ہفتہ، 12 مئی، 2007

آخر کب تک جنرل صاحب؟؟؟

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 6:55 PM ,
جنزل صاحب بڑے بے خبر صدر ہیں۔ فرماتے ہیں یہ عوامی طاقت ہے۔ میں ایک تیسرے درجے کا شہری یہ بات جانتا ہوں کہ انھیں تین سو روپے فی بندے کے عوض پورے پنجاب سے اکٹھا کیا گیا ہے جنھیں یہ "عوامی" طاقت بتا رہے ہیں۔ انھیں اصل میں عوامی نہیں خزانوی طاقت کہنا چاہیے تھا۔ آخر خزانے میں بارہ ارب ڈالر ہوگئے ہیں کہیں تو خرچ ہونے تھے۔ اور اپنی حکومت کے لیے خرچ کرنا تو عین کار ثواب اور راہ نجات ہے۔
کراچی میں گھروں سے جنازے اٹھ رہے تھے اور ان کی "عوامی" ریلی میں بھنگڑے ڈالے جارہے تھے ، ڈھول تاشے بج رہے تھے۔
آخر کب تک؟؟ کب تک جنرل صاحب ان کرائے کے ڈھول تاشوں اور کرائے کی عوامی طاقت کے بل بوتے پر جلسے بنا کر ان سے خطاب کرلیں گے۔
کبھی تو ظلم کی سیاہ رات چھٹے گی نا۔ کبھی تو آمریت ختم ہوگی۔ کبھی تو مفاد پرستوں کو سر عام ذلیل خوار کرکے اس دھرتی کو ان سے پاک کردیا جائے گا۔
اور یہ کبھی دور نہیں ۔۔۔۔وہ دن دور نہیں۔۔۔۔قافلے چل پڑے ہیں۔۔۔۔منزل نظر آرہی ہے۔۔انشاءاللہ صبح بہت قریب ہے۔ یااللہ ہمیں توفیق عطاء فرما ہم ظلم کے خلاف جہاد کرسکیں۔ آمین۔

Back Top

8 تبصرے:

  1. اسلام و علیکم
    یا اللہ کرم فرما اور ان لوگوں کو ہدایت دے
    کراچی میں آج کا منظر کتنا خوفنا ک ہے کہ بیان سے باہر ہے
    ہر دل سے یہی آہ نکل رہی ہے کہ اب کونسی دہشت گردی اب
    کسی سازشیں اب یہ کیا ہے اپنے ہی لوگ اپنوں کا خون بہا رہے ہیں
    یا اللہ رحم فرما یا اللہ رحم

  2. ایم کیو ایم اور گورنمنٹ تو زمہ دار ہیں ہی سب سے زیادہ لیکن فائرنگ میں اے این پی کے کارکن بھی ملوث دکھائے گئے ھیں۔

  3. میری دعا ہے کہ اللہ جلد انصاف برپا کر دے اور ہم لوگوں کو حق پہچاننے اور حق کیلئے جدوجہد کرنے کی تو فیق عصا فرمائے ۔
    الطاف حسین نے اپنی 12 مئی کی تقریر میں اے این پی کے عبدالغفار خان [جسے باچا خان کہا جاتا ہے اور سرحدی گاندھی بھی] کی بہت تعریف کی تھی تو پھر اے این پی کو قاتل بناتے ہوئے ان کی تصویریں ویب سائٹ پر 12 مئی ہی کو کیوں شائع کی گئیں ؟
    مسلک اور سیاست کے لحاظ سے باچا خان بھی بھارت کا پرستار اور مسلمانوں کا دشمن تھا اور الطاف حسین بھی ویسا ہی ہے بلکہ باچا خان سے دو قدم آگے ہے ۔

  4. شاکر میں خود گیا تھا مجھے تو وہ "پانچ لاکھ" کہیں نظر نہیں آئے۔ صرف ایک ڈرامہ ہی تھا۔ بمشکل بیس تیس ہزار لوگ ہوں گے۔ اسوقت تو حد ہی ہوگی جیسے ہی جرنیل صدر نے تقریر شروع کی لوگ میریٹ ہوٹل کی سڑک پر جا کر سستانے لگے۔

  5. اللہ ہمیں حق کے لیے لڑنے کی توفیق دے۔

    محمد شاکر عزیز at 13 مئی، 2007 11:42 AM
  6. Jinab Ajmal Sahib aap kay Maudoodi sahib aur degur Mullah e Karaam bhee kuch peechay nahain thay Pakistan aur Quaid e Azam ko galian daynain main. Unko kion bhole jaatay hain?

  7. بھائی جی ہمارا حافظہ بہت کمزور ہے۔ ویسے بھی گزری باتوں کو یاد کرکے کیا لینا۔ یہاں لوگوں کو دس سال پہلے کی باتیں‌یاد نہیں جو ملک کو لوٹ کر کھاگئے اب پھر آنے کو پر تول رہے ہیں۔

    محمد شاکر عزیز at 14 مئی، 2007 7:39 AM
  8. AOA, ye baat theek hai,ke fi banda Rs500/ dye ge the.Allah he theek karye.Ameen

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔