منگل، 4 ستمبر، 2007

مجھے کوئی شک نہیں

شک کرنا ٹھیک ہے۔ لیکن ہٹ دھرمی الگ قسم کی چیز ہے۔
میں نے آج سے دو سال پہلے ایک کتاب پڑھی تھی "طلاق؟" صاحب کا نام یاد نہیں لیکن انھوں نے طلاق کے سلسلے کے سارے احکام براہ راست قرآن  کریم کی آیات کے تراجم سے اخذ کیے۔ مجھے بڑا عجیب سا لگا۔ چونکہ وہ ایک جگہ ترجمے سے یہ ثابت کررہے تھے کہ طلاق ہوجانے کے بعد بھی جب چاہیں میاں بیوی نکاح کرسکتے ہیں۔ میری مراد تین طلاقوں کے بعد سے ہے۔ لیکن مجھے بڑا عجیب سا لگا تھا۔ بعد میں غور کیا تو انکشاف ہوا یہ صاحب قرآن سے ڈائریکٹ فیض لینے کے قائل ہیں۔
تب سے اب تک ایک بات پلے سے بندھی ہوئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بائی پاس کرکے قرآن کو سمجھنا ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے نعوذ بااللہ، دوسرے پھر رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ کہیں کی بات کہیں جانکلتی ہے۔
ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی ایک بھی چیز خالص نہیں موجود۔ شاید دوسرے مذاہب کی طرح جنھوں نے اپنے انبیاء علیھم اسلام کی زندگیوں کو دیو مالا بنا ڈالا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرح انسان کہا گیا  ہے اور ان کی زندگی کا ایک ایک پل ہمارے سامنے موجود ہے۔
یہ حجت کرنا کہ جانے کیا کیا ہوگیا ہوگا، یہ ہوگیا ہوگا، وہ ہوگیا ہوگا دل کے مرض کی نشانی ہیں۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، لیکن ہستی وہ ہے جس پر کم از کم تمام مسلمان متفق ہیں۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔واقعہ کربلا پر میں یہ دلیل مان سکتا ہوں کہ اس میں ہر ایک نے من پسند انداز میں‌ تبدیلیاں‌ کرڈالی ہونگی ۔۔۔لیکن حدیث رسول کے سلسلے میں کبھی نہیں۔۔۔۔ہاں کچھ احادیث ہوسکتا ہے قرآن سے میل نہ کھاتی ہوں اور وہ یقینًا ضعیف ہیں جن پر کئی کئی بار تحقیق ہوچکی ہوگی۔۔۔سو ان کو نہ لیا جائے۔۔۔لیکن یہ کیا کہ پوری کی پوری کتاب کو مسترد کردیا جائے۔۔۔۔
مجھے تو اتنا معلوم ہے جتنا بھی بے غیرت ہوں۔--بہت گنہار ہوں--لیکن اپنے رسول سائیں سے مجھے بہت محبت ہے ۔۔۔میں نے انھیں نہیں دیکھا بس ان کے بارے میں سنا ہے لیکن پھر بھی مجھے ان سے بہت محبت ہے۔۔
اور وہ جنھوں نے ان کو دیکھا۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔جنھوں نے ان کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ان کی محبت کیسی ہوگی۔۔۔بے شک وہ مجھ سے بہتر ہونگے۔۔بے شک انھوں نے ان کی زندگی کا ایک ایک پل محفوظ کرنے کے لیے محنت کی ہوگی۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ میرے رسول سائیں صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میرے سامنے ایسے  ہے جیسے میں انھیں کھاتے پیتے چلتے پھرتے تصور کرسکتا ہوں۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ سراپا قرآن تھے اور ان کے چاہنے والوں نے ان کی زندگی کو بعد میں آنے والوں تک پہنچانے کے لیے نہایت مخلصانہ اور محبانہ کوششیں کیں۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔