ہفتہ، 25 اگست، 2007

پھرتیاں

کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے ایک دوست کو مشورہ دیا کہ ٹیوٹا کے بنائے گئے ووکیشنل ٹرینگ انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے لے۔ یہ دوست بی کام میں میرے ساتھ تھا لیکن پھر کچھ مسائل کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ گیا آج کل پھر پڑھنے کے چکروں میں تھا۔ میں نے کہا کہ ووکیشنل ٹرینگ انسٹی ٹیوٹ میں چلا جا۔ پیسے بھی بچیں گے اور تکنیکی تعلیم کا تو جواب ہی نہیں۔ لیکن اس وقت مجھے بھی یاد نہیں تھا کہ یہ پاکستان ہے اور وہ بھی بھول گیا۔
پہلے دس بارہ دن بڑی دلچسپی سے پڑھایا گیا۔ پھر ان کے کاغذات یہ کہہ کر رکھوا لیے گئے کہ آپ کورس آدھا چھوڑ کر بھاگ نہ جائیں اس لیے ضمانت کے طور پر ہے۔ اب یہ حال ہے کہ روز طلباء وہاں جاتے ہیں اور گپیں مار کر آجاتے ہیں۔ ٹیچرز سے پڑھانے کا کہا جائے تو کہتے ہیں یار پورا سال پڑا ہے کہاں جانا ہے تم نے۔ اگر چھاپہ قسم کا وزٹ ہو تو سٹوڈنٹ سب ٹھیک ہے کی رپورٹ دیتے ہیں ٹیچرز کے ساتھ پورا سال رہنا ہے کوئی مذاق تو نہیں۔ کہ مگرمچھ سے بیر لے لیں۔ یہ چودہ ماہ کا کمپیوٹر ہارڈوئیر میں ڈپلومہ ہے۔ کمرہ جس میں یہ بیٹھتے ہیں کباڑ خانے سے کچھ اونچی چیز معلوم ہوتا ہے۔ ابھی تک انھیں ٹولز تک نہیں ملے  جو سٹوڈنٹس کے گروپ کو حکومت کی طرف سے ایشو کیے جاتے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ دوسرے چھوٹے ڈپلومے اچھی حالت میں ہیں۔ اچھے کلاس روم ہیں اور پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ادھر بھی ہوتا ہو۔
اور ہماری حکومت اسی بل پر ناچ رہی ہے کہ ہنرمند پیدا کیے جارہے ہیں۔ یہ جس قسم کے ہنرمند ہیں وہ تو آپ ملاحظہ کرچکے ہیں۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا زندگی ہے اس قوم کی بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

10 تبصرے:

  1. یار یہ قوم بھی تو ہم ہی سے بنی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. طلحہ بھائ نے درست کہا۔ یہ قوم ہم ہی سے بنی ہے اور اسے جو کچھ بھی بنانا ہے، ہم نے ہی بنانا ہے۔ اگر اس طرح ہمت ہار جائیں گے تو پاکستان کی تعمیر کون کرے گا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. محمد شاکر عزیز27 اگست، 2007 7:06 AM

    مایوسی ان سے ہے جو ایسا کرتے ہیں۔ اس قوم کا بیڑہ غرق انھیں لوگوں نے کیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. ان لوگوں کی فکر نہ کرو۔ بس علم بلند رکھو اور قدم بڑھاے چلو۔ یاد رکھنا! مسلمان کبھی مشکلات سے نہیں گھبراتا۔ نیک کام کروگے تو اللہ ضرور مدد کرےگا۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. زبردست سعد بھیا !
    آپ جیسے لوگ بس ہمت دلاتے رہیں تو ہم لوگ کہیں سے کہییں پہنچ جایں ۔
    بس کمی یہی ہے کہ ہم لوگ اپنے لوگوں کے اچھے کاموں کی تعریف اور حوصلہ افزای نہیں کرتے۔
    با قی شاکر بھیا کی بات بھی ٹھیک ہے کہ جب چوٹ لگتی ہے تو ردعمل تو سامنے آءے گا ہی۔ کچھ لوگ برداشت کرجاتے ہیں ۔کچھ اسکا بدلا سامنے والے سے لیتے ہیں ،اور کچھ انجانوں سے۔
    جیسا کہ مسجد سے کسی کے جوتے اٹھے تو "کسی" اس نے کسی اور کے اٹھالیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. محمد شاکر عزیز27 اگست، 2007 7:22 PM

    کسی اور کے جوتے تو نہیں اٹھاتے۔ لیکن ایک برائی کو سامنے لانا چاہیے۔ اصل مقصد اس پوسٹ کے لکھنے کا یہ تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. میں آپ کی بات نہیں کررہا تھا۔بس برایوں کی اقسام بیان کررہا تھا۔کم از کم آپ سے تو اس بات کی توقع بھی نہیں رکھتا۔اچھے بھیا جی!

    جواب دیںحذف کریں
  8. محمد شاکر عزیز28 اگست، 2007 7:34 PM

    یار تو میں نے کونسا اپنے پر بات لی تھی۔ میں نے پوسٹ کرنے کا مقصد بیان کیا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. غلطی ہوگءی معاف کیجیے گا۔ورنہ بدلہ لیجیے لفظوں س ے ہی۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. محمد شاکر عزیز29 اگست، 2007 6:31 AM

    کس کی بات کررہے ہیں جی آپ؟

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔