سوموار، 10 مارچ، 2008

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا :((

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

اور کتنی آزمائشیں میرے مولا

کب تک ہم بے گناہوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے

کب تک اپنے ہیرے جیسے جوانوں کے مردہ جسم اپنے کاندھوں پر ڈھوتے رہیں گے

کب تلک یہ آزمائشیں میرے مولا

کب تک

یہ آنکھیں تیری رحمت کے انتظار میں پتھرا گئی ہیں

رحم اے رب ذ الجلال

رحم فرما اے اللہ ہم پر رحم فرما۔۔

ارحم الرٰحمین اب سکت نہیں ہے۔

اب حوصلہ نہیں رہا

اے مالک ہم یہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے

تجھے تیرے پیاروں کا واسطہ ہم پر کرم فرما۔۔

رحم اے مالک دو جہاں :((

2 تبصرے:

  1. اس وقت تک یہ لاشے بکھرتے رہیں گے
    جبتک حکمراں حقائق جھٹلاتے رہیں گے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. قصور صرف حکمرانوں کا ہی نہیں بلکہ ہمارا بھی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔