سوموار، 8 دسمبر، 2008

پاکستان کے سینکڑوں سکالرزکو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا

پاکستان کے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو فنڈز اور سہولیات فراہم  کرنے والے کمیشن  ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے مالی بحران کے پیش نظر رواں سال غیر ملکی سکالرشپس حاصل کرنے والے سینکڑوں سکالرز کو بیرون ملک بھیجنے سے روک دیا، تمام سکالرز کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا گیا، سینکڑوں طلباء اعلیٰ کارکردگی، ٹیسٹ، انٹرویو کے بعد ایچ ای سی کی بیرون ملک ایم اے، ایم فل کی سکالرشپ حاصل کرنے کیلئے منتخب ہوئے تھے اور چند دنوں میں بیرون ملک روانہ ہونا تھا لیکن مالی طور پر غیر مستحکم ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تمام سکالرز کو اپنے پروگرام ملتوی کرنے کے بارے آگاہ کر دیا کیونکہ ایچ ای سی فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلباء کی مالی امداد نہیں کر سکتا۔

رپورٹ کے مطابق چند سکالرز نے عید کے فوراً بعد سترہ اور اٹھارہ دسمبر کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لئے روانہ ہونا ہے جبکہ اٹلی، جرمنی اور فرانس کی سکالرشپ حاصل کرنے والے درجنوں طلباء نے ضروری قرار دیا جانے والا چھ ماہ کا لینگجویجز کورس بھی مکمل کر لیا۔ ایچ ای سی کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں میں مالی بدعنوانیوں اور من پسند اداروں کو اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی کی وجہ سے سکالرشپ پر جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا۔

ایچ ای سی کے اعلیٰ افسر کے مطابق ادارہ بمشکل پہلے سے بیرون ملک بھیجے جانے والے طلباء کو مالی امداد فراہم کر رہا ہے جو دنیا کی بڑی جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں سکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں رپورٹ کے مطابق ایچ ای سی نے مالی بحران کی وجہ سے مستقبل میں بھی تمام سکالرشپس کے پروگرامز اور دو سو پچاس مختلف اکیڈیمک اور انفراسٹرکچر کے منصوبے بھی منسوخ کر دیئے ہیں اس وقت ایچ ای سی کو دس ارب روپے کے شدید مالی بحران کا سامنا ہے

القمر پر فائل ہونے والی یہ خبر بلاتبصرہ

4 تبصرے:

  1. ماسٹر کرچکنے والے کے لیے زبان کا کورس ضروری نہیں‌ اور ویسے یہ حکومت روٹی کپڑا اور مکان چھیننے والی حکومت ہے ان سے کیا توقع کرتے ہیں آُپ؟‌میرے تایا زاد اچھے رہ گئے کہ PHD ریاضی کے لیے مشرف کے دور میں‌ہی نکل گئے :P ان کے بعد سے اب تک 1 بھی بابا نہیں جاسکا۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. نہیں عبدالقدوس، جرمنی اور تمام شینجن ممالک کے لئے جانے والوں کے لئے لینگوئج کورس ضروری ہے اور شائد چائنہ کے لئے بھی۔ اور جہاں تک بات ہے مالی بد عنوانی کی، تو ہاں گواہی دئے بغیر میں اسکا گواہ ہوں کہ یو جی سی کے ایچ ای سی بننے کے بعد تو ایساضرور ہوتا تھا، پہلے کی خبر نہیں۔ لیکن کس محکمے میں نہیں‌ہوتا؟ اربوں‌کھائے کروڑوں‌لگائے بھی تو، یہاں تو ایک آنا اگر صحیح‌جگہ لگ جائے تو بڑی بات ہے۔
    کھانے والے ابھی بھی کھا رہے ہوں گے اور کھاتے رہیں گے لیکن نقصان ہو رہا ہے صرف طالب علموں کا۔ ان طالب علموں کا جن کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ کھپیں گے کہا؟ جب سب کی آمد ہو جائے گی تو پی ایچ ڈی ڈاکٹر کتے بلّے کی طرح پھرتے نظر آئیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔