سوموار، 1 اکتوبر، 2007

محب علوی اردو ورژن

محب علوی کے ساتھ ہمارا ایک معاہدہ تھا کہ ان پر اس وقت تک نہیں لکھوں گا جب تک یہ میرے بارے نہیں لکھ دیتے۔ لیکن انھوں نے چونکہ ایسا کافی عرصے سے نہیں کیا تو ہم معاہدے کے "سو سال" پورے ہونے پر اسے کالعدم سمجھتے ہوئے بسم اللہ کرتے ہیں۔ یہ پہلے لکھی گئی پنجابی پوسٹ کا اردو ورژن ہے۔
محب علوی اب تو اچھی طرح یاد بھی نہیں محفل پر کب آیا تھا۔ شاید ہمیشہ سے محفل پر ہی تھا۔ آپ یقین کریں یا نہیں مجھے زندگی میں پہلا ملنے والا علوی محب علوی ہی تھا۔ شادی شہداء بندہ ہے لیکن کام اس کے کاکوں والے ہیں۔
ٹیلی فون کرے تو پونا گھنٹا تو گیا۔ مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ فون اکتا کر اس کے ہاتھوں سے بھاگتا ہے تب یہ کال ختم کرتا ہے۔ اردو کے لیے کچھ کرنے کا جذبہ اس کے اندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ اب یہ ٹھاٹھیں کس قسم کی ہیں میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ ہوسکتا ہے اونچی ایڑی والے سینڈل کی "ٹھا ٹھا" ہوں۔
ہونے کو تو بہت کچھ ہوسکتا ہے، لیکن یہ وہ بندا ہے جو بہت کچھ کرسکتا ہے۔ باتیں اس طرح سناتا ہے کہ اگلا بندہ کہتا ہے بس دنیا تو یہی ہے۔ اس کی اسی خاصیت کی وجہ سے اسے اردو لائبریری کا افسر تعلقات عامہ بنایا گیا ہے۔ اردو ٹیک پر گیا تو وہاں بھی سائیاں اسے مزدوروں کا ہیڈ بنا دیا ہے۔
سٹیٹ لائف والوں کی بدقسمتی یہ ان کو نہیں مل سکا۔ چکما دے کر سافٹ وئیر پروگرامنگ کی طرف نکل آیا۔ ورنہ اس کے لچھن انشورنس ایجنٹوں والے ہیں۔ باتوں باتوں میں بیمار کو کھڑا کرے اور کھڑے کو بیمار کردے بیچارہ ہائے ہائے کرتا پھرے۔ اچھے بھلے بندے کو آسمان پر چڑھا دیتا ہے۔ خود بے نیازی سے آگے بڑھ جاتا ہے پیچھے وہ غریب چاہے اپنی ہڈی پسلی تڑوا بیٹھے۔
شروع شروع میں مجھے بھی اس نے آسمان پر چڑھایا تھا۔ لیکن شکر ہے بچ بچا ہوگیا۔ ورنہ مجھے تو اپنے اندر وہ وہ خوبیاں نظر آنے لگی تھیں کہ کبھی خواب میں نہیں سوچا تھا۔ ایسے بندے سے تو بندہ حسد بھی نہیں کرسکتا۔ حسد کس چیز پر کرے۔ الٹا یہ آپ کو پتنگ کی طرح آسمان پر چڑھا دے گا۔
کوئی پراجیکٹ چلانا اس کے بائیں ہاتھ کی مار ہے۔ سب کو ایک دفعہ گھن چکر بنا ڈالتا ہے۔ تم بھی آجاؤ، تم بھی آجاؤ۔ ایسے ایسے بندے لے آتا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ لوگ نا نا کرکے بھی کام کر جاتے ہیں۔ بس اتنا ہی، ہاں ٹھیک ہے اتنا ہی۔ اچھا تھوڑا سا اور چلو دے دو یہ بھی۔ اور اتنے میں کام ہی ختم ہوجاتا ہے۔
میں مشورہ دوں گا جن ماؤں کے بچے سکول نہیں جاتے، کڑوی دوا پلانے پر تنگ کرتے ہیں۔ وہ چینی کی جگہ محب علوی کو ٹرائی کریں انشاءاللہ افاقہ ہوگا۔
اس بندے کا نام محب علوی نہیں محبوب علوی ہونا چاہیے تھا۔ اردو کے ساتھ محبت رکھنے والے محب علوی سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا اصلی نام فاروق ظفر ہے۔ جس سے شک پڑتا ہے کہ یہ ایس ایم ظفر کا کوئی رشتے دار ہے۔ شاید اسی وجہ سے یہ اپنا اصلی نام پبلک نہیں کرتا۔
خیر ہمیں یار کی یاری سے غرض۔ محب علوی سدا خوش رہے۔ بیبا بندہ ہے۔ (بی با پنجابی میں اچھے بندے کو کہتے ہیں)۔ دعا ہے اس کا ہمارا اور اردو کا ساتھ ہمیشہ قائم رہے۔ آمین۔

3 تبصرے:

  1. ترجمہ کرنے کا شکریہ۔

    زبردست تحریر اور سچ ہونے کے باوجود کڑواہٹ نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. محمد شاکر عزیز2 اکتوبر، 2007 12:19 AM

    آپ کا تبصرہ اور تعریف کرنے کا شکریہ۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔