سوموار، 26 اکتوبر، 2009

سیکیورٹی

ہم نے دو تین دن پیشتر ایک پوسٹ میں جی سی یو کی سیکیورٹی کی حالت کا رونا رویا تھا (مع نقشہ) جس پے ایک تبصرہ نگار نے کہا یوں لگتا ہے جیسے دہشت گردوں کے لیے سارا کچھ لکھا جارہا ہے کہ پڑھیں اور الا اللہ کرکے حملہ کردیں۔ :D خیر ہمارا یہ مقصد تو بالکل نہیں تھا۔ چونکہ جس نے حملہ کرنا ہے اس نے میری تحریر کی بجائے اپنے ذاتی مشاہدے کو ترجیح دینی ہے۔ میں نے تو ان سیکیورٹی ہولز کی نشاندہی کی تھی جو آنے والے دنوں میں کسی بڑے حادثے کا موجب بن سکتے تھے۔
اس سلسلے میں آج جب پانچ دن بعد ہماری یونیورسٹی پھر کھلی تو سیکیورٹی پہلے سے سخت تھی۔ ہمیں دو عدد سیکیورٹی گیٹ مہیا کیے گئے ہیں جن میں سے ایک گیٹ نمبر دو کے پاس لگایا گیا ہے تاکہ گاڑی پارک کرکے آنے والے چیک ہوسکیں اور دوسرا پیدل گزرگاہ والے انٹرسیکشن گیٹ پے لگایا گیا ہے۔ اسکے علاوہ گاڑیوں والے گیٹ کے سامنے تین عدد رکاوٹیں بھی لگا دی گئی ہیں چناچہ کوئی بھی گاڑی آہستہ ہوئے بغیر آگے جاہی نہیں سکتی۔ ایسی ہی ایک رکاوٹ مین گیٹ جو کہ بند ہے کہ سامنے بھی لگائی گئی ہے۔ آتے جاتے کارڈز چیک کیے جارہے ہیں۔

خیر یہ تو انتظامات تھے، لیکن ابھی خاردار تار نہیں لگائی گئی۔ جیسا کہ میں ذکر کرچکا ہوں کہ جی سی کے ارد گرد موجود دیوار کی جگہ لگایا گیا جنگلہ بہت بڑا سیکیورٹی رسک ہے۔ اسے پھلانا جاسکتا ہے اور میرے جسا چھریرے بدن کا انسان اس میں سے گزر بھی سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اوپر خاردار تار لگائی جائے جوکہ ابھی چند میٹر پر ہی لگائی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے نیچے سے بھی ایسے کور کیا جائے کہ اس میں سے کوئی چیز بھی پار نہ کی جاسکے۔ چونکہ باہر موجود  گولے گپے والے، سموسے والے، چاٹ والے ایسے ہی اپنی مصنوعات کی ترسیل یونیورسٹی میں ممکن بناتے ہیں۔ لیکن اس راستے سے کسی بم کی ترسیل بھی عین ممکن ہے۔ مزید یہ کہ ہمارے جی سی یو کارڈز ابھی تک نہیں بن سکے۔ ان کی جگہ عارضی کارڈز چل رہے ہیں۔ نئے آنے والے سمسٹرز کو بھی آج ہنگامی بنیادوں پر کاغذ پر پرنٹ نکال کر کارڈز مہیا کیے گئے ہیں۔ اب بندہ پوچھے کہ یہ ڈیزائن تو کوئی بھی مائیکروسافٹ ورڈ میں بنا سکتا ہے۔ اور پرنٹ لے کے تصویر بھی لگا سکتا ہے۔ اس میں سیکیورٹی کہاں ہے؟ الٹا یہ سیکیورٹی رسک ہے۔ خیر ڈنگ ٹپاؤ۔ جیسا کہ سارا ملک بھی ایسے ہی چل رہا ہے کہ یہ وقت گزارو بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔

خیر یہ تو قلیل مدتی پالیسی ہے۔ لیکن طویل مدت میں یہ سب کچھ ممکن نہیں ہے۔ جلد ہی چیک کرنے والے بھی اکتا جائیں گے اور کرانے والے بھی۔ کاش یہ حکومت کوئی ڈھنگ کی پالیسی بنا لے۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں کہاں سوئی پڑی ہیں۔ اور یہ جو آئے دن اخبارات میں امریکیوں کی پراسرار سرگرمیوں کی  رپورٹس چھپتی رہتی ہیں ان پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے کیوں پڑی ہے۔
پس موضوع: آج وزیرستان کے مہاجرین کی تصاویر دیکھیں۔ ان کے تو سوات کے مہاجرین سے بھی برے حالات ہیں۔ اللہ ان کو صبر اور حوصلہ دے۔ اور ہمیں ان کی مدد کرنے کی توفیق دے۔ امریکی کدھر ہیں ماں کے۔۔۔۔۔۔۔ ان کو پتا نہیں کہ ان کی جنگ ہم لڑرہے ہیں اپنوں کی قیمت پر۔ امداد کیوں نہیں دیتے یہ بھین کے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

9 تبصرے:

  1. یار وزیررستان کو چھوڑو۔ یہاں اوسلو کی پولیس نے ناک میں دم کر رکھا ہے جب سے اوبامہ نے یہاں آنے کی ہامی بھری ہے۔ :)

    جواب دیںحذف کریں
  2. کُتا پاگل ہوجائے شاکر بھائی تو اسے مارنا پڑتا ہے اپنے بچاؤ کے لئے۔ یہی حال اس جنگ کا ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔ یہ ہماری جنگ ہے امریکہ یا کسی اور کی نہیں۔ امریکی تو ایک نہیں مارا ہوگا ان "کتوروں" نے ہاں پٹاخ پٹاخ ہمارے درمیان پھٹے جارہے ہیں۔ وزیرستان والوں کی مدد بھی ہمی کو کرنا ہوگی۔ ویسے بھی یہ چلن کچھ جچتا نہیں کہ کچھ بھی ہوامریکیوں سے امداد مانگنے لگ پڑیں۔ اتنی تو خودداری ہونا چاہئے نا بھیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. خرم یہ لمبی بحث ہے۔ امریکہ اگر آج افغانستان سے اپنی فوج نکال لے تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہوجائئیں گے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. خرم یہ لمبی بحث ہے۔ امریکہ اگر آج افغانستان سے اپنی فوج نکال لے تو پاکستان کے آدھے مسائل حل ہوجائئیں گے۔

    yeah hisaabi formula aap nay kesay hal kar liyya bhala? jab amreeka chala jai ga tu aapku koi aur bahana mil jaiga...

    pehlay sub keh rahay thay udliya bahal hu jai tu sab maslay tekh hu jain gay..phir musharaf pay muqadma chalaany kee baat aur aajkal zardari...yaar logon ku naay say naay bahany miltay rehtay hain aur parnaala waheen behta rehta hai..

    جواب دیںحذف کریں
  5. ہماری مسکین سی یونیورسٹی میں پہلے بھی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں، اب تو اور سخت ہو گئی ہے۔ باقی رکاوٹین شکاوٹیں کوئی نہیں ہیں، جس کا دل چاہے بدمعاشی کر کے گھس جائے، شریف بندے کو البتہ کارڈ دکھانا پڑتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. حضور والا تب طالبان کے پاس سے اخلاقی جواز ختم ہوجائے گا۔ یہ اس کی وجہ ہے۔ باقی آپ کی اپنی سوچ ہے کہ ہمیں بہانے ملتے رہتے ہیں۔ نئے نئے۔۔ بطور قوم ہماری یادداشت بالکل کمزور ہے میں مانتا ہوں لیکن صاحب اوپر والی بات بھی سوچ سمجھ کر ہی لکھی گئی ہے۔
    ویسے آپ اپنے اصل نام سے بھی تبصرہ کرلیتے تو کوئی مضائقہ نہیں تھا۔
    قدیر میاں ابھی ہری ہری سوجھتی ہیں تمہاری یونیورسٹی والوں کو۔ لگ پتا جائے گا پٹاخہ بھی چل گیا تو۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. خرم بھائی، بے شک یہ ہماری جنگ ہے، لیکن کتوروں سے نہیں بلکہ اس سے جو ان کتوروں کو سدھا رہا ہے، انہیں ڈالر کھلا رہا ہے انہیں بموں اور بندوقوں کی مدد فراہم کر رہا ہے، تو کیوں نہ اس کے خلاف جنگ کی جائے، جو پردہ کی پیچھے ہے ۔ وہی بڑے والے کتورے امریکہ، بھارت اور اسرائیل ہمارے اصلی دشمن
    جو ان کی مدد کر رہے ہیں وہ بھی ہمارے دشمن ، حکومت، سیاستدان وغیرہ وغیرہ

    جواب دیںحذف کریں
  8. او جی پتا تو ہمیں لگنا ہے، اگلوں کو کیا فرق پڑنا ہے۔

    آج تین پولیس والے دیکھے، یونیورسٹی سے پچاس گز دور سڑک کے موڑ پر بیٹھے گپیں لگا رہے تھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  9. سر جی آپ تو چنگے بھلے القائدہ کے پوٹینشل کنسلٹنٹ ہو
    ایویں پڑھائی میں ٹیم ضائع کر رہے ہو
    :D

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔