سوموار، 1 جنوری، 2007

عید قرباں اور نیا سال

آج عید تھی۔ آئی اور پہلا دن آدھا گزر بھی گیا۔ ہر بار یونہی ہوتا ہے۔ صبح حسب معمول تھی۔ نماز پڑھی ، کچھ دیر انٹرنیٹ پر لگائی اور پھر نہا کر عید کی نماز پڑھی۔ واپسی پر پھر کمپیوٹر کو رگڑنا شروع کردیا۔ ساڑھے دس بجے کے قریب چھوٹے بھائی کا دوست آیا جس سے مل کر قربانی کی اور اب اس کا گوشت بنا کر نیز کافی سارا کھا کر ہم آرام سے بیٹھے ہیں۔
خمار گندم کا تو بڑا شہرہ ہے لیکن خمار گوشت بھی الگ ہی چیز ہے۔ خصوصًا جب گوشت وہ بھی چھوٹا گوشت سال بھر بعد کھانے کو نصیب ہو۔ مجھے یہ کہنے میں‌ کوئی عار نہیں کہ میں نے بکرے کا گوشت پچھلی عید پر کھایا تھا یعنی ٹھیک ایک سال دس دن کم اور آج پھر کھایا ہے۔ ہماری حکومت کی مہربانیاں شاید یہ بھی آئندہ سالوں میں‌ نصیب نہ ہو۔ اب بھی یہ حال ہے کہ سب سے زیادہ مانگ گائے اور اور اس کے بچھڑوں کی تھی۔ بکروں کی قیمت پوچھ کر ہی لو صبر کرلیتے تھے۔ ہمارا بکرا جو ہم نے آج سے کوئی 2 ماہ پہلے 4400 روپے صرف میں‌ لیا تھا (ایک قریبی گاؤں سے اور اپنے عزیزوں کے کسی جاننے والے سے ) اس کی قبیل کا بکرا عید سے ہفتہ بھر پہلے یا عید کے قریب یہی کوئی 9000 روپے میں مل رہا تھا۔
یہ سب بتانے کے بعد ہم دوسروں کی طرح رونا رونے لگتے ہیں کہ موجودہ حکومت ٹھیک نہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے لیکن فائدہ کاہے کا؟؟ ہم سب ہی بے غیرت ہوگئے ہیں۔ سادہ سے الفاظ میں‌ اور آسان ترین لفظ یہی ملا ہے مجھے۔ پورا ایک ماہ میں‌ دس روپے کا چارا روزانہ اپنے بکرے کو کھلاتا رہا ہوں اور عید کے قریب آکر یہ حال ہوگیا تھا کہ بیس روپے کے چارے سے بھی اس کا پیٹ نہیں‌ بھرتا تھا وجہ یہ تھی کہ چارہ مہنگا کردیا گیا تھا۔۔موج ہے نا۔۔سب کی موج ہے اور ہر کوئی جب اس کا داؤ چل جائے کھال اتارنے سے کبھی دریغ نہیں‌کرتا۔
کھال سے یاد آیا ان تین دنوں میں‌کھال مانگنے والوں کا بھی بڑا رش ہوگا۔ جگہ جگہ کیمپ لگے ہوئے ہیں فلاں جماعت کو، فلاں مدرسے کو، فلاں ہسپتال کو، فلاں فاؤنڈیشن کو۔۔ہمارے محلے کے ایک قاری صاحب جو مدرسہ چلاتے ہیں عید قرباں والے دن اپنے شاگردوں کو چھٹی نہیں دیتے۔۔کھالیں جو جمع کرنی ہوتی ہیں۔سارے محلے سے ، شاگردوں و طلباء کے اپنے گھروں سے ان کے اقارب کے گھروں سے کھالیں اکٹھی کرنے کا کام یہ طلباء کرتے ہیں بار بار گھروں کے چکر لگاتے ہیں جانور ذبح ہوا یا نہیں مالکوں سے زیادہ انھیں قربانی کی فکر ہوتی ہے۔
کھالیں تو قصائی بھی اتارتے ہیں۔ جانوروں کی بھی اور انسانوں کی بھی۔ ایک عام گائے کرنے کے 3000 عام سی بات ہے ساتھ گوشت، کبھی موڈ ہو تو کھال بھی مانگ لیں اور کھانا پینا الگ سے۔ جس نے کبھی چھری کا منہ نہیں دیکھا ہوتا عید والے دن قصائی بن جاتا ہے، گوشت تو جو اس نے کرنا ہے سو کرنا ہے نخرے دیکھنے والے ہوتے ہیں ان کے۔ مالکوں کا بس نہیں چلتا کہ راہ چلتے کو روک کر اس سے قربانی کروا لیں حالانکہ ہاتھ سے سارا کام کرنا سنت ہے۔لیکن یہاں یہ کام جانتا کون ہے اگر کوئی جانے بھی ہے تو کرنے میں شرم محسوس کرے ہے۔
آج کل ایک اور بڑا ٹرینڈ چلا ہوا ہے اور وہ ہے گائے کی اجتمائی قربانی میں حصہ۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ گائے کی قربانی کا انتظام ہے، گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں کے بینر کہیں کہیں نظر آجایا کرتے تھے۔ اب کچھ جدت آگئی ہے مثلًا اب لکھا جانے لگا ہے کہ صحت مند گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں۔
اور شاید اگلے سالوں میں یہ بھی لکھا جانے لگے کہ اصلی گائے کی قربانی میں حصہ ڈالیں۔ یہ بھی اچھا کاروبار بنتا جارہا ہے۔ ہمارے ایک سٹوڈنٹ کے چاچو ایک مذہبی جماعت کے مقامی راہنما ہیں۔ ہر سال یہی کوئی پچیس کے قریب گائیں قربان کرتے ہیں۔ ایک ماہ پہلے پیسے جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور آخری ہفتے میں 10 بارہ کرکے گائیں حاصل کرلی جاتی ہیں۔ کچھ پیسے بچ جاتے ہونگے چلیں‌ نہ بھی بچیں لیکن کھالیں وہ بھی اکٹھی پچیس ان کی طرف سے “مرکز“ کو جاتی ہیں تو ان کی واہ واہ کیوں نہ ہوگی۔ بلکہ ہمیں تو اب سمجھ آئی ہے کہ مدارس، مساجد اور ایسے لوگوں کے ہاں یہ جو اجتماعی قربانی کا انتظام ہوتا ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ کھالیں اپنی ہوجائیں۔۔
ہمارا شدت سے دل آرہا ہے کہ اگلے سال عید قرباں پر یا تو قصائی کا کام شروع کردیں تکبیر پھیرنا ہمیں آتی ہے۔ کیا جو دو بار چھری پھیرنا پڑے گی یا جانور کو زیادہ تکلیف برداشت کرنا پڑے گی دو تین گھنٹوں کا ہزار بارہ سو بن جائے گا۔اور ساتھ میں گوشت مانگنا کونسا مشکل ہے۔ چلیں یہ نہیں‌ نو
آئندہ سال کوئی جگہ کرائے پر لے کر اجتماعی گائے کی قربانی کا اعلان کرتے ہیں جس سے امید ہے ہمیں خاصی بچت ہوجائے گی۔۔ :roll: :roll:
عید تو آئی ہے ساتھ نیا سال بھی آگیا ہے۔ یہ سال کا بھی پتا نہیں چلتا ہے۔ 2006 ایویں گزر گیا پتا بھی نہیں چلا۔ کیا کیا سوچا تھا اس سال میں‌اور کیا کیا ہوگیا۔ 2006 کے شروع میں بہت پرامید تھا میں۔ بی کام پاس کرنے کی اور اچھے نمبروں سے پاس کرنے کی بہت امید تھی بلکہ ٹینشن ہی نہ تھی۔ اس کام کےلیے محنت بھی کی لیکن پھر جانے کیا ہوا۔ ایک میری توقع سے کم نمبر اور پھر آگے داخلہ نہ ہونا۔ اس سب نے پہلے تو مجھے ہلا ڈالا کئی دن میں اسی شاک میں رہا پھر اپنی فطرت سے مجبور ہوکر میں نے پر جھاڑے اور اس رنگ کو اتار دیا۔ کچھ دوستوں کو نوکری کا کہا اور سب کے مشورے سن کر آخر ٹیوشن پڑھانے کی طرف آگیا۔ ان دنوں میں جو دن نہیں‌مہینوں پر مشتمل ہیں اگرچہ میرے پاس بہت سارا وقت تھا لیکن پھر بھی میں ان پراجیکٹس کی طرف متوجہ نہ ہوسکا۔جن کی بہت ساری امیدیں خود سے لگا رکھی تھی۔
اردو ورڈپریس، اردو لینکس اور اس طرح کے کئی پراجیکٹس سب سے بڑھ کر ممتاز مفتی کی کتاب لبیک جسے مکمل کرنا تھا سب ادھورے پڑے ہیں۔ اگر اس سال میں اپنا حساب لگاؤں تو صرف اتنا حاصل ہوا کہ پی فور کمپیوٹر حاصل کیا، گریجویٹ کہلانے کا حقدار ہوگیا، کیبل نیٹ لگوائی، اپنا بلاگ اپنے ہاتھوں سے فری ہوسٹ پر بنایا(حکیم خالد کا شکریہ جنھوں نے میری بہت ساری مدد بھی کی اس سلسلے میں) پھر اپنے بلاگ پر الٹا سیدھا بہت سارا لکھا۔ پہلی بار میری ذاتی آمدن اتنی ہوگئی کہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو مانگنےپر دے سکوں، خصوصًا عید پر جب انھوں نے عید پر مجھ سے عیدی مانگی مجھے بہت اچھا لگا۔
نیا سال چڑھا آیا اور بہت کچھ ادھورا پڑا ہے۔ میں‌کوئی پلان بنا بھی لوں تو بھی اس کے پایہ تکمیل تک پہنچنے میں میرے موڈ کا بہت دخل ہے جانے کیوں ابھی میرا موڈ نہیں بنتا کچھ بھی کرنے کا جو کرتا ہوں وہ بھی اس لیے کہ مجبوری ہے نہ کروں تو مسئلہ ہوگا۔ بس دعا ہے اور دعا کی درخواست بھی ہے کہ اپنے ذمے جو اتنے سارے کام لیے تھے انھیں پورا کرسکوں، اپنے گھر والوں کے لیے کچھ کرسکوں کیونکہ سب سے بڑا میں ہی ہوں اور اپنا ڈھیر سارا پڑھ بھی لوں۔
آپ سب کو نیا سال اور عید قرباں مبارک ہو۔مستحقین کا خیال رکھیے گا اور سڑکوں کا بھی جن پر ہم نے چلنا ہے ان پر غلاظت ڈالنے سے گریز کیجیے گا۔
وسلام

8 تبصرے:

  1. اتنے سارے کام کرنے پر مبارک قبول کیجئے اور ادھورے کاموں کی تکمیل کیلئے دعا گو ہیں۔
    آپ کو عید کی ڈھیروں مبارکبادیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. آپ کو عید الاضحٰی اور نیا سال مبارک ہو

    جواب دیںحذف کریں
  3. عید مبارک!!!
    ادھورے کام پورے کرنے کے ساتھ!!! نئے کام کے آغاز کی ہمت بھی ہو آُپ کو!!!!
    بکرے کا گوشت میں نے بھی پچھلی عید پع ہی کھایا تھا!!!! مگر اپنے نہیں پھوپھو کے گھر!!

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد شاکر عزیز3 جنوری، 2007 5:14 AM

    خیر مبارک۔
    اور آپ سب احباب کو بھی مبارکباد۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. شاکر بھائی میری طرف سے عید اور نئے سال کی مبارکباد قبول کیجیے گا۔۔۔اور ساتھ ساتھ لینکس کے بارے میں باقاعدہ لکھنا شروع کرنے پر شاباش :(

    جواب دیںحذف کریں
  6. محمد شاکر عزیز4 جنوری، 2007 9:05 AM

    اس میں برا سا منہ بنانے کی کیا ضرورت ہے انکل۔
    :D
    ہیں جی
    خیر مبارک

    جواب دیںحذف کریں
  7. شاکر بھائی۔۔۔
    سب سے پہلے تو دیر سے جواب دینے پر معذرت چاہتا ہوں۔ اچھا تو ماشاءاللہ جی آپ نے تو کافی اچھے پروجیکٹس کرنے کا رادہ کیا تھا اور میری دعا ہے کہ اللہ آپ کی مشکلات دور فرماکر آسانیاں‌ پیدا فرمادے اور تاکہ آپ اردو کی ترویج میں ایک اہم ستون ثابت ہوں‌ اور آنے والی نسلیں‌یاد رکھیں‌کہ کسی نے نیٹ پر کام کیا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. محمد شاکر عزیز9 جنوری، 2007 11:27 AM

    بھائی جی اکیلا چنا کیا بھاڑ جھونکے گا۔
    یہ سب مل ملا کر ہی ہوگا۔
    اور الحمد اللہ قافلہ بن گیا ہے چل بھی جاتا ہے کبھی کبھی بس ہمارا مخصوص پاکستانی موڈ آڑے آجاتا ہے ورنہ پراجیکٹس تو کئی ہے اور کام بھی ہوا ہے ان پر۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔