بدھ، 21 مارچ، 2007

ہمارا آنجہانی طوطا

ہم کافی دنوں سے سوچ رہےتھےکہ اپنے طوطے کی شان میں کچھ لکھیں لیکن موقع ہی نہ ملا۔ اب جب لکھ رہے ہیں تو آج صبح تڑکے اس کو ایک بلی اٹھا کر لے گئی ہے۔ یہ طوطا ہمیں کوئی تین سال پہلے سائکل پر آتے ہوئے ملا تھا۔ کسی کار سے ٹکرا کر نیچے گرا اور ہم نےا سے فورًا دبوچ لیا تھا۔ آثار بتاتے تھے کہ اس کے پر کاٹے ہوئے ہیں۔ کچھ دن ہم نے اس کے بہت لاڈ اٹھائے پھر اس کی طرف سے غافل ہوتے گئے اور آہستہ آہستہ اس سے چڑ ہوتی گئی۔


ہماری والدہ کو جانوروں کے ساتھ حد سے زیادہ پیار کرنے کی عادت ہے جس کے نتیجہ میں یہ ہر وقت والدہ کے پیچھے پھرتا۔ ذرا وہ نظر سے ادھر ہوتیں کیاں کیاں کرتا پیچھے چل پڑتا۔ جب وہ کہیں کام سے چلی جاتیں تو اس کی بے چینی قابل دید ہوتی۔ سیڑھیوں پر جاکر بے چینی سے چکر کاٹتا اور گھنٹوں بولتا رہتا۔ اس کی اس کیاں کیاں سے بہت چڑ تھی مجھے اکثر اسے مجھے سے اس بات پر مار بھی پڑی لیکن جب میں اسے ڈراتا تو کچھ دیر کے لیے چپ ہوجاتا اور دوبارہ سے وہی کام شروع ہوجاتا۔ کہیں جاتے ہوئے سیڑھیوں کے قریب لگی گرل پر بیٹھے میاں مٹھو کو چھیڑنا میرا معمول تھا۔ اس کو دونوں ہاتھوں سے تنگ کرنا اور اس کا مجھے کاٹنے کو آنا بہت دیر تک یاد آئے گا۔ اس سے پہلے ایک طوطے کو چیل اٹھا کر لے گئی تھی اور آج اس کو بلی اٹھا کر لے گئی ہے۔ ابھی باہر جارہا ہوں اور لاشعوری طور پر اس کو تنگ کرنے کے لیے ہاتھ اٹھیں گے لیکن اسے وہاں نہ پاکر واپس لوٹ آئیں گے۔


میاں مٹھو تم بہت اچھے تھے۔


:( :( :( :( :( :( :( :( :(

9 تبصرے:

  1. سلام
    آپ لوگ اس کو پنجرے میں بند نہیں کرتے تھے؟
    میرے پاس بھی ایک طوطا تھا۔ 98 سے لے پچھلے سال تک ہمارے پاس ہی رہا۔ ابھی یہاں آنا پڑا تو اپنے دوست کو دے آیا ہوں۔ ارادہ ہے کہ جب بھی واپس جاؤں گا اس کو دوبارہ اپنے پاس رکھ لوں گا۔
    ویسے آپ کی والدہ کے برعکس میری امی کو اس سے بڑی چڑ تھی۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد ۔
    کئی سال قبل ایک بزرگ نے کہا تھا کہ پاکستانی مردہ پرست ہو چکے ہیں ۔ زندوں کی قدر نہیں کرتے اور مردوں کو یاد کرتے ہیں اور ان کی قبروں پر چڑھاوے چڑھاتے ہیں
    کیا یہ ٹھیک ہے ؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. محمد شاکر عزیز21 مارچ، 2007 8:05 AM

    بھائی جی پر کاٹے ہوئے تھے۔ باہر پھرتا رہتا تھا پنجرہ بھی تھا لیکن وہ رات کے لیے تھا۔
    اجمل صاحب بات تو آپ کی بھی ٹھیک ہے کہ ہم کچھ مردہ پرست سے ہوتے جارہے ہیں۔ لیکن کیا ہےکہ دکھ تو ہوتا ہی ہےکچھ نہ کچھ۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. مرحوم طوطے کا افسوس ہوا! ویسے ہمارے والد کو بھی پرندوں اور جانوروں کا شوق ہے اب بھی گھر میں کوئی پانچ کبوتر ، دو جوڑی طوطے اور ایک چکور ہے!!! بولنے والا طوطا کوئی سال بھر ہوا انتقال کر گیا! بیمار تھا ڈسپرین دی کو وہ مرحوم ہو گیا! ہمارے گھر میں ایک طوطے اور ایک مرغے کے کے انتقال(مرنے) پر کافی سارے ابو کے دوست شغل میں افسوس کرنے آئے تھے!!!!

    جواب دیںحذف کریں
  5. محمد شاکر عزیز21 مارچ، 2007 6:18 PM

    بس یار جانور سے انس ہوجاتا ہے پھر دکھ تو ہوتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. جب تک کھلے گھر میں رہے گھر کو چڑیا گھر بنا رکھا تھا میرے بھائی نے۔ حتی کہ سانپ کو بھی نہیں بخشا اس نے۔ اب بند فلیٹ میں یہ ناممکن ہے اور ویسے بھی اس کا یہ جانوروں کو پالنے کا بخار اب اتر گیا ہے ۔ شکر ہے میرے مولیٰ۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. محمد شاکر عزیز23 مارچ، 2007 4:16 AM

    لگتا ہے کافی تنگ ہیں آپ۔ جانور رکھنا بہت مشکل ہے ۔
    اور یہ تو ویسے بھی ظلم ہے اس کو پنجرے میں رکھنا یا پر کاٹ کر رکھنا۔ میں‌نے کئی بات کہا تھا اس کے پر نہ کاٹیں پنجرے میں بند کردیں پر آگئے تو اس کو اڑا دینا ہے لیکن کسی نے نہ مانا اور اب۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. ارے بھائی سب طوطے ایک جیسے نہیں ہوتے۔کچھ طوطے پر کٹے ہونے کے باوجود اڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے “بد تمیز“ طوطوں کو “قابُو“ میں رکھنے کے لئے بعض اوقات سونے کے پنجرے بھی بنوائے جاتے ہیں تا کہ اُن کے دل سے اُن کی فطری جبلت یعنی “شوقِ پرواز“معدُوم ہو جائے۔ اگر پھر بھی کوئی “سر پھرا“طوطاایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے تو اس کے پر جڑ سے اکھیڑ دئیے جاتے ہیں۔اس کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوں اور اس بولنے والے طوطے کی باتوں سے “بغاوت“ کی بُو آنے لگے تو ایک عدد بلی کا انتظام بھی خود ہی کیا جاتا ہے۔قصہ ختم،نہ رہے گا طوطا نہ ہو گی بغاوت۔ یہ بات الگ ہے کہ اگر کسی خاندانی بلی کا ضمیر زندہ ہو تو وہ ایسے طوطے کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ہے۔
    بہر حال مجھے آپ کے آنجہانی بلکہ مرحوم طوطے کی رحلت کا پڑھ کر بہت دُکھ ہُوا ہے۔ خدا کرے کہ آپ کو ایسا ہی طوطا جلد از جلد پھر سے مل جائے۔میں پردیس میں بیٹھ کر سوائے دُّّّعا کے اور کر بھی کیا سکتا ہوں۔ ڈرتا ہُوں کہ اگر ادھر سے کوئی طوطا آپ کو ارسال کروں تو یہ “امپورٹڈ“ طوطا کہیں“ آئی ایم ایف “ یا “ورلڈ بنک“ کا پروردہ نہ ہو۔ اور آپ اُس کے لئے “ولایتی چُوری“ کا اہتمام کرتے کرتے مزید قرضے کے بوجھ تلے نہ دب جائیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. محمد شاکر عزیز26 مارچ، 2007 11:39 AM

    جناب آپ کی اس امپورٹڈ تعزیت نے ہی غم آدھا کردیا ہے۔
    ویسے ہمیں اب طوطا رکھنے کی حاجت نہیں پہلے ہی غم اٹھا چکے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔