہو مارکيٹ ميں ہو
شاکر: کم سے کم ايفرٹ ميں زيادہ سے زيادہ کام
شاکر: نہ کہ پہيہ دوبارہ ايجاد کرنا
شاکر: پھر سارے سياپے کرنا
شاکر: بگ آگيا جي
شاکر: او فلانياں اے نئيں ہُندا اوئے
شاکر: ٹيوٹوريل لکھنا
شاکر: يہ کرو وہ کرو
شاکر: اے ساڈے وس دا کم نئيں سائيں
شاکر: خير چھڈو جي
شاکر: اللہ خير کرسيں
شاکر: ميں چلاں سائيں فير
شاکر: تے اے گفتگو لگے گي ميرے بلاگ تے
شاکر: تہاڈي اجازت دے نال
مکی: جی بالکل لکھیں
شاکر: رب راکھا فير
مکی: رب راکھا جی..