سوموار، 10 مارچ، 2008

اے دین کے ٹھیکیدارو

ہمیں کیوں روکتے ہو

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم نے دین میں رسمیں ایجاد کرلیں؟

کیا ہم نے کبھی یہ کہا کہ تم 360 دنوں میں ایک دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کرکے اپنے فرض سے بری الذمہ ہوجاتے ہو؟

کیا ہم نے کبھی تمہارے جھنڈے لگانے پر اعتراض کیا؟

جو تم اب شاہ کے پیسے کھا کر ہم پر کرتے ہو؟

آخر ہم کیوں سیاہ جھنڈے نہ لہرائیں؟

کیا تمہیں یاد نہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کیا ہے؟

"جس قوم میں انصاف نہ رہے وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے"

کیا تم اندھے، گونگے بہرے ہو کہ تمہیں نظر نہیں آتا؟

کیا تمہیں یہ بربادی اپنی آنکھوں سے دکھتی نہیں؟

تو پھر ہمیں کیوں روکتے ہو؟

کیوں شاہ کا پیسہ کھا کر فتوٰی دیتے ہو کہ سیاہ جھنڈا لہرانا گناہ ہے؟

ہم ماتم کیوں نہ کریں؟

اپنی قوم کی بربادی پر ماتم کیوں نہ کریں؟

جس سے انصاف بھی چھن گیا۔۔۔

ہم آخر ماتم کیوں نہ کریں۔۔۔۔ ؟

15 تبصرے:

  1. میں آپ کی آواز میں اپنی آواز ملاتا ہوں۔۔ اور ایسے پروفیشنل فتووں کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں

    جواب دیںحذف کریں
  2. اگر تو اس موضوع کا وکلا کی تحریک سے کوئی ربط ہے تو عنوان "جمہوریت کے ٹھیکے دارو" ہونا چاہیے، کیونکہ آج کل دین نجی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. یہ سرکاری میڈیا پر شاہ کے نمک خوار ملاؤں کی فتوٰٰی بازی کے جواب میں لکھی گئی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. شاہ کے نمک خوار کیا صرف ملا ہیں یا سیاہ ست دان بھی ہیں۔
    ویسے ملاوں کو سنانا آج کل فیشن ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. کتنی عجیب بات ہے کہ قصور چاہے کسی کا بھی ہو، باتیں بے چارے ملا کو ہی سننی پڑتی ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. چونکہ یہ بیان ملا نے ہی جاری کئے تھے اس لیے "ان" کے جواب میں‌ ہی کہا جاسکتا تھا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. i want seee that fatwa could u link it here please thank u :)

    جواب دیںحذف کریں
  8. زبانی فتوٰی تھا جی۔ بلکہ اسے ہرزہ سرائی کہنا بہتر ہوگا۔
    پس موضوع اگر اردو میں تبصرہ کریں‌ تو مہربانی ہوگی ورنہ میں آُپ کا تبصرہ حذف کرنے پر مجبور ہونگا۔
    وسلام

    جواب دیںحذف کریں
  9. اگرچہ وہ بیانات میں نے بھی دیکھے تھے لیکن وہ صرف اپنی اپنی رائے تھی۔ اس کو فتوی قرار دینا نا انصافی ہوگی۔ رائے اور فتوے میں بہت فرق ہے۔ اور کیا واقعی کسی نےسیاہ جھنڈوں کو لہرانا گناہ قرار دیا؟

    جواب دیںحذف کریں
  10. وہ رائے نہیں پروپیگنڈا تھا۔ ایک چیز کو غلط کہا جارہا ہے تو اس کا مطلب کیا ہے پھر؟

    جواب دیںحذف کریں
  11. کیا آپ وہی بھای ہیں جن کا مضمون گلوبل سانس میں اوپن سورس ایک فلسفہ ایک تحریک کے عنوان سے شاءعی ہوا تھا؟

    جواب دیںحذف کریں
  12. بھا ئی اس طرح‌ نہ لکھا کر ے کیہں اپ بھی گمشد ہ نہ ہو جا ئے

    جواب دیںحذف کریں
  13. یہ فتوی نما رائے پیپلز پارٹی کے ایک وکیل نے بھی دی جس پر اعتزاز احسن نے طنزا اسے مفتی اور پیر بھی کہا۔ عجیب بھونڈی منطق ہے لوگوں کی جو کام حضور نے تمام عمر کیا اسے کرنے پر روکتے ہیں اور جو نہیں کیا اسے زور و شور سے انہی کے نام پر کرتے ہیں اور محب رسول ہونے کا دعوی بھی کرتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔