سوموار، 29 جون، 2009

گلوبل سائنس کی ویب سائٹ

جون 2009 کے گلوبل سائنس سے پتا چلا کہ اس کی ویب سائٹ کا اجرا کیا جاچکا ہے۔ حسب توقع ویب سائٹ بڑی تعارفی قسم کی ہے جس میں حتی الامکان ہر چیز کا خلاصہ ہی دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ ابھی تک زیر تعمیر ہے اور اس میں کئی سیکشن موجود ہی نہیں جیسے پچھلے شمارے۔ لیکن اس سب کے علاوہ جس چیز نے مجھے حیران کیا وہ 2005 والا ویب سائٹ بنانے کا سٹائل ہے یعنی ان پیج سے گیف میں برآمد کرکے ویب پر لگا دو۔ ساری ویب سائٹ تصاویر پر مشتمل ہے۔ ایک چیز جو تصویر میں نہیں تھی وہ رابطے کی معلومات تھیں اور وہ بھی اردو نہیں انگریزی میں تھیں۔ پاکستان کا واحد بندے کا پتر قسم کا رسالہ اور اس کی ویب سائٹ بھی تصویری؟
ہم سے زیادہ باعلم بندے، انٹرنیٹ سے 24 گھنٹے کنکٹ رہنے والے لوگ بھی ایسے کریں تو ہمارا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ گلوبل سائنس کے بارے میں مجھے کچھ شبہات سے ہیں کہ ان احباب کو انٹرنیٹ پر کرلپ کی سائٹ کے علاوہ شاید کہیں اردو نظر ہی نہیں آتی۔ پچھلے چار سال میں اردو چیختی چنگھاڑتی پھرتی ہے نیٹ پر لیکن آج تک ان کے کسی بھی شمارے میں اردو کی کسی بھی ویب سائٹ کا تعارف نہیں دیکھ سکا ہوں۔ نہ ہی کبھی اردو بلاگز کا تذکرہ پڑھا اور نہ ہی فورمز کا۔ انھیں تو شاید یہ بھی نہیں پتا کہ اردو یونیکوڈ میں نستعلیق فونٹ بھی دستیاب ہے اب۔ خیر وڈے لوگ ہیں جی۔ وڈے وڈے مسائل ہیں ان کے۔ چھوٹے چھوٹے سے مسائل کی طرف دیکھنے کی فرصت کہاں۔
ورنہ یہ ویب سائٹ بڑے پیار سے ورڈپریس یا اردو جملہ جیسے کسی سی ایم ایس میں بن سکتی تھی جسے اپڈیٹ کرنا بھی بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔

18 تبصرے:

  1. بھائی یہ واحد بندے کا پتر رسالہ بھی کیا کوئی یہاں کوئی ایک بندا یا بندی لکھتی ہے ؟

    عالم جہاں سے خبریں اکٹھی کر کے ان کا ترجمہ کر کے ڈال دیتے ہیں اس میں ۔۔ جبکہ آپ دنیا میں میگزینز اٹھائیں جیسے ۔۔ کمپیوٹر ورلڈ یا اس جیسے ہی دوسرے تو ایک آرٹیکل سے انفرادیت جھلک جاتی ہے ۔۔

    پر اردو زبان میں اپنے آپ میں یہ جتنی طاقت رکھتا ہے اتنی کافی ہے ۔۔ اور بھائی ویب سائیٹس کی بات رہی تو میں ایک فری لانس ویب ڈویلیپر ہوتے ہوے یہ جانتا ہو کہ کمپپنیز عوام کو دیکھ کر ویب بناتی ہے تو پھر ایسی ہی بنتی ہے جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہو ۔۔ نوے تجربات کرنے کی جگن نہیں ہوتی ۔۔ مزید کنتنٹ بیسڈ ویب سائیٹس چلانا بھی پھر کسی عام بندے کا کام نہیں ویب ماسٹر ھائیر کرنا پڑتا ہے ۔۔ اپڈیٹس کے لیے ٹیم رکھنی پڑتی ہے اور بڑا کچھ ۔

    پر امید ہے گلوبل سائنس والے اپنی سائیٹس کو اپڈیٹ کر لینگے ۔۔ کوئی نا کوئی کھسکا سا ان کا قاری ویب ڈیزائیر خود سے ہی ٹینشن میں آکر ایک بہتر پروٹوٹائیپ ڈیزائین بنا دے گا کی اس کو آزمائیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. ریحان آپ کی بات بالکل بجا ہے۔ ابھی علیم احمد کی ای میل ملی جو میں نے ان کو اس پوسٹ کے ساتھ روانہ کی تھی۔ جواب ملاحظہ کریں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برادر شاکر عزیز
    اسلام علیکم
    ہم پینڈو قسم کے لوگ ہیں، اور پینڈوؤں نے اس کے بہترین ہونے کے بارے میں کوئی دعوی نہیں کیا۔ اور نا ہی ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ یہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ فی الحال ہمارے پاس کمپیوٹر یا آئی ٹی کا کوئی چیتا موجود نہیں۔ بس، صرف ایک بات کہنا چاہوں گا: ہم نے یہ ویب سائٹ گلوبل سائنس کو نیٹ پریزنس دینے کے لیے بنائی ہے، کسی کو نیچا دکھانے یا ذلیل کرنے کے لیے ہر گز نہیں۔
    امید ہے آپ سمجھ گئے ہونگے کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔
    وسلام
    علیم احمد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. السلام علیکم
    بھائی جان آپ کے بلاگ میں تبصرہ کرنا بہت مشکل کام ہے زرا اسے آسان بنا دیں

    رہی بات گلوبل سائنس کی تو میں بھی گلوبل سائنس کا پرانا قاری ہوں اور اسے واقعی ایک معیاری جریدہ مانتا ہوں،

    سب سے پہلی بات تو یہ ہے ک شکر ہے ان لوگوں نے ویب سائٹ بنائی ، میں تو 2003 سے گوگل پر سر کھپا کھپا کر مگر گلوبل سائنس کی ویب سائٹ نہیں ملی، میں تو یہ سمجھتا رہا کہ ویب سائٹ موجود ہے مگر میں اسے ڈھونڈ نہیں پا رہا

    خیر ایک اچھی خبر ہے یہ ، اب ان لوگوں نے ویب سائٹ بنا لی ہے تو جلد ہی اپ ڈیٹ بھی کر لیں گے ان شااللہ، آپ زیادہ ٹینشن نہ لیں ، ویسے میں اس جریدے کی سالانہ خریداری میں دلچسپی رکھتا ہوں ، جلد ہی ان شا اللہ

    شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  4. یہ بات بہت زیادہ نوٹ کی گئی ہے کہ عام اردو اخبارات اور ٹی وی چینل و ویب سائٹس اردو بلاگرز کو بالکل منہ نہیں لگاتیں۔ اس کے مقابلے میں انگریزی اخبارات و چینل انگریزی بلاگرز کو سر پر بٹھاتے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز میں ڈان نیوز کا پروگرام وائرڈ اینڈ ایکٹو دیکھ رہا تھا۔ پہلا سیگمنٹ ہی اس ہفتے کا بلاگنگ منظر نامہ تھا جس میں عواب علوی، چورنگی اور چند دیگر بلاگز پر اہم تحاریر کا ذکر کیا گیا اور بعد میں پروگرام آگے بڑھا۔
    ایسا نہیں کہ اردو میں مواد نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انگریزی کے چند بڑے بلاگز کے مقابلے کے نہ ہوں لیکن بیشتر انگریزی بلاگز سے اردو کے کئی بلاگز اچھے ہیں۔ ان کے سیاسی تجزیے اور ٹیکنالوجی پر مضامین واقعی بہت شاندار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب یہ بھی مسئلہ ہے کہ انگریزی کے بلاگز مالی فوائد سمیٹتے ہیں، گوگل ایڈ کے ذریعے، جبکہ اردو والے الٹا اپنی جیب سے پیسے اور وقت لگاتے ہیں۔ اس لیے ان کی حوصلہ افزائی زیادہ ضروری ہے۔
    کاش کہ ہمارے ذرائع ابلاغ کو کچھ توفیق ہو۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. علیم احمد ایک معزز شخصیت ہیں، وہ شاید ویب ڈیزائننگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے، اس کا ذمہ دار وہی شخص ہے جس نے انہیں یہ پتھر کے زمانے کی ویب سائٹ بناکر دی ہے..

    علیم احمد نے اگرچہ طنز کیا ہے تاہم حرکت واقعی پینڈووں والی کی گئی ہے..

    ایک سائنس میگزین کے کرتا دھرتا جو ہر وقت سائنس کی جدید ترین معلومات رکھتے ہوں سے ایسی احمقانہ حرکت کی امید نہیں تھی.. لگتا ہے ان لوگوں نے اپنے آپ کو ایک خول میں بند کر لیا ہے جس میں نا تو باہر کی ہوا اندر آسکتی ہے اور نا ہی اندر کی باہر..

    رہو اندر.. کسے پرواہ ہے..؟!

    جواب دیںحذف کریں
  6. کیا مصیبت ہے! ایک سادہ سی بات بھی لوگ نہیں سمجھ پاتے؟
    جب کوئی شخص کسی مخصوص شعبے کو دوسروں کی نسبت زیادہ اہمیت دیتا ہے تو وہ اسی پر سب سے زیادہ توجہ بھی لگاتا ہے۔ اور پھر وہ چاہے یا نہ چاہے لیکن دوسرے شعبوں پر لگائے جانے والے وقت میں اسے کمی کرنی ہی پڑتی ہے۔
    تو اب ایک شخص سے ایسے کسی شعبے میں مہارت کا مطالبہ کیوں کیا جا رہا ہے جس کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں؟ ہر کسی کی اپنی خوبیاں ہوتی ہیں۔ دوسروں کی خوبیوں کی قدر کرنا سیکھنا چاہیے۔

    یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جب کمپیوٹر کا کوئی ماہر سائنس کے متعلق اوٹ پٹانگ بولتا ہے تو تب تو کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن جب سائنس کا علم رکھنے والا کمپیوٹر کے حوالے سے تھوڑا پیچھے نظر آئے تو ہر کوئی پی رہا ہے پیپسی؟
    X(

    جواب دیںحذف کریں
  7. میگزین تو میں نے پڑھا ہوا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  8. ہممم شکریہ یہ لنک شیئر کرنے کا۔۔۔

    گلوبل سائنس سے ہمیں کوئی اختلاف یا شکوہ نہیں۔۔۔کہ سارے پاکستان کا یہی حال ہے۔ گلوبل سائنس کوئی مفید رسالہ نہیں ہے مگر کاوش اور نیت اچھی ہے اسلیے ان کو سلام پیش کرنے کا جی چاہتا ہے کہ جس ملک میں "ڈا۴جسٹوں" کا ایک جھمگھٹا لگا ہوا ہے اور ڈیفینس ، کراچی میں واقع ایک ہی ادارہ "بیسیوں" ڈائجسٹ چلا رہا ہے، وہاں سائنس کا رسالہ چلانا گردے کا کام ہے :)

    جواب دیںحذف کریں
  9. سر جی فانٹ ہی تھوڑا سا بڑا کر دیں

    جواب دیںحذف کریں
  10. جس نے گلوبل سائینس کو کبھی سنجیدگی سے پڑھا ہی نہیں وہ کیا بہتر جانے کے وہ چیز کیا ہے
    اتنا جان لینا ہی کافی نہیں کے وہ ایک سائینسی جریدہ ہے اردو کا
    ہر چیز کا کوئی بیک گراؤنڈ ہوتا ہے
    آج کل ناول جاسوسی ہو یا رومانوی وہ تو چل ہی رہا ہے کیسے نا کیسے
    پر سائینسی جریدے کے لئے انگریزی جریدہ ہی خریدہ جاتا ہے
    ایسے میں جو لوگ اپنے روزگار کے ساتھ ساتھ بمشکل اردو میں سائینسی جریدہ نکال رہے ہیں کیا لازم ہے کے اس مصروفیت میں ویب پر بھی مکمل دھیان دیں
    ضروری ہے کے وقت کے نکلتے ہی وہ اس کو اپڈیٹ کریں
    یا کوئی اچھا قاری ان کے ساتھ تعاون کرے
    ان کا بھی کیا قصور ہے کے وہ کسی بڑے آخباری جریدے کا حصہ نہیں۔۔۔؟؟؟
    آپ میں سے کوئی اتنا ہمدرد نہیں؟
    اردو کی خدمت کے دعوے دار بنتے ہیں
    بس سایئٹ کی اپ ڈیٹنگ ہی کرنا ہے
    کیا ہم میں سے کوئی تفریحا آگے نہیں بڑھ سکتا؟

    جواب دیںحذف کریں
  11. محمد طارق راحیل بھائی آپ اٍتنے غصے میں جو تبصرہ لکھ رہے ہو ۔۔ کیا آپ خود کچھ کرنے والے ہو اٍن کی سائیٹ کے سلسلے میں ؟

    بے شک آپ کے جوش سے تو لگتا ہے آپ ہی کچھ کرو گے ۔۔ بھائی جان ۔۔ کوئی یہاں کسی چیز دعوے دار نہیں ہے ۔۔ سب اپنی اپنی طرف سے کوشش کرتے ہیں کہ جتنا ہو سکے اردو کے لیے کام کیا جائے ۔ بلاگز ایک پرسنل سائیٹ ہے جبکہ گلوبل سائینس کی سائیٹ ایک کمرشل اردو جریدے کی کمرشل سائیٹ اردو ہو یا انگریزی یہ گلوبل سائینس ایڈمنسٹریشن کا معاملہ ہے ۔

    کمرشل ازم میں بہت فرق ہوتا ہے بھائی ۔ اور آپ نے دھرا دھر سوالوں پر سوال لکھ ڈالے ہیں ۔ پر اپنے آخری جملے پر آپ کوشن مارک ڈالنا شاید بھول گئے ۔۔ بھائی کیا آپ تفریحاّ آگے بڑھ رہے ہو ؟ میرے خیال میں نہیں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. میں اگرچہ ان سے واقف نہیں ہوں مگر شاید یہ بھی انھی لوگوں میں سے ہوں جنھیں دوسروں کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے شرم آتی ہو ۔ یوں بھی یہ تو ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ ہمارے یہاں "کوآرڈینیشن" کی بھی واضح کمی ہے ۔ نہ آپس میں رابطے ہوتے ہیں نا ایک دوسرے کو سرایا جاتا ہے ۔
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  13. صد شکر کہ سائٹ تو بنائی ویسے شاکر اس سلسلے میں مدد کرنی چاہیے علیم کی اور ہم سب اگر کچھ کر سکیں تو یہ اس سائنسی اردو میگزین کی بڑی خدمت ہو گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. اب تک کی ان سے ہونے والی گفتگو سے مجھے لگتا ہے کہ ویب سائٹ کو سادہ رکھنے کی ایک بڑی وجہ ذمہ داریاں بڑھنے کا خوف ہے۔
    اور پھر کسی ایسے شخص کو یہ ذمہ داری سونپنا بھی کوئی عقل مندی نہیں کہ جسے وہ جانتے بھی نہ ہوں۔ کیا یہاں کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جسے اس معاملے میں خاطر خواہ مہارت بھی حاصل ہو اور گلوبل سائنس والے اس پر بہ آسانی اعتبار بھی کر سکیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  15. Assalam-O-Alaikum

    Good forum but i donot know how write in urdu please some one tell me briefly.

    Khuda Hafiz

    ahsanshahjee@gmail.com

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔