ہفتہ، 3 مارچ، 2007

کراچی والوں سے بات کرنا

اردو بولنا اور اردو کے لیے بولنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ اس بات کا احساس ہمیں اس وقت ہوا جب  محفل کے کچھ احباب سے ہماری فون پر بات ہوئی۔ اور شومئی قسمت یہ احباب کراچی سے  متعلق تھے۔ چونکہ کراچی میٹروپولیٹن شہر ہے یعنی منی پاکستان تو یہاں اردو ہی عمومًا بولی جاتی ہے۔


فہیم ہمارے بہت اچھے دوست ہیں محفل پر انھوں نے موبائل نمبر مانگا ہم نے بڑی خوشی سے دیا۔ ایک دن ان کا فون آگیا۔ بس نہ پوچھیں جناب کہ جو اس دن ہوئی۔ ہمارے بھائی صاحب اردو کے الفاظ لڑھکائے چلے جاتے تھے اور ہم ان کو سنبھالنے اور اکٹھا کرنے کے چکر میں ہلکان ہوئے جاتے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی بات سمجھ میں آئی اور آدھی سر پر سے گزر گئی چونکہ منہ پر بات کہہ دینا ہماری پرانی عادت ہے اس لیے ہم نے فہیم سے بھی کہہ دیا بھائی جی اپنی سپیڈ ذرا آہستہ کرلیں ہمیں آپ کی اردو پتھروں کی طرح لگ رہی ہے۔


صاحبو ہم ٹھہرے پنجابی بولنے والے اردو لکھ تو لیتے ہیں لیکن بولنا اور وہ بھی فراٹوں کے ساتھ ابھی کم ہی آتا ہے۔ خیر کچھ مزید احباب کے ساتھ چند بار بات ہوئی اور اب افاقہ ہے سو میں سے اسی الفاظ سمجھ میں آجاتے ہیں جو نہیں آتے ہم ان پر بات بدل کر پردہ ڈال لیتے ہیں۔;)

21 تبصرے:

  1. پریکٹس جاری رکھئے ایک دن سو فیصد سمجھ آنا شروع ہوجائے گی۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. محمد شاکر عزیز4 مارچ، 2007 3:56 AM

    جی پریکٹس کا تو کوئی مول نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. کراچی والوں کی اردو تو بہت آسان ہوتی ہے۔ اور دن بدن مزید آسان ہوتی جارہی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد شاکر عزیز4 مارچ، 2007 1:42 PM

    یہ آسانیاں کوئی ہم سے پوچھے۔ :D
    اصل میں بات آسانی کی نہیں عادت کی ہے۔ آپ لوگ بہت تیزی سے اردو بولتے ہیں اور ہم ٹھہرے پینڈو اتنی تیز بولنے سے تو ہماری زبان میں بل پڑ جاتے ہیں گویا ہم تو سہج سہج کر چلتے ہیں اردو میں۔
    ہاں پنجابی میں بولنا ہو تو آجائیں کانوں میں خارش نہ ہونے لگے تو پنجابی کیا ہماری ;)

    جواب دیںحذف کریں
  5. میں بچپن سے اُردو بولتا آ رہا ہوں ۔ مگر کراچی والوں کی کیا بات ہے ۔ میں اُن کی اُردو کے پیچھے بھاگ بھاگ کر تھک جاتا ہوں ۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. محمد شاکر عزیز4 مارچ، 2007 3:50 PM

    واہ
    کوئی تو ہمارا ہم خیال نکلا۔ تو صاحب ثابت ہوا کہ ہماری بات اتنی بھی غلط نہ تھی۔ :D

    جواب دیںحذف کریں
  7. مجھے گاڑھی اردو سننے اور بولنے کا بہت شوق ہے ، مگر کوئی ملے بھی تو ۔
    ویسے ایسی کیا بات ہے ان کی اردو میں کہ انکل اجمل بھی تھک گئے ہین؟

    جواب دیںحذف کریں
  8. محمد شاکر عزیز5 مارچ، 2007 6:39 PM

    اصل میں چونکہ ان کی روٹین ہے اس لیے زبان فراٹے بھرتی ہے اور میرے جیسے کی سمجھ میں کم ہی آتی ہے پھر چونکہ لفظ تیزی سے بول جاتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. شاکر بھائی۔۔۔
    میری صورتحال بھی کچھ آپ جیسی ہی ہے اسی لئے میرے کراچی والے دوست مجھے پینڈو کہہ کر پکارتے ہیں‌۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. اردو بولنے کی اسپیڈ واقعی یہاں کافی ذیادہ ہے!!! یہ ایسے ہی ہے جیسے انڈین یا پاکستانی کی زبانی تو انگریزی سمجھ آ جاتی ہے مگر انگریز کی کی بولی ہوئی انگریزی کو پکڑنا پڑتا ہے وہ ہی جیسا آپ نے کہا فراٹے بھرتے جاتے ہیں!!! میرے کزن بھی اس سلسلے میں شکایت کرتے ہیں!!! بلکہ یہ کہنا چاہئے مذاق اڑاتے ہیں!!! آپ مشہور کمپیئر فخرے عالم کو دیکھ لیں، کافی تیز بولتا ہے، میرے کزن کا کہنا ہے کہ کراچی والے اردو بولتے نہیں کترتے :( ہیں!!!

    جواب دیںحذف کریں
  11. محمد شاکر عزیز6 مارچ، 2007 10:16 AM

    :D
    چلیں آپ ٹینشن نہ لیں ہم بھی عادی ہوجائیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. میرے لئے اس پر تبصرہ کرنا اس لئے ذرا مشکل ہے کہ میں خود کراچی والا ہوں، پیدائش سے اب تک بس ایک یہ اردو ہی ہے کہ
    چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی :wink:
    البتہ کراچی کی اردو میں اب فصاحت بالکل نہیں رہی، عمومی طور پر لوگوں کی زبان عجیب بازاری سی ہوگئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اردو کی ترقی کا یہ افسوسناک سفر کہاں جاکر رکتا ہے۔۔۔ رکتا بھی ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو بولنے اور سمجھنے کے لئے ہماری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  13. محمد شاکر عزیز7 اپریل، 2007 4:13 PM

    ہم تو کراچی ساری عمر نہیں گئے جناب۔ آپ دوستوں کے منہ سے ہی سنا ہے جو سنا ہے۔
    یہ بھی ہے نا کہ زبان جب روزمرہ بن جاتی ہے تو اس میں تبدیلیاں لازمی آتی جاتی ہے ماحول کے مطابق۔ دکنی یا دہلوی زبانوں کو ہی لے لیں ہیں تو اردو لیکن وہاں انداز اور معنے ہی بدل جاتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. امانت علی گوہر16 اپریل، 2007 10:23 PM

    آپ مجھے تو بالکل بھی الزام نہیں دے سکتے کیوں کہ میں تو آپ سے پنجابی بول ہی لیتا ہوں۔ ہے کہ نہیں!

    جواب دیںحذف کریں
  15. محمد شاکر عزیز17 اپریل، 2007 7:12 AM

    جی آپ سے کوئی شکوہ نہیں۔ چونکہ آپ کی پنجابی بھی کبھی کبھی میرے سر پر سے گذر جاتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  16. امانت علی گوہر17 اپریل، 2007 8:34 AM

    اس کی وجہ میری گاڑھی پنجابی نہیں بلکہ اردو نماں پہنجابی ہے!

    جواب دیںحذف کریں
  17. محمد شاکر عزیز17 اپریل، 2007 5:13 PM

    بالکل آپ واقعی دونوں‌کی ٹانگ توڑ دیتے ہیں
    اب نماں کو ہی لے لیجیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  18. امانت علی گوہر18 اپریل، 2007 9:32 PM

    یہی تو اپنی باتیں ہیں! آخر کراچی والے جو ٹھہرے

    جواب دیںحذف کریں
  19. محمد شاکر عزیز19 اپریل، 2007 1:48 AM

    ٹھیک ہے بھئی کراچی والے سارے ایسے ہی ہوتے ہیں لگتا ہے۔
    ویسے تسیں کوئی بندے تے نا ہوئے۔
    ہمارے ایک دوست شادی شدہ ہیں وہ کہتے ہیں بندہ صرف میں ہوں۔
    اس لیے کراچی کے بندوں میں آپ کو شمار کرنا عجیب سا لگتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  20. کبھی میں بھی آپ سے پنجابی کا پیچ لڑاؤں گا :-)

    جواب دیںحذف کریں
  21. محمد شاکر عزیز29 اپریل، 2007 3:47 PM

    جی ضرور۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔