ہفتہ، 10 مارچ، 2007

سائیکل سواروں کے حقوق

ہم چونکہ خود ایک سائیکل سوار ہیں اس لیے ہم نے سوچا اب جو یہ انسانوں جانوروں فلانوں فلانوں کے حقوق کی باتیں ہورہی ہیں تو ہم کیوں کسی سے پیچھے رہیں۔ چناچہ سائیکل سواروں کے حقوق کا کئی نکاتی ایجنڈا ہم اپنے بلاگ کے ذریعے اپنے قارئین کےسامنے پیش کررہے ہیں۔


چونکہ تعزیرات پاکستان کی کسی دفعہ کے تحت سائیکل سواروں پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے ٹریفک کا اشارہ کیوں توڑا نیز ان کا چالان بھی ممکن نہیں تو ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ اشارہ توڑنا سائیکل سواروں کا بنیادی انسانی حق ہے اور کسی کو خصوصًا ٹریفک پولیس کو اس پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔


سڑک کے درمیان میں سائیکل چلانا سائیکل سواروں کے لیے مستحب ہے لیکن اگر وہ ازراہ کرم سائیڈ پر بھی چلا لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔


ریلوے پھاٹک بند ہونے کی صورت میں یہ سائیکل سواروں کا حق ہے کہ وہ سائیکل کو اطراف میں موجود پیدل گزرنے والوں کے راستے سے زبردستی گزار کر لے جائیں چونکہ اس وقت مجمع میں وہی سب سے زیادہ لیٹ ہورہے ہوتے ہیں۔


سڑک پار کرنے کے لیے اچانک اس میں گھس آنا ان کے لیے بہتر ہے چاہے اس دوران ایکسیڈنٹ کا بھی خدشہ کیوں نہ ہو۔


سڑک پر رش کی صورت میں فٹ پاتھ، یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی ان کے لیے عین ثواب ہے چاہے پیدل چلنے والوں کے پاؤں کچلے جائیں اور مخالف سمت سے آنے والوں کو بریک لگانے پڑ جائیں۔


المشتہر


صدر انجمن سائیکل سواراں پاکستان ضلع تحصیل ٹاؤن فیصل آباد(بزعم خود و بقلم خود)


محمد شاکر عزیز


 

15 تبصرے:

  1. لو جی اب سائیکل سواروں کے حقوق بھی آ گئے ۔ اگر کوئی نہیں بولا تو وہ میرے حقوق کیلئے یعنی شریف مردوں کے حقوق ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. محمد شاکر عزیز10 مارچ، 2007 7:02 PM

    سر جی ہم کونسا مشٹنڈے ہیں۔ :D

    جواب دیںحذف کریں
  3. ھھھھھھ
    چلیں‌ پھر تو ہمیں بھی دکھیوں کے حقوق کا مطالبہ کرنا پڑے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد شاکر عزیز10 مارچ، 2007 7:21 PM

    بھائی جی سارے ہی دکھی ہیں
    سائیکل والے بھی اور بے سائیکل بھی
    کار والے بھی اور بے کار بھی۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. “جو یہ انسانوں جانوروں فلانوں فلانوں کے حقوق کی باتیں “

    آپ کس مخلوق سے تعلق رکھتے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  6. محترم آپ نے میرے دونوں بلاگوں میں سے کسی ایک کا بھی ربط فراہم نہیں کیا ۔ سیدھے ہو جا

    جواب دیںحذف کریں
  7. سیدھے ہو جائیے ورنہ یلغار کے لیے تیار رہیے ۔ ویسے بھی کئی دنوں سے میں نے اردو بلاگ پر کو

    جواب دیںحذف کریں
  8. کوئی تحریر نہیں لکھی۔
    یار یہاں تبصرے کٹ کیوں رہے ہیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  9. محمد شاکر عزیز11 مارچ، 2007 9:08 AM

    رب جانے ادھر تو ٹھیک ہیں۔
    یار تمہارے بلاگ کا پتا دے تو دیا ہے اردو بلاگ
    بلاگ ڈاٹ بیاز ڈاٹ کوم
    میں جناب سائیکل سواروں سے تعلق رکھتا ہوں میرا بیان اوپر آنکھیں کھول کر پڑھو۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. ایک عدد اردو ٹیکنالوجی اخبار بھی ہے
    http://news.urdutech.com

    جواب دیںحذف کریں
  11. بسم اللہ الرحمن الرحیم

    چونکہ میں بھی ایک سابقہ یا "ریٹائرڈ" سائیکل سوار رہا ہوں چنانچہ آپ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے میں بھی حکومتِ وقت سے "خر" زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ نہ صرف آئینِ پاکستان میں سائیکل سواروں کے حقوق متعین کرکے انہیں جلی حروف میں لکھے بلکہ سائیکل انڈسٹری کو تمام تر خفیہ وغیر خفیہ ٹیکس سے مستثنی قرار دیتے ہوئے سائیکل سواروں پر جاری مظالم کا فوری نوٹس لے اور خطاکاروں کو قرارِ واقعی سزا دے..

    چونکہ سائیکل سوار ایک قسم کا "بادشاہ" بندہ ہوتا ہے، بھلے ہی بادشاہت کو لدے زمانے گزر گئے ہوں، اس لئے حکومت کو چاہئیے کہ وہ قومی بجٹ کا ایک حصہ سائیکل سواروں کی فلاح بہبود اور ان کے لئے خاص سڑکیں تعمیر کرنے کے لئے مختص کرے، ورنہ سابقہ حکومتوں کی طرح وہ بھی اپنے انجام کا انتظار کرے..

    یہ ملک سائیکل سواروں کا ملک ہے اور سائیکل سواروں سے پنگا لے کر کوئی بھی حکومت اپنی طبعی زندگی پوری نہیں کرسکتی، اس کا ثبوت وہ تمام سابقہ حکومتیں ہیں جنہیں سائیکل سواروں سے پنگا لینے کی پاداش میں نہ صرف اپنی کرسیوں سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ ملک بھی چھوڑنا پڑا..

    واللہ الموفق

    جواب دیںحذف کریں
  12. اسلام و علیکم،
    بہت خوب شاکر صاحب، میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ واقعی ہمیں حقوق ملنے چاہیں۔ :)
    اور حکومت پاکستان سائیکل سواروں کے حقوق متعین کرے۔ ورنہ ہم احتجاج بھی کریں گے۔
    جناب صدرِ انجمن صاحب۔ جب احتجاجی جلسہ نکالنا ہو تو مجھے اطلاع کر دیجئے گا۔ :D

    جواب دیںحذف کریں
  13. بہت خوب! آپ نے تو مزاح لکھا ہے اور میں کئی مہینوں سے اس موضوع پر سنجیدہ لکھنا چاہ رہا تھا ۔ اب تو ضرور لکھنا پڑے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  14. محمد شاکر عزیز17 مارچ، 2007 8:56 PM

    بھائی جی جلسہ کاغذی کاروائی کے بعد نکالا جائے گا اور کاغذی کاروائی کو برسوں بھی لگ سکتے ہیں
    ;)

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔