پیر، 17 ستمبر، 2007

رمضان مبارک

امید ہے سب دوست سجن بخیریت ہونگے۔


آج کل انٹرنیٹ پر میرا آنا بس فورمز تک ہی محدود ہے اپنے بلاگ کی طرف کم ہی دیکھتا ہوں۔ رمضان آئے اگرچہ کافی دن ہوچکے ہیں لیکن میری طرف سے دیر سے ہی سہی مبارکباد قبول کریں۔


کل میرا پہلا پرچہ ہے احباب سے درخواست ہے دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔


وسلام

جمعرات، 6 ستمبر، 2007

واہ رے منصف تیری منصفی

یہ فورمز پاکستان کے نام پر بنے ہیں۔ فورمز کا نام بھی فورمز ڈاٹ کوم ڈاٹ پی کے  ہے۔ لیکن ان کے کام دیکھیے۔


محمد علی مکی واویلا مچا رہے ہیں کہ ان کے فورم سے مواد چوری کرکرکے بغیر حوالہ دیے ان کے فورم پر ڈالا جارہا ہے اور جواب آتا ہے کہ اچھی چیز جہاں سے ملے لے لو۔ اچھی ڈھٹائی ہے بھئی۔۔۔۔



یہ ہمارا ہی خاصہ ہے کہ ڈھٹائی ہم پر آکر ختم ہے۔

ورڈپریس 2.3 بی ٹا اور اشتہارات

نبیل بھائی نے کل جب یہ واضح کیا کہ محفل پر اشہتار ایسے ہی چل رہے ہیں تو ہم نے بھی اپنے بلاگ پر ایڈسینس کا کوڈ گھسیڑ ڈالا۔ اشتہار تو آرہے ہیں لیکن کچھ نامعقول قسم کے اشتہارات بھی ہیں۔ ان کا سادہ حل یہ ہے کہ کی ورڈز ٹھیک ہوں۔ اب اردو والے کہاں سے کی ورڈز لائیں؟


لیکن ورڈپریس 2.3 ایک نئی سہولت لے کر آرہا ہے۔ اسی میں ٹیگ لگانے کی سہولت بھی موجود ہے۔ اور میرا خیال ہے یہ انگریزی ٹیگ اگر پوسٹ کے ساتھ نمودار ہوں تو بغیر کسی غیر قانونیت اور دشواری کے یہ کی ورڈز کا کام کریں گے۔ اس طرح اشتہارات کی ٹارگٹنگ اچھی ہوسکے گی۔

منگل، 4 ستمبر، 2007

مجھے کوئی شک نہیں

شک کرنا ٹھیک ہے۔ لیکن ہٹ دھرمی الگ قسم کی چیز ہے۔
میں نے آج سے دو سال پہلے ایک کتاب پڑھی تھی "طلاق؟" صاحب کا نام یاد نہیں لیکن انھوں نے طلاق کے سلسلے کے سارے احکام براہ راست قرآن  کریم کی آیات کے تراجم سے اخذ کیے۔ مجھے بڑا عجیب سا لگا۔ چونکہ وہ ایک جگہ ترجمے سے یہ ثابت کررہے تھے کہ طلاق ہوجانے کے بعد بھی جب چاہیں میاں بیوی نکاح کرسکتے ہیں۔ میری مراد تین طلاقوں کے بعد سے ہے۔ لیکن مجھے بڑا عجیب سا لگا تھا۔ بعد میں غور کیا تو انکشاف ہوا یہ صاحب قرآن سے ڈائریکٹ فیض لینے کے قائل ہیں۔
تب سے اب تک ایک بات پلے سے بندھی ہوئی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو بائی پاس کرکے قرآن کو سمجھنا ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے نعوذ بااللہ، دوسرے پھر رحمت زحمت بن جاتی ہے۔ کہیں کی بات کہیں جانکلتی ہے۔
ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی ایک بھی چیز خالص نہیں موجود۔ شاید دوسرے مذاہب کی طرح جنھوں نے اپنے انبیاء علیھم اسلام کی زندگیوں کو دیو مالا بنا ڈالا۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرح انسان کہا گیا  ہے اور ان کی زندگی کا ایک ایک پل ہمارے سامنے موجود ہے۔
یہ حجت کرنا کہ جانے کیا کیا ہوگیا ہوگا، یہ ہوگیا ہوگا، وہ ہوگیا ہوگا دل کے مرض کی نشانی ہیں۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے، لیکن ہستی وہ ہے جس پر کم از کم تمام مسلمان متفق ہیں۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔واقعہ کربلا پر میں یہ دلیل مان سکتا ہوں کہ اس میں ہر ایک نے من پسند انداز میں‌ تبدیلیاں‌ کرڈالی ہونگی ۔۔۔لیکن حدیث رسول کے سلسلے میں کبھی نہیں۔۔۔۔ہاں کچھ احادیث ہوسکتا ہے قرآن سے میل نہ کھاتی ہوں اور وہ یقینًا ضعیف ہیں جن پر کئی کئی بار تحقیق ہوچکی ہوگی۔۔۔سو ان کو نہ لیا جائے۔۔۔لیکن یہ کیا کہ پوری کی پوری کتاب کو مسترد کردیا جائے۔۔۔۔
مجھے تو اتنا معلوم ہے جتنا بھی بے غیرت ہوں۔--بہت گنہار ہوں--لیکن اپنے رسول سائیں سے مجھے بہت محبت ہے ۔۔۔میں نے انھیں نہیں دیکھا بس ان کے بارے میں سنا ہے لیکن پھر بھی مجھے ان سے بہت محبت ہے۔۔
اور وہ جنھوں نے ان کو دیکھا۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔جنھوں نے ان کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ان کی محبت کیسی ہوگی۔۔۔بے شک وہ مجھ سے بہتر ہونگے۔۔بے شک انھوں نے ان کی زندگی کا ایک ایک پل محفوظ کرنے کے لیے محنت کی ہوگی۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ میرے رسول سائیں صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میرے سامنے ایسے  ہے جیسے میں انھیں کھاتے پیتے چلتے پھرتے تصور کرسکتا ہوں۔۔۔
مجھے کوئی شک نہیں کہ وہ سراپا قرآن تھے اور ان کے چاہنے والوں نے ان کی زندگی کو بعد میں آنے والوں تک پہنچانے کے لیے نہایت مخلصانہ اور محبانہ کوششیں کیں۔۔۔

اتوار، 2 ستمبر، 2007

پھر توقع رکھو کہ تم پر آفتیں ایسے آئیں جیسے تسبیح ٹوٹ جانے سے دانے یکے بعد دیگرے گرتے ہیں

ایک کے بعد ایک، جیسے لائن میں لگی ہوئی آفتیں یکے بعد دیگرے وقوع پذیر ہورہی ہیں۔ اب کل کراچی میں پل گرگیا ہے۔ سنتے ہیں اپنے مشرف صاحب کے میگا پروجیکٹس، جن کا وہ تسبیح کی طرح ہی ہر انٹرویو میں ورد کیا کرتے ہیں یہ بھی حصہ تھا۔ اب ہوا کیا کہ این ایل سی کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔ چار پانچ لوگوں کو معطل کردیا گیا ہے۔ مرنے والوں کو امداد دی جارہی ہے ۔ اللہ اللہ خیر صلا


دو چار میں شور رہے گا پھر وہی پرانی صورت حال۔ سارا ناردرن بائی پاس دوبارہ تو بننے سے رہا۔۔اتنا حصہ پھر سے بن جائے گا اور کام پھر چلے گا۔ لیکن اس چیز کی کیا گارنٹی ہے کہ ایک حصہ گرگیا تو باقی حصے نہیں گریں گے۔ یہ پل تو دوبارہ بن جائے گا وہ چنے والا جو اپنے بچوں کا کفیل تھا، جس کے بچے یتیم ہوگئے ان کا کون سرپرست ہوگا اب۔ جو بیوائیں ہوگئیں ان کا کون رہ جائے گا۔ وہ پانچ پانچ لاکھ روپے؟؟


کراچی کے ناظم صاحب کو گلہ ہے کہ اس شہر کے 13 سرپرست ہیں اور یہ کہ انھیں اس پروجیکٹ کی ہوا بھی نہیں لگنے دی گئی، ان کے پاس ڈیزائن تک نہیں یہ وہ ۔ ہر کسی کو ایک دوسرے سے گلہ ہوگا۔۔اور ہم منہ دیکھیں گے الزام کس کو دیں۔۔۔


کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ جو آفتوں کی قطار لگی ہوئی ہے یہ ہمارے اپنے اعمال ہیں۔۔ہم ہیں ہی اس قابل کہ ہمیں چھتر پڑیں اور پڑتے ہی چلے جائیں۔۔۔