سوموار، 8 اکتوبر، 2007

ہماری کٹو بیگم

پرائمری میں اردو کی کتاب میں ایک سبق پڑھا تھا کٹو بیگم۔ ایک مرغی جسے اپنے آپ پر بڑا غرور ہوتا ہے۔ ہماری مرغی بھی کٹو بیگم لگتی ہے۔ اب تو اس کے پیارے پیارے سے چوزے بھی ہیں جو ابھی صرف تین دن کے ہیں۔ بیس سے زیادہ انڈے اس کے نیچے رکھے تھے۔ جن میں سے گیارہ چوزے نکلے ہیں۔ اللہ کرے یہ بلی اور بیماریوں سے بچ جائیں اب۔


 


6 تبصرے:

  1. اٰمین اور سردی اور مرغی چوروں سے بھی۔۔۔ سردیوں میں کسی گرم کمرے میں انکے قیام کا بندوبست کریں۔ باجرہ تو آپ نے لے ہی لیا ہوگا۔ ویسے شاکر بھائی میرے لئے اس سے بڑی خوشخبری ہے کیونکہ ہماری گائے نے بچہ دیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. محمد شاکر عزیز8 اکتوبر، 2007 11:50 PM

    خوشی ہوئی سن کر۔ آپ کی گائے کے بارے میں۔
    ہمارے ہاں تو دو تین سال سے مرغیاں رکھی ہوئی ہیں والدہ نے ۔ چوزے پہلی بار نکوائے ہیں ہم نے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت پیاری تصاویر اور بہت اچھی پوسٹ ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. محمد شاکر عزیز9 اکتوبر، 2007 1:27 PM

    شکریہ نعمان

    جواب دیںحذف کریں
  5. کیا بات ہے اور تم نے خوب یاد دلایا کٹو بیگم کے بارے میں۔

    اچھی تصاویر ہیں اور ماشاءللہ کافی چوزے نکلے ہیں۔ ایک دو دیسی مرغیاں میں پکی سمجھوں پھر

    جواب دیںحذف کریں
  6. محمد شاکر عزیز13 اکتوبر، 2007 4:48 AM

    ہاہاہاہا
    اب آپ نے کہا مجھے لگ رہا ہے کہیں‌ سارے ککڑ‌ ہی نہ ہوں۔ :D

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔