سوموار، 3 مارچ، 2008

تازہ ترقیاں

میری چھوٹی بہن کل کہنے لگی کہ نوٹ تو ہم خود چھاپتے ہیں تو انھیں زیادہ سے زیادہ کیوں نہیں چھاپا جاتا تاکہ سب امیر ہوجائیں؟

میں نے اسے سمجھایا بیٹا نوٹوں کو کونسا کھا لینا ہے۔ نوٹ چھاپنے سے پہلے ان کے پیچھے بطور ضمانت سونا رکھا جاتا ہے یا ڈالر یورو رکھے جاتے ہیں۔ نوٹ ہونگے اور ان سے خریدنے کے لیے چیزیں نہ ہونگی تو نوٹ کونسا پیٹ بھر دیں گے۔ اسے یہ بات سمجھ آگئی لیکن میرے لیے سوچ کا ایک در وا ہوگیا۔

ابھی دو دن پہلے ہی تیل کی قمیتیں بڑھائی گئی ہیں۔ پٹرول 3 روپے اور ڈیزل 5 روپے۔ ابھی کرم فرما کہتے ہیں کہ یہ مزید بڑھیں گی۔ میں نے جب یہ سوچا کہ اس "دیباچے" کا ہم پر کیا اثر پڑے گا تو بڑی سادہ سی تصویر ابھری۔ پیداواری لاگتیں بڑھ جائیں گی۔ خصوصًا لانے لے جانے یعنی نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جائیں گے جس کے نتیجے میں کھانے پینے کی چیزوں کی قمیت سے لے کر کرایے تک سب کچھ بڑھ جائے گا۔

اس سلسلے میں مطلع واپڈا نے عرض کردیا ہے۔ بجلی کی قیمت 9 فیصد تک بڑھا دی گئی ہے۔ ہم ہر سال کی طرح اس بار بھی گرمیوں میں ہر اس چیز کو بند کرتے پھر رہے ہونگے جو "چل" رہی ہو بجلی سے نہیں ہمارے خون سے۔ لیکن بل اس بار بھی تین ہزار سے کم نہیں آئے گا بلکہ شاید 4000 تک پہنچ جائے ۔

ملک میں افراط زر کی شرح اس وقت 8 فیصد کے قریب ہے جو حالیہ تیل کی قیمتیں بڑھانے سے 10 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یعنی "پیسے بڑے کھانے کو کچھ نہیں"۔  ملک کی برآمدات میں مناسب کمی دیکھنے میں آئے گی اور ہوسکتا ہے کچھ عقلمند آجر فیکٹریوں سے سرمایہ نکال کر کراچی سٹاک ایکسچینچ میں لگا کر منافع کمانے کی سوچیں۔

ملک میں اس وقت جو سیکٹر ترقی کررہا ہے وہ آئی ٹی ہے۔ لیکن آئی ٹی سب کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ انٹرنیٹ کے ریٹس وہ واحد چیز ہیں جو سستے ہورہے ہیں۔ کاش ان کے کھانے سے پیٹ بھر جاتا تو میں 1024 کلو بٹس کی ایک ڈی ایس ایل لائن 1199 روپے مہینہ میں لے کر اس جھنجھٹ سے ہی جان چھڑا لیتا۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا کچھ نہیں۔ یا پھر کاروں کی قیمت بھی کم ہوگئی ہے یہی کوئی 34 ہزار روپے فی کار تک۔ اگر اس سے روزی روٹی کا کوئی بندوبست ہوسکتا تو میں ضرور ایک عدد کار لے لیتا اور قصہ ہی تمام ہوتا۔

ملک میں بیرون ممالک کے ری کنڈیشنڈ آلات تھوک کے حساب سے آرہے ہیں۔ گاڑیاں، بسیں، کاریں، کمپیوٹر، مانیٹر، کمپیوٹر کے لوازمات، موبائل فون اور نہ جانے کیا کچھ۔ آپ نے اگر کچھ کمانا ہے تو ان میں سے کسی کاروبار سے منسلک ہوجائیں۔ یا اپنی زرعی زمین بیچ کر شہر آجائیں۔ اگر شہر کے قریب زمین کے مالک ہیں تو کھیتوں کو ہموار کروا کر ایک کالونی کا منصوبہ شروع کرلیں۔ بلدیہ کو روکڑا لگوا کر آپ کی گیس بھی منظور ہوجائے گی، بجلی بھی اور پانی سیورج بھی۔ زمینیں بیچیں اور گھر بیٹھ کر کھائیں۔ یہ نہ سوچیں اس قیمتی اراضی سے جو ہر سال گندم ہوتی تھی وہ کہاں سے آئی گے۔ گندم تو باہر سے آہی رہی ہے۔ اللہ کا بڑا فضل ہے پچھلے سال وافر گندم ہونے کے باوجود ملک خداداد کے رہنے والے آتے کو ترستے رہے اور کئی کئی دن چاول کھا کر گزارہ کرتے رہے۔

کشکول ٹوٹ گئے ہیں۔ اب اگر آئی ایم ایف نے ترقیاتی اخراجات میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کا کہا ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ روشن خیال حکومت تو چلی گئی اب آنے والوں نے کیا کرلینا تھا؟ اس لیے بہتر ہے یہ غیر ضروری اخراجات ختم ہی کردئیے جائیں۔ ٹیکس وصولیوں کے ہدف میں کمی کردی گئی ہے اس کو بھی سنجیدگی سے نہ لیں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔  ڈیموں میں ایک ہفتے سے بھی کم کا پانی رہ گیا ہے اس کی بھی فکر نہ کریں آپ۔

بس آپ اپنے آپ کو تیار کرلیں کرایوں میں اضافے کے، سبزیاں سو روپے کلو تک خریدنے کے، "ڈھیر سارے پیسے" کے لیے، بجلی کی سردیوں سے بھی بدترین لوڈ شیڈنگ کے لیے (جو کہ انشاءاللہ ایک ماہ میں شروع ہوا چاہتی ہے)۔

11 تبصرے:

  1. کشکول تو ٹوٹ‌گیا ہے لیکن ٹرک کو کون توڑے گا؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. میں بار بار کوشش کرتا ہوں کہ صُلح جُو اور ترقی پسند بن جاؤں لیکن آپ لوگ کوئی نہ کوئی شوشہ ماضی کے راز افشاء کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔ افراطِ زر ۔ اثاثے اور زرِ مبادلہ

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ نے تو ریٹ ہی الٹ کر دیئے پٹرول 5 اور ڈیزل 3 کو ڈیزل 5 اور پٹرول 3 کر دیا

    جواب دیںحذف کریں
  4. چلو جی الٹا کر پڑھا جاسکتا ہے۔ پٹرول 5 روپے مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ موٹر سائیکل والا جو میرے جیسا غریب غرباء میں‌ شمار ہوتا ہے زیادہ پسے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. جب میں چھوٹا تھا تو ابو سے ایسا ہی سوال کیا کرتا تھا کہ جب نوٹ ہمارے ہاں چھپتے ہیں تو ہم زیادہ زیادہ چھاپ کر لوگوں میں تقسیم کیوں نہیں کردیتے۔۔۔ تب ابو مجھے افراط زر والی باتیں بتاتے تھے اور میری عقل پر سے گزر جاتی تھیں۔۔۔!

    جواب دیںحذف کریں
  6. اسلام علیکم
    چلو جی ترقی تو ہوئی خواہ کسی بھی شعبے میں ہو۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. جی آپ کو سن کر خوشی ہوگی کہ ٹرانسپورٹرز یونین نے فی سٹاپ کم از کم کرایہ 10 روپیہ مقرر کردیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. جی یہ تو واقعی خوشی کی خبر ہے ۔ ترقی ہورہی ہے کون کہتا ہے کہ نہیں‌ ہورہی۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. In fact we already print a lot of paper currency but don't have much gold or exchange money to support it


    .This is very dengrous indicator in Economics

    جواب دیںحذف کریں
  10. جی افراط زر واقعی ایک بری چیز ہے معیشت کے لیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  11. [...] شاکر عزیز صاحب کی ایک بھولی بھالی ننھی بہن نے کہا ” نوٹ تو ہم خود چھاپتے ہیں تو انھیں زیادہ سے [...]

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔