منگل، 3 فروری، 2009

کتبے

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:30 AM ,
سائیکل میری سواری ہے۔ روزانہ آدھا شہر پار کرکے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد جانا ہوتا ہے۔ اس دوران ادھر اُدھر نظر بھی پڑ جاتی ہے۔ انھیں ادھر اُدھر کی چیزوں میں سے ایک چیز کتبے ہیں۔
جی ہاں۔۔۔ کتبے ۔۔۔سبز رنگ کے کتبے۔۔ سنگ مرمر کے کتبے۔۔۔ ٹوٹے ہوئے، زنگ لگے اور نویں نکور کتبے۔۔۔ آپ ذرا اپنے ارد گرد دیکھیں تو آپ کو بھی نظر آسکتے ہیں۔
سڑک کا افتتاح بدست مبارک جناب فلانا فلانا ناظم صاحب ہوا
سیوریج کا افتتاح بدست مبارک جناب فلانا فلا کونسلر ہوا۔
فلانے کا افتتاح فلانے نے کیا
فلانے کا سنگ بنیاد فلانے نے رکھا۔
آج سے دو سال پہلے ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا۔ اس گلی کی سیوریج لائن خراب تھی، یہی کوئی سو گز کے قریب لمبائی میں۔ اوراس کو دوبارہ ڈلوانے کا افتتاح اس وقت کے ضلعی ناظم نے کیا تھا۔ وہ نئی ڈالی ہوئی سیوریج لائن بھی شاید اب خراب ہوگئی ہو لیکن وہ کتبہ اب بھی وہاں لگا ہوگا۔ جس پر بدست مبارک جناب فلاں فلاں لکھا ہوا تھا۔
مجھے یہ کتبے افتتاحیے نہیں قبروں کے کتبے لگتے ہیں۔ میری قوم کی ترقی کی قبر کے کتبے۔ مجھے اپنی طرف اشارے کرکے بلاتے ہیں دیکھو یہاں فلانا وڈا آدمی کھڑا ہے۔ فلانے وڈے آدمی کا نفس یہاں ہے۔ آؤ۔۔۔ادھر آؤ۔۔۔دیکھو
مجھے نفرت ہے ان کتبوں سے۔ ایک عرصہ پہلے تک انھیں پڑھنے کا شوق ہوا کرتا تھا لیکن اب ان کی طرف نفرت سے تھوک کر گزر جاتا ہوں۔
مجھے لگتا ہے میری قوم کے نصیبوں پر بھی ایسے ہی کتبے لگے ہوئے ہیں۔ سبز رنگ کے، سنگ مرمر کے پرانے اور نئے کتبے۔۔ میری قوم کے نصیبوں کے مزار پر وڈوں کے نفس متولی بنے بیٹھے ہیں۔ نہ وہ اُٹھیں اور نہ ہی میری قوم کا نصیب جاگے۔

Back Top

7 تبصرے:

  1. ان کتبوں پر کبھی کبھی نظر پڑ جاتی ہے لیکن پڑھنے کی کوسس نہیں کی ۔ ہاں البتہ جب کبھی قبرستان جاتا ہوں تو قبروں پر لگے کتبے پڑتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ کیسے کیسے لوگ اس زمین کی خاک میں مل گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون

  2. میں سوچتا ہوں‌آپ کتنے عظیم یا سادہ ہو کہ ماسٹرز میں بھی سائیکل پر سواری کرتے ہو

  3. یار یہ آپکی اپنی تحریر ہے؟؟؟ لگ تو اشفاق احمد یا ممتاز مفتی کی رہی ہے۔

  4. عبدالقدوس: ماسٹرز میں بھی غریب ہوں اس لیے سائیکل کی سواری کرتا ہوں۔
    فیصل: یہ میری ہی تحریر ہے۔ ممتاز مفتی اور اشفاق احمد کا رنگ اس میں شامل ہے۔

  5. ویسے تو آپ کو ونڈوز سے چڑ ہی ہوگی لیکن اپنے کمپیوٹر کے ابتدائی دن یاد کرتے ہوئے گیٹس کی نصیحت کو ذہن نشین کرنے کی کوشش کریں‌کہ

    "اگر آپ غریب پیدا ہوتے ہیں تو اس میں آپکا کوئی قصور نہیں لیکن اگر آپ غریب مرتے ہیں تو اس میں سراسر آپ کا ہی قصورہے"

  6. ان کتبوں کے چاروں طرف عوامی خواہشات کے خون کا لال رنگی بارڈر بھی تو ہوتا ہے۔
    عبدالقدوس یار سائیکل سے کیا ہوتا ہے؟ بڑی مادی بات کر دی یار تم نے، میرے دل پر لگ گئی ہے یہ بات۔ بہت دل دکھا ہے آج تمہاری یہ بات سن کر۔ :( تم سے ایسی بات کی امید نہیں تھی۔ میری سائیکل گھر والوں نے میری غیر موجودگی میں کسی ”ضرورتمند“ کو دے دی اور اب میرا دوبارہ سائیکل لینے کا پروگرام ہے۔ اس لئے سائیلکل کی شان میں کوئی گستاخی مت کرنا

  7. [...] نے اپنے بلاگ پر  ایک تحریر “کتبے” لکھی، جس میں وہ  کہہ رہے ہیں کہ   فیصل آباد شہر سے [...]

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔