سوموار، 23 اکتوبر، 2006

عید

ارسال کردہ از Muhammad Shakir Aziz بوقت 12:43 PM ,
سنا ہے کل عید آرہی ہے
ہم پر تو اداسی چھارہی ہے
سنا ہے خوشیوں کے میلے ہونگے
مگر ہم! ہم تو اکیلے ہونگے
سنا ہے لوگ چانددیکھیں گے
اور دعا مانگیں گے
مگر ہم سوچ رہے ہیں
کہ کیا مانگیں گے
چلو کوئی دیپک
کوئی تارہ مانگیں گے
اپنے لیے کوئی پیارا مانگیں گے
جو خوشیوں کی نوید ہوجائے
جسے دیکھ کر ہماری بھی عید ہوجائے

Back Top

3 تبصرے:

  1. نام اور برقی پتے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔

  2. عید مبارک ہو سر آپ کو!!!!

  3. آپ کو بھی جناب۔

ایک تبصرہ شائع کریں

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔