ہفتہ، 7 اپریل، 2007

دل بڑا کرو!


Free Image Hosting by FreeImageHosting.net


:lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: :roll:

7 تبصرے:

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سر جی اپنے تو کچھ پلے نہیں پڑا.. آپ کس کا دل بڑا کرنا چاہ رہے ہیں..؟؟

    واللہ الموفق

    جواب دیںحذف کریں
  2. محمد شاکر عزیز7 اپریل، 2007 7:31 PM

    ان کو دیکھیں جی یہ کس کا دل بڑا کرنا چاہتے ہیں۔
    کمائیاں کرکے :mad:

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ اشتہار تو مجھے تب بھی طنزیہ ہی لگا کرتا تھا جب ہم واپس نہیں آئے تھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. دیکھیں شاکر بھائی! آپ بھی دل بڑا کریں۔(عمران خان نہ سہی، خان تو ہوں ہی!;)) اگر نے اس کے کمرشل کا پس منظر کا گانا سنا ہو تو وہ فرماتے ہیں(تھے) کہ ؎ پا لیں گے آسماں، اور اور اور
    یعنی یہ آسمان(ورلڈ کپ) تو ہم پانے ہی نہیں گئے تھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. محمد شاکر عزیز9 اپریل، 2007 7:04 PM

    جی جو کھٹنا تھا کھٹ لیا۔
    :mad:

    جواب دیںحذف کریں
  6. دوستو کچھ مجھے بھی تو بتاؤ نا کہ کیا کھٹنے کھٹانے کی کھٹی میٹھی کھچڑی پکا رہے ہیں آپ لوگ؟ میرا ڈائل اپ کنکشن آپ لوگوں کے الٹرا سونک رفتار کے کمپیوٹرز کے بھیجے ہوئے اکثر و بیشتر امیجز کو جب کھول نہیں پاتا ہے تو دل بہت کھٹا ہوتا ہے۔ شاید کچھ امیجز کے لنکس بھی یہاں کے قوانین کے مطابق بلاک ہوتے ہیں۔
    اور ہم “انگور کھٹے ہیں“ کی عملی مثال بن کر اپنے کمپیوٹر کے رُخِ زیبا پر (زیبا آنٹی سے معذرت کے ساتھ) ایک چھوٹے سے مربع، میں اُس سے بھی چھوٹے ایک سُرخ چلپائی نشان کو دیکھ کر اپنے لڑکپن کے ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب سینکڑوں بار چھت پر جا کر ایریل ( انٹینا ) گھما کر بھی “انڈیا“ کی نشریات سے “فیضیاب“ ہونے سے محروم رہتے تھے۔ اور اب جب کہ “انڈیا“ ہماری “دسترس“ میں ہے تو “دل ہے کہ مانتا نہیں“۔ دل تو چاہتا ہے کہ اپنے کمپیوٹر کو اس گستاخی کی سزا دینے کے لئیے اس پر تابڑ توڑ 17 حملے کر کے تاریخ میں امر ہو جائیں لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ نا مراد میری نصف بہتر کا چہیتا ہے اور عقل مند لوگ کبھی بھی نصف بہتر سے “متھا“ نہیں لگاتے۔ نہیں تو ان کا حشر کشتی میں سفر کرنے والے ان حضرت جیسا ہوتا ہے کہ جن کو اپنے علم پر بڑا ناز تھا لیکن تیرنے میں نا بلد ہونے کی وجہ سے بپھرے ہوئے دریا میں ڈوب گئے اور “جاہل“ ملاح زندہ سلامت ساحل پر پہنچ گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اتنی عقل تو اپنے دماغ میں ہے کہ موقع محل دیکھ کر “جاہلیت“ سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔
    آپ حضرات کا کیا خیال ہے؟ عقل کے گھوڑے پر ہمیشہ کاٹھی ڈال کر رکھنی چاہئیے یا اسے کبھی کبھی گھاس چرنے کے لئیے آزاد بھی چھوڑ دینا چاہئیے؟

    جواب دیںحذف کریں
  7. محمد شاکر عزیز12 اپریل، 2007 7:51 PM

    اوہو۔
    بھائی جی یہ بھی مسئلہ ہے۔ خیر کچھ کرتے ہیں اس کا اصل میں اول تو تصویر لگاتا ہی نہیں میں۔ اگر لگاؤں تو ایک آدھ سائٹ ہی ہے جس پر اپلوڈ کرکے یہاں ربط دے دیتا ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔