سوموار، 23 اکتوبر، 2006

عید

سنا ہے کل عید آرہی ہے
ہم پر تو اداسی چھارہی ہے
سنا ہے خوشیوں کے میلے ہونگے
مگر ہم! ہم تو اکیلے ہونگے
سنا ہے لوگ چانددیکھیں گے
اور دعا مانگیں گے
مگر ہم سوچ رہے ہیں
کہ کیا مانگیں گے
چلو کوئی دیپک
کوئی تارہ مانگیں گے
اپنے لیے کوئی پیارا مانگیں گے
جو خوشیوں کی نوید ہوجائے
جسے دیکھ کر ہماری بھی عید ہوجائے

3 تبصرے:

براہ کرم تبصرہ اردو میں لکھیں۔
ناشائستہ، ذاتیات کو نشانہ بنانیوالے اور اخلاق سے گرے ہوئے تبصرے حذف کر دئیے جائیں گے۔