جمعرات، 29 مارچ، 2007

آخر کیوں اتنا جنون کیوں؟

کل میں  آنلائن نہیں ہوسکا آج دیکھا تو بی بی سی اردو کی ایک خبر کی ڈھنڈیا مچی ہوئی ہے۔ ملک طالبانائز ہورہا ہے۔ ہر طرف پھڑ لو پھڑ لو مچی ہوئی ہے ۔ یہ وہ۔۔۔


ہمارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ایک جذباتی قوم ہیں۔ ہمارے سر پر جو بھوت سوار ہوجاتا ہے پھر ارنے بھینسے کی طرح ہم سر جھکا کر اسی طرف پل پڑتے ہیں۔


ہمارے ہاں آہستہ آہستہ ہر دو معاملات میں جنون بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف اگر ویلنٹائن ڈے کو اتنا فروغ دیا جارہا ہے اور یوم محبت کا نام دیا جارہا ہے دوسری طرف کچھ مذہبی تہواروں کو بھی اسی قسم کی شکل دی جارہی ہے اور ان پر پہلے کے مقابلے میں بڑی شدت سے عمل کیا جارہا ہے ۔۔


آج سے دس بارہ سال پہلے کسی کو نہیں پتا تھا کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہے اور اب آٹھویں کا بچہ بھی جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے کیا ہوتا ہےا ور اس پر کیا کیا ،"کِیا" جاسکتا ہے۔


مذہب کے حوالے سے دیکھیں تو عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کبھی ہمارے مولوی صاحب بتاتے تھے کہ یہی بیس پچیس سال پہلے کسی کو اتنا پتا نہیں تھا۔ لیکن اب یہ ایک رچوال بنتا جارہا ہے۔ گھر کو جھنڈیوں سے سجانا، سڑکوں کو سبز جھنڈوں سے سجانا، بینر لگانا، سٹکر لگانا اور اب  مرحبا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعرے لگانا۔


میں اس کی مذہبی حیثیت پر بحث نہیں کرتا چاہتا ورنہ اسے بڑی آسانی سے بدعت کہا جاسکتا ہے اور کہا بھی جاتا ہے۔


میرا یہاں یہ کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ یہ سب ہوکیا رہا ہے۔


ویلنٹائن ڈے، فلانا ڈے یہ ڈے وہ ڈے اور مذہب کے نام پر یہ تہوار عروس یہ وہ۔ یہ سب آہستہ آہستہ فیشن بنتے جارہے ہیں ہردو طبقوں میں۔ ان میں بھی جو دنیا دار ہیں اور ان میں بھی جو مذہبی سمجھے جاتے ہیں۔ اور اس سب کا فائدہ کس کوہورہا ہے؟


 اس کا فائدہ سراسر ان کو ہورہا ہے جو ہمارے لیے قطعًا مخلص نہیں۔ ہم دین کو چھوڑ کر چند بے معنی رسومات سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ مغربی تہوار ہمارے اندر میڈیا کے ذریعے زبردستی گھسیڑے جارہے ہیں۔ اب تو مذہبی تہواروں پر بھی میڈیا بڑے "اچھے" انداز میں نشریات پیش کرتا ہے۔ اب ربیع  االاول کو ہی دیکھ لیں۔ ہمارا سرکاری ٹی وی رحمت اللعالمین کے نام سے نشریات پیش کررہا ہے، صبح آدھے گھنٹے کے گانوں کی جگہ نعتیں پیش کی جارہی ہیں، میزبان صاحب رائزنگ پاکستان میں آکر تلقین کرتے ہیں کہ اس مہینے خصوصًا درود شریف کی کثرت رکھی جائے وغیرہ وغیرہ۔


اسی طرح ویلنٹائن ڈے پر رج کے بے ہودگی کی جاتی ہے اور اسے حسین لبادوں میں لپیٹ کر ہمارے دماغوں میں داخل کیا جاتا ہے۔


یہ سب آخر کس طرف لے کر جارہا ہے؟


ہمیں رسومات کا عادی بنایا جارہا ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل کرنا صرف ایک اسی مہینے کے لیے ہے؟ ان کی سالگرہ منانا، نعرے بازی کرنا، جھنڈے لگانا، چار نعتیں پڑھ لینا، بس؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


اس ملک کا مسئلہ صرف اتنا ہے کہ یہاں کی حکومت کے گوڈوں میں پانی نہیں رہا۔ وہ خود بھی منافق ہوچکے ہیں اور باقی قوم کو بی منافقت کا سبق دے رہے ہیں۔ بلکہ دے کیا رہے ہیں مناق ہوچکے ہیں ہم۔


قوانین کو عجیب انداز سے مبہم بنایا جارہا ہے کہ کسی پر کوئی چیک نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ عوام کو روزی روٹی اور بھوک کی فکر ڈال دی گئی ہے۔ ہر دو قسم کے جنونیوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔


اگر اسلام آباد میں جامعہ حفصہ جیسے ادارے موجود ہیں جو صرف محلے والوں کی درخواست پر خواتین کو اٹھوا لیتے ہیں تو دوسری طرف ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لیے بدکاری جسٹ نارمل سی بات ہے۔ میرا دوست اسلام آباد میں زیر تعلیم ہے اور اسے کسی واقف کار کے مطابق کسی برگیڈیر صاحب کی بیٹی کے ان کی بڑی اچھی سلام دعا رہی ہے اور بڑے عرصے تک وہ اس سے "فیضیاب  " ہوتا رہا ہے بلکہ کئی بار اپنے دوستوں کو بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے لے جاچکا ہے۔


شاید آپ مجھے بے شرم کہیں لیکن سچ بولنے میں مجھے کوئی عار نہیں۔ اگر اس نے ایسا کہا ہے تو واقعی ایسا ہوگا۔ چلیں وہ جھوٹ بول لے کوئی بات نہیں آپ میں سب جانتے ہیں کہ یہاں کیا "ممکن" نہیں۔ بس روکڑا چاہیے ہر قسم تفریح مل سکتی ہے۔


یہ سب جنون نہیں تو اور کیا ہے؟


اور حکومت کیا کررہی ہے؟


حکومت بے حس بنی بیٹھی ہے۔ سڑکوں کے افتتاح ہورہے ہیں، پلوں کے افتتاح ہورہے ہیں، سیورج لائنوں کے افتتاح ہورہے ہیں اور ان کو استعمال کرنے والوں کے ساتھ کیا بیت رہی ہے انھیں کوئی ٹینشن نہیں۔


پھر نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ یا تو ڈاڑھیوں اور سر پر پگڑیوں اونچی شلواروں والی مخلوق پیدا ہورہی ہے جو دین پر عمل کروانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں نہ صرف عام جنتا کو ذلیل کرتے ہیں بلکہ آپس میں بھی ایک دوسرے کو بھنبھوڑتے ہیں۔


دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو دین کو پس پشت ڈالے ہر الٹے سیدھے کام میں بڑی ڈھٹائی سے ملوث ہیں، سود خوری ہورہی ہے، رشوت خوری ہورہی  ہے، بدکاری ہورہی ہے، سرعام بلیو پرنٹ فلموں کا لین دین ہورہا ہے دیکھی جارہی ہیں۔ دکھائی جارہی ہیں۔


اگر کوئی ان کے علاوہ ہیں تو وہ چپ بیٹھے ہوئے ہیں کہ کیا کریں؟


میرے جیسوں کو پتا ہے کہ اسلام آباد میں غلط ہورہا ہے، وزیرستان میں غلط ہورہا ہے اس کا سدباب کرنا چاہیے لیکن کون کرے گا؟ میں کروں؟ میں اپنی روزی روٹی کی اپنے گھر کی فکر کروں یا اس کی فکر کروں۔


میرے جیسے جن کو پتا ہے کہ اپنے محلے ہی میں کہاں کہاں کیا ہورہا ہے کس کے گھر میں بے غیرتی ہورہی ہے، کس انٹرنیٹ کلب پر نوجوانان ملت کو جنس کے جال میں پھنسا کر گھلایا جارہا ہے۔ لیکن میں کیا کروں اس کے لیے؟ اس کو روکوں جاکر؟ مجھے اپنے گھر کی فکر ہے اپنی روزی روٹی کی فکر ہے میں ان کو کیا دیکھوں۔


تو پھر کون یہ کرے گا؟ ۔۔۔۔۔کیا حکومت؟؟؟ یا عوام؟؟؟


یا اس طرح کے لٹھ براداران دین؟؟؟


آپ کا کیا خیال ہے کون ہوگا جو یہ کرے گا؟؟


مجھے تو لگتا ہے کہ ہم پر حجاج بن یوسف جیسا کوئی حکمران متعین کردیا جائے جو اس قوم کو ذلیل و خوار کرکر کے سیدھا کردے اور تو کوئی صورت نظر نہیں آتی۔۔۔


 

47 تبصرے:

  1. ماشااللہ بہت اچھا لکھا ہے مگر آپ کے بھی کچھ خیالات طالبان جیسے ہیں جیسے ویلنٹائن ڈے اور بسنت وغیرہ کی مخالفت ۔ ۔ ۔

    آپ نے خود ہی اپنی باتوں کا جواب دیا ہے ، کہ کون برائی کو روکے گا ۔ ۔ ۔ جب میں اور آپ نہیں روکنا چاہتے یا نہیں روک سکتے تو پھر کوئی بھی نہیں روکے گا پہلا پتھر کوئی تو ہونا چاہیے نا چاہے وہ لٹھ برادر ہی کیوں نہ ہوں !!!!!

    جواب دیںحذف کریں
  2. “شاید آپ مجھے بے شرم کہیں“

    ہمیں کیا ضرورت ہے معلوم شدہ حقائق کو بیان کرنے کی

    جواب دیںحذف کریں
  3. اک تماشہ ہے جو دنیا کو دکھلایا جا رہا ہے۔ کوئی بھی لیڈر خواہ وہ مذہبی ہے یا سیاسی ایک مکمل مداری کا روپ دھار چکا ہے۔ جن کا کام قوم کی اخلا قی اصلاح کرنا تھا وہ خود اخلاق و قانون کی حدیں پار کر گئے ہیں۔ کبھی کوئی کسی عورت کو اس لیے قتل کرتا ہے کہ وہ اس کے گھر سے باہر نکلنے کو اسلام کی خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔ اور عدالت میں کہتا ہے کہ میں نے اس کو قتل کر کے جہاد کیا اور پھر ایک دوسرا انہی عورتوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور کلاشنکوف دے کرنہ صرف ان کو گھر سے باہر لاتا ہے بلکہ دوسروں کے گھروں میں زبردستی داخل کر کے ان سے اغواء اور تشدد جیسے جرائم بھی کرواتا ہے۔ اسی پر بس نہیں اپنے اس عمل کو وہ اسلام کے عین مطابق سمجھتا ہے۔۔۔۔ انتہا ہے جاہلیت کی،یہ اسلام نہیں ہے۔۔۔۔ کسی کے گھر میں زبردستی گھسنے کی اسلام میں کیا حرمت ہے یہ منتظم صاحب بھی اچھی طرح سے جانتے ہوں گے۔ مدرسے کے اندر عدالت اور جہاد کا ممکنہ اعلان۔ایک سے ایک بڑھ کے اشتعال انگیزی ہے اور کچھ نہیں۔
    قبضہ کرتے ہیں بچوں کی لائبریری پراور نام لیتے ہیں جہاد کا۔ ارے بھائی جہاد کرنا ہے تو جہالت کے خلاف جہاد کرو۔بھوک کے خلاف جہاد کرو۔ بیماری کے خلاف جہاد کرو۔ کلاشنکوفوں پر بے تحاشہ روپیہ برباد کرنے کی بجائے اس کا عشر عشیر بھی تعلیم اور فنی مہارتوں کے اداروں پر خرچ کرو تو مخلوقِ خدا تم کو دعائیں دے گی اور ایک خوشحال پاکستان تم دیکھ سکو گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہمارے لوگ کچھ پیٹ بھرنے کی فکر میں ہیں اور جن کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں وہ شان و شوکت کی فکر میں ہیں ۔ آخرت کی فکر ہونا تو کجا آخرت کسی کو شاید یاد بھی نہیں رہی ۔ دین کا علم سیکھنا جرم بنا دیا گیا ہے اور اردو بولنا پستی کی نشانی ۔ قانون کتابوں میں ہو تو ہو اس کی عملداری کہیں نظر نہیں آتی ۔ حالات اس وقت نہیں سدھریں گے جب تک عوام اپنی وقتی انفرادی دقتوں کو بالائے طاق رکھ کر اجتمائی بہتری کیلئے میدان میں نہیں آئیں گے ۔ اس کیلئے ڈنڈوں یا بندوقوں کی ضرورت نہیں قلم اور ہمت کی ضرورت ہے ۔ استقامت دل میں اور لب پر خدا کا نام ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ حالات بہتر نہ ہوں ۔

    میں اسلام آباد کے ایک اونچے درجہ کے سیکٹر میں رہتا ہوں یہ مکان ہم چار بھائیوں کو ورثا میں ملا ۔ میں صرف سودا سلف لینے کیلئے گھر سے نکلتا ہوں یا عزیز و اقارب کو ملنے ۔ کبھی کبھی لاہور اور کراچی کا چکر بھی لگ جاتا ہے ۔ ملکی حالات احباب سے معلوم ہوتے رہتے ہیں کبھی کبھی اتفاق سے براہِ راست نظر آ جاتے ہیں تو شرم اور پشیمانی سے نیم مردہ ہو جاتا ہوں ۔ اسلام آباد کے تقریباً ہر سیکٹر میں جنسی کاروبار کے اڈے بن چکے ہیں جو کہ شاید دس سال قبل نہیں تھے ۔ ان کے قریب رہنے والے لوگ گاہے بگاہے شور کرتے رہتے ہیں کہ رہائشی علاقوں سے ریسٹ ہاؤس ہٹائے جائیں ۔ مگر کو سنتا نہیں ۔ یہی حال لاہور اور کراچی کا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں منہ کھولیں تو عزت اور جان دونوں محفوط نہیں رہیں گے ۔ انہی شہروں میں ایسے لوگ بھی رہتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر اچانک کہنا پڑتا ہے ہے کہ نہیں نہیں یہاں نیک لوگ رہتے ہیں ۔ کبھی سوچتا ہوں کہ شاید ان ہی نیک لوگوں کی وجہ سے پاکستان قائم ہے ۔

    جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون پوری قوت سے نافذ ہونے کی وجہ سے وہ لوگ بھی لاٹھیاں پکڑ کر سڑکوں پر آ گئے کہ جن کو کسی نے سڑک پر کبھی دیکھا نہ تھا ۔ میں عرصہ دراز سے کبھی کبھی لال مسجد میں نماز پڑھنے جاتا ہوں وجہ یہ ہے کہ پہلے میرے ماموں جی ۔ 6 میں رہتے تھے تو میں جب ماموں کو ملنے جاتا تو وہاں نماز پڑھتا ۔ ان دنوں مولوی عبداللہ خطیب تھے ۔ انہیں مسجد کے سامنے ہی قتل کر دیا گیا تو ان کے بیٹے عبدالعزیز کو وہاں کا خطیب بنا دیا گیا ۔ اس سے قبل عبدالعزیز ہمارے سیکٹر کی اس مسجد میں خطیب تھے جہاں ہم لوگ نماز پڑھتے ہیں ۔ عبدالعزیز ایم اے اکنامکس پاکستان سے اور ایم اے اسلامیات سعودی عرب سے ہیں اور بہت ہی معقول قسم کے آدمی تھے ۔ ان کی شامت اس وقت آئی جب پہلی بار پاکستانی فوج نے وزیرستان کے ایک علاقہ پر حملہ کیا اور اخباروں میں مرنے والے فوجیوں کے متعلق سرکاری بیان چھپا کہ شہید ہوئے اور غیر سرکاری خبر میں مرنے والے شہریوں کو شہید لکھا گیا ۔ لوگ مولوی عبدالعزیز کو عالم سمجھتے ہیں اس لئے ان کے پاس جا کر پوچھا کہ شہید کون ہے ۔ مولوی عبدالعزیز نے اسلام آباد کے 9 تعلیم یافتہ مولوی اکٹھے کئے جنہوں نے غور و خوض کے بعد کہا کہ مسلمان سے مسلمان لڑے تو کوئی بھی شہید نہیں ہو گا ۔ اس فتوٰی کو غلط رنگ میں تشہیر دی گئی اور پھر ان 9 مولویوں کے خلاف انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مقدمہ قائم کر کے ان کی گرفتاری کیلئے چھاپے شروع ہو گئے ۔ لوگوں نے انہیں ایسا غائب کیا کہ ان کا سراغ نہ مل سکا ۔ ساتھ ہی صدر جنرل پر اپنے ہی سیاسی اور انتظامی لوگوں کا دباؤ بڑھا اور انہوں نے وقتی ہار مان لی اور یہ مولوی اپنے گھروں میں پہنچ گئے ۔ البتہ مقدمات ابھی تک واپس نہیں لئے گئے ۔ معاملہ پھر اس وقت گرم ہوا جب چند ماہ پیشتر بلا جواز مسجدوں کو تجاوزات کہہ کر گرانا شروع کر دیا گیا ۔ اس پر صدر جنرل کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا جب انہوں نے اپنی پارٹی کے سرکاری وظیفہ کھانے والے مولویوں کے سپرد مسجدوں کا مسئلہ کیا اور انہوں نے مسجدوں کو گرانا غیر اسلامی قرا دے دیا سوائے اس کے کہ گرائی جانے والی مسجد کی جگہ بہتر مسجد بنائی جائے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ایک شعر یاد آیا
    اے جذبہِ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
    دو گام چلوں منزل کی طرف اور سامنے منزل آ جائے

    جواب دیںحذف کریں
  6. ویلنٹائن اور بسنت کے حوالے سے آپ کے خیالات سے میں اختلاف تو نہیں کرتا۔ مگر یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے صورتحال کا اندازہ صحیح نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں کراچی میں کم از کم بسنت کے حوالے سے غل غپاڑہ نہیں دیکھتا اور ویلنٹائن ڈے کراچی میں بہت اچھے طریقے سے منایا جاتا ہے۔ پل کے اس پار رہنے والوں کے علاوہ زیادہ تر مڈل کلاس لوگ اپنے محبوب اور پیاروں کو تحفے تحائف دیتے ہیں۔ ایک دکاندار ہونے اور کاروبار کی وجہ سے کافی لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور میرا تاثر یہی ہے کہ ہمارا ویلنٹائن ڈے مہذب ملکوں سے بھی زیادہ مہذب ہوتا ہے۔

    جنسی کاروبار کی آڑ لے کر اپنے گرفتار شدہ بندے چھڑانا ان مدرسے والوں کا مقصد ہے۔ اصل لڑائی وزیرستان میں لڑی جارہی ہے۔ مگر اس کے اثرات بہت جلد پورے پاکستان میں محسوس کئے جائیں گے۔ یہ طالبانائزیشن مزید پھیلے گی اور اس کی دست درازیوں سے پاکستانی پولیس اور فوج کے کارنامے بھی دھندلاجائیں گے۔ ایسا مجھے محسوس ہوتا ہے، خدا کرے یہ محض بدگمانی ہی ہو۔

    آپ نے درست لکھا کہ بارہ ربیع الاول پر جھنڈے لگانا اسلامی شعائر کیخلاف ہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو ہر وہ مذہبی یا غیر مذہبی تہوار منانے کا حق ہونا چاہئے کہ جس سے لوگوں کی جان و مال، املاک، عزت و آبرو کو نقصان نہ پہنچے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. محمد شاکر عزیز29 مارچ، 2007 12:31 PM

    یار ذلالت ہوگئی ہے اس قوم کی ہر ہر سانس۔
    بسنت کی بات کرتے ہو تو گلے کٹتے ہیں۔
    ویلنٹائن ڈے پر جب کسی کی بہن بیٹی کے گھر فون اور پھول جاتے ہیں تو اس سے پوچھ کر دیکھو کیا بیتتی ہے۔
    کاہے کی روشن خیالی اور طالبانزیشن یار۔
    یہ تو بس باتیں ہیں۔
    نعمان جی ان مدرسے والوں کا جو بھی مقصد ہے اجمل صاحب نے جو کہا ہے ٹھیک کہا ہے۔ کیا ایسا ہی نہیں ہورہا؟
    قدیر بھائی بات کریں گے تو بات بنے گی نا۔ یا ایسے ہی منہ میں گھنگھیاں ڈالے بیٹھے رہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. فوج کے اخلاقی کرپشن کی داستانیں تو شوکت صدیقی سناتے ہی رہے ہیں،
    آپ بیٹیوں کو رو رہے ہیں یہاں بیویوں سے وہ وہ گھناؤنے کام کروائے گئے ہیں کہ سن کر روح کانپ جائے،بیٹی کا کیا تو شائد باپ کے علم میں نہ ہو لیکن بیویوں کے ساتھ جو گل کھلائے جاتے تھے۔۔۔الاماں الحفیظ،

    جواب دیںحذف کریں
  9. ایسا صرف اس لیئے ہو رہا ہے کہ جب ہم اپنی اخلاقیات کو بیک ورڈ سمجھ کر دوسروں کی اخلاقیات کے گن گاتے ہیں اور اسے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہی ہوتا ہے،
    نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
    نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

    جواب دیںحذف کریں
  10. حل صرف ایک ہی ہے کردار کے غازی بنیں اب بھی خود کو سدھار کر دوسروں کو سدھار نے کی کوشش،
    دوسرے پر انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا،
    زیادتی اپنے قوم ہر مزہب کے فرد سے بھی ہو تو اسے ماننا،اور اپنے کردار کو اسلام کے زریں اصولوں میں ڈھال کر دوسروں کے لیئے مثال بننا،اسلام کی روشن مثال،

    جواب دیںحذف کریں
  11. بسنت کی بات کرتے ہو تو گلے کٹتے ہیں۔
    ویلنٹائن ڈے پر جب کسی کی بہن بیٹی کے گھر فون اور پھول جاتے ہیں تو اس سے پوچھ کر دیکھو کیا بیتتی ہے۔
    کاہے کی روشن خیالی اور طالبانزیشن یار۔
    ========

    جیسا کہ میں نے اوپر پہلے ہی لکھا ہے:

    مگر میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو ہر وہ مذہبی یا غیر مذہبی تہوار منانے کا حق ہونا چاہئے کہ جس سے لوگوں کی جان و مال، املاک، عزت و آبرو کو نقصان نہ پہنچے۔
    =========
    اس میں عزت و آبرو اور جان و مال کا ذکر ہے۔ جن تہواروں سے ان کو نقصان پہنچے میں ان تہواروں کو منانے کے حق میں نہیں ہوں۔ بسنت کے تو میں ویسے ہی خلاف ہوں مگر چونکہ کراچی میں بسنت نہیں منائی جاتی اسلئے میں اس کے دوران ہونے والی بیہودگیوں پر تبصرہ نہیں کرسکتا۔

    تاہم میں نے ویلنٹائن ڈے پر کوئی بدمعاشی نہیں دیکھی۔ میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کے محبت کرنے کے خلاف نہیں بشرطیکہ اس کا مقصد عامیانہ نہ ہو بلکہ ساتھ نبھانے کا ارادہ بھی ہو۔ خیر یہ ایک الگ بحث ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. اگر ہماری قوم بسنت اور ویلنٹائن ڈے نہیں منائے گی تو کوئی اُفتاد نہیں ٹوٹ پڑے گی ہم پر۔
    جن معاشروں میں حقیقی بہن اور ماں کے ساتھ جنسی تعلق یا پھر شادی کو بھی قبول کر لیا جاتا ہے ان معاشروں کی تقلید کرکے ہم کسی روشن خیالی یا تہذیب کی ترقی کا ہرگز مظاہرہ نہیں کر رہے۔یہ نہ صرف اسلام کے معاشرتی اصولوں کی نفی ہےبلکہ مقدس انسانی رشتوں کی بنیاد کی پامالی بھی ہے۔یہ جہالت اور پتھر کے زمانے کی طرف لوٹنے کا ثبوت ہے کہ جب ایسے رشتوں کو مقدس نہیں سمجھا جاتا تھا۔
    ذرا تصور کیجئیے کہ جان میجر کے دور حکومت میں ایک برطانوی شہری اپنی پالتو کتیا سے باقاعدہ دھوم دھام سے شادی کرتا ہے۔ اس شادی کی نہ صرف تشہیر کی جاتی ہے بلکہ جان میجر اس کو “دو نسلوں کے درمیان خوبصورت ملاپ“ کا نام دے کر تعریفی سند جاری کرتے ہیں۔
    اٹلی کا نوجوان اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اپنی سگی ماں سے شادی کرتا ہے۔کیوں کہ‘ بقول اس کے“مجھے اپنے ماں کے ساتھ بہت محبت ہےاور میں اس کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا“۔
    جرمنی میں سگا بھائی اپنی بہن سے شادی کرتا ہے اور ان دونوں کے 3 بچے بھی ہیں۔
    یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ہم مسلمان کیا کوئی بھی شریف ا لنفس انسان خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ایسی خرافات کو قبول نہیں کر سکتا۔
    یاد رکھئیے یہ ویلنٹائن ڈے بھی اسی مادر پدر آزاد معاشرے کی ایجاد ہے۔اور جو لوگ اس کو ابھی تک محض پاکیزہ محبت کے اظہار کا نام دیتے ہیں شاید ان کو معلوم نہیں کہ یہ فضول رسم مستقبل میں ہمارے معاشرے میں کیا کیا گل کھلانے والی ہے۔ جب ایک بھائی خود کسی کی بہن کو ویلنٹائن گفٹ دے کر آئے گا تو وہ اپنی بہن کے نام آنے والے ویلنٹائن گفٹ کو کیسے روک سکتا ہے؟ کیا ویلنٹائن ڈے کے متعارف ہونے سے پہلے دنیا میں محبت نام کی جنس مفقود تھی؟ اور کیا اس کا اظہار نہیں کیا جاتا تھا؟
    مانا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ محبت کے اظہار کے انداز بھی بدل جاتے ہیں۔پھر بھی اس بات کا جواب تو ہم کو ڈھونڈنا ہی ہو گا کہ محبت کے اظہار کا صرف یہی انداز ہی کیوں؟ کیا ہماری ثقافتی اقدار اور روایات میں محبت کے اظہار کا ڈھنگ موجود نہیں؟ یا پھر ہم ہی ہر کام کو بے ڈھنگے طریقے سے کرنے کے عادی ہو گئے ہیں؟
    اور پھر ہماری یہ محبت صرف 14 فروری ہی کو انگڑائی لے کر کیوں جاگتی ہے؟سال کے باقی 364 دن یہ خوابِ خرگوش میں کیوں رہتی ہے؟
    یہ ہماری دھرتی،اس کے صحرا‘اس کے دریا،اس کے کھلیان، پیار،محبت، عشق اور قربانیوں کی بے شمار داستانوں کے شاہد ہیں۔کیا ہمارا ان سے کوئی ناطہ نہیں ہے جو ہم ایک امپورٹڈ اور لغو رسم (ویلنٹائن) کے شیدائی ہو گئے ہیں؟
    وہ رومانوی شاعری،دل کو چھو لینے والے صوفیانہ کلام،دوہڑے،ماہئیے، ٹپے،گیت کیا یہ سب کسی نہ کسی طرح سے اپنے محبوب سے عشق کے اظہار کا بہت حقیقی انداز نہیں ہے؟ یار لوگ تو ایک ویران ریلوے سٹیشن پر بیٹھ کر وہاں سے گزرنے والی ٹرینوں کے پہیوں کے شور کے ردھم پر بھی اپنے محبوب کی یاد میں ماہیا تخلیق کر لیا کرتے تھے یا پھر جھرنے کے بہتے ہوئے پانی کا سرگم بھی ان کو اپنے محبوب کی آواز لگتا تھا اور وہ اس آواز کا جواب وہیں کھڑے کھڑے ایک شعر کی صورت میں دیتے تھے۔ آخر ہم نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا گلا کیوں گھونٹ دیا ہے کہ تجارت۔معاشرت، سائنس،ٹیکنالوجی سے لے کر عشق کے اظہار تک کے لئے ہم غیروں کی نقالی پر مجبور ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  13. محمد شاکر عزیز30 مارچ، 2007 9:40 AM

    واہ کیا بات کہی ہے آپ نے ساجد بھائی۔
    واقعی اتنی عاشقی معشوقی تو یہاں بھی ہے تو پھر باہر کی چیزیں ہی کیوں۔
    لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ یہ سب تو آؤٹ ڈیٹڈ ہوچکا ہے۔ اب نئی نسل ہے وہ ہر چیز میں تیزی چاہتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. ساجد صاحب گویا ویلنٹائن ڈے منائے بغیر کسی کی بہن بیٹی سے اظہار محبت پر کوئی اعتراض نہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  15. بس یہی بنیادی غلطی ہے، غلط غلط ہے چاہے کسی معاشرے کی تقلید ہو،

    جواب دیںحذف کریں
  16. محمد شاکر عزیز رقم طراز ہیں:
    واہ کیا بات کہی ہے آپ نے ساجد بھائی۔
    واقعی اتنی عاشقی معشوقی تو یہاں بھی ہے تو پھر باہر کی چیزیں ہی کیوں۔
    لیکن وہ کیا کہتے ہیں کہ یہ سب تو آؤٹ ڈیٹڈ ہوچکا ہے۔ اب نئی نسل ہے وہ ہر چیز میں تیزی چاہتی ہے۔
    =====================================

    دیکھ لیجیے شاکر صاحب ہم کتنے “بونگے“ ہیں۔
    مذہب ہو یا اخلاق ،معاشرت ہو یا معیشت، سائنس ہو یا ٹیکنالوجی، انسانی حقوق ہوں یا قانون کا پاس، تعلیم ہو یا تربیت، سیاست ہو یا سیادت غرضیکہ ہر شعبے میں ہم تنزلی کا شکار ہیں اور منہ کے بل اوندھے ہو کر پڑے ہیں۔ دُنیا کے ناکام ممالک کی فہرست میں ہمارا نام آتا ہے تو بھلے آئے۔ غربت کا تناسب 50 فیصد تک بھی ہو جائے تو پرواہ نہیں۔ کالج اور یونیورسٹیاں سیا سی بلیک میلرز کی مٹھی میں چلی جائیں تو جائیں۔ والدین، بھوک اور افلاس کے خوف سے اپنی اولاد فروخت کرنے پر مجبور ہو جائیں تو ہمیں کیا۔ کیوں کہ یہ تو کوئی یہ مسئلہ ہی نہیں کہ جس کی طرف توجہ دی جائے اور جب یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے تو اس کو حل کرنے کے لئیے ہمیں اپ ڈیٹ ہونے کی ضرورت بھی نہیں۔
    لیکن ایک مسئلہ ایسا ضرور ہے جس کے لئیے ہم ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں اور وہ ہے “عشق معشوقی“۔ اس کے لیے ہم اتنے اپ ڈیٹ رہتے ہیں کہ روایتی طریقہ ہائے “محبت“ بھی کم پڑ گئے ہیں۔ اس مسئلے کو صرف ویلنٹائن ڈے ہی حل کر سکتا ہے اور کافی حد تک کر بھی چکا ہے۔ ہمارا روائتی اندازِ عشق ہمیں حدود و قیود کے اندر رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ہماری روایتی محبت اپنے محبوب کے لئیے دریا میں ڈوب جانے یا پھر صحرا کی تپتی ریت میں اپنی جان گنوانے سے عبارت ہے۔۔۔۔بھلا کون اتنا جوکھم اُٹھائے۔۔۔۔اور ویلنٹائن ( آنجہانی) نے اس کام کو بہت آسان کر دیا ہے۔ موصوف نہ صرف بادشاہِ وقت سے باغی تھے بلکہ جوڑوں کو محبت کی ڈوری میں باندھنے میں اتنے سرگرم رہتے تھے کہ کبھی کبھی تو شادی سے پہلے ہی اُن کے “جوڑ“ کو شرفِ قبولیت بخش دیا کرتے تھے۔
    اور یہ “ شرفِ قبولیت“ ہمارے دیسی عشق کو قبول نہیں ہے۔ ہونا بھی نہیں چاہئیے۔کیوں کہ یہ ہماری ثقافت سے متصادم ہے۔
    اب تصور کیجئیے کہ ہمارا اندازِ محبت کیا ہے اور وہ محبت کس چیز کو کہتے ہیں۔ جب کسی عمل کی تشریح میں ہی ہمارے اور ان کے درمیان بعد ا لمشرقین ہے تو اس چیز کو اختیار کر کے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہی نا کہ ہم نے آپ کے آگے سرنڈر کر دیا۔ آپ ہمارے آقا ہم آپ کے غلام۔
    آپ کا دیا ہوا ہر خیال اور ہر تصور ہمیں بلا چون و چراں قبول ہے۔ بھلے اس سے ہماری اخلاقی غیرت کا جنازہ ہی کیوں نہ نکل جائے۔
    اور اسی لئے جب کوئی ویلنٹائن ڈے کو “محبت“ کے اظہار کے دن کا نام دیتا ہے تو مجھے اُس کی “معصومیت“اور بھولے پن پر ترس آتا ہے۔کہ یہ بیچارہ تو محبت کا مطلب ہی نہیں سمجھتا،محبت کیا خاک نبھائے گا۔ جس چیز کو یہ محبت سمجھتا ہے وہ تو جنسِ مخالف سے جسمانی تسکین حاصل کرنے کے اس شارٹ کٹ کا نام ہے جو ہم نے آنکھیں بند کر کے اپنا لیا ہے۔ اور شاید ہم اپنی منافقت کو چھپانے کے لئیے بھی یہ سب قبول کر رہے ہیں۔ کہ،
    رِند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔

    جواب دیںحذف کریں
  17. نعمان رقم طراز ہیں:
    ساجد صاحب گویا ویلنٹائن ڈے منائے بغیر کسی کی بہن بیٹی سے اظہار محبت پر کوئی اعتراض نہیں؟
    =====================================

    نعمان بھائی، سب سے پہلے یہ سمجھ لیجئیے کہ محبت انسانی جبلت کا خاصہ اور ہماری زندگی کا جزوِ لا ینفک ہے۔ اس کے وجود سے انکار ممکن نہیں۔ یہ کئی روپ بدل کر زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں اپنے ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ اپنے دل کو ٹٹولئیے اور سوچئیے کہ بچپن میں آپ کو یہ محبت اپنے والدین سے مانوس کرواتی ہے۔ تھوڑے بڑے ہوئے اور سکول جانے لگے تو اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ آپ کی دوستی کی شکل میں یہ آپ کے سامنے تھی۔ کچھ اور سمجھ دار ہوئے تو آپ کے پسندیدہ اساتذہ کے لیے آپ کے دل میں گھر بنانے میں یہی محبت پیش پیش تھی۔ علی ھذالقیاس پھر آپ اس عمر کو پہنچے کہ جس کو بلوغت یا عنفوانِ شباب کا نام دیا جاتا ہے تو اس محبت نے آپ کا دھیان اپنی عمر کی جنسِ مخالف کی طرف موڑ دیا۔ یاد رکھیے کہ اس تمام عرصہ میں انسانی فطرت کا ایک اور اہم عنصر تجسس بھی آپ کا ہمقدم رہا۔ اب اس نوجوانی کے دور میں اس تجسس اور محبت نے آپ کے اندر یہ خواہش پیدا کردی کہ آپ اُن “روشن چہروں“ کو دیکھنے کی آرزو کرنے لگے جن کو آپ اس سے پہلے “کچھ نہیں“ سمجھتے تھے۔ پھر انہی روشن چہروں میں سے ایک چہرہ آپ کو بہت اچھا لگنے لگتا ہے۔
    آپ اپنے انہی ماں باپ سے چوری چوری اس چہرے کو بار بار دیکھنے یا ملنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جو ماں باپ آپ کے بچپن میں آپ کی محبت کا مرکزِ وحید تھے۔ آپ ان دوستوں سے بھی اس چہرے کا ذکر نہیں کرتے کہ جو دوست لڑکپن میں آپ کا سب کچھ تھے۔ اور اساتذہ کرام سے بھی آپ چھپاتے ہیں۔ اور اگر اس روشن چہرے کی طرف سے بھی جھکی اور شرمیلی نظروں سے آپ کے لیے پسندیدگی کا جواب ہاں میں ملے تو آپ کی راتوں کی نیندیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
    نعمان بھائی،دھیان میں رکھیں کہ اس پورے عمل میں ویلنٹائن نے کوئی بھی کردار ادا نہیں کیا۔ یہ آپ اور اس چہرے کی انسانی جبلت ہے کہ جو آپ دونوں کو ایک لڑی میں باندھ رہی ہے۔ اور پھر آپ پر آہستہ آہستہ یہ آشکار ہوتا ہے کہ آپ تو اس چہرے سے محبت کرنے لگے ہیں اور اس کو اپنانا چاہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی نہ بھولیں کہ وہ چہرہ کسی کی بیٹی بھی ہے اور کسی کی بہن بھی ہے۔ اب میری بات کو آپ سمجھیں تو آپ کو اپنے سوال کا جواب ملے گا۔
    سب سے پہلے آپ مجھے بتائیے کہ کیا آپ نے اس چہرے کو پسند کر کے شریعت یا قانون کی نظر میں کوئی جرم کیا ہے؟ آپ نے اس چہرے کی یاد میں جو شاعری ،نثر، یا غزل لکھی ہے اس کے لئیے آپ کو مجرم ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ اگر دبے لفظوں میں اور اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے اس چہرے کو اپنے دل کا حال بتایا ہے تو کیا یہ کوئی قابلِ گردن زنی جرم ہے؟ یقینًا ان سب سوالات کا جواب نہ میں ہے۔
    اب بتائیے کہ آپ نے جس سے محبت کی اس کی بدنامی کرنا پسند کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اس محبت کی اتنی ہی قدر ہے کہ آپ 14 فروری کو ایک مہنگا یا سستا تحفہ خریدیں اور اس کے دے کر اپنی محبت کا اظہار کریں؟ کیا آپ اپنی اس محبت کو ہمیشہ کے لیئے اپنانے کے لئیے اپنے بڑے بھائی، چچا، خالہ، ممانی یا کسی بھی قریبی رشتہ دار کو نہیں کہتے کہ ان کے گھر جا کر بات کریں؟ میرے دوست یہی ہماری ثقافت کی خوبصورتی ہے کہ ہم جس سے محبت کرتے ہیں اُس کو بدنام نہیں کرتے ۔ صرف اس کے خوبصورت جسم کو حاصل کرنے کے لئیے ہی محبت نہیں کرتے۔ اپنی روایات کا پاس کرتے ہوئے شرم و حیا کی حدود پار نہیں کرتے۔ اس سے محبت کا اظہار کرنے کے لئیے بازاری پن اختیار نہیں کرتے۔
    لیکن۔۔۔۔۔دوسری طرف ہیں فحاشی اور لغویات سے پُر ویلنٹائن کی رسوم اور اس سے بھی خطرناک اس کا فلسفہ۔ یہ رسم اُن لوگوں کی ایجاد ہے جو محبت کے مفہوم سے بھی نا آشنا ہیں۔ ان کی نظر میں عورت صرف جسمانی تسکین حاصل کرنے اور اس کے نسوانی اعضاء کی نمائش کر کے اپنی پروڈکٹ بیچنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ان کے اس نام نہاد فلسفہ محبت کی اس وقت ہی ہوا نکل جاتی ہے جب وہ لڑکی کہ جس کو وہ اپنی ویلنٹائن کہتے ہیں جب انہی کی وجہ سے حاملہ ہو جاتی ہے تو وہ اس کو “سنگل مدر“ کے خوفناک کنوئیں میں پھینک کر کسی دوسری ویلنٹائن کی کھوج میں نکل پڑتے ہیں۔
    نعمان بھائی کسی بھی لڑکے کو جب بھی کسی لڑکی سے محبت ہوتی ہے تو وہ لڑکی کسی کی بہن یا بیٹی ہی ہوتی ہے۔ اور ہم کو محبت کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ ہم کو اس لڑکی کی عزت اور معاشرتی وقار کا ایسا ہی خیال رکھنا چاہئیے جیسا کہ ہم اپنے خاندان کی عزت اور وقار کا رکھتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  18. عبداللہ رقم طراز ہیں:
    بس یہی بنیادی غلطی ہے، غلط غلط ہے چاہے کسی معاشرے کی تقلید ہو،
    =====================================

    عبداللہ بھائی، ویلنٹائن ڈے کی نہیں، کم از کم محبت کرنے کی “ بنیادی غلطی“ تو کبھی نہ کبھی آپ نے بھی ضرور کی ہو گی۔ کیوں، ہے نا؟

    جواب دیںحذف کریں
  19. محمد شاکر عزیز31 مارچ، 2007 11:19 AM

    بس بھیا یہی بات ہے۔
    ایک چنگاری ہے جس سے بھانبھڑ بنا دیوت ہیں یہ لوگ۔
    یہ تو فطری تقاضا ہے لیکن مغرب کی تقلید میں ہم حد سے گزر جاتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  20. ساجد نے ایک سوال پوچھا ہے،
    محبت کرنے کی بنیادی غلطتی تو آپ نے بھی کبھی نہ کبھی کی ہو گی؟
    اس سوال کا جواب دینے سے پہلے عبداللہ بن عباس کی روایت جب وہ ایک چھوٹے بچے تھے اور آپ(ص)کے ساتھ اونٹنی پر سوار تھے اور گزرتی عورتوں کو غور سے دیکھ رہے تھے،(یہ خیال رہے کہ یہ عورتیں آج کی خواتین کی طرح بے پردہ نہیں تھیں)آپ(ص) نے انکے چہرے کا رخ موڑ کر فرمایا،اے عبداللہ ایک سے دوسرے نگاہ حرام ہے،
    ایک چھوٹا بچہ جس کے صنفی جزبات ابھی بیدار بھی نہیں ہوئے ہیں،اس سے آپ کا یہ فرمانا،صرف اس لیئے کے تربیت بچپن سے ہوتی ہے،جب ہر مرد اور عورت کو یہ بات سمجھ آجائے کہ ایک نگاہ سے دوسری نگاہ حرام ہے،جب سب ان حدود اور قیود میں رہنا سیکھ لیں جن کا حکم ہمارے پیدہ کرنے والے نے دیا،جب زہنوں میں حلال اور حرام کلیئر ہو جائے تو محبت بھی ان کی پابند ہو جاتی ہے اور جو محبت ان حدود اور قیود سے باہر ہو کر کی جائے وہ سب کچھ ہو سکتی ہے مگر پاکیزہ نہیں،
    آپ مرزا صاحباں،ہیر رانجھا لیلی مجنوں کے قصوں کا حوالہ دیتے ہیں کیا آپ نے کبھی ان عورتوں کے گھر والے جس بے عزتی سے اپنے دور میں گزرے اس کا احساس کیا،ہر گز نہیں کیوں کہ یہ آپ کے گھر کا مسلہ نہیں تھا آپ کو اچھا وقت گزارنے کے لیئے چند قصے مل گئے جن میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ کوئی نہیں جانتا،
    افسوسناک پہلو ان قصوں کا یہ ہے کہ ان لغویات کو اللہ تک پہنچنے کا زریعہ بنا کر پیش کیا گیا،اگر کوئی اچھا لگتا ہے تو اس کی حد یہی ہے کہ اس کے گھر رشتہ بھیجا جائے اگر وہاں سے ہاں ہو جائے تو ٹھیک ورنہ اسے نصیب جان کر خاموشی اختیار کر لی جائے اور جہاں نصیب ہو وہاں رشتہ بندھ جانے پر اسے نبھانے کی کوشش کی جائے اور صرف اسی سے محبت کی جائے یہ میرا ہی نہیں اسلام کا بھی نقطئہ نگاہ ہے خواہ آپ کو منظور ہو یا نہ ہو،آپ نے کبھی غور کیا کہ ایسے لوگ جنہوں نے یہ قصے لکھے ان کا بیک گراؤنڈ کیا تھا،غور کیجیئے گا،میری نظر مین یہ بھٹکے ہوئے لوگ تھے اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں کو بھٹکانے میں استعمال کیا،

    جواب دیںحذف کریں
  21. آپ لوگ صرف ویلنٹائن کے خوف میں مبتلا ہیں،آپ کا کیا خیال ہے یہ لوگ ہمیشہ سے اتنا ہی بھٹکے ہوئے تھے؟جی نہیں یہ بھی ہماری طرح کے لوگ تھے جنہین شیطان برائی کو خوبصورت بنا کر دکھا تا رہا اور اسی طرح اسٹیپ بائی اسٹیپ برائی کی طرف متوجہ کرتا رہاجنہیں آپ آج اپنے معاشرے کی خوبصورتی کہتے ہیں وہ اس دور کے لوگوں کے لیئے اس سے زیادہ بری تھیں جتنا آج آپ کے لیئے ویلنٹائن ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ کی آنے والی نسل ویلنٹائن کو بھی اسی طرح برائی کے بجائے اپنے معاشرہ کی خوبصورتی سمجھے،نبی(ص)کی حدیث ہے کہ تم وہ سب کروگے جو تم سے پہلے کے لوگوں نے کیا یہاں تک کہ اگر وہ کسی نالی میں گھسے تھے تو تم بھی ضرور گھسوگے،

    جواب دیںحذف کریں
  22. میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ برائی کی شاخیں چھانٹنے سے کچھ نہ ہو گا اس کی جڑوں پر وار ہونا چاہیئے،کم سے کم ایمان کے آخری درجہ پر تو رہیئے کہ برائی کو برائی سمجھتے رہیئے،

    جواب دیںحذف کریں
  23. عبداللہ بھائی! یہ ساجد کوئی اور صاحب ہیں۔ آپ مجھے سمجھ کر ان سے مخاطب ہوتے نہ رہیے۔ ویسے ان کے طرزِ تحریر کی پختگی دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ وہ ہم ہی ہوں۔ :cry:
    شاکر بھائی! آپ کی اس تحریر پر تبصرہ نہیں کر سکتا کہیں ہماری منگیتر صاحبہ پڑھ کر ہمیں بے نقط نہ سنا دیں۔ :razz:

    جواب دیںحذف کریں
  24. عبداللہ بھائی، میں نے کب کہا کہ ہم میں سے ہر ایک کو رانجھا یا مہینوال بننا چاہئے۔ میں نے تو فلسفہ محبت اور اظہارِ محبت کے اس بنیادی فرق کا تقابلی جائزہ پیش کیا جو ہمارے اور اُن کے درمیان پایا جاتا ہے۔ ہاں ایک بات ضرور کہوں گا کہ سوائے نبی پاک علیہ صلوۃ والسالام کے مبارک دور کے دنیا میں کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی قوم کی ثقافت 100 فیصدی اس قوم کے مذہبی احکام کے تابع رہی ہو۔ آج اپنے پاکستان میں بھی ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ بچوں کے پیدا ہونے کی رسومات سے لے کر شادی اور مردے کی نمازِ جنازہ اور اس کو دفن کرنے تک تک مذہب سے زیادہ رسم و رواج کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اور ثقافت ہے کیا انہی رسوم و رواج کا دوسرا نام ہے جو کسی بھی خطہ زمین کے بسنے والوں کو اپنے آباء و اجداد اور مخصوص طرزِ زندگی سے ورثے میں منتقل ہوتے ہیں۔ جب ہم بات کریں گے معاشرے کی تو یاد رکھئیے کہ معاشرے کے اجزائے ترکیبی میں زمین یعنی دھرتی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔
    مجھے آپ سے اتفاق ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں موجود ہیں۔ تو جناب اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم لوگوں یعنی میرے اور آپ کے اس دنیا میں آنے سے پہلے کسی نے بھی ان برائیوں کو کبھی دور کرنے کی کوشش نہیں کی؟ گزرتا ہوا ہر لمحہ ہمیں ہمارے پیارے نبی کے وقت سے دور لے جا رہا ہے تو کیا وہ لوگ جو نبی کے وقت کے زیادہ قریب تھے اتنا شعور نہیں رکھتے تھے کہ معاشرے کی ان برائیوں کی “جڑ“ ہی کاٹ ڈالیں؟ نہیں محترم، اللہ تعالی ان لوگوں پر اپنا فضل و کرم جاری و ساری رکھے وہ لوگ ہم سے کہیں زیادہ سمجھدار اور انسانی فطرت کو سمجھنے والے تھے۔ انہوں نے پیاے نبی کے اس طریقہ تبلیغ پر عمل کیا کہ جس کو تدریج کہا جاتا ہے۔ پیار سے،میٹھی بات سے اور اپنے قول و فعل کی یک رنگی سے انہوں نے ہمارے آباء کو بت پرستی سے حق پرستی کی طرف مائل کیا۔انہوں نے ہمیں ہیر رانجھے یا سوہنی مہینوال کا پیار نہیں بلکہ اللہ کی تمام مخلوق سے (مذہب و ملت کا فرق کئے بغیر) پیار کرنا سکھایا۔ وہ آج کے جدیدSocialogists سے کہیں اچھے تھے کہ جو جانتے تھے کہ معاشرے کا اہم عنصر دھرتی ہے اور کسی بھی معاشرے کی ثقافت اس کی دھرتی سے ہی جڑی ہوتی ہے۔ اور ان ثقافتی برائیوں کو انہوں نے “جڑ“ سے کاٹا نہیں بلکہ ان کو مذہب کی آبیاری اور اخلاق کی طراوت سے ایک مہکتے ہوئے گلستان میں بدل دیا۔ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کا دم بھرتے تھے اور یہ وہی اعزاز ہے جو ہمارے پیارے نبی کو بھی حاصل ہے۔یہ بھی تو آخر اسی رحمۃ للعالمین ہی کے غلام تھے،اعزاز کیوں نہ ملتا۔
    اگر یہ لوگ بھی “جڑ“ پر وار کرنے چل پڑتے تو آج میں اور آپ بھی خدانخواستہ مسلمانوں کے گھروں میں پیدا نہ ہوتے۔ برائیوں کو سدھارنے کا جو راستہ آج اختیار کیا جا رہا ہے وہ مزید برائیاں پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ کٹڑ پن، عدم برداشت، فتوٰی بازی، اور طاقت کا استعمال اعتماد ، تعلیم اور دلیل کی کمی کی نشان دہی کر رہا ہے۔ غیر تو کیا اپنے بھی متنفر ہو رہے ہیں۔ اگر برائیوں کا یہ شجر “جڑ“ سے کاٹنا ہی ہے تو اس بات کا یقین ضرور کر لیجئیے کہ کہیں ہمارا اور ہمارے ہم نفسوں کا بسیرا بھی اسی کی کسی شاخ پر تو نہیں ہے؟ اگر ہے تو پھر ہم سے بڑا بے وقوف کون ہو گا جو اپنے ہی آشیاں کو اجاڑے۔کیوں نہ ہم اس کی جڑوں کو حسنِ اخلاق، پیار، رواداری، استقامت، عفو، اور برداشت سے سینچیں تا کہ یہ برائی اور تشدد کے کڑوے پھل کی بجائے یہ شجر محبت اور آشتی کے پھولوں سے مہک اُٹھے۔ کہ اسلام صرف تعمیر کا درس دیتا ہے تخریب کا نہیں۔ نہ جانے ہم کب یہ بات سمجھیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  25. ساجد اقبال رقم طراز ہیں:
    عبداللہ بھائی! یہ ساجد کوئی اور صاحب ہیں۔ آپ مجھے سمجھ کر ان سے مخاطب ہوتے نہ رہیے۔ ویسے ان کے طرزِ تحریر کی پختگی دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ وہ ہم ہی ہوں۔
    =====================================
    بھائی ساجد اقبال، یار پہلے ہی میرا وزن زیادہ ہے۔ یعنی جسمانی توازن خراب ہے۔ اب آپ کی یہ تعریفی تحریر پڑھ کر لگتا ہے کہ ذہنی توازن بھی خراب ہونے کو ہے۔
    رسمِ زمانہ ہے سو اس لے لئیے تعریف کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ “شکریہ“۔ لیکن آئندہ سے دوستی میں ایسی توقع مجھ پر مت رکھئیے گا۔
    ویسے بھی میں شیخ ہوں۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں :grin: :grin: :grin:

    جواب دیںحذف کریں
  26. شاکر، میں یہاں صرف یہ کہنے کے لیے آیا ہوں کہ برائے مہربانی ان ساجد صاحب کو بھی ایک بلاگ سیٹ‌ اپ کر دیں یا انہیں اردو ہوم کی بلاگ سروس کا بتا دیں۔ انہیں ضرور بلاگ لکھنا چاہیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  27. ساجد اقبال رقم طراز ہیں:
    عبداللہ بھائی! یہ ساجد کوئی اور صاحب ہیں۔ آپ مجھے سمجھ کر ان سے مخاطب ہوتے نہ رہیے۔ ویسے ان کے طرزِ تحریر کی پختگی دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ وہ ہم ہی ہوں۔
    =====================================
    بھائی ساجد اقبال، یار پہلے ہی میرا وزن زیادہ ہے۔ یعنی جسمانی توازن خراب ہے۔ اب آپ کی یہ تعریفی تحریر پڑھ کر لگتا ہے کہ ذہنی توازن بھی خراب ہونے کو ہے۔
    رسمِ زمانہ ہے سو اس لے لئیے تعریف کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے۔ “شکریہ“۔ لیکن آئندہ سے دوستی میں ایسی توقع مجھ پر مت رکھئیے گا۔
    ویسے بھی میں شیخ ہوں۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  28. محمد شاکر عزیز2 اپریل، 2007 11:00 AM

    :???: :???: :???:
    میں پہلے دن تو کنفیوز ہوگیا تھا اچھا خاصہ کہ یہ ساجد صاحب کون ہیں۔ انھیں ساجد اقبال ہی سمجھا تھا لیکن پھر تھوڑا غور کیا تو پتا چلا اپنے ساجد اقبال کی تحریر اتنی کٹیلی نہیں ہوتی۔ :grin:
    ان کا تو کوئی ربط بھی نہیں چونکہ پنجابی والی بات کہ گِجے گِجے چلے آتے ہیں(یعنی عادت پڑی ہوئی ہے یہاں آتے کی) تو یہیں درخواست کیے دیتے ہیں۔ جناب آپ بھی بلاگنگ شروع کردیں پختہ تحاریر لکھنے والوں کی واقعی قلت ہے اردو بلاگروں میں۔ بلاگنگ کے سلسلے میں کوئی مدد چاہیے ہو تو میں حاضر ہوں۔ ویسے اردو ہوم ڈاٹ کوم پر منٹوں میں اردو بلاگ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
    اور موضوع کچھ وسیع تھا لیکن ویلنٹائن ڈے پر آکر رک گیا۔ میرے خیال سے ہمارے ہاں ہر چیز میں بےہودگی دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ کوئی بھی چیز ہم کہیں سے درآمد کریں۔ ویلنٹائن ڈے میں بھی کچھ یہی صورت حال بنتی جارہ ہے اور بنتی جائے گی بھی بس یہی چیز ہے جس پر مجھے بلکہ پورے معاشرے اور ہر صاحب تفکر کو اعتراض ہونا چاہیے۔
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  29. شاکر صاحب،آپ اور نبیل صاحب جیسے استادوں (پنجابی والا استاد نہیں) کے سامنے میری کوئی بھی تحریر کیا معنیٰ رکھتی ہے۔ اگر میری تحریر میں کاٹ ہے تو صرف اس لئیے کہ جب قلم یا پھر کمپیوٹر کا Key Boardمیرے استعمال میں ہو تو میں بھول جاتا ہوں کہ منافقت بھی کسی چیز کا نام ہے۔ کوئی بات میرے خلاف بھی جائے تو مجھے لکھنے میں کوئی تاٰمل نہیں ہوتا۔اور کسی دوسرے کے “گٹے گوڈے“ پر جا لگے تو میں “سوری“ کا “امپورٹڈ“ لفظ بڑے کھلے دل سے استعمال کر لیتا ہوں۔ آخر مجھے بھی تو حق حاصل ہے نا درآمدی اشیاء کے استعمال کا۔
    میری تحریر کی ممکنہ خوبیوں کو میں اپنے مرحوم والد اور اپنے تمام اساتذہ کرام کے نام کرتا ہوں کہ جن کی انتھک کاوشوں اور تربیت نے مجھے اس قابل بنایا۔
    میری ذات کی طرح میری تحاریر میں ان گنت خامیاں بھی ہیں جو کہ میری انسانی فطرت کا تقاضا ہیں اور اس کا ذمہ دار بھی میں ہی ہوں۔ شاکر صاحب، عرصہ دراز سے پردیس میں مقیم ہوں۔ لیکن بے حد خوشی ہے اس بات کی کہ پیارے نبی کی نگری میں رہ رہا ہوں۔ یوم قیامت ان کا امتی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ہمسائیگی کا اعزاز بھی انشاءاللہ میرے ساتھ ہو گا۔ شدید خوف ہے اس دن کی سختی کا کہ جس دن کوئی سفارش کام نہیں آئے گی۔ پر پُر امید ہوں اُس لمحے کی لئیے کہ جب اللہ کے حکم سے پیارے نبی اپنے امتیوں کے لئیے سفارش فرمائیں گے اور میں بھی کسی کونے کھدرے میں پڑا ہوا ان کی نظرِ رحمت کا مستحق ٹھہروں گا۔
    عِصیاں سے کبھی ہم نے کنارہ نہ کیا
    پر تُو نے دل آزردہ ہمارا نہ کیا
    ہم نے تو جہنم کی بہت کی تدبیر
    لیکن تیری رحمت نے گوارہ نہ کیا

    سب دوستوں کے لئیے نیک تمناؤوں کے ساتھ،
    ساجد

    جواب دیںحذف کریں
  30. محمد شاکر عزیز3 اپریل، 2007 6:43 AM

    :cool: :cool:
    واہ کیا سادگی ہے۔ یعنی جو بات کی گئی تھی اس کا جواب ہی نہیں۔ چلیں جواب ہی دے دیتے آپ نے تو بلاگ کے ذکر کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا۔ :roll:

    جواب دیںحذف کریں
  31. نہیں ساجد صاحب! اپنا توازن نہ خراب کریں۔ بلکہ شکر ادا کریں کہ مجھے جیسے کنجوس کے منہ سے کسی کیلیے تعریف کا لفظ نکلے۔
    شیخ کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔ ایک شیخ تو بزرگ، ایک وہ والے: دیکھا ہے بت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھ
    اور ایک ہم پشتو میں صرف داڑھی والے کو بولتے ہیں۔ ان میں سے کون سا؟؟؟ :razz:
    شاکر بھائی ٹھیک کہتے ہیں آپ بلاگ کا ذکر تو گول ہی کر گئے!!

    جواب دیںحذف کریں
  32. ساجد مجھے افسوس ہے کہ آپنے جڑ پروار کرنے کا غلط مطلب اخز کیا،
    جڑ پر وار سے صرف یہی مراد تھی کہ برائی کو دل سے برا سمجھا جائے اور اچھائی کی تبلیغ کی جائے،رہا سوال ثقافت کا تو ہر وہ ثقافت جو اسلام سے ٹکرائے چھوڑ دینا چاہیئے یہ میرا نقطئہ نگاہ ہے،
    آپ نے نبی(ص) کے دور کی مثال دی اور یہ بھول گئے کے آپ نے عربوں کی ثقافت ہی کو تو بدلا،آپ زہنوں کو تبدیل کر نے کے لیئے آئے تھے اور آپ نے وہی کیا،
    آپ لوگوں کا بنیادی مسلہ ہی یہ ہے کہ آپ دین اور ثقافت دونوں کو بیک وقت لے کر چلنا چاہتے ہیں چاہے وہ مزہب سے متصادم ہی کیوں نہ ہوتی ہوں،آپ کے لیئے ہیر وارث شاہ قرآن جتنی معتبر کیوں ہے،
    اگر ہم بچوں کے پیدہ ہونے سے لے کر مرنے تک غلط رسومات اپنائے ہوئے ہیں تو ہم انہیں کیوں چھوڑ نہیں دیتے،
    صرف اس لیئے کہ ہم نے اپنے نفس کو اپنا خدا بنایا ہوا ہے،جو ہمین اچھا لگتا ہے اسے کرنے کے لیئے ہم بےشمار تاویلات ڈھونڈ لاتے ہیں ،
    میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کے کوئی جواز تراشتے وقت اگر اتنا سوچ لیا جائے کہ کیا ہم اللہ کو بھی یہ جواز پیش کریں گے اور وہاں ہمارا یہ جواز قبول کر لیا جائے گا؟اگر جواب نہیں میں ہو تو پھر حجت تمام ہوجاتی ہے،اسی لیئے ہر مسلمان کو یہ حکم دیا گیا کہ اجتمائی مسائل کے الاوہ جو بھی معملات ہوں ان میں خود اجتہاد کرو اللہ تمہیں سیدھا راستہ دکھائے گا،

    جواب دیںحذف کریں
  33. ڈنڈے کے زور پر اسلام کے میں خود سخت خلاف ہوں جب انسانوں اور اسلام کے خالق نے صاف کہہ دیا کہ دین میں جبر نہیں تو ہم کون ہوتے ہیں جبر کرنے والے مگر صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے اور سمجھنے کا ہمیں حق حاصل ہے ،

    جواب دیںحذف کریں
  34. عبداللہ رقم طراز ہیں:
    ساجد مجھے افسوس ہے کہ آپنے جڑ پروار کرنے کا غلط مطلب اخز کیا،
    =====================================
    عبداللہ بھائی، میں اس بات پر آپ سے متفق ہوں کہ برائی کو دل سے برا جانا جائے۔ یعنی اگر آپ اس کو روکنے کی ہمت نہیں رکھتے تو کم از کم اس کا ساتھ دینے اور اس کو جائز قرار دینے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ محترم، بات یہ ہے کہ فتنہ اور آشوب کے اس دور میں اگر برائی پھیلانے کے طریقے اور ذریعے ترقی کر گئے ہیں تو کیا ہم اتنے ہی بے بس ہو گئے ہیں کہ یا تو ایمان کے اس کمزور ترین درجہ پر چلے جائیں کہ اس کے خلاف آواز نہ اٹھا سکیں اور اگر احتجاج کرنے پر آئیں تو اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیں۔ اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کریں۔ نہیں، دونوں ہی صورتیں ٹھیک نہیں ہیں۔ ہر وہ ثقافت جو اسلام سے متصادم ہو چھوڑ دینی چاہئیے۔۔۔سننے اور کہنے میں یہ بات بہت بھلی لگتی ہے۔ لیکن میری بات پر یقین کیجئیے کہ ہم لاکھ کوشش کے باوجود ایسا نہیں کر پائیں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم منافق ہو گئے ہیں یا ہمیں خدانخواستہ اپنے دین سے بیزاری ہو گئی ہے۔ یورپ اور مشرق وسطی کے بہت سارے حصوں میں رہ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری پاکستانی قوم میں اسلام کے لئے جو تڑپ اور محبت پائی جاتی ہے وہ ان مما لک کے لوگوں سے بھی زیادہ ہے کہ جن ممالک اور خطوں کی زبان عربی ہے اور قرآن و حدیث ان کی اپنی زبان میں ہیں۔
    تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی ثقافت کو نہیں چھوڑتے؟
    ہم رسوم و رواج کے پابند کیوں ہیں؟
    تفصیل میں جاؤں تو بات لمبی ہو جائے گی اور بہت سارے اور بکھیڑے اٹھ کھڑے ہوں گے۔
    صرف یہی کہوں گا کہ آپ محض ایک ہی سوال کا جواب دیانتداری سے ڈھونڈئیے تو آپ کو اس کا مدلل جواب مل جائے گا۔ وہ یہ کہ ذرا کرید لگائیے کہ بر صغیر میں اسلام کیسے پھیلا؟
    ایک بت پرست تہذیب و ثقافت کے روؤسا، زُعما اور عامۃ ا لناس کیوں کر جوق در جوق اسلام کے نورانی دائرے میں داخل ہوئے؟ جن لوگوں نے اس کی تبلیغ کی ان میں کیا خصوصیات تھیں کہ لوگ ان کی طرف کھنچے چلے آئے؟ اور ان مبلغین، تجار اور علماء کا آپ ایک بھی قول مجھے دکھائیں کہ جس میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنی ثقافت چھوڑنے کے لئے کہا ہو۔ محترم، غالب نے جو کہا تھا “ چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی“
    یہ بات ثقافت پر بھی مکمل طور پر منطبق ہوتی ہے۔
    حضور علیہ صلوۃ والسلام نے بھی پہلے اپنی نیک سیرت کا عملی نمونہ لوگوں کے سامنے رکھا اور پھر ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پائی جانے والی برائیوں کی نشان دہی کی، اس کے بعد ان برائیوں کے نقصانات سے آگاہ کیا، پھر ان کو متنبہ کیا، بعد ازاں ان پر سزا کی بات کہی۔ فورًا ہی نہیں حکم دے دیا کہ آج سے یہ نہیں ہو گا۔ محترم ، یہی تبلیغ کا صحیح طریقہ بھی ہے اور اس کو اختیار کر کے لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کی سب سے پہلی شرط پر پورا اترنا ہی ہمارا اصل امتحان ہے۔ اس کے لئیے حد سے زیادہ برداشت اور مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہے۔ تبھی اس بات پر کہ “ہر وہ ثقافت جو اسلام کے خلاف ہو چھوڑ دینی چاہئیے“ پر پورا اترا جا سکتا ہے۔ اور جناب یہ کام کرنا ہم لوگوں کے بس میں نہیں ہے۔ اللہ کرے کہ مسلمانوں کو ایسے با کردار لوگ میسر آ جائیں جو اس کا بیڑہ اٹھا سکیں۔
    جن لوگوں پر اس کام کو پورا کرنے کی توقع کی جا سکتی تھی اور وہ خود کو انبیاء کے ورثاء کہلاتے ہیں۔ وہ آپس کے سر پھٹول میں اس قدر مشغول ہیں کہ الامان الحفیظ۔ یہ بے بس اور لاچار امت روزانہ اپنے ہزاروں فرزندوں کو موت کی بے رحم دیوی کے سپرد کر رہی ہے اور وہ ابھی تک قیل و قال کی بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی “مداری“ کبھی سیاست کا اور کبھی مذہب کاتماشہ دکھا کر ہماری قوم کو اپنے پیچھے لگا لیتا ہے اور اپنا مستقبل محفوظ کر کے ہمیں جہالت اور غربت کی عمیق گہرائیوں میں مزید دبا کر اپنا راستہ لیتا ہے۔
    ایسے میں جب کہ سب سے زیا دہ ترقی والے صوبہ پنجاب کے زیادہ تر اضلاع میں تعلیم کا تناسب 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہے تو اپنی جہالت کی بناء پر اگر کچھ لوگ ہیر وارث شاہ کو نعوذ باللہ قرآن کے برابر درجہ دیں تو یہ ہمارے کار پردازان کے لئے ایک تازیانہ ہے۔ ورنہ جب اللہ کے انصاف کی لاٹھی حرکت میں آئے گی تو ہمیں اس کی شدت کا اندازہ کرنے کے لئیے غیر معمولی ذہانت کی ہرگز ضرورت نہیں۔

    اس بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ نہ تو میں ہیر رانجھے کے عشق کا مبلغ ہوں اور نہ ہی ہیر وارث شاہ کو قرآن پاک کے برابر درجہ دینے کا مجھے کوئی خبط ہے۔ جھنگ میرا ننھیالی شہر ہے ۔ با وجودیکہ میرا بہت سارا وقت جھنگ میں گزرا میں صرف ایک بار ہیر کی قبر پر گیا اور وہاں پر جاری جاہلانہ رسومات سے اتنا متنفر ہوا ہوں کہ دوبارہ جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    جواب دیںحذف کریں
  35. ساجد آپ سے بات کر کے اچھا لگتا ہے :smile:
    رہا سوال غلط سقافت کو چھوڑنے کا تو میں اپنی زات تک تو پوری کوشش کر رہا ہوں اور اللہ کی مدد میرے شامل حال ہے اور اپنے خاندان کو بھی اپنی بساط بھر غلط اور صحیح کا فرق بتاتا رہتا ہوں،
    آپ کچھ جزباتی ہو گئے میرا اشارہ خصوصا آپ کی طرف نہ تھا بلکہ یہ ایک اجتماعی مسئلہ کی طرف اشارہ تھا جسکا ہمیں من حیث القوم سامنہ ہے،
    ویسے آپ کے پچھلے تبصروں نے کچھ ایسا گمان بھی پیدا کر دیا تھا،اس سوئے ظن کے لیئے معزرت چاہتا ہوں!

    جواب دیںحذف کریں
  36. ہر انسان کو وہ ملے گا جس کی اس نے سعی کی ،یہ اللہ کا پیغام ہے انسان کے نام اور انسان سے اسے صرف نیت مطلوب ہے باقی عمل وہ خود کروالیتا ہے اگر نیت خالص ہو!
    امید ہے آپ اس بات سے اتفاق کریں گے!

    جواب دیںحذف کریں
  37. آپ کی ایک اور بات کا جواب رہ گیاکہ ہندوستان میں اسلام کیسے پھیلا،ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور پر آیامحمود غزنوی کے 17 حملے تو آپ کو یاد ہوں گے،اس کو ان حملوں کے لیئے یہاں کے وہ لوگ ہی اکساتے تھے جو راجوں مہاراجائوں کے ظلم کے شکار تھے،اسلام خود ایک ایسا مقناطیس ہے کہ جو اس کی روح کو جان لے کھنچا چلا آتا ہے اگر اس میں تعصب نہ ہو تو ایک بنیادی وجہ تو یہ ہے،دوسرے اگر
    آپ اسلام کو پھیلانے کا کریڈٹ صوفیاء کو دینا چاہتے ہیں تو کچھ کے لیئے تو یہ بات سچ ہو مگر زیادہ تر نے اس میں بدعات پیدہ کیں اور اس کی اصل روح کو مسخ کر دیا،
    آپ کہتے ہیں کہ ثقافت کو باقی رہنے دینے سے اسلام تیزی سے پھیلا،یہ کچھ عیسائیت جیسی بات نہیں ہو گئی کہ جب تک وہ خالص حضرت عیسی(ع)کی تعلیمات پر مشتمل تھی اس کے ماننے والے بہت کم تھے اور جب سینٹ پال یہودیت چھوڑ کر عیسائیت میں داخل ہوا اور اس نے لوگوں کو چھوٹ دینا شروع کی تو لوگ جوق در جوق عیسائیت قبول کرنے لگے اور آج عیسائیت کا جو حال ہے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں،
    آپ کو نہیں لگتا اسلام کا بھی ہم نے کچھ ایسا ہی حال کر دیا ہے؟
    ثقافت کیا ہے انسانوں کی تخلیق کی ہوئی کچھ جیزیں یا رسومات اور اسلام کیا ہے خالق کائنات کا تخلیق کیا ہوا مزہب اب کس کو کس پر فوقیت دینا ہے یہ آپ خود سوچ لیں!

    جواب دیںحذف کریں
  38. عبداللہ رقم طراز ہیں:
    ہندوستان میں اسلام کیسے پھیلا،ہندوستان میں اسلام تلوار کے زور پر آیامحمود غزنوی کے 17 حملے تو آپ کو یاد ہوں گے۔
    =====================================
    محترم عبداللہ صاحب،آپ کی اس بات سے مجھے ہی نہیں اور بھی بہت سارے دوستوں کو اتفاق نہیں ہو گا کہ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ محمود غزنوی کے 17 حملوں کی خاصیت یہ تھی کہ وہ آیا، حملہ کیا ، لڑائی کی اور واپس غزنی چلا گیا۔ اس کے ساتھ نہ تو علماء برصغیر میں آئے اور نہ ہی مبلغین۔عبداللہ بھائی، سمجھ لیجئیے کہ تلوار سے کبھی بھی نہ تو کوئی دین پھیلا ہے اور نہ ہی کبھی پھیل سکتا ہے۔ حتیٰ کہ بے دین نظریات پھیلانے والی طاغوتی طاقتیں بھی اس بات کا خصوصًا خیال اور اہتمام رکھتی ہیں کہ ان کے ظلم و تشدد کو “جمہوریت کا قیام“ یا “ انسانی حقوق کے تحفظ کی لڑائی“ کا نام دے دیا جائے اور اس کام کے لئیے وہ اقوام متحدہ کے ادارے کو بڑی عیاری سے استعمال کر رہے ہیں۔ بہت بڑی مثال ہمارے سامنے ہے عراق کی کہ امریکہ نے لاکھوں ٹن بارود برسایا، ڈالروں کی بارش کی لیکن نتیجہ کیا نکلا کہ پہلے سے کہیں زیادہ نفرت امریکہ کے خلاف پھیل گئی۔ اب اس کو بھاگنے کےلئیے بھی اقوام متحدہ سے مداخلت کی بار بار اپیل کرنا پڑ رہی ہے۔
    اگر اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہوتا تو کیا ایسی ہی نفرت محمد بن قاسم کے خلاف نہ پھیلتی؟ جبکہ تاریخ تو یہ کہتی ہے کہ مسلم تو مسلم ہندو لوگ بھی اس کو اتنا پسند کرتے تھے کہ اس کی مورتیاں بنا کر اپنے گھروں میں پوجا کرتے تھے۔ لڑائی محمد بن قاسم نے بھی کی اور لڑائیاں محمود غزنوی نے بھی کیں۔ پر منطقی طور پر محمد بن قاسم کی صرف ایک لڑائی نے ہندوستان کے مظلوم و بے کس اور راجاؤں کے جبر کے شکار لوگوں کو استبداد سے آزاد کروایا۔ ایک درستگی کرنا چاہوں گا کہ محمد بن قاسم کو بے شک سندھ کے لوگوں نے بلایا تھا لیکن غزنوی کو کسی نے دعوت نہیں دی تھی۔ وہ ایک عظیم کمانڈر تھا اور اس کے نقطہ نظر سے سومنات پر حملے بہت ضروری تھے۔
    آج اسلام کے دشمن اسی بات کو ثابت کرنے کے لئیے تو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ اسلام تشدد کا دین ہے چونکہ یہ تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔ اور جب آپ جیسے سمجھ دار اور حقیقت شناسا لوگ بھی یہی بات کہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہماری کشتی میں سوراخ ہو چکا ہے۔
    اس سے زیادہ میں کہہ بھی کیا سکتا ہوں۔

    جواب دیںحذف کریں
  39. محمد شاکر عزیز رقم طراز ہیں:
    واہ کیا سادگی ہے۔ یعنی جو بات کی گئی تھی اس کا جواب ہی نہیں۔ چلیں جواب ہی دے دیتے آپ نے تو بلاگ کے ذکر کو دودھ سے مکھی کی طرح نکال پھینکا۔
    =====================================
    جناب محترم محمد شاکر عزیز صاحب مد ظلہ،
    یہ جو آپ نے اپنے تعارف میں اپنا برقی ڈاک کا پتہ تحریر فرمایا ہے کیا اس پر آپ کبھی کسی کا خط وغیرہ ملاحظہ بھی ملاحظہ فرماتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  40. محمد شاکر عزیز5 اپریل، 2007 1:05 PM

    بھائی جی اب تو خوش ہوجائیے۔ :razz:
    اور اپنے بلاگ کا ربط عنائیت فرمائیے تاکہ اسے اپنے اردو بلاگرز کے روابط میں شامل کردوں۔
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  41. ساجد مجھ سے میرے عزیز دوست نے یہی بات کہی جو آپ کہ رہے ہیں محمد بن قاسم کے حوالے سے،مینے ان کی بات سے اتفاق کیا اور یہ بھی کہا کے یہ حوالہ میں اس لیئے دینا نہیں چاہتا کہ یہ صرف سندھ کی بات ہے جبکہ میں پورے بر صغیر پاک و ہند کی بات کر رہا ہوں،
    آپ کو اگر کہیں سے مل پائے تو مولانا اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی تاریخ ہندوستان پڑہیئے ان صاحب کی سب سے بڑی خسوصیت یہ ہے کہ یہ تنگ نظری اور تعصب سے پاک تھے،ان کی تاریخ اسلام بھی پڑھنے کی چیز ہے!
    اسلام بے شک تلوار سے نہیں مسلمانوں کے کردار سے پھیلا ہے،مگر تلوار بھی بوقت ضرورت استعمال کی گئی اور اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات مجھے نظر نہیں آتی!
    اگر ماں باپ اولاد کی بہترین تربیت کے لیئے پیار کے ساتھ سختی سے کام لیتے ہیں تو وہ جو ساری کائنات کا پیدا کرنے والا ہے اپنے دین کی ترویج کے لیئے دونوں طریقوں پر عمل کیوں نہیں کرواسکتا؟

    جواب دیںحذف کریں
  42. محمود غزنوی کے ساتھ آئے ہوئے بےشمار مسلمان اور علمائے دین ہندوستان میں بس گئے تھے جو یہاں کے رہنے والوں مین دین کی تبلیغ کرتے رہے،
    ًمحمد بن قاسم کو سندھ کے لوگوں نے نہیں بلایا تھا بلکہ مسلمانوں کے ایک بحری قافلے کو راجا داہر نے لوٹ لیا تھا اور لوگوں کو قید کر لیا تھا ان مٰیں سے بھاگ نکلنے والے ایک شخص نے یہ اطلاع حجاج بن یوسف کو دی اور اس نے اپنے داماد اور بھتیجے محمد بن قاسم کو راجا داہر کو سبق سکھانے کے لیئے بھیجا،

    جواب دیںحذف کریں
  43. عبداللہ بھائی، میں نے آپ کی تجویز کردہ کتاب ابھی تک تو نہیں پڑھی انشاءاللہ، اولین فرصت میں اس سے استفادہ کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔
    تاریخ کے بہت سارے واقعات پر لوگوں کا متفق ہونا ایک مشکل امر ہے۔ کیوں کہ تاریخ لکھتے وقت مؤرخین کبھی کبھار اپنی پسند و نا پسند اور جذباتیت سے بھی مغلوب ہو جاتے ہیں۔ ایک مؤرخ ایک واقعہ کو جب حالات و واقعات کے سیاق و سباق کے ساتھ تحریر کرتا ہے تو دوسرا مؤرخ اسی واقعہ کو ایک مختلف منظر کے ساتھ ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ بہر حال میں آپ کے ساتھ حوالہ برائے حوالہ کی بے سود بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ بہت ساری غلط فہمیاں پیدا کرنے کا مؤجب ہو سکتی ہے۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میری جہالت کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹ جائے۔ یا پھر ہمارے باقی دوست ہماری اس “کلِ کِلیان“ سے تنگ آ کر اس بلاگ کو پڑھنے سے پہلو تہی کرنے لگیں۔
    تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے ماضی سے عبرت حاصل کرنے کے اور مستقبل میں ان غلطیوں سے اجتناب کرنے کے لئیے کہ جن کی وجہ سے پہلی قومیں اپنا تشخص اور وجود کھو بیٹھیں۔ قرآن پاک بھی ہمیں گزری ہوئی قوموں کے واقعات سناتا ہے اور ساتھ اعلان کرتا ہے ‘ “اے آنکھ والو عبرت حاصل کرو“۔
    بہر حال آپ سے اس بات پر میں متفق نہیں ہوں کہ اسلام تلوار سے پھیلایا گیا۔ تشدد کا لفظ معنوی علمی اور عملی غرضیکہ ہر زاوئیے سے اسلام کے مطالب اور معانی کے خلاف ہے۔ غور کیجئیے کہ اسلام کے شارع صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعلمین کہا۔ اور کہا کس نے؟ خالق دو جہاں نے۔
    “ آپ کا کام ہے میری بات لوگوں تک صاف صاف پہنچا دینا اور بس“ ذرا دیکھئیے کہ اس حکم خداوندی میں کہیں شائبہ بھی ہے تلوار سے اسلام پھیلانے کا۔
    کیا آپ بتائیں گے کہ نبی پاک یا صحابہ کرام میں سے کسی نے کسی ایک انسان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا ہو یا قتل کیا ہو محض اس لئیے کہ وہ مسلمان ہونے کے لئیے راضی نہ تھا؟
    کیا ہم کو نبی پاک کی یہ حدیث یاد نہیں کہ لوگوں کو (تعزیرات سے) خوفزدہ کر کے نہیں بلکہ (اعمال صالح کے بہتر اجر کی) خوشخبری سے اسلام کی طرف بلاؤ۔
    آپ صرف برصغیر ہی کی بات کیوں کرتے ہیں۔ دیکھئیے کہ انڈونیشیا، فلپائن، ملائشیا، تھائی لینڈ، اور چین کہ جہاں کے حکمران اور عوام بدھ مت کے پیرو کار تھے، کیسے مسلمان ہوئے۔ بتائیے کہ اس خطے میں نفاذ اسلام کے لیے کوئی جنگ ہوئی کیا؟
    میں کل ہی ٹیلی وژن پر چین کے مسلمانوں پر ایک دستاویزی فلم دیکھ رہا تھا۔ فلم بنائی ہے برطانیہ کی ایک ٹیلی وژن کمپنی نے۔ اس فلم میں جب لوگوں سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا وجہ تھی کہ تمہارے اجداد بدھ مت چھوڑ کر مسلمان ہوئے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایسا دین ہے کہ جس میں ہم اپنی زندگی کے ہر پہلو کو ایک مثبت انداز میں ترقی دے سکتے ہیں کیوں کہ اس کے احکام بہت واضح ہیں۔ محترم، یہی ہے وہ طاقت جس نے ہمیشہ سے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو اپنی طرف کھینچا۔ تلوار تو یہ کام کبھی کر ہی نہیں سکتی۔
    آپ نے خود اسی صفحے میں اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ آپ ڈنڈے کے زور سے اسلام نافذ کرنے کے قائل نہیں ہیں،پھر آپ کا یہ کہنا کہ اسلام تلوار سے پھیلا اور ایسا کرنے میں کوئی غلط بات نہیں، چہ معنی دارد؟
    اگر طاقت اور تشدد سے ادیان پھیلا کرتے تو آج امریکہ کا طاغوتی نظریہ (میں اس کو عیسائیت نہیں کہہ سکتا کہ یہ عیسائیت کے نام پر بھی دھبہ ہے) دنیا کو زیر کر لیتا۔
    ساری دنیا جانتی ہے کہ اس وقت مسلمان دنیا کی سب سے کمزور اقوام میں سے ہیں۔ انارکی کا شکار ہیں۔ ان کے ملکوں کو تاراج کیا جا رہا ہے۔ ان کے بہترین ذہنوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔ لیکن دیکھئیے کہ،اسلام آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹ رہا ہے۔ بقول اُن کے یہ دہشت گردی سکھاتا ہے لیکن اُن ہی میں سے سب سے زیادہ تعداد اس کو سچا دین مانتے ہوئے حلقہ بگوش اسلام ہوتی ہے۔ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد جتنی شدومد سے اسلام اور اس کے پیروکاروں کے خلاف واویلا مچایا گیا اس سے کہیں زیادہ تناسب سے امریکن لوگ مسلمان ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
    کیا یہ سب اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اسلام نہ تو کبھی تلوار سے پھیلایا گیا اور نہ ہی اب پھیلایا جا رہا ہے؟ اگر کچھ مسلم فاتحین نے اپنی سیاسی مصلحتوں کے لئیے اپنے شدید اقدامات کو اسلام کی تبلیغ کی کوشش کہا ہے تو اس میں اسلام یا اسلامی تعلیمات کا کوئی قصور نہیں۔ کہ اسلام تو دین فطرت ہے اور دنیا کا ہر انسان اسی فطرت سلیم پر ہی پیدا ہوتا ہے۔ دنیاوی حالات و واقعات اس کو کچھ سے کچھ بنا دیتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  44. شاکر سب سے پہلے تو آپ کی ہوسپیٹیلیٹی کا بہت شکر یہ:)
    یہ میرا اس پوسٹ کے حوالے سے آخری تبصرہ ہے،پہلی بات تو یہ کہ اب تک مینے جو کچھ لکھا وہ کسی کے فیور میں نہیں تھا بلکہ حقائق کو سامنے لانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش تھی،
    ساجد آپکی بات کے جواب میں میں بس ایک سوال آپ سے کروں گا کہ کیا آپ نبی(ص)کے تمام غزوات اور اکابر صحابہ اکرام کے تمام جہاد اور خلفاء راشدین کے دور کی تمام فتوحات کو بیک جنبش قلم منسوخ کرتے ہیں یا انہیں غلط سمجھتے ہیں؟
    اور دوسری بات اگر محمد بن قاسم پہلے راجہ داہر سے جنگ کرکے اسے بھگا نہ دیتا تو کیا وہ محمد بن قاسم کو اسلام کی تبلیغ کرنے کی اجازت دے دیتا؟
    یامحمود غزنوی ہندو راجاؤں کو اپنامطیع کیئے بغیر اسلام کی تبلیغ کرنا چاہتا تو وہ اسے آرام سے ایسا کرنے دیتے،یایورپین اپنے علاقوں میں مسلمانوں کو دین کی تبلیغ کے لیئے آرام سے آنے دیتے،
    تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان جب جب کمزور پڑے ان کو ان کے دشمنوں نے صفحہ ہستی سے مٹانے کی پوری پوری کوشش کی یکم اپریل گزرے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے،
    غیر مسلموں کا پروپگینڈہ اپنی جگہ پر لیکن ہمیں بھی حقائق سے نظر نہیں چرانا چاہیئے،کیا وہ آخری جنگ جو یہود اور مسلمانوں کے درمیاں ہوگی وہ زبانی کلامی ہوگی جس کی پیشن گوئی نبی(ص) کرگئے ہیں ،جنگ کی اہمیت سے انکار بےوقوفی ہے اور کچھ نہیں،

    جواب دیںحذف کریں
  45. ہم تو بڑے محروم لوگ ہیں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں،نہ جنگ کی صلاحیت ہے کہ دشمن کو منہ توڑ جواب دے سکیں اور نہ وہ اعمال و اخلاق ہیں جو غیر مسلموں کو دین کی طرف راغب کرسکیں،

    جواب دیںحذف کریں
  46. محترم عبداللہ صاحب، آپ بے خیالی میں ایک بار پھر اسی الزام کو مسلمانوں پر ثابت کرنے جا رہے ہیں کہ جو الزام آج تک دشمن بھی ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ محترم، زیر بحث مسئلہ یہ تھا کہ اسلام کیسے پھیلا ؟ تلوار سے یا حسنِ اخلاق سے؟ اور آپ اس مسئلے کو ایک ایسی نہج پر لے گئے کہ جس کا براہِ راست اس موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ جنابِ عالی، غزواتِ نبوی اور فتوحاتِ صحابہ کرام پر خطِ تنسیخ تو درکنار ‘سرِ مُو انحراف کرنا بھی میرے لئیے نا ممکن ہے۔ جی ہاں غزوات اور جنگوں میں لڑائیاں ہوئیں، تلواریں بھی چلیں ، قتال بھی ہوا۔ لیکن سوچنے کی بات ہے کہ یہ سب کیوں ہوا اور پہل کس نے کی۔ جارحیت کس نے کی۔ جواب ایک ہی ہے کہ مشرکین نے ہی ان لڑائیوں کا جواز گھڑا اور مختلف بہانوں سے جب مسلمانوں کو تنگ کیا تو لڑائیوں کی نوبت آئی۔ اب اپنے دفاع کی جنگ کو تو دنیا کے کسی بھی قانون میں غلط نہیں کہا جا سکتا نا۔
    اب آتے ہیں فتوحات کی طرف۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کے جو علاقے قرون اولی کے ان مسلمانوں نے فتح کئیے ان کا انتظام و انصرام ایسے بہتر انداز میں کیا کہ لوگ ان فاتحین کو اپنا نجات دہندہ مانتے تھے کیونکہ اس سے پہلے وہ جہالت اور طبقاتی تفریق کا شکار رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی ایک دلچسپ حقیقت بھی ہمارے سامنے روز روشن کی طرح سے عیاں ہے کہ سلطنتوں کی سلطتنتوں کو فتح کرنے والے ان نیک انسانوں نے کسی ایک مفتوح کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا۔ تو محترم اگر یہ جنگیں صرف لوگوں کو مسلمان بنانے ہی کے لئے ہی لڑی جاتیں تو ان فاتحین کے پاس بہت سنہری موقع تھا یہ کام کرنے کا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے ان کو مذہبی آزادی دی۔ ان کی جان و مال کا تحفظ مسلمانوں ہی کی طرح سے کیا۔ اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ بہت سارے مفتوحہ علاقوں میں مسلمان خود اقلیت میں تھے۔ عبداللہ بھائی، اسلام صلح اور آتشی کا درس دیتا ہے اور کسی پر بھی اس وقت تک تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا جب تک وہ خود اس کام میں پہل نہ کرے۔ راجہ داہر کے ساتھ بھی محمد بن قاسم نے یہی کیا۔ بلکہ حملہ کرنے سے پہلے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کے لئیے اس کی طرف قاصد بھی بھیجا۔ لیکن داہر اپنی رعونت میں رہا۔ تب جا کر اس پر حملہ کیا گیا۔
    ایسا نہیں ہوا کہ اسلامی فوجیں آن واحد میں حملہ آور ہوئیں اور سندھ پر قبضہ کر لیا۔ اور نہ ہی وہاں کے مقیموں کو تلوار کے شارٹ کٹ کے ذریعے مسلمان بنانے کا کام محمد بن قاسم کی فوج نے کیا۔ محمد بن قاسم کی فوج کے قبضہ میں جانے کے بعد بھی مقامی لوگوں کی اکثریت اپنے آبائی مذہب پر قائم رہی۔ اور وہ اپنے عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرتے رہے۔ اور تو اور محمد بن قاسم کی مورتی کی بھی پوجا کرنے لگے کیوں کہ ان کا عقیدہ ان کو اس بات کی اجازت دیتا تھا۔
    سندھ کے مقامی لوگوں نے جب ایک عملی اسلامی نمونہ حیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، کردار اور گفتار کے غازیوں کی صحبت انہیں نصیب ہوئی تو وہ بنا کسی جبر یا لالچ کے مسلمان ہو گئے۔ اب مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ آپ کس بنیاد پر اسلام کی ترویج میں تلوار کا استعمال دیکھتے ہیں۔
    نبی پاک نے فتح مکہ کے بعد اپنے بد ترین دشمنوں کو معاف فرما دیا کہ آپ رحمۃ للعلمیں تھے اور اس معافی نے مسلمانوں کو وہ شاندار نصرت عطا فرمائی کہ تلوار کے استعمال سے نا ممکن تھی۔ اور مسلمان اس قابل بھی تھے کہ ان سب کو تلوار کے زور پر مسلمان بنا لیتے یا قتل کر دیتے۔
    ذرا سوچئیے کہ جزئیہ کیوں نافذ کیا گیا تھا؟ اسی لئیے کہ وہ لوگ جو مسلمان نہیں ہونا چاہتے اور اسلامی سلطنت کی حدود میں رہتے ہیں، وہ یہ ٹیکس ادا کریں گے اور اس کے بدلے میں اسلامی سلطنت ان کے جان مال اور عزت آبرو کی حفاظت کی ذمہ دار ہو گی۔
    محترم ، میں مشرق وسطی کے اسی علاقے میں ہوں کہ یہود اور مسلمانوں کی آخری جنگ جس میں لڑی جانے والی ہے۔ معنوی طور پر تو یہ جنگ شروع ہو بھی چکی ہے صرف نقارہ بجنا باقی ہے۔ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح اس جنگ کے لئیے بھی یہود ہی جواز پیدا کر رہے ہیں اور مسلمان اپنے دفاع کے لئیے مجبور کئیے جا رہے ہیں۔ بس اسی ایک نقطے سے سمجھ لیجئیے کہ کیااسلام خود ہمیشہ سے تلوار کی زد میں رہا ہے یا یہ تلوار سے پھیلایا گیا ہے؟ اس کے ماننے والوں نے تلوار کس لئیے اٹھائی؟۔۔۔۔صرف دفاع کے لئیے کسی کو زبردستی مسلمان بنانے کے لئیے نہیں۔

    اس مو ضوع پر اب بہت کچھ لکھا جا چکا۔ اب شاکر صاحب خواب خرگوش سے باہر آئیں اور ہمیں ایک اور “میدان جنگ“ فراہم کریں۔
    عبداللہ بھائی ، میں آپ کا بھی ممنون ہوں کہ آپ نے میرے دلائل کو تحمل سے پڑھا اور اپنی آراء کا اظہار انتہائی متانت سے کیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  47. محمد شاکر عزیز7 اپریل، 2007 7:58 AM

    میں‌عبد اللہ بھائی کی بات سے بالکل متفق ہوں۔ اسلام اور مسلمانوں کو ہمیشہ مجبور کیا گیا ہے اور ہمیں‌ یہ بھی تو حکم ہے کہ کوئی ایک تھپڑ مارے تو دوسرا تھپڑ نہیں کھانا بدلہ لینے کا حق دیا گیا ہے۔ چناچہ ظالم کے خلاف ڈٹ جانا اسلام کی روایت رہی ہے اور رہے گی۔
    خیر آپ حضرات نے کافی گرما گرمی بپا رکھی میرے علم میں قابل قدر اضافہ ہوا اور اتنے دن میں خوشی سے پھولا رہا کہ میرا بلاگ کتنا پاپولر ہوگیا ہے :grin:
    نئی پوسٹ لکھتا ہوں‌ لیکن اس قسم کا بخار مجھے کبھی کبھار ہی چڑھا کرتا ہے۔ :wink:
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔